آج کا کالم

بات چیت کی ناکام کوشش کے باوجود تنازعہ سلجھا نے کی امید؟

رويش کما ر

رام مندر بابری مسجد کا مسئلہ ایک بار پھر عوام میں آ گیا ہے. انہی لوگوں کے درمیان آ گیا ہے جو 67 سال میں بات چیت کر، آپس میں لڑبھڑكر بھی نتیجہ نہیں نکال سکے. آہستہ آہستہ یہ مسئلہ سیاست سے نکل کر عدالت کی دہلیز میں سما گیا اور عام طور پر وسیع امن قائم ہو گئی. میڈیا نے یوپی کے ہر انتخابات میں بی جے پی سے پوچھ کر اس کو پبلک میں لانے کے تمام کوشش کی کہ مندر کب بنے گا؟ مگر بی جے پی بھی عدالت کے فیصلے کی بات کر اپنی دوسری حکمت عملی کو انجام دینے میں مصروف ہو گئی. بار بار تمام فریقوں نے اعادہ کیا کہ عدالت کا فیصلہ حتمی طور پر تصور کیا جائے گا. ایودھیا تنازعہ کے تناظر میں یہ ایک نقطہ پر وسیع اتفاق قائم ہو گیا۔ لیکن منگل کو سپریم کورٹ کے ایک تبصرہ نے اس کے تمام فریقین کو دوبارہ ٹی وی پر لا دیا ہے. وہی سوال، وہی جواب لے کر ٹی وی کی شام سج گئی ہے. اب روز کوئی نہ کوئی کچھ نہ کچھ بولے گا اور ضروری کام چھوڑ کر اسی پر ٹی وی کی ساری توانائی خرچ ہوگی.

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ دونوں فریق اس مسئلے کو مل بیٹھ کر سلجھاییں. یہ معاملہ مذہب اور عقیدے سے منسلک ہے. اس لئے دونوں طرف آپس میں بیٹھ کر بات چیت کے ذریعہ حل نکالنے کی کوشش کریں . ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ کے جج بھی ثالثی کرنے کو تیار ہیں. چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر دونوں طرف کوئی حل نہیں نکال پاتے ہیں تو پھر کورٹ اس معاملے کی سماعت کر فیصلہ دینے کے لئے تیار رہے گا. لیکن دونوں فریقوں کے تمام لوگ ٹیبل پر بیٹھ کر بات چیت کریں گے، اس میں منصفانہ لوگوں کو بھی شامل کریں گے تو زیادہ اچھا رہے گا.

سپریم کورٹ نے اس معاملے میں 31 مارچ کو بتانے کے لئے کہا ہے کہ کیا فیصلہ کیا گیا ہے. 26 فروری 2016 کو سپریم کورٹ نے بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی کو ایودھیا تنازعہ سے منسلک تمام معاملات میں فریق تصور کیا تھا. مالک کا کہنا ہے کہ چھ سال سے سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہے. سپریم کورٹ کو روزانہ سماعت کر جلد فیصلہ سنانا چاہئے. چیف جسٹس کے ریمارکس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوامی نے کہا کہ دونوں کمیونٹی اس معاملے پر ساتھ نہیں بیٹھیں گے، بہتر ہے عدالت ہی فیصلہ دے.

سوا سو سال پرانا ہے ایودھیا تنازعہ. اس مسئلے کی آگ میں دونوں کمیونٹی کے نہ جانے کتنوں کی جان چلی گئیں، کتنوں کو روزگار چھینا اور کتنوں کو لیڈر بنا دیا. نہ مندر بنا نہ مسجد توڑنے والے پکڑے گئے. سپریم کورٹ کی توہین کرنے والے بھی بچ گئے. سپریم کورٹ میں 6 سال سے سماعت کیوں ہو رہی ہے. اس لیے ہو رہی ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے 30 ستمبر 2010 کو ایودھیا تنازعہ صورت میں ایک بڑا فیصلہ دیا. تین میں دو جج متفقہ تھے اور ایک نے مختلف ووٹ دیا تھا. وہ تھے جسٹس ایس یو خان، جسٹس سدھیر اگروال اور جسٹس دھرم ویر شرما.

30 ستمبر 2010 کو جب فیصلہ آنے والا تھا تب پورے ملک اور خاص طور پر یوپی میں سناٹا چھا گیا تھا. فیصلہ بھی آیا مگر کچھ نہیں ہوا. شاید اس وقت تک یوپی اور ملک کے عوام اس مسئلے کا کھیل سمجھ گئی تھی. گزشتہ ساٹھ سال میں تمام عدالتیں، تمام جج اس معاملے کی سماعت کرتے رہے مگر فیصلہ لکھنے کی منزل پر نہیں پہنچ سکے. الہ آباد ہائی کورٹ میں 20-21 سال کی سماعت کے بعد پہلی بار اس تنازعہ سے منسلک ایک پہلو پر فیصلہ آ گیا. تینوں فریقوں کا حصہ مان لیا گیا. اب صرف یہ طے کرنا تھا کہ کون سا حصہ کسے ملے گا، مگر پہلے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے.

جسٹس ایس یو خان ​​کی بنچ نے طے کرتے ہوئے کہا کہ مسلم، ہندو اور نرموہی اکھاڑا کو اس متنازعہ زمین کا مشترکہ حصہ دار بنایا جاتا ہے. درمیان والے گنبد کے علاقے جہاں فی الحال مورتی رکھی ہوئی ہے، وہ ہندوؤں کو دیا جائے گا. نرموہی اکھاڑا کو وہ حصہ دیا جائے گا جس میپ میں رام چبوترہ اور سیتا باورچی خانے کے نام سے ہے. جسٹس ایس یو خان ​​کی صدارت میں دو تناسب ایک سے تین ججوں کی بنچ نے اس تنازعہ کو ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں سے آخری فیصلہ قریب نظر آنے لگا. تین ججوں نے اس فیصلے کے لئے 9000 سے زائد صفحات لکھے ہیں .

جسٹس ایس یو خان ​​نے اپنے فیصلے کے آغاز جن قطاروں سے کی ہے اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کو اس مشکل فیصلے کو لکھتے وقت ایک جج کے چیلنجوں کو سمجھ سکیں . other orginial suit number 4، 1989. sunni central board of waqf up and others versus gopal singh visharad and others کے فیصلے میں ایس یو خان ​​جس بات سے شروع کرتے ہیں وہ قانون کے طالب علموں کے لئے نذیر تو ہے ہی، آپ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں فیصلہ لکھنا آسان نہیں ہو گا، مگر کوئی چاہے تو لکھ سکتا ہے. جسٹس خان ان لائنوں سے شروعات کرتے ہیں – یہاں 1500 مربع گز زمین کا ایک ٹکڑا ہے جہاں دیوتا بھی گزرنے سے ڈرتے ہیں. اس بے شمار بارودی سرنگوں، لینڈ مائنس سے بھرا ہوا ہے. ہمیں اسے صاف کرنے کی ضرورت ہے. کچھ بھلے لوگوں نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ کوشش بھی مت کرو. ہم بھی نہیں چاہتے ہیں کہ کسی احمق کی طرح جلدی کریں اور خود کو اڑا لیں . باوجود اس کے ہمیں خطرہ تو لینا ہی ہے. کسی نے کہا ہے کہ زندگی میں سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے کہ موقع آنے پر خطرے ہی نہ لیا جائے. ایک بار دیوتاؤں کو بھی انسانوں کے آگے جھکنے کے لئے مجبور کیا گیا تھا. یہ ایک ایسا ہی موقع ہے. ہم کامیاب ہوئے ہیں یا ناکام رہ گئے ہیں؟ آپ کیس میں کوئی جج نہیں ہو سکتا ہے. اس طرح یہ رہا وہ فیصلہ جس کا پورا ملک سانس روکے انتظار کر رہا ہے.

… اور جسٹس خان فیصلہ لکھ دیتے ہیں . طے کر لیا تھا کہ فیصلہ دینا ہے. فیصلے کے بعد کسی کو انٹرویو نہیں دیا نہ میڈیا کے سامنے آئے. جج کا جو کام ہوتا ہے وہ کرکے جا چکے تھے. اسی فیصلے میں انہوں نے ایک اور بات لکھی ہے. جس کا سپریم کورٹ کے تبصرے سے گہرا تعلق ہے. 10 بار بات چیت کی کوشش ہوئی ہے. سابق وزیر اعظم چشےكھر کے ساتھ بات چیت کی کوشش کو کامیابی سمجھا جاتا ہے، مگر آخری طور پر سب ناکام رہی. بات چیت کے نام جتنی کوشش نہیں ہوتی، اس سے کہیں زیادہ ماحول کو گرمایا جاتا ہے. جسٹس ایس یو خان ​​کی بنچ نے بھی بات چیت کا ایک موقع دیا تھا. 27 جولائی 2010 کو ایک حکم بھی پاس ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آج ہم نے بات چیت کے ذریعہ تنازعہ کو حل کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا. ابھی تک کچھ بھی ٹھوس کام نہیں نکلا ہوا. پھر بھی ہم نے تمام  وکلاء سے کہا ہے کہ جب تک فیصلہ سنایا جا رہا ہے تب تک انہیں رعایت ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعہ معاہدے کی کوشش کریں اور ضرورت پڑنے پر او ایس ڈی سے بنچ قائم کرنے کے لئے رابطہ کر سکتے ہیں .

جولائی سے ستمبر آ گیا مگر بات چیت کا کوئی کوشش نہیں ہویی. 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ ہی سنا دیا. اس فیصلے کی بھی خوب جائزہ لیا گیا. جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوؤں کے عقیدے میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے. سپریم کورٹ کے تبصرے میں مذہب اور عقیدے کا نام لے کر بات چیت کا ایک اور موقع دینے کی بات کر رہا ہے. لہذا بات چیت سیاسی ہو چلی ہے. سب سے زیادہ عدالت کیوں نہیں الہ آباد ہائی کورٹ کی طرح روزانہ سماعت کر اعلی عدالت کے فیصلے کو آگے بڑھاتی ہے. کیا سب کو سپریم کورٹ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے.

کیا ہماری عدالتیں ایمان کے نام پر یا لوگوں کے درمیان وسیع ردعمل کو لے کر خدشہ میں رہتی ہیں . ان کی فکر میں یہ ہوتا ہے کہ فیصلے کے بعد کیا ہوگا. کیا ایسا ہونا فکر کی بات نہیں ہے. نومبر 2015 میں جب حاجي علی میں عورتوں کے داخلے کو لے کر بامبے ہائی کورٹ کے سامنے درخواست آئی تو جسٹس ويیم كناڑے نے کہا کہ یہ جو وقت ہے وہ عدم برداشت کا وقت ہے. مذہبی امور میں لوگ اکثر حساس ہو جاتے ہیں ، تو ہم عام طور پر کوشش کرتے ہیں کہ دخل ہی نہ دیں.

اس معاملے میں بھی عدالت نے تمام فریقین سے گزارش کی تھی کہ باہمی بات چیت سے حل لیں . ایسا نہیں ہے کہ عدالتوں نے جنبھاونا کے خلاف جاکر فیصلے نہیں دئے ہیں مگر جو مسئلہ 67 سال میں عدالت کی آخری دیلیز پر پہنچا ہے، وہاں سے بات چیت کی ناکام میز پر کیوں بھیجا رہا ہے. خاص طور پر تب جب سب عدالت کے حکم کو قبول کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close