آج کا کالم

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟

ڈاکٹر سلیم خان

سرد جنگ کے  زمانے میں ہندوستان اور سوویت یونین  کے درمیان بہت قربت تھی۔ سرخ آندھی  اپنے آس پاس کے تمام ممالک کو نگلتے ہوئے جب افغانستان پہنچی تو مجاہدین اسلام نے اس کے دانت کھٹے کردیئے اور وہیں سے اس   کے بکھرنے  کی ابتداء ہوئی یہاں تک کہ دنیا کے نقشے سے اس کا نام و نشان مٹ گیا اورپورے روس میں  لینن اور اسٹالن کے ہزاروں  مجسمے مسمار کردیئے گئے۔ اس کے بعد یک قطبی دنیا میں وزیراعظم  نرسمھا راو نے امریکہ کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔   افغانستان کے اندر امریکہ نے بغضِ سوویت یونین میں دلچسپی لی تھی۔ آگے چل کر اس  کی نیت بدل گئی  اور وہ  افغانستان پر حکومت کرنے کا خواب دیکھنے لگا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کو چھپانے کے لیے جارج ڈبلیو بش کو  ایک بلی کے بکرے کی ضرورت تھی اس لیے اس نے افغانستان پر پنجہ مارا لیکن  طالبان نے شیر کی مانند اس کامقابلہ کیا۔ جارج ڈبلیوبش  نے بہت جلد اندازہ لگا لیا کہ یہاں اپنی دال نہیں گلے گی اس لیے عراق میں صدام حسین  کا تختہ پلٹ  کر اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور دوبارہ الیکشن جیت لیا۔ یعنی جو کام اس کا سمجھدار باپ نہیں کرسکا وہ احمق بیٹے نے کردکھایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے بالا کوٹ کی ہوا بنا کر انتخاب جیتنا کس قدر آزمودہ اور آسان نسخہ تھا۔

اٹل بہاری واجپائی نے بھی۲۰  سال قبل کارگل کا اسی طرح استعمال کیا تھا اور اس وقت صدر بل کلنٹن  نے پاکستان کے خلاف ہندوستان کی پشت پناہی کی  تھی۔ اس طرح ہند امریکی تعلقات میں ایک نیا موڑ آگیا تھا   اور ۲۰ سال بعد کسی امریکی صدر نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا ۔  اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا۔ ریپبلکن بش کے زمانے میں سرد مہری   رہی لیکن   ڈیموکریٹ اوبامہ  کے آتے ہی پہلے والی گرمجوشی لوٹ آئی۔ اوبامہ نے پہلے تو  عراق سے انخلاء کیا اور اس کے بعد افغانستان سے جان چھڑانے کی خاطر منموہن سنگھ کو وہاں دلچسپی لینے پر اکسیا۔ چین کی گھیرابندی کے لیے  اوبامہ نے ہندوستان کو اہمیت دے کر افغانستان کے بکھیڑے میں شریک کےاپنی ذمہ داریوں کا بوجھ کم کردیا۔  اوبامہ شاید یہ محسوس کرتے تھے کہ ہندوستان کی مدد سے اگر افغانستان کےمعاملے کو طول دیا جائے تو کبھی نہ کبھی  طالبان تھک کر بیٹھ جائیں گے۔ اس حکمتِ عملی پر کام  جاری تھا  کہ مودی جی کے ہاتھوں میں زمامِ کار آگئی۔براک  اوبامہ نے نریندر مودی کو غیر معمولی اہمیت دی اور کئی مرتبہ انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی نیز خود بھی   ایک سے زیادہ مرتبہ ہندوستان کا دورہ کیا۔  یہی وہ زمانہ تھا جب پاکستان عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ رہا تھا اور وہ روس کےساتھ پینگیں بڑھانے  پرمجبور ہوگیا تھا۔

 اس دوران یمن میں فوج کشی سے انکار کرکے   نواز شریف  نے سعودی عرب اور متحدہ امارات کو ناراض کردیا۔ مودی سرکار نے اس کا بھرپور سفارتی فائدہ اٹھایا اور یہ حالت ہوگئی کہ بالا کوٹ حملے کے بعد جب ہندوستان کی شرکت کے خلاف پاکستان نے بائیکاٹ کی دھمکی دی تو اس کو نظر انداز کرکے سشما سوراج کو اجلاس میں شریک کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر یہ پاکستانی اثرو  رسوخ کے زوال کا انتہائی نکتہ تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں مسلمانوں کی مخالفت نے ہندو احیاء پرستوں کو باغ باغ کردیا۔ ان لوگوں نے نہ صرف اس کی حمایت زور شور سے   کی بلکہ جیت کا جشن مناتے ہوئے آرتی تک اتاری۔ یہ کم ظرف لوگ بھول گئے تھے کہ ٹرمپ مسلمانوں کی مخالفت کیوں کررہا ہے ؟ ٹرمپ کا نعرہ ‘سب سے پہلے امریکہ’ تھا۔  اس نعرے کے ذریعہ وہ سفید فام لوگوں کے دلوں میں مہاجرین کے خلاف نفرت پیدا کرکے ان کی خوشنودی حاصل کررہا تھا۔ مسلمانوں کی مانند ہندو مہاجر بھی اس کی مہم کے زد میں آتے تھے۔

  الیکشن جیتنے کے بعد سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے کی خاطر ٹرمپ نے مسلمانوں کی مخالفت کم کردی لیکن ہندوستانی مہاجرین کے خلاف اس کے اقدامات جاری رہے۔ آگے چل کر اس نے حکومت ہند کو حاصل خصوصی تجارتی درجہ سے بھی محروم کردیا اور یہاں کی  درآمدات پر ٹیکس عائد کردیا۔اب ہوا کا رخ بدل رہا تھا اور امریکہ کی نظرکرم  ہندوستان سے   ہٹ کر پاکستان کی جانب مبذول ہورہی تھی۔  اس تبدیلی کی مندرجہ ذیل  دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔   اول تو ‘امریکہ سب سے پہلے’ کے تحت افغانستان سے پوری طرح نکل جانا چاہتا ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ‘‘امریکہ رفتہ رفتہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلوا رہا ہے۔ گذشتہ 19 برسوں کے دوران امریکہ افغانستان میں لڑائی نہیں بلکہ ایک پولیس مین کا کردار ادا کیا  ہے’’۔ اس کی  دوسری وجہ  یہ اعتراف ہے  کہ طالبان ناقابلِ تسخیر ہیں ان  کی فتح کو  ٹال مٹول سے شکست میں  نہیں بدلا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان سے گفتگو کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا اسے سنجیدگی سے آگے بڑھایا گیا اور اب تک اس کے سات روانڈ ہوچکے ہیں۔

 طالبان سے سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ نےاعلان کیا ہے   کہ ’’پاکستان کی کوششوں سے طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر خاصی پیش رفت ہوئی ہے‘‘۔عمران خان نے اس کی تائید میں  کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 1500 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اور ہمسایہ ملک میں بدامنی کا براہ راست پاکستان پر اثر پڑتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے امن اور استحکام میں پاکستان کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے’’۔ افغانستان کے  معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے امریکہ کے نزدیک  ہندوستان کے بجائے پاکستانزیادہ   اہم ہے۔ اس طرح ٹرمپ اورپاکستان کا مفاد ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوگئے اور عمران خان کو امریکہ کے دورے کی دعوت مل گئی۔ عمران کے ساتھ مشترکہ پریس  کانفرنس میں  ٹرمپ نے کہا کہ ‘‘پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں اور عمران خان کی وجہ سےمزید بہتر ہوں گے’’۔ افغانستان کے حوالے سےامریکی صدر کا سب سے اہم اعلان یہ تھا کہ  ‘‘پاکستان افغان امن کے لیے بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے اوروہ افغانستان میں لاکھوں جانیں بچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں انھیں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں بہتر نتائج کے حصول کا  ‘‘پورا اعتماد ہے’’۔ عمران خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ‘‘نیویارک میں میرے  پاکستانی دوست  بہت سمارٹ اور مضبوط ہیں ، جیسا کہ عمران خان ایک مضبوط لیڈر ہے‘‘۔

عالمی سیاست پر رونما  ہونے والی تبدیلیوں کا حتمی اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ آج سے بیس سال قبل ۱۹۹۹ ؁ میں ۲۰ سال کےطویل عرصے بعد امریکی صدر   بل کلنٹن نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا  اور پاکستان کو پس پشت ڈال کر  ہند امریکی تعلقات کے سنہرے دور کا آغاز کیا تھا ۔ اس وقت ملک کی زمامِ کار اٹل بہاری واجپائی  کے ہاتھوں میں تھی۔ بیس سال بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے تاکہ ہندوستان کو نظر انداز کرکے  پاکستان کے ساتھ پرانے رشتے استوار کرسکیں۔ اِس بار بھی حکومت بی جے پی کی ہے۔ یہ وقت وقت کی بات ہے کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا  وقت اپنی زنبیل  سے کیا نکالے گا  لیکن یہ ضرور ہے کہ امریکہ کی حکمت عملی میں تبدیلی  کا سہرہ   جہاد افغانستان اور اس کے اندر شرکت کرنے مجاہدین کے سر جاتا ہے۔ بیسویں صدی کےآخری بیس سالوں  میں مسلمانوں نےسوویت یونین نامی  سپر پاور کو شکست دی  تھی اور اکیسویں صدی کے پہلے بیس سال  میں اہل ایمان دوسری عالمی طاقت کو دھول چٹا کر اس آیت کی عملی تفسیر بن گئے ہیں  کہ ‘‘تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو’’۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close