آج کا کالم

اے بنارس کے لوگو، ذرا ہمیں بھی سن لو!

رويش کمار

بیبی کو بیس پسند ہے. بنارس کو روڈ شو پسند ہے. مجھے نہیں پتہ تھا کہ بنارس کے لوگ روڈ شو کے لئے اتنا اتاولے تھے. اس کا مطلب ہے کہ روڈ اگر کہیں پر دکھانے کے قابل ہے تو وہ بنارس ہے. ایک شہر ایک دن میں دو دو بار باہر نکلے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ گھر پر رہنا پسند نہیں کرتے. انھیں روڈ شو پسند ہے. وزیر اعظم کا روڈ شو ہوا. اکھلیش- راہل کا روڈ شو ہوا. میں اس بار بنارس نہیں گیا ہوں. کیا پتہ میرے لئے بھی لگے ہاتھوں ایک روڈ شو ہو جاتا. لوگ کہتے کہ آؤ گرو آج کی رات ہم پر سڑک طاری ہے، ہم ایک اور شو کریں گے. آج گھر ہی نہیں جائیں گے. کال جتنا لیڈر بلانا ہے، ہم روڈ شو کرتے رہیں گے.

اے بنارس کے عزیزو! ذرا اپنے محلے کی سڑک کی تصویر اپ لوڈ کرو تو، جس سے ہم دہلی سے دیکھ سکیں کی لکھنؤ اور کیوٹو کے فنڈ سے وہاں کیسی کیسی سڑکیں بنی ہیں . ان کی حالت پہلے سے کتنی بہتر ہوئی ہے. ذرا صفائی کی تصاویر بھی اپ لوڈ کرو. ذرا یہ بھی تو پتہ کرو کہ ڈھائی سال میں اور پانچ سال میں کتنے صفائی اہلکار بحال ہوئے، كوڑادان بنے جس شہر اتنا صاف ہے کہ آپ پان کھا کر توک نہیں پا رہے ہیں.

میڈیا بنارس کا چھینے بنا رہا ہے. بنارس کو جھاڑ پر چڑھا رہا ہے. اس کا یہ حال کر دے گا کہ ایک دن جب بنارس رویے گا تب بھی میڈیا والے ڈھول بجايیگے کہ دیکھو دیکھو، عظیم بنارس کتنا خوش ہے. کسی عظیم شہر کی شناخت کو اسی  تک سمیٹ دینے کے سفاکانہ مہم چل رہا ہے. پورا شہر اسی گھاٹ پر ہے. گھاٹ نہ ہو گیا ضلع كلیكٹریٹ ہو گیا. باقی بنارس ایک دن اپنا مطلب کھو دے گا. بنارس کے لوگوں میں مصنوعی گمان بھرا جا رہا ہے. وہ بھی اسی گمان میں جیتے رہیں گے جیسے کبھی الہ آباد جیتا تھا.

سنا تھا. پڑھا تھا. لکھا تھا. تبھی تو مجھے بنارس سے پیار ہو گیا. کچھ تو مختلف دکھتا تھا اس شہر میں، جسے بنارسی لوگوں نے بغیر کسی میڈیا مداخلت کے خود سے گڑھا تھا. اب ان برقرار بنارس کی پیکیجنگ ہو رہی ہے. ابھی وہ پیکٹ سو روپے میں فروخت ہوگا. ایک دن دو روپے فروخت ہونے لگے گا. بنارس کے لوگ سمجھیں کہ ان کا کام ہو رہا ہے. ان بنارسيپن پر سیاسی حملہ ہو رہا ہے. ایک دن ان باؤنڈ بنارس خشک جائے گا. وہ اپنا چہرہ میڈیا کے کیمرے میں كھوجیں گے اور کیمرے کسی اور شہر میں کسی اور لیڈر کے لئے کسی اور بنارس کی پیکیجنگ جا چکے ہوں گے.

بنارس کو خیالوں میں قید کیا جا رہا ہے. جبکہ یہ صفت آزاد شہر ہے. صفت توڑنے والا شہر ہے. دوسروں پر صفت چسپاں کر چل دیتا تھا. گالیوں پر جب ایک ٹیم کے غنڈوں کا قبضہ نہیں تھا اس کے بعد سے یہ شہر گالیوں کی ہولی کھیلتا رہا ہے. اے بنارسی عزیز جنوری، آپ لوگ صحافیوں سے لے کر چركٹ رہنماؤں کے مضامین یا تقریر کو سنیے. ان کے جملہ پڑھ کر، ان کے الفاظ سن کر لگتا ہے چاندنی چوک کے فٹ پاتھ سے کوئی کتاب خرید لائے ہوں اور وہی سب رٹ کر بول رہے ہوں . آپ کس طرح جھیل رہے ہیں.

ٹی وی اور سیاست کا کھیل یہ بات سمجھیں . درآمد پروگرام اور بویتا بنارس کی اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر مسلط کیا جا رہا ہے. اس کی سیاسی نرمی ختم کی جا رہی هے۔ بنارسي لاکھوں سیاسی شعور پر ان کا بس نہ رہے اس کے لئے اشیاء تلاش کئے جا رہے ہیں . نئے نئے سيرييل بن رہے ہیں . جن بنارس کا سیٹ تو ہے مگر بنارس نہیں ہے. ابھی تو آپ کو مزہ لیں گے لیکن آپ کی حالت ٹھیک ویسی ہوگی جیسی کسی خوبصورت پروگرام کے بعد شامیانے کی ہوتی ہے. بنارس سیاست کے ووٹ منیجروں کی ایک اشیاء بن گیا ہے. بابا وشوناتھ کی عبادت اسی سیاسی ووٹ کا حصہ ہو گیا ہے. لیڈروں کو بابا کے یہاں جانا چاہیے مگر وہاں بھی جانا چاہئے جہاں گندگی کے ٹیلے بن گئے ہیں . ایسا ہی حال کبھی ایودھیا والے رام کا یہی ہوا تھا. ہر بات میں انہی کی پوجا ہوتی تھی.

میں نے کل تھوڑی دیر کے لئے دونوں روڈ شو دیکھا. کل پہلی بار روڈ شو کی ويرتھا کا احساس ہوا. اس سے پہلے لگتا تھا کہ یہ اچھا طریقہ ہے کہ آپ لوگوں کے قریب سے گزریں . ان کے نزدیک جاکر ہاتھ ملاییں گے اور تقریر کریں گے . بہت سے لوگ اب ریلیوں میں آتے نہیں ہیں . لائے جاتے ہیں . محلے والوں نے لگتا ہے جانا بند کر دیا ہے، اس لئے ان تک ریلیوں کو لے جانے کے لئے روڈ شو کا آئیڈیا اخذ کیا گیا. کل دونوں روڈ شو میں کوئی تقریر نہیں . صرف ہاتھ هلايے جا رہے تھے جیسے کسی لوک سے ہفتے کے آخر میں پر دیوتا لوگ جیو لوک آئے ہوں . روڈ شو کے مقابلے روڈ شو. جن امیدواروں کو کو ‘اوٹ’ کرنا ہے وہ بھی نظر آئے تھے کیا روڈ شو میں ؟ مشرق میں ووٹ کو اوٹ کہتے ہیں . اوٹ کو کیا کہتے ہیں پتہ نہیں .

اے بنارس واسیو! کیا آپ اس سیاست سے واقعی اتنے کافی خوش ہیں کہ دونوں روڈ شو میں پھول برسا رہے تھے؟ پھول برسانے قابل اس سیاست نے کیا کیا ہے؟ آپ لوگ ہی نکلے تھے یا کسی اور شہر سے لوگ نکال کر لائے گئے تھے تاکہ ٹی وی کے ذریعہ آپ کو یقین دلایا جائے کہ آپ ہی نکلے تھے. کیا ہفتہ کے دن آپ واقعی اتنے پرجوش تھے کہ دو دو بار روڈ شو کے لئے نکلے؟ اس روڈ شو سے آپ کو ایک مصنوعی اور فحش خوبصورتی کے علاوہ کیا ملا؟ مجھ سے نہیں تو زمانے بھرو سے ہی پوچھ لیجیے. رہنماؤں نے اسی طرح ٹی وی کو برباد کر دیا. اب یہ ذریعے عوام کے کسی کام کا نہیں رہا، رہنماؤں کا ہو گیا. ایک دن یہ بنارس کا، ٹی وی جیسا حال کر دیں گے. یہ طرح طرح کے پروپگنڈے رچكر آپ کو ناظرین میں تبدیل کر رہے ہیں جہاں آپ ناقص تفریح ​​کے لیے ہی اپنی بیداری یا شناخت کا ذریعہ بنا لیتے ہیں.

چھ مراحل کے پكاو اور نمنستريي انتخابات کے بعد کیا واقعی بنارسی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ انہیں کسے ‘اوٹ’ دینا ہے؟ اب کون سا ایسا مسئلہ رہ گیا ہے جو بنارسی لوگوں تک نہیں پہنچا ہے. جونپور اور بھدوہی والوں کے لئے تو اتنے روڈ شو نہیں ہوئے. كاسگج والوں نے تو بغیر بیسوں وزیر کے آئے ووٹ کیا ہے. بنارس میں میڈیا کا ہجوم ایسے پہنچا تھا جیسے یوپی کی سیاست بنارس سے طے ہوتی ہے. اسی طرح میڈیا پہلے مرحلے سے پہلے لکھنؤ میں گھومتا رہا. اس ہجوم سے نہ تو بنارس کو کوئی فائدہ ہو گا نہ کسی اور شہر کو. حکومت جہاں جاتی ہے آج کل میڈیا وہیں جاتا ہے. اس میں بنارس کی کوئی بات نہیں ہے. وزیر اعظم بڑودہ منتخب کر لیتے تو کیمرے بنارس بھولا جاتا.

سیاست اور میڈيا مل بنارس کو بنارس نہیں رہنے دیں گے. اب آپ کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی ہے. پہلے میڈیا میں بنارس بولتا تھا، اب میڈیا میں بنارس سنتا ہے. باہر سے آئے لوگ بنارس کو سنا رہے ہیں . کیا آپ روزانہ تجربہ کافی نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر بنارس کے لئے فیصلہ کر لیں ؟ آپ سیاسی طور پر اتنے ہی متفکر ہیں تو بتائیے کہ اب تک کے انتخابات میں کون سا ایسا لیڈر منتخب کر لیا جس نے یوپی کی سیاست بدل دی ہو؟ کچھ نیا کر دیا ہو، جسے دیکھ کر لوگ کہیں کہ دیکھئے یہ بنارس سے منتخب کر کے آئے ہیں . آپ بھی تو ذات اور مذہب کی بنیاد پر رہنماؤں کا انتخاب کرتے ہیں جیسے باقی شہر کے لوگ. آپ نے اپنے اندر سے کون سا ایسا مثالی لیڈر منتخب کر لیا جو کبھی یوپی میں مثال بنا ہو. ایک خراب کو شکست دے کر دوسرا خراب تو سب لاتے ہیں.

سیاست اور میڈیا کا انتہا پسندی بنارس کی فطری اور سوچ سمجھ کو ختم کر رہا ہے. یہ مضمون لکھنے کا ایک جامع اور عوامی مقصد ہے. اے بنارس واسیو! بنارس کو فرضی شو سے بچا لیجیے..

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close