آج کا کالم

اے راجن تم چلے ہی جاؤ، ہم نپٹ لیں گے

رويش کمار

اے پیارے نام نہ چھاپنے کی شرط پر کہنے والے!

رہنما دو طرح سے باتیں کرتے ہیں. ایک نام کے ساتھ اور دوسرا نام نہ چھاپنے کی شرط کے ساتھ. ایسے ہی ایک رہنما نے انڈین ایکسپریس کی شیلا بھٹ جی سے کہا ہے کہ کیا آپ جانتی ہیں کہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو بینک کے چیف کا کیا نام ہے؟ کیا سرمایہ کار ریزرو بینک، گورنر کی تصویر دیکھ کر آتے ہیں یا ہندوستان کے وزیر اعظم کی؟ بی جے پی کے اس رہنما نے نام نہ چھاپنے کی شرط پر بڑی کام کی بات کی ہے.

جب ہندوستان کے وزیر اعظم یا امریکہ کے صدر کی تصویر دیکھنے کے بعد ہی سرمایہ کار فیصلہ کرتے ہیں تو جناب خوامخواه ہزاروں ملازمین والے ریزرو بینک کی ضرورت کیا ہے؟ کیا مانیٹری پالیسیاں بھی قومی سربراہ بنایا کرتے ہیں؟ کیا وزیر اعظم ہر کام کے قابل ہوتے ہوں گے؟

اے نام نہ چھاپنے کی شرط پر بات کہنے والے رہنما، آپ تو پکا وزیر اعظم کی تصویر لگا کر انتخابات جیتے ہوں گے تبھی تو آپ  نام کے ساتھ ایسی معمولی بات کہنے کا خطرہ تک نہیں اٹھا سکتے. آپ کی قابلیت کے بارے میں جو سمجھ ہے وہ ضروری نہیں کہ سب کی ہو. دنیا میں ہر کوئی کسی کی تصویر لگا کر کامیاب نہیں ہوتا ہے. آپ سے تو سوامی بھلے جو  کھل کر ریزرو بینک کے گورنر کو ملازم کہتے ہیں. امید ہے جب حکومت کسی خاتون کو پہلی بار اس عہدے پر بٹھا کر ڈھنڈورا پيٹےگی تو یہ بات یاد رکھے گی کہ اس نے پہلی بار ملازم مقرر کیا ہے، گورنر نہیں. جب راجن گورنر نہ ہوکر ملازم ہیں تو وہ پہلی خاتون کی حیثیت بھی وہی ہوگی. ویسے پہلی خاتون ملازم تو نہ جانے کب کا مقرر ہو چکی ہیں.

میں راجن گمن کو لے کر غمگین نہیں ہوں لیکن میں اکیلا ایسا صحافی ہوں جو ایسے كتركو کو اہمیت دینے لگا ہوں. ایک بھاری بھرکم صحافی نے کہا کہ کہ کوئی بھی شخص ناگزیر نہیں ہے. اب اس دلیل سے تو کوئی بھی حتمی اور ضروری نہیں ہے. یہ دلیل تو وہاں بھی جاتی ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے کوئی بھی ضروری نہیں ہے. حمایت کرنا ہے تو صاف صاف اور ایک ہی بات بار بار کہئے کہ ہم حامی ہیں. ہم کو دلیل سے بات نہیں کرنا. جو کرنا ہے کر لیجیے. بات ختم.

مجھے حکومت کا یہ اعتماد اچھا لگتا ہے. اپنے آگے کسی کو نہ سمجھنے کی خصوصیات بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے. تمام تنقیدوں کے بعد بھی حکومت اپنی راہ چلتی رہتی ہے. اپنے آپ میں سمجھ بوجھ اور مہارت سے بھرپور بہت کم حکومتیں ایسی ہوتی ہیں. تمام اندیشوں کے باوجود ضرور کچھ ایسا ہونے والا ہے جس سے بے روزگاری دور ہوگی اور روزگار میں مصروف لوگوں کے لئے نوکری کرنے کی شرائط بہتر ہوں گی. مشاہرے دندناتے ہوئے بڑھیں گے. ہسپتالوں اور مہنگی بیماریوں کے علاج تک عام لوگوں کی رسائی بہتر ہوگی. کچھ تو غضب ہونے والا ہے جس کے پہلے یہ سب عجب غضب ہو رہا ہے.

اے نام نہ چھاپنے کی شرط پر اپنی بات کہنے والے رہنما، مجھے معلوم ہے کہ امریکہ کے فیڈرل بینک کی چیف کون ہیں. اب آپ بدلہ لینے کے لئے مجھ  سے عالمی بینک کے چیف کا نام مت پوچھ لیجئے گا. ضروری نہیں کہ سب معلوم ہی ہو. تھوڑا اور جاننے کے لئے گوگل بھی کر لیا جا سکتا ہے جو ڈیجیٹل انڈیا کا ہی حصہ ہے. یہ اور بات ہے پہلے سے ہے.

جینٹ يیلین امریکہ کی پہلی خاتون ہیں جو مرکزی بینک کے چیف کے عہدے پر پہنچی ہیں. یہودی ہیں. 2010 سے 2014 تک وہ نائب سربراہ کے عہدے پر رہیں اور 2014 سے 2018 تک سربراہ کے عہدے پر رہیں گی. آٹھ سال کا تسلسل وہ بھی اس امریکہ میں جہاں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کے درمیان ہندوستان کی طرح کانگریس بی جے پی ہوتا رہتا ہے. يیلین خود کو ڈیموکریٹ پارٹی کا رکن بتاتی ہیں اور ان کی تقرری سینیٹ سے ہوئی ہے.

يیلین ماہر معاشیات ہیں اور طویل مدت تک امریکی حکومت کی اقتصادی مشیر رہی ہیں. کیلی فورنیا اور برکلے یونیورسٹی میں معاشیات کی پروفیسر رہی ہیں. نوبل انعام یافتہ پروفیسر یگم کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کی ہے جن کے بارے میں پروفیسروں کا کہنا ہے کہ يیلین ہماری سب سے زیادہ باصلاحیت طالب علموں میں سے رہی ہیں. يیلین کے شوہر نوبل انعام یافتہ ہیں. ان کا بايوڈاٹا کافی طویل ہے.

حال ہی میں انہوں نے پریس کانفرنس کرکے کہا کہ روزگار پیدا ہونے کی رفتار انتہائی سست ہے. معیشت کو خون کی کمی کی بیماری ہو گئی ہے، اینميا۔  ان كا خیال ہے کہ اقتصادی سست روی اب ‘نو عام’ یعنی نیو نارمل ہے. فیڈرل بینک نے شرح سود میں اضافہ کو ملتوی کردیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ایک بار پھر کساد بازاری آ رہی ہے. امریکہ مسلسل کئی سالوں سے سست معیشت کی زد میں ہے. پھر بھی يیلین حکومت سے آزاد اپنی باتوں کو رکھتی ہیں. مرکزی بینک حکومت کی پالیسی کا علمبردار نہیں ہوتا ہے. آزاد ہم راہی ہوتا ہے۔ وہ حکومت کی مرضی سے پالیسیاں نہیں بناتا ہے.

مسئلہ یہ ہے کہ ہندی میں ان موضوعات کو موثر طریقے سے رکھنے کی صلاحيت نہیں ہے. آج کی دنیا میں معیشت کے بنیادی سمجھ بےحد ضروری ہے. ہم ہندی والے (بہت حد تک انگریزی والے بھی) امریکی اخبارات اور میگزین کی بنیاد پر سمجھ بناتے ہیں. کچھ بھی دعوے سے کہنے میں تامل ہوتا ہے. ورنہ راجن کے جانے کی صرف جذباتی تشریح کی جگہ ان کی کارکردگی اور اثرات کا بنیادی تجزیہ کرتے. ہمارے دلائل انگریزی اخبارات اور مفکرین سے نکل کر آتے ہیں. یہ کمی تو ہے اور اسے تسلیم کرنے میں تذبذب نہیں ہے. اس کا نقصان آپ قارئین کو زیادہ ہوتا ہے.

اس وقت برازیل میں مندی کی آندھی چل رہی ہے. ریو اولمپکس پر بحران ہے. لیکن ہندوستان کے اخبارات میں بہت کم بحث ہے. مارچ سے تمام ویب سائٹس پر خبریں آ رہی ہیں کہ برازیل میں خوفناک مندی ہے. ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ایسی مندی کبھی نہیں دیکھی. بے روزگاری شدید طور پر بڑھ رہی ہے. وہاں کی سیاست میں كتركو کو بھونچال آیا ہوا ہے جیسا امریکہ میں ٹرمپ کی وجہ سے آیا هےجیسا ہندوستان میں آیا تھا اور آیا ہوا ہے. ہندوستان میں 2008 سے کساد بازاری ختم ہونے اور معیشت کے پرانے دن کی واپسی کا خواب دکھایا جا رہا ہے.

انڈین ایکسپریس کی طرف سے نام نہ چھاپنے کی شرط پر کہنے والے اس رہنما نے ایک اور دلیل دی ہے. ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی مانتی ہے کہ ریزرو بینک کا گورنر بیرون ملک سے پڑھا نہیں ہونا چاہئے یا کسی غیر ملکی یونیورسٹی کا اكیڈمك نہیں ہونا چاہئے. اب اس دلیل کے کئی خطرناک پہلو ہیں. گئو پیشاب، یوگا اور سنسکرت کو چھوڑ دیں تو تمام پالیسیاں اور ڈھانچے غیر ملکی بنیاد پر ہی بن رہے ہیں. تعلیمی پالیسی کا ڈھانچا عالمی تجارتی تنظیم کے طے کردہ ڈھانچے پر بن رہا ہے. لوگوں کو بھٹکانے کے لئے کورس کے نام پرآدھا ادھورا راشٹرواد پروسا جا رہا ہے. ورنہ حکومت کہہ دے کہ ہندوستان کو غیر ملکی یونیورسٹیوں کی ضرورت نہیں هے۔ تعلیم کا پرائیویٹائزیشن نہیں کریں گے. لوگوں کو سنسکرت اور یوگا کی وجہ سے آپس میں لڑایا جا رہا ہے تاکہ لوگ یہ سوال ہی نہ کریں کہ تعلیم کا پرائیویٹائزیشن  ہوگا تو لاکھوں کی فیس کہاں سے بھریں گے. قرض سے؟ پھر کیا ہوگا؟

نام نہ چھاپنے کی شرط پر کہنے والے مذکورہ رہنما کو اتنا  معلوم نہیں ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ جینت سنہا ایک غیر ملکی یونیورسٹی میں راجن کے کلاس فیلو رہے ہیں. ہندوستان کے اہم اقتصادی مشیر آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم فل اور ڈی فل کر چکے ہیں. بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں راجن کے ساتھ کام کر چکے ہیں. یقینی طور پر وہاں وہ مقامی پالیسی نہیں بنا رہے ہوں گے. سب کو پتہ ہےعالمی مالیاتی فنڈ کی اقتصادی پالیسیاں کیا رہی ہیں.

کچھ بھی کہہ دیا جا رہا ہے. قابلتیں تو کہیں سے آ سکتی ہیں. کیا غیر ملکی یونیورسٹیوں سے فارغ کامیاب این آر آئی کی قابلتیوں کے بارے میں بھی اس کا اطلاق ہو گا. ان باتوں سے حکومت کی کون سی سوچ جھلکتی ہے. جو بھی سوچ ہے لیکن نیتا جی نے اچھا کیا اپنا نام نہیں بتایا. ورنہ لوگ ان کی اس بات پر ہنستے ہنستے نام بھی لینے لگتے. فیصلہ ہو گیا ہے اس لئے راجن گمن پر ماتم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں.

اگر آپ واقعی اقتصادی پالیسیوں میں دلچسپی رکھنا چاہتے ہیں، جاننا چاہتے ہیں تو اسے راجن یا جیٹلی، مودی یا گاندھی سے آگے جاکر دیکھئے. کوئی فرق نظر نہیں آئے گا. کسی کی پالیسی اصلی نہیں ہے. طرح طرح کے قومی افتخار کی تہوں کے نیچے بنی تمام پالیسیاں کہیں اور بن چکی ہیں. بہت پہلے سے تیار ہیں. مارا ماری اس پر ہے کہ لاگو کون کرے گا. رہی بات بحران کی تو اس اقتصادی نظام میں طلائی زمانہ بدنام ہے. افسانہ اور عارضی ہے. بحران ہی مستقل ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close