آج کا کالم

بدعنوانی: مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی 

ڈاکٹر سلیم خان

بدعنوانی پھر ایک بار موضوع بحث بن چکی ہے۔ نتیش کمار نے بدعنوانی کے خلاف  علم بلند کرکے گھرواپسی کرلی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ساری بیوفائی کو بھول بھال کر انہیں مبارکباد دے دی۔  پڑوسی ملک پاکستان میں اسی مسئلہ پر مودی جی کے گہرے دوست نواز شریف کو عدالت عالیہ نے تاعمر نااہل  قرار دے کروزیراعظم کی کوٹھی سے نکال کر گھر واپس کردیا۔  انتخابی مہم کے دوران جب مودی جی نے نعرہ لگایا ’’نہ کھاوں گا نہ کھانے دوں گا ‘‘تو ملک کے عوام نے سمجھا کہ وہ بدعنوانی کو ختم کرنے کی بات کررہے ہیں لیکن اب پتہ چلا کہ وہ تو بیف کا ذکر فرمارہے تھے۔ انہوں نے اپنا وعدہ نبھایا۔ وہ نہ بیف کھاتے ہیں اور بھارت واسیوں کو کھانے دیتے ہیں ۔ جہاں تک غیر ملکیوں کا تعلق ہے ان کی بات اور ہے۔ یہ تو انہوں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ ’’میں نہیں کھلاوں گا‘‘ خیر۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نے جب  سوال کیا  تھا’’میرے آگے پیچھے کون ہے؟‘‘ (جس کے لیے میں رشوت لوں ) تو لوگوں نے دیکھا کہ  نہ ان کے آگے بیوی ہے اور نہ پیچھے بچے ہیں۔  عوام کو یقین ہوگیا کہ  اب تو بدعنوانی  قریب الختم ہے لیکن حکومت سازی کے بعد جب قریب سے دیکھا تو وزیراعظم کے آگے آگے امبانی اور پیچھے پیچھے اڈانی چل رہے ہیں ۔ بدعنوانی کے خلاف ایوان پارلیمان میں نوٹ کی گڈیاں اچھالنے والے اڈوانی کو ’ون آشرم‘ میں کیلاش پربت روانہ کردیا گیا۔

وطن عزیز میں ’’عالمی یوگا دن ‘‘ سے سب واقف ہیں۔ اس روز ملک کا وزیراعظم ہزاروں بھکتوں اور بدعنوان گرو رام دیو   کے ساتھ ٹیلیویژن کیمروں کے سامنے ڈنڈ بیٹھک کرتا ہے لیکن لوگ  یہ نہیں جانتے کہ عالمی سطح پر ایک ’’بدعنوانی مخالف دن ‘‘ بھی منایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں بدعنوانی  اقتدار پر قبضہ کرنے کا ایک موثر آلۂ کار ہے۔  اس لیے سیاستداں اس کو سینت سینت کر رکھتے ہیں  ختم کرنے کی غلطی نہیں کرتے۔ آج کل تو اس کا استعمال سرکاری  لوٹ کھسوٹ کو جائزقرار دینے کے لیے بھی  کیا جانے لگا ہے۔ گزشتہ سال  دسمبر میں شفافیت کی عالمی تنظیم (ٹرنسپیرنسی انٹرنیشنل )نے جب ”بدعنوانی مخالف دن” کے موقع پر  جائزہ لیا تو دلچسپ انکشافات ہوے۔  وطن عزیز کو دنیا 168 ممالک میں 76 واں اعلیٰ و ارفع مقام حاصل ہوا۔  ایشیا کے اندرسرِ فہرست ممالک میں ہمارا شمار ہوااور  ہم نے پاکستان کوبھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ فوربس نامی معروف ادارہ بھی ہندوستان کو بدعنوان ترین ممالک میں  شمار کرتا ہے۔  ایک جائزے کے مطابق اس دوران جب کہ ایک پردھان سیوک چوکیداری  کررہا ہے  ہر چار میں سے ایک فرد کو اپنا کام کرانے کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہونا پڑاہے۔ یہ ہے ’’ نہ کھانے دوں گا ‘‘ کی عملی تفسیر۔ بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے لیے مرکزی حکومت یکے بعد دیگرے کئی حماقتیں کرتی  رہی۔  کبھی نوٹ بندی تو کبھی جی ایس ٹی کا کوڑا برسایا گیامگر بقول غالب (ترمیم کے ساتھ) ؎

مریض گھوس پر لعنت خدا کی

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

بدعنوانی مخالف دن 9 دسمبر کو منایا جاتا ہے اور جس وقت یہ جائزہ لیا جارہاتھا عوام نوٹ بندی کی چکی میں پس رہے تھے حکومت یہ غلط فہمی پھیلارہی تھی کہ اس انقلابی قدم سے کالادھن ختم ہوگیا ہے اور رشوت خوری اپنی موت آپ مر گئی ہے۔  عوام سے جب دریافت  کیا گیا تو اس خیال خام کی تردید ہوگئی اور49 فیصد نے کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔  26 فیصد نے براہ راست نقد رشوت دینے کا اعتراف کیا اور 25 فیصد نے دلال کے ذریعہ رشوت دی۔ جولائی 2015 سے جنوری 2017 کے دوران  تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے جاپان کے اندر ایک ہزار میں سے صرف دو لوگوں کو رشوت دینی پڑی تو ہندوستان میں یہ تعداد 690 تھی یعنی ہماری حالت ویتنام (650) سے گئی گزری تھی ۔

 مودی جی کےہندوستان میں 41 فیصد لوگ  یہ سوچتے ہیں کہ بدعنوانی بڑھ رہی ہے جبکہ نواز شریف کے پاکستان میں صرف 35 فیصد کا خیال ہے کہ بدعنوانی میں اضافہ ہورہا ہے اس کے باوجود شریف کو جانا پڑا اور مودی جی انتخاب پر انتخاب جیت رہے ہیں ۔  اس لیے کہ 53 فیصد عوام اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ حکومت بدعنوانی کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے اور 35 فیصد کے خیال میں کچھ نہیں کیا جارہا۔  پاکستان کے صرف ۴۵ فیصد حکومت سےمطمئن اور ۵۵ فیصد ناخوش  ہیں ۔ عوام سے جب سوال کیا گیا کہ بدعنوانی  کی بیخ کنی کے لیے کیا کیا جائےتو ان کا جواب تھا کہ اس کے خلاف شکایت درج کرائی جائے اور رشوت دینے سے انکار کردیا جائے لیکن اس دعویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ صرف 7 فیصد لوگ شکایت درج کراتے ہیں ۔ جب لوگوں سے شکایت نہیں کرنے کی بابت پوچھا گیا تو مختلف جوابات سامنے آئے مثلاً وہ نتائج سے خوفزدہ  تھے۔ اس کے علاوہ مایوسی کہ کچھ ہونے جانے والاتو ہے نہیں اور پھر کئی لوگوں کو ضابطہ تک نہیں معلوم تھا۔ سب سے چونکا نے والا پہلو یہ ہے کہ 20 فیصد لوگوں نےبدعنوانی کے سامنےپوری طرح سپر ڈال دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔  اگر کوئی سیاسی نظام 20  فیصدعوام کو مایوسی کا شکار کردے تو وہ نظام رحمت یا زحمت ؟

حکومت کی جانب سے آئے دن یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کا دامن پاک صاف ہے جبکہ کبھی چھتیس گڑھ میں جنگلات کی زمین کو غیر قانونی طور پر خرید کر صوبائی وزیر برج موہن اگروال  اپنی بیوی کے نام پر کوٹھی تعمیر کرلیتا ہے تو کبھی مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ اپنے ہی وزیر پرکاش مہتا کے خلاف ایس آر اے گھپلے میں تفتیش کا حکم دیتے ہیں ۔  راجستھان کی وزیراعلیٰ سندھیا بھگوڑے للت مودی کی حمایت میں خطلکھتی  ہیں کیونکہ ان کا بیٹا مودی کا شراکت دار ہے تووزیرخزانہ  جیٹلی کی بیٹی عدالت میں للت مودی کی  وکالت کرتی ہے۔   چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ رمن سنگھ پر ۳۶ہزار کروڈ کی بدعنوانی کا الزام لگتا ہے اور پھر ہیلی کاپٹر گھوٹالہ بھی سامنے آجاتا ہے۔  مدھیہ پردیش میں ویاپم  گھپلے کے ایک کے بعد ایک گواہ خودکشی کرلیتے ہیں یا موت کے گھاٹ اتار دیئے جاتے ہیں اس کے باوجود یہ  دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بی جے پی بے داغ ہے۔  ہر قتل کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج چوہان اپنے پاپ دھونے کے لیے نربدا ندی میں ڈبکی لگا کر پوتر ہوجاتے ہیں ۔

اتر پردیش کی نوزائیدہ یوگی سرکار نے حال میں ایک تماشہ  کیا۔ ایک رکن اسمبلی  کی کرسی کے نیچے ملنے والے سفید پاوڈر کو بلا تحقیق 22 کروڈ عوام کے نمائندوں کے خلاف  خطرناک سازش  قرار دے دیا اور جلدبازی میں اس کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی  این آئی اےکے حوالے کرنے مطالبہ کردیا۔ اس طرح کا فرضی ہواّ کھڑا کرکے ایوان اسمبلی کو محفوظ تر بنانے کی خاطرکیمروں کے علاوہ بومر اور پورے جسم میں لوہے کی جانچ کرنے والے 6 اسکینرس  خریدنے کا فیصلہ کر ڈالا۔  آگے چل کر پتہ چلا کہ لکھنو کی  جس تجربہ گاہ میں اس صفوف کو جانچا گیا تھا وہ اس کی اہل ہی نہیں تھی۔ آگرہ کی فورینسک  رپورٹ اس کے آتش گیر ہونے کی تصدیق نہ کرسکی۔  این آئی اے نےشکایت درج کرنے سے انکار کردیالیکن اس کے باوجودجدید آلات کی خریدی  کا فیصلہ اور اس میں ملنے والی رشوت کا انتظام تو ہوگیا۔  سیاستدانوں کو اور کیا چاہیے؟ دراصل ہمارے ملک میں چوری کرنا جرم نہیں ہے بلکہ پکڑا جانا جرم ہے اور فی الحال  تمام بدعنوان مجرمین کو زعفرانی  تحفظ فراہم کردیا گیا ہے۔

بدعنوانی کی پردہ پوشی کس طرح کی جاتی ہے اس کی ایک  مثال اس وقت سامنے آئی جب امیت شاہ کی ملکیت میں ۳ گنا اضافہ کی خبر چند گھنٹوں کے اندر ٹائمز آف انڈیا جیسے بڑے اخبار نےاپنی ویب سائیٹ سے ہٹادی۔  اب بی جے پی والے کہہ رہے ہیں کہ یہ اضافہ ان کی والدہ کی موت کے بعد وراثت کی تقسیم  کے باعث ہوا تھا۔ حقیقت اگر یہی ہے تو اس قدر گھبرا کر خبر دبانے کی ضرورت کیا تھی ؟ وہ تو صرف اضافہ کی خبرتھی اس میں بدعنوانی کا الزام نہیں تھا مگر اس کو دباو ڈال کر ہٹوانا ظاہر کرتا ہے کہ امیت شاہ کی داڑھی میں تنکہ ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے وقار کو تو ویسے ہی ارنب گوسوامی بٹہّ لگا کر چمپت ہوگیا ہے لیکن ملک کے سب قابل احترام جریدے اکانامکس اینڈ پولیٹیکل ویکلی کا بھی اپنے گناہوں پر چادر ڈالنے کی خاطراس حکومت نے  سرِ بازار ’وستر ہرن‘  کردیا۔ ای پی ڈبلیو کے مدیر اور ملک کے نامور صحافی پرنجوائے گوہا ٹھاکرتا سے زبردستی استعفیٰ لیا گیا اور انہیں دھمکی دی گئی کہ جب تک کہ وہ اڈانی اور مودی کی سانٹھ گانٹھ پر لکھے مضمون کو ویب سائیٹ سے نہیں اتارتے اپنے کمرے سے باہر نہیں جاسکتے۔  اس ماحول  میں بھلا کون  بدعنوانی کا پردہ فاش کرنے کی جرأت کرے گا اور کہاں سےبی جے پی کی رشوت خوری سامنے آئیگی؟

سمیکشا ٹرسٹ کے ذریعہ گوہا کو نکالنے کا جواز بھی کسی باوقار ادارے کو زیب نہیں دیتا۔  پہلی وجہ یہ بتائی گئی کہ اڈانی کا جواب دینے کے لیے ٹرسٹ کی اجازت کے بغیر وکیل کا تعین نامناسب تھا۔  جریدے کا مدیر کوئی اسکول کا بچہ ہوتا ہے کہ حمام جانے کے لیے بھی استاد سے اجازت لے کر جائے؟ یہ بھی کہا گیا کہ گوہا کی ادارت میں جریدے کے سنجیدہ  لب ولہجہ اس قدر  متاثر ہوا کہ وہ اپنے ماضی سے بالکل مختلف ہوگیا۔ اگر یہ درست ہے تو اس کا احساس اڈانی کی نوٹس کے بعد ہی کیوں ہوا؟ اور مدیر کوہٹانے کے سے قبل مذکورہ مضمون کو کیوں اتروایا گیا؟  اس معاملے تیسرا اعتراض اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ سرپیٹ لینے کو جی کرتا ہے۔ کہا گیا گوہا کو چاہیے تھا کہ خود کم لکھتے اور ادارت کا کام زیادہ کرتے۔ گوہا کوئی منیجر یا منتظم نہیں ہے بلکہ نامور صحافی ہے۔ ان کا قلم ہی ان کی شناخت ہے ایسے میں کسی اخبار کا مالک ان سے یہ شکایت تو کرسکتا ہے کہ اتنا کم مت لکھو لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ زیادہ نہ لکھا جائے۔ اس طرح کادستور قلبندی کوئی بھی خوددار صحافی برداشت نہیں کرسکتا۔

پرنجوائے گوہا ٹھاکرتا نے یہ پہلی مرتبہ شہد کے چھتے میں نہیں ہاتھ مارا بلکہ اس سے قبل بھی  ان کی کتاب ( بعنوان:Gas Wars: Crony Capitalism and the Ambanis)  پر ہنگامہ ہوچکا ہے۔ ریلائنس گروپ نے انہیں عدالتی نوٹس دےکر دھمکایا تھا کہ اس کے سارے مسودے اور نیٹ کے نسخے برباد کردیئے جائیں نیز مستقبل میں اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی جائے لیکن حق کی اس آواز کو دبایا نہ جاسکا اور آج بھی وہ کتاب بازار میں شان سے  بک رہی ہے۔ ہندوستا ن کی ۵۹ فیصد دولت ایک فیصد سرمایہ داروں کے پاس جمع ہے۔  نریندر مودی نے اپنا سب سے مہنگا انتخاب انہیں کے بل بوتے پر لڑا  تھااور اب ان کے مفادات کی حفاظت کررہے ہیں ۔  امبانی اور اڈانی ان  میں سے دو اہم نام ہیں جن کی کی سیاہ کاریوں پر قلم اٹھانے والوں کو سبق سکھایا جارہاہے۔   جمہوریت میں عوام کو تو وعدوں اور تقاریر سے بہلایا پھسلایا جاتا ہے لیکن اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے؎

      خواب کے بدلے اشک چکانے پڑتے ہیں       

قسطوں میں جاتی ہے رشوت ان کی بھی

جمہوری حکومت کی سرمایہ داروں سے سانٹھ گانٹھ کوئی نئی بات نہیں ہے۔  پہلے یہ درپردہ ہوتا تھا مگر مودی جی بڑی ڈھٹائیسےگوتم اڈانی کو ساتھ لے کر غیر ملکی دورے گئے۔  آسٹریلیا میں تمام ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کراسٹیٹ بنک آف انڈیا کے ذریعہ  100 کروڈ ڈالر کی کریڈٹ لائن  اڈانی گروپ کو مہیا کرائی گئی تاکہ وہ کارمائیکل کوئلے کی کان کنی کا پروجکٹ لے سکےاور پھر ماحولیات کے قوانین کی خلاف ورزی کرکے اڈانی کو صنعت کاری کے لیےگجرات میں  زمین مہیا کرائی گئی نیز اس کا سبز جرمانہ معاف کردیا گیا۔ سینئر صحافی جوسی جوزف کے مطابق سرکاری محکموں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ  اڈانی گروپ نے جنوبی کوریا اور چین سے  درآمد کیے جانے والے آلات کی قیمت بڑھا کر لکھوائی اور  5 ہزار کروڈ روپیہ ملک سے باہر ٹیکس بچا کر پہنچا دیا۔ اس معاملے کادلچسپ پہلو یہ ہے کہ اڈانی گروپ کو 506 کروڈ لوٹانے کا حکم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے  دے  دیا مگر یہ رقم اڈانی نے سرکاری  خزانے میں جمع  ہی نہیں کی اور واپسی کا دعویٰ ٹھونک دیا۔

گوہا ٹھاکرتا نے جب ان حقائق کو بے نقاب کیا تو انہیں اس کی قیمت چکانی پڑی۔  ٹاٹا اور امبانی نے اس طرح کی جو گھپلے بازی کی ہے اس کو شامل کر لیا جائے تو یہ رقم 15 ہزرا کروڈ تک پہنچ جاتی ہے لیکن سرکار اس کی تفتیش کرنے کے بجائے اس کا انکار کررہی ہے۔  یہ تحقیق طلب  امرہے  مودی سرکار نے  اس لوٹ کی اجازت خیرات میں دے دی یا اس میں سے اپنا حصہ محفوظ کرلیا؟پناما لیکس میں ایک ہزار سے زیادہ ہندوستانیوں کے نام ہیں  لیکن سوئس بینک سے کالا دھن لانے کا دعویٰ کرنے والی سرکار نے ان کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔  پناما لیکس  کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ اس کے سبب آئس لینڈ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا اور نواز شریف  کوجانا پڑا حالانکہ اس میں خود ان کا نہیں اہل خانہ کا نام تھا۔  س معاملے میں مودی سرکار کی سرد مہری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پناما لیکس کی فہرست میں گوتم اڈانی کے بڑے بھائی ونود اڈانی کا نامِ نامی بھی موجود ہے۔

عآپ کے سنجے سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح کوئلہ اور ٹوجی گھوٹالے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تفتیش کی گئی تھی اسی طرح پناما لیکس کی تحقیقات بھی کی جائیں ۔ اس میں  بڑے سرمایہ داروں کے علاوہ کانگریس اور بی جے پی کے رہنماوں مثلاً شیشر بجوریہ اور انوراگ کیجریوال  کا نام بھی شامل ہے۔ مزے کی بات تو یہ کہ ان میں 49 بدعنوانی پر قابو پانے کے سرکاری شعبےکے  افسران بھی شامل ہیں۔  ونود اڈانی کی بابت اڈانی گروپ  نے اعلان کیا کہ وہ 30 سال سے دبئی میں رہتے ہیں۔  یہ آدھا سچ ہے۔  ملک  کےباہر رہنے کے باوجود وہ اور ان کی اہلیہ  رنجن بین اڈانی گروپ کی کئی کمپنیوں میں ڈائرکٹر ہیں ۔  ایسے میں وہ لوگ جو کمائی ہندوستان کے اندر کرتے ہیں کیا اس کا ٹیکس چرا نے کے لیےوہ غیر ممالک میں فرضی کمپنی قائم کرسکتے ہیں؟

حکومت کو چاہیے کہ  وہ ڈاکٹر ذاکر نائک جیسے لوگوں  کے پیچھے پڑنے کے بجائے ان  بڑے بڑے ٹیکس چوروں کا پیچھا کرے لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ احسانمندی بھی تو کوئی چیز ہے نیز آئندہ انتخاب بھی تو انہیں کی مدد سے لڑنا ہے۔ اس لیے بدعنوانوں کی مخالفت کرنے والوں کو معتوب کیا جارہا ہے۔ حکومت کی انہیں حرکتوں کے سبب صحافت کی آزادی میں ہندوستان 138 ویں مقام پر ہے۔  اول تو ذرائع ابلاغ کے بکاو مال کو خرید لیا جاتا ہے اور این ڈی ٹی وی یا  دی وائر جیسا ادارہ اگر اپنے ضمیر کا سودہ کرنے سے انکار کردیتا ہے تو اس  کوچھاپہ مار کر ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جاتی ہے یہاں تک کہ  مضامین اتروا دیئے  جاتے ہیں تاکہ بدعنوانی پھلے پھولے۔ مودی جی کے آشیرواد سے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب صحافتی آزادی کے باب میں ہندوستان سب سے آخری مقام پر پہنچ جائیگا۔  پاکستان کو ناکام ریاست کا طعنہ دینے والوں کو ٹھہر کر سوچنا چاہیے کہ وہاں تو بدعنوانی میں ملوث وزیراعظم کو ہٹا دیا جاتا ہے  اور ہمارے یہاں بدعنوانی کا قلع قمع کرنے کی جدوجہد کرنے والے باضمیر صحافیوں کو ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے بقول شاعر؎ ۔

   صحافت خیانت، عدالت میں رشوت    

سیاست میں دہشت، حکومت کی عادت

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close