آج کا کالمہندوستان

بجٹ 2018: مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے!

ڈاکٹر سلیم خان

ماہِ جون میں اسکول  کا کھلنا اور برسات کی آمدایک ساتھ ہی ہوتی تھی  اور زباندانی کی کلاس میں پہلے مضمون کا عنوان ہوا کرتا تھا ’موسمِ باراں ‘۔ اس کی شروعات تقریباً ہر طالب علم ایک مشترکہ جملے سے کرتا تھا’’ہمارے ملک میں تین موسم ہوتے ہیں۔ گرمی، سردی اور برسات‘‘۔ کم سن بچہ فطرت پر ہوتا ہے اس لیے سیاست نہیں جانتا۔ کبر سنی تک سیاست اس کی فطرت میں شامل ہوجاتی ہے اور اسے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں کئی موسم ہوتے ہیں  مثلاً بجٹ کا موسم جو اپنے ساتھ مہنگائی کی سوغات لاتا ہے۔ انتخاب کا موسم جس کے ساتھ فسادات آتے ہیں اور تفریح کا موسم جس میں  ہمارے رہنما سرکاری خرچ پر پکنک منانے کے لیے غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس ہفتہ ہمارے ایک دوست نے کہا بجٹ پر مضمون لکھو تو میں بولا بھائی میں کوئی ماہر معاشیات تھوڑی نا ہوں۔ اس نے جواب دیا ہمارے وزیر خزانہ بھی تو وکیل ہیں۔ وہ اگر بجٹ پیش کرسکتے ہیں تو تم اس پر تبصرہ کیوں نہیں کرسکتے۔ جیسا اوٹ پٹانگ بجٹ ویسا ہی اول جلول تبصرہ  کیا فرق پڑتا ہے۔

 بات معقول تھی اور اس نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ۶۰۰ کروڈ رائے دہندگان میں ہمارے پردھان سیوک کو ایک بھی ماہر معاشیات کیوں نہیں ملا جس کو وزیر خزانہ بناتے؟  اور سنگھ پریوار کزشتہ ۹۰ سال سے کون سئ بھاڑ جھونک رہا ہے کہ اس میں کوئی معیشت کا ماہر نہیں نکل سکا ؟ ان سوالات کے جواب میں یاد آیا بی جے پی میں فی الحال دو ایسے لوگ ضرور ہیں کہ جن کو معیشت کی شدبد ہے لیکن افسوس کہ ان میں سے ایک سبرامنیم سوامی کا دماغ پوری طرح چل گیا ہے اس لیے انہوں عالمی شہرت یافتہ  امرتیہ سین پر الزام لگایا ہے کہ وہ غدارِ وطن ہیں اور انہوں نے نالندہ یونیورسٹی کو لوٹنے کے سوا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ کانگریس کے ذریعہ موجودہ سرکار پر یہ الزام لگانے کے بعد کہ وہ سنگھ پریوار کے لوگوں کو قومی ایوارڈ دے رہی سوامی جی بگڑ گئے۔ سوامی جی نے کہا نوبل انعام یافتہ سین  کو بھارت رتن  اعزاز سونیا گاندھی کے دباو کی وجہ سے دیا گیا لیکن بی جے پی کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی آخر سونیا گاندھی کے دباو میں کیوں آگئے؟

اس سوال کا سوامی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ موجودہ سرکار اگر سنگھیوں کو نوازتی ہے تب بھی سوامی جی بھاگ نہیں کھلیں گے اس لیے کہ وہ ایک زمانے تک سنگھ کے دشمن تھے۔ سوامی جی کو دکھ اسی بات کا  ہے کہ فی زمانہ   ان کا حال  دھوبی کے گدھے جیسا ہوگیا ہے بقول شاعر؎

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

 مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

بی جے پی کے دوسرے ماہر معیشت یشونت سنہا ہیں جو پہلے آئی اے ایس افسر تھے۔ اس کے بعد وزیرخزانہ بھی ہوئے۔ ان کا بیٹا جینت سنہا بدعنوانی کے سنگین الزامات کے باوجود وزیر ہوا بازی بنا ہوا ہے لیکن باپ یشونت سنہاکھیتوں  کی ہوا کھا رہا ہے۔ یشونت سنہا کا دعویٰ ہے کہ موجودہ سرکار نے کسانوں کو بھکاری بنادیا ہے لیکن ان کی ہر بات کو ان سنی کرکے ارون جیٹلی نے ان پر بڑھاپے میں وزارت کا حریص قرار دے دیا  تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے اپنے والد کی اس کھلی توہین کے باوجودبے غیرت  جینت سنہا کی پیشانی پر شکن نہیں آئی اور وہ اپنی وزارت سے چپکا رہا۔ یشونت سنہا نے تنگ آکر حکومت کے خلاف راشٹریہ منچ کے قیام کا اعلان کردیا ہے لیکن ان کا اپنا نور نظر حکومت کا دفاع کررہا ہے۔ اورنگ زیب پر من گھڑت الزامات لگانے والے  بی جے پی  رہنماسنگیت سوم کو جینت کی اپنے والد غداری نظر نہیں آتی اور بی جے پی کی حکومت کے ذریعہ اس کی پشت پناہی پر اعتراض نہیں ہوتا۔ کیا یہی ہندوتوا کے سنسکار ہیں جن پر سنگیت سوم کو ناز ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ یشونت سنہا نے سنگھ کے بجائے لوہیا کے ساتھ تربیت حاصل کی اور جینت  سنہا سنگھیوں کی صحبت میں پلا بڑھا۔ باپ بیٹے کی فکر ونظر میں پایا جانے والا اختلاف اسی سبب سے ہے۔ بی جے پی کے اندر گھٹن محسوس کرنے والے یشونت سنہا  کی کیفیت اس شعر کی مصداق ہے کہ ؎

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے

 گریباں چاک جب تک کر نہ لیں گے دم نہیں لیں گے

بجٹ اجلاس کے افتتاح سے قبل صدر مملکت اور وزیراعظم نے اس دوران تین طلاق کے بل کی منظوری پر زور دیا۔ بڑے بڑے ماہرین چکرا گئے کہ آخر معیشت کا تین طلاق سے کیا تعلق ؟لیکن سیاسی مبصرین کو یہ گتھی سلجھانے میں چنداں دقت محسوس  نہیں ہوئی۔ اس مسئلہ  سےبی جے پی کی پانچوں انگلیاں گھی  اور سرکڑاھائی میں ہے۔ اس میں اگر کانگریس گرم جوشی  دکھاتی  ہے تو بی جے پی ہندو رائے دہندگان کو یقین دلاتی ہے کہ دیکھو کانگریس مسلم نواز ہونے کے سبب تمہاری دشمن ہے اس لیے ہمیں ووٹ دو۔ کانگریس اگر سردمہری کا مظاہرہ کرے تو دیگر مسلم رہنما کانگریس کو مسلم دشمن قرار دیتے  ہیں جس میں بی جے پی کا بلاواسطہ فائدہ ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدھارمیہ بی جے پی اور ایم آئی ایم کے تال میل پر فکرمندی ظاہر  کرچکے ہیں۔ تین طلاق کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر اس غیر اہم موضوع  پر بحث میں اجلاس کا زیادہ تر وقت رف ہوجائے تو بی جے پی بجٹ بغیر کسی تنقید و مخالفت کے بہ آسانی پاس ہوجائے گا۔

وزیر خزانہ ارون جیٹلی جس وقت  بجٹ پیش کرنے سے قبل اپنے کابینی رفقاء سے گفت شنید کرکررہے تھے عدالت عظمیٰ  میں  ایک سنگین مقدمہ پیش ہوا۔ یہ ۸ ماہ کی ایک معصوم  بچی کی آبروریزی کا معاملہ ہے  جس کا ملزم گرفتار ہوچکا ہے اور اس نے اقبال جرم بھی کرلیا ہے۔ جسٹس دیپک مشرا نے اس پر تاسف کا جتاتے ہوئے کہا کہ ’’ بچیوں کی عصمت دری پر عدالتِ عظمیٰ پہلے بھی تشویش کا اظہار کرچکی ہے۔ بچیوں  پر بربریت اور غیر انسانی جنسی  ہراسانی کے خلاف سخت قانون وضع کرنے کا کام  ہم نے ایوانِ پارلیمان کو سونپا تھا لیکن اب تک کچھ نہیں ہوا۔ ایسے میں ہمیں آج پھر وہی بات دوہرانا پڑ رہی ہے‘‘۔ عدالت نے ایک ایسا قانون بنانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جس میں ۱۲ سال سےکم عمر کی آبروریزی کا مقدمہ ۶ ماہ کے اندر نمٹا دیا جائے  اور مجرم کو موت کی سزا تجویز کی جائے۔ گزشتہ ماہ مدھیہ پردیش کی صوبائی اسمبلی نے  اتفاق رائے قانون منظور کرکے صدر کی توثیق کے لیے بھی روانہ کردیا لیکن مرکز کی حکومت  نے سپریم کورٹ کی اس اہم تجویز کو نظر انداز کرکے تین طلاق کا قانون بنادیا اور اب اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔مرکزی حکومت کا یہ رویہ ’’بہت ہوچکا بلاتکار، اب کی بار مودی سرکار‘‘ کے نعرے کا مذاق  ہے۔

ہندو خواتین تو بی جے پی کے اس رویہ پر یہی شعر گنگناتی ہوں گی؎

کبھی  جن سے رسم نہ  راہ تھی، جسے ذوق تھا نہ نگاہ تھی

اسے انجمن میں بلا لیا، مجھے انجمن سے اٹھا دیا

سوال یہ ہے کہ آخر بی جے پی  ۴۴ فیصد ہندو خواتین کی فلاح بہبود کو نظر انداز کرکے ۶ فیصد مسلم خواتین کی بھلائی کے لیے کیوں ٹسوے بہاتی رہتی ہے۔ اس کے  کئی فوائد ہیں  مثلاً جس طرح کانگریس کا خیال ہے کہ اسے ووٹ دینا مسلمانوں کی مجبوری ہے اسی طرح بی جے پی والے سوچتے ہیں کہ ہندو خواتین اگر کمل پر مہر نہیں لگائیں گی تو کیا سائیکل چلائیں گی یا ہاتھی پر سواری کریں گی؟ کانگریس  سے ہاتھ ملانے پر وہ رانی پدماوتی کی مانند جوہر کو ترجیح دیں گی اس لیے ان کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ مسلم خواتین کی حمایت کچھ اس طرح سے کی جاتی ہے اسلام اور مسلمانوں کی  بدنا می ہو اور ایسا کرنے سے بھی فسطائی ہندو خوش ہوتا ہے کیونکہ اس کے  کالےکرتوتوں  کی پردہ پوشی ہوجاتی ہے۔ حج سبسڈی ختم کرنے سے روپیہ بچتا ہے اور تین طلاق دینے والے کو جیل بھیج دینے  پرکوئی خرچ  بھی نہیں آتا۔ اس لیے کیوں نہ مسلم خواتین کا راگ الاپ  ہندو خواتین کو ایک جھوٹا دلاسہ دیا جائے کہ ان کی حالت بہتر ہے۔ انہیں کوئی تین تو دور ایک طلاق بھی نہیں دیتامگر چھوڑ ضرور دیتا ہے اور جیل بھی نہیں جاتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close