آج کا کالم

بدعنوانی کے معنی جمہوری سالمیت کے طور پر سمجھیں

سدھیر جین

انا ہزارے کی تحریک کا اتا پتا نہیں ہے. چند سال پہلے ملک میں بدعنوانی کے خلاف جو 125 کروڑ عوام اچانک اٹھ کھڑی ہوئی بتائی جا رہی تھی، اس کا بھی پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں جا کر بیٹھی. ہو سکتا ہے کہ ملک میں کرپشن ختم ہو گیا ہو. ہو یہ بھی سکتا ہے کہ حالت اب بھی وہی ہو، لیکن میڈیا میں بات ہونا بند ہو گئی ہو. تیسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ بدعنوانی نے کوئی دوسری شکل اختیار کر لی ہو. سو آئیے، اس معاملے پر کچھ بات چیت کر لیں.

کیا بتاتے ہیں سروے …؟

دنیا کے ہر ملک میں بدعنوانی کی صورت حال کا اندازہ کرنے والی بین الاقوامی ایجنسی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ہر سال اپنی رپورٹ جاری کرتی ہے. اس سال کے شروع میں اس نے رپورٹ دی تھی. ریسرچ سروے پر مبنی اس رپورٹ میں بھارت میں بدعنوانی کی صورت حال کو جوں کا توں بتایا گیا تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر اس سنسنی خیز رپورٹ کا ذکر میڈیا میں زیادہ نہیں ہوا. تھوڑا بہت بتانے کی کوشش ہوئی بھی تو اس پر فکر جتانے والوں کی کمی پڑ گئی. بہر حال، وہ بات آئی- گئی کر دی گئی. اگرچہ وہ وہ وقت تھا، جب للت مودی کانڈ اور حد درجے کا سنسنی خیز وياپم گھوٹالہ میڈیا میں چھائے ہوئے تھے. صرف یہ دو معاملے ہی کیا، کرپشن کے جتنے بھی واقعات سامنے آئے، وہ سبھی سنسنی کے بازار میں زیادہ دیر چلائے نہیں گئے اور بدعنوانی کے سبھی واقعات مارے گئے. اس سے ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ میڈیا کے بازار میں مصنوعات کے طور پر بدعنوانی کی خبروں کی سپلائی نہیں ہو رہی ہے.

بدعنوانی کے خلاف تحریکوں کا کیا ہوا …؟

روزمرہ کے سرکاری کاموں میں جتنی اڑچن عوام کو دو تین سال پہلے محسوس کرائی جا رہی تھی، کیا وہ کم ہوئی ہے …؟ دراصل، اپنا ملک بہت بڑا ہے، سو، اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے سروے کرتے رہنے پڑتے ہیں. لیکن ادھر دو سال سے ایسی سروے ایجنسیاں بڑے مسائل پر سروے کو چھوڑ کر صرف ووٹر کا رجحان بتانے کے کام تک محدود ہو گئی ہیں. ٹی وی چینلوں پر آناً فاناً مسئلہ بنا کر اس پر عوام کی رائے بتانے کے جو سنسنی خیز پروگرام بنائے جاتے تھے، وہ بھی دو ڈھائی سال سے بند ہو گئے ہیں. تین سال پہلے جس طرح عوام کے ہر دکھ کا سبب بدعنوانی کو بتایا جاتا تھا، اب اس کا ذکر ہونا بند ہے. کوئی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ بدعنوانی ختم ہو گئی، سو، اس کی بات بھی ختم. لیکن کوئی صاحب منطق یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ عوام کے دکھ تو جہاں کے تہاں ہے. یعنی یہ اصول ہی غلط ثابت ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے کہ عوام کے سارے دکھوں کا سبب بدعنوانی ہوتا ہے. دوگنی-چوگنی رفتار سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ضروری چیزوں کا مہنگے ہوتے جانا یہ تاؑثر دے رہا ہے کہ عوام کی صورت حال پہلے سے بھی زیادہ بری ہے.

رشوت خوری اور بدعنوانی کا فرق …

یہ علم اجرام کا موضوع ہے. وہاں رشوت خوری اور بدعنوانی کو الگ الگ پڑھایا جاتا ہے. وہاں خراب طرز عمل کو بدعنوانی کہا جاتا ہے. عام تجربے کی بنیاد پر کیا ہم پورے دعوے سے نہیں کہہ سکتے کہ بدعنوانی کم نہیں ہوئی، بلکہ بڑھ گئی ہے. اقتدار کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بولنے کا رجحان کیا بڑھتا ہی نہیں جا رہا ہے. بدعنوانی کا ایک اور مترادف لفظ بد اخلاقی کو کیا ہم بڑے سلیقے سے مثالی سلوک کے زمرے میں نہیں رکھتے جا رہے ہیں. ملک کی ترقی کا ہدف بتا کر کیا کسی بھی طرح کے اسباب اپنانے کو صحیح بتا کر اسے ہی اخلاقیات بتایا جانے لگا ہے.

بدعنوانی کا ایک اور مترادف بدسلوکی بھی ہے. سیاسی بدسلوکی کو آسانی سے غیر قانونی یا جرم بھلے ہی ثابت نہ کیا جا سکتا ہو، لیکن اس کا اثر کیا کسی بھی بدعنوانی سے کم ہے. خاص طور پر تب جب یہ بدسلوکی ایک نفسیاتی بیماری نہیں، سیاسی نفع نقصان کے مقصد سے ہوتی نظر آئے.

بدعنوانی کی ایک شکل سیاسی گناہ …

گناہ بھلے ہی مذہبی دنیا کا موضوع ہو، لیکن مذہب اگر سیاسی دنیا کا موضوع بنا لیا گیا ہو، تو ہمارے پاس اس کے علاوہ چارہ ہی کیا بچتا ہے کہ ہم سیاسی گناہ جیسے لفظ تحلیل کی تخلیق کر لیں. ترقی پسند ماہرین کو گناہ لفظ کے ذکر سے اعتراض یا پرہیز ہو سکتا ہے. اس بارے میں ان کے سامنے ایک دلیل رکھی جا سکتی ہے کہ طبی سائنس میں کسی جراثیم کو روکنے کے لئے اسی جراثیم کا ٹیکہ بنایا جاتا ہے. اس لحاظ سے سیاسی بد اخلاقی کے لئے سیاسی گناہ لفظ کا استعمال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

ہم اگر غور سے دیکھیں اور دکھانا چاہیں تو ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی، جو دیہات میں بستی ہے اور اس کی جیسی حالت ہے، اسے کسی سیاسی گناہ کے سبب کے طور پر ثابت کر سکتے ہیں. گاؤں کا آدمی جی توڑ محنت کے بعد بھی گزارا نہیں کر پا رہا ہے. کیا وجہ ہے کہ تقریبا سارے شہر دریاؤں کے کنارے آباد ہیں، لیکن سیلاب کے متاثرین گاؤں کے لوگ ہی دکھائی دے رہے ہیں. خشک سالی کا شکار گاؤں کا رہنے والا ہی ہے. زیادہ تر شہروں میں سیلاب سے تحفظ کا انتظام ہے، بلکہ پختہ انتظام ہے جبکہ گاؤں ڈوبنے کے لئے مجبور ہیں. غربت کے مارے گاؤں کے لوگ گاؤں میں ہی منہ چھپا کر مست رہ رہے ہیں. ان سے چشم پوشی سیاسی بد اخلاقی یا سیاسی گناہ کے طور پر کیوں نہیں دیکھی جا سکتی …؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close