آج کا کالم

بات توسچ ہے مگر…!

نایاب حسن

 نیابتِ صدارت کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے ایک دن پہلے حامدانصاری صاحب کاراجیہ سبھاٹی وی پر ایک تفصیلی انٹرویو نشرکیا گیا، جوانھوں نے 9؍اگست کو معروف صحافی کرن تھاپر کودیاتھا۔ اس انٹرویومیں مسٹرتھاپرنے حامدانصاری سے بطورایک ماہراور ہوش مندڈپلومیٹ مختلف ملکوں (ایران،  افغانستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا) اور اقوامِ متحدہ میں ہندوستان کی نمایندگی کرنے کے بعد مسلسل دس سال جمہوریۂ ہندکے نائب صدر کے طورپر گزارنے کے تجربے سے متعلق سوالات کیے، حامدانصاری نے پانچ سال سابق صدرپرتبھاپاٹل کانائب رہ کر گزارا، جبکہ دوسرے پانچ سال پرنب مکھرجی کے ساتھ گزارے، ان دونوں کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کے تعلق سے بھی ان سے سوال کیا گیا اور انھوں نے عمدہ جواب دیا، اسی طرح نومنتخب صدررام ناتھ کووندکے ساتھ بیتے ہوئے چنددن کے تجربات سے متعلق بھی ان سے دریافت کیا گیا.

گزشتہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور موجودہ وزیر اعظم نریندرمودی کی شخصیت، ان کے کام کرنے کے طریقۂ کاراور دونوں میں پائے جانے والے اختلافِ کارکے متعلق بھی ان سے پوچھا گیا۔ ان سے گزشتہ دنوں ہندوستان میں افریقی  شہریوں کے ساتھ ہونے والی نسلی زیادتیوں کے تعلق سے بھی سوال کیاگیا، جس کے بعد متعدد افریقی ملکوں کاانھوں نے دورہ بھی کیاتھا،  ان سے 2015 میں یوگا دیوس کے پروگرام میں غیر حاضری اور راجیہ سبھاٹی وی پر یہ پروگرام نہ دکھائے جانے کی وجہ سے بی جے پی جنرل سکریٹری کے ذریعے ٹوئٹ کرکے نائب صدرپراعتراض کیے جانے سے متعلق بھی سوال کیاگیا، ان کے علاوہ راجیہ سبھاچیئرمین ہونے کی حیثیت سے ان کے تجربات دریافت کیے گئے، جس پر انھوں نے کہاکہ عوام کوچاہیے کہ وہ اس موقر ایوان میں ایسے لوگوں کوبھیجا کریں، جواس کے وقار و اعتبار سے کماحقہ واقف ہوں، انھوں نے یہ بھی کہاکہ گزشتہ چالیس پچاس سال پہلے جس طرح کے لوگ ان ایوانوں میں لوگوں کی نمایندگی کرتے تھے، اب ایسا نہیں ہے۔

اس کے علاوہ جن اہم موضوعات پر نائب صدرسے سوالات کیے گئے،  ان میں سپریم کورٹ کی طرف سے قومی ترانہ گوانے پر زوردیے جانے کے معاملے کے علاوہ دوسرے امور بھی تھے۔ چوں کہ حامد انصاری مسلمان تھے؛چ نانچہ کرن تھاپر نے کچھ سوالات خاص مسلمانوں کے تعلق سے بھی کیے اور کچھ عمومی انداز کے تھے، مگربین السطور میں مسلمانوں کاہی ذکر تھا، گویا پورے انٹرویوکا کم ازکم دوتہائی حصہ راست یابالواسطہ طورپرمسلمانوں سے متعلق تھا۔مثلاً انھوں نے انٹرویو میں ایک سوال ہندوستان میں بڑھتی ہوئی عدمِ برداشت کی فضاکے بارے میں کیا، اس تعلق سے انھوں نے پہلے متعدد مثالیں دیں کہ کس طرح بیف کھانے کے نام پر پرہجوم تشددلوگوں کی جان لے رہاہے، بھارت ماتاکی جے نہ بولنے والے کو دیس نکالادیے جانے کی بات کی جارہی ہے،  لوجہادکی فرضی داستان اور گھرواپسی کی مہم چلائی جارہی ہے، اس صورتِ حال کووہ ہندوستان کے نائب صدرکے طورپرکس نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اس کے جواب میں انصاری صاحب کہتے ہیں کہ’’ہندوستانی اقدارشکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور ایک ہندوستانی الاصل انسان سے اس کی قومیت کے بارے میں دریافت کیاجارہاہے، جو نہایت تکلیف دہ صورتِ حال ہے‘‘۔ان سے پوچھاگیاکہ ’’بہت سے لوگوں کاایسا مانناہے کہ ہندوستان ایک عدمِ برداشت والا دیش بنتاجارہاہے، اس کے بارے میں آپ کیاکہتے ہیں ؟‘‘جواب میں وہ کہتے ہیں کہ’’صحیح بات ہے، میری بھی مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں سے گفتگو ہوتی رہتی ہے، ان کابھی یہی احساس ہے‘‘۔

اسی ضمن میں ان سے دریافت کیا گیا کہ کیاانھوں نے اس صورتِ حال پر موجودہ وزیر اعظم سے گفتگوکی، انھیں بتایاکہ ملک میں عدم برداشت کا ماحول بڑھتاجارہاہے اور شہریوں کے ایک طبقے میں خوف و ہراس پھیل رہاہے، توانھوں جواب دیاکہ مختلف سیاسی اجتماعات اور مواقعِ گفتگوکے علاوہ خود وزیر اعظم؛ بلکہ متعدد وزراسے بھی اس موضوع پران کی بات چیت ہوئی اور ہمیشہ ان لوگوں نے اپنی طرف سے کوئی نہ کوئی توجیہ پیش کی۔ انٹرویوکے دوران انھوں نے ثقافتی نیشنلزم پر تنقید کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے تکثیری معاشرے کے لیے خطرناک قراردیااور کہاکہ یہ ہندوستان کے مزاج کے منافی ہے، اس سے دراصل ان کا اشارہ آرایس ایس کے اکھنڈ بھارت والے نقطۂ نظرکی طرف تھا، جس کی نمایندگی فی الوقت مرکز میں حکمراں جماعت کررہی ہے۔ پھرکرن تھاپرنے خالص مسلمانوں سے متعلق معاملات اوران کی موجودہ ضرورتوں سے متعلق بھی سوال کیااور اس حوالے سے گزشتہ سال کل ہندمجلس مشاورت کے پروگرام میں کی گئی نائب صدر کی تقریر کاحوالہ بھی دیا، جس کے جواب میں انھوں نے کہاکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ مسلمان مثبت طرزِعمل اختیارکریں، روحِ عصر کوسمجھیں اور ترقی کے راستے پر دوسری قوموں اور ملک کے دیگر طبقات کے کندھوں سے کندھا ملاکر چلیں ، اسی طرح طلاق کے معاملے میں انھوں نے جہاں سپریم کورٹ یاحکومت کی مداخلت کی تنقید کی، وہیں اس کے طریقۂ کاروغیرہ میں اصلاح کی ضرورت پر بھی زور دیا، انصاری صاحب کامانناہے یہ ہے کہ طلاق ایک سماجی مسئلہ ہے اوراس میں جوخرابیاں درآئی ہیں ، انھیں دورکرنے کے لیے خود سماج کو آگے آناہوگا۔

 بدھ کو ریکارڈ ہونے کے بعد جمعرات کی صبح آٹھ بجے یہ انٹرویوراجیہ سبھا ٹی وی پر دکھایاگیا، جیسے ہی انٹرویو نشرہوااور لوگوں تک اس کے مشمولات پہنچے،  واٹس ایپ،  فیس بک اور ٹوئٹرپرموجودمفکرین و دانشوران کی نگاہیں پڑیں اور دیگر پرائیویٹ چینلزتک اس کے مختلف حصے پہنچے،  توبجاے اس کے کہ نائب صدر کی باتوں کوسنجیدگی سے لیاجاتا اور ان موضوعات پر غور کرنے کی کوشش کی جاتی، نیتاؤں سے لے کربی جے پی کے حامی بڑے چھوٹے لیڈران سبھی ملک کے نائب صدر کی ایسی تیسی کرتے نظر آئے، ٹوئٹرپر ایک طوفانِ بدتمیزی برپاہوگیااورپوری بے باکی و بے شرمی کے ساتھ ملک کے نائب صدر کوکھری کھوٹی سنائی جانے لگی، نجی نیوزچینلوں کو مباحثے کا نیاموضوع مل گیا اوربات کا رخ بھی ایسا موڑاگیاگویاحامدانصاری دس سال تک اپنے عہدے اوراس کی بدولت حاصل ہونے والی آسایشوں سے متمتع ہوتے رہے اور اب جب رخصتی کا وقت آیا، توانھوں نے حکومت پر سوالیہ نشان قائم کردیااور مسلمانوں کے دلوں میں خوف کی نفسیات قائم کردی۔ایک چینل پر بی جے پی کے ترجمان(جوخیر سے مسلمان بھی ہیں اور صرف ٹی وی چینلوں پرہی بی جے پی کی نمایندگی کرتے نظر آتے ہیں )یہ کہتے سنے گئے کہ’’ مسلمانوں کے لیے ہندوستان سے اچھادیس اور ہندوسے اچھا پڑوسی ملنا مشکل ہے‘‘۔

ایک چینل پر معروف سیاسی لیڈر اسدالدین اویسی سے یہی پوچھا گیا کہ آخر حامدانصاری صاحب جاتے جاتے ایسا بیان کیوں دے گئے، اس کے جواب میں اویسی صاحب نے نہایت معقول گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انصاری صاحب نے اپنی پوری مدتِ کارمیں تقریباً 530تقریریں کیں ، جن میں سے نوے یاسو تقریریں مرکز میں بی جے پی کے برسرِ اقتدارآنے کے بعد کی گئی ہیں ، ان تقریروں کودیکھاجائے،  تومعلوم ہوتاہے کہ نائب صدرنے متعدد مواقع پر ملک کی مخدوش صورتِ حال پر تشویش کااظہارکیااورحکومت کوجواب دہی کی یاددہانی کرائی ہے۔ویسے دوسروں کے دفاعی بیانات کودیکھنے کی کیاضرورت ہے، کوئی انصاف پسند انسان خود اس انٹرویوکوسن یا پڑھ لے، تواس کے تمام اشکالات و شبہات دور ہوجائیں گے، مگر نہیں ، چوں کہ نائب صدر مسلمان تھا؛اس لیے میڈیانے اس کے بیان کے خلاف ایک منفی ماحول سازی کی بھرپور کوشش کی اوردوسری طرف بھگتوں کی کھیپ توتیار ہی تھی حامدانصاری کو ’’ٹرول‘ کرنے کے لیے؛چنانچہ پوری بے شرمی و دیدہ دلیری کے ساتھ جہاں نیوز چینلوں کے اینکرزنے ملک کے نائب صدرکی نہایت معقول اور قابلِ غوروفکر باتوں کامخول اڑایا، اس کی شخصیت و کردار کوشک کے دائرے میں لانے کی پوری کوشش کی، وہیں سب سے بڑے جمہوری ملک کے دیش بھگت شہریوں اورپریش راول،  سنجے راوت، ساکشی مہاراج،  وجے ورگیہ جیسے ’حادثاتی‘ نیتاؤں نے بھی اپنی مسخرگی کامظاہرہ کرکے وطن دوستی کا ثبوت دیا۔ویسے بعض سنجیدہ قسم کے لوگوں کابھی یہ کہناہے کہ انصاری صاحب کایہ بیان مناسب نہیں تھا؛کیوں کہ جب اتنے اعلیٰ دستوری عہدے پر فائز انسان ایسی بات کرے گا، توقومی سطح پر مسلمانوں کی نفسیات پر اس کا اثر پڑے گا، مگر بھائی یہ توسوچوکہ حامدانصاری کے بیان سے پہلے کی زمینی حقیقت کیاہے اور کیاحامد انصاری نے زبردستی وہ بات کہی ہے، آپ انٹرویوکوذراپڑھ اور سن کرتودیکھیے، کرن تھاپرنے باقاعدہ مثالیں دے کر اور مختلف واقعات کی نشان دہی کرکے پوچھاکہ ان کا اثر مسلمانوں پر کیاپڑاہے،  اب ظاہر ہے کہ ملک کانائب صدرتو خود ان حالات سے اچھی طرح واقف ہوتاہے، سوانھوں نے سوال کے جواب میں وہی بات کہی،  جو حقیقت ہے۔کچھ مسلمانوں کوبھی اشکال ہے کہ انھوں نے پہلے یہ بات کیوں نہیں کی؟

توان کاجواب بھی اسی انٹرویو میں موجودہے، خودانصاری صاحب نے کہاہے کہ انھوں نے کئی بارنہ صرف وزیر اعظم؛ بلکہ متعلقہ وزیروں سے بھی ملکی احوال پر گفتگو کی اور ان کوصورتِ حال کومثبت طریقے سے قابوکرنے کی تلقین کی تھی۔میرے لیے یہ بات بھی بڑی حیرت انگیزہے کہ کچھ ہی دن پہلے جب ملک کے صدرجمہوریہ اپنے الوداعی خطاب میں (24جولائی کو)اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں اورکہتے ’’روز بروز ہمارے اردگردپرتشددواقعات میں اضافہ ہورہاہے، ایک دوسرے پر سے اعتماد اٹھ رہا، تاریکی بڑھ رہی اور خوف کا ماحول پنپتا جارہاہے، ہمارے لیے ضروری ہے کہ عوامی بحث ونقاش کوہر قسم کے تشددسے آزاد کریں‘‘۔ توان کے اس بیان پر کوئی ہنگامہ برپانہیں کیاجاتا؛بلکہ عام طورپراسے تحسین کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔مگرجب نائب صدرپوچھے گئے سوال کے جوا ب میں ایک حقیقت کوبیان کرتاہے، تواس پرہرایراغیراانگشت نمائی کرنے لگتاہے، اسی سے اندازہ ہوتاہے کہ موجودہ ہندوستان کس طرح کا ہندوستان ہے اور کس سماجی وسیاسی نفسیات میں اسے ڈھالاجارہاہے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close