آج کا کالم

بدلتی حکمرانیت :قومی سیاست میں  تبدیلی کی مظہر

 2014میں  16ویں  لوک سبھا  کے انتخابات مکمل ہوئے تیس ماہ گزر گئے۔  15 سرکاریں  اس سے قبل بھی قائم ہو چکی ہیں ۔  کانگریس،  جنتا پارٹی،  جنتا دل،  این ڈی اے کی سرکار ملک میں  قائم رہی ہے۔  لمبے عرصے تک کانگریس حکمراں  رہی۔ درمیان  میں کئی غیر کانگریسی سرکاریں  بھی بنیں  جو سب کی سب مخلوط سرکاریں  تھیں ۔  لیکن سولہویں  سرکارپہلی غیر کانگریسی سرکار ہے جس کے لئے مخلوط ہو نا کوئی مجبوری نہیں  ہے۔  بلکہ ایک مخصوص نظریہ رکھنے والی سیاسی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کی ہے اور یہ ملک میں  پہلی بار ہوا ہے، دو فرق واضح طور پررونما ہوئے۔  پہلا، کانگریسی سرکاراور دوسرا فرق واضح اکثریت۔ ہر چند کہ اس حکومت کو بھی این ڈی اے کی سرکار کہا جا رہا ہے لیکن پورا ملک جانتا  ہے کہ یہ محض مروتاً این ڈی اے ہے وگرنہ اس میں  کوئی شک نہیں  کہ نہ صرف یہ کہ بی جے پی کی سرکار ہے بلکہ بی جے پی کی نظریہ ساز آر ایس ایس کی سرکار ہے او ر اسی تناظر میں  اسے حکمرانیت کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔  1989 کے بعد سے مخلوط سرکار وں  کا جو چلن شروع ہو ا تھا وہ 2014میں  ختم ہو گیا ہے۔  اس سے قبل جتنی بھی سرکاریں  بنیں  ان کے انداز کار کر دگی میں  کوئی نمایا ں  فرق نہیں  تھا۔  سرکاری پالیسی پارٹیوں  کے بدلنے کے باوجود نہیں  بدلی۔  تمام پارٹیوں  کے زیر نگیں  بابوؤں  کی سرکاریں   چلتی رہیں  اسی لئے ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ سرکار چلانے والے ہاتھ بدلتے ہیں ذہن نہیں  بدلتا، مگر سولہویں  سرکار نے گزشتہ  ایام میں  ہی کامیابی  کے ساتھ واضح کر دیا کہ اس مر تبہ محض ہاتھ نہیں  بدلے ہیں  بلکہ ذہن بھی بدل گیا ہے اور یہی فرق حکمرانیت  میں  تبدیلی کا اصل مظہر ہے۔

ملک میں  اس بدلتی حکمرایت کے نتیجے میں  عوامی احساسات میں  بھی تبدیلی کی آہٹ محسوس ہو رہی ہے۔  سیاسی جماعتوں  کے نظریات، ان کی پالیسی،  حکمت عملی ان کے لیڈروں  کی زبان اور ان کی تحریکوں  کے خط و خال میں  بھی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔  خود حکومت ہند کے اندازِ کار کر دگی میں  بھی نمایاں  تبدیلی موجود ہے۔ سرکار کے بدل جانے سے پہلی مر تبہ ملک میں  ہر سطح پر تبدیلی کا یہ شدید رجحان ملک کی اقلیتوں  اور پسماندہ طبقات کے لئے کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے جن کا براہ راست تعلق ان عوامی طبقات کے مستقبل سے بھی ہے اور خود ملک کی آئندہ تقدیر سے بھی وابستہ ہے۔  ایک بہت بڑا سوال یہ پیدا ہو چکا ہے کہ کیا ملک میں  سیکولر دستور کی عمل داری جاری رہے گی اور سوشلزم کی قدیم روایتیں  جاری رہیں  گی یا سماجواد کا سرخ رنگ یرقانی ہونے کی حد تک پھیکا پڑ جائے گا۔

آزادی کے بعد 67سال تک جس فسطائیت کو اقتدار سے دور رکھنے کے نام پر کانگریس کے وجود کو بادل نخواستہ برداشت کیاجاتا رہا اور فسطائی قوتوں  کو شکست دینے کے نام پر جن نام نہاد سیکولر جماعتوں  کو کندھے پر جنازے کی طرح اٹھا کر اقتدار کے گلیاروں  میں  بے لگا م چھوڑ رکھا تھا بلاآخر وہی فسطائی قوت آج ارباب اقتدار بن چکی ہے اور اتنی طاقت کے ساتھ اقتدار میں  ہے کہ پارلیمنٹ میں  حزب اختلاف کا وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔اہل اقتدار تو اپنے اقتدار کے نشے میں  چور رہنے کے ساتھ اپنی پالیسی، اپنے نظریئے اور اپنے پروگرام کو نافذ کر نے کی تگ و دو کر نے کے ساتھ ہم خیال اور ہم ذہن افراد کو موقع کی پوزیشن پر تعینات کر نے میں  مصروف ہیں  اور پڑوسی ممالک و دیگر اقوام و ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کے استحکام کے نام پر کچھ دور رس عالمی پالیسیوں  پر عمل آوری کی پیش بندی کر رہے ہیں مگر شکست خوردہ اور لمبے عرصے کے لئے  اقتدارسے بے دخل، خود کو سیکولر کہہ کر ملک کے سیکولر ووٹروں  کو بے وقوف بنا کر اپنی ذات اور اپنے خاندان کو مسند اقتدار پر رکھنے والی جماعتوں  کے لئے اپنا اپنا محاسبہ اور یہ تجزیہ ضروری ہے کہ آخر اچانک وہ کون سے حالات پیدا ہوئے کہ ملک میں  تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ پانے والی پارٹی بھی لوک سبھا سے باہر ہو گئی اور یوپی  جیسے سب سے بڑے صوبے کی سب سے بڑی حکمراں  جماعت کو چچا بھتیجو ں  اور بہو کے سوا کوئی ایک سیٹ بھی ہاتھ نہیں  لگی۔

یہ جماعتیں  اپنا محاسبہ اور اپنا تجزیہ کب تک کریں  گی یا نہیں   کریں  گی اس کا تو سر دست کوئی اندازہ نہیں  ہے مگر قومی سیاست میں  جو واضح تبدیلیاں  رونماہو چکی ہیں  ان کے مظاہر یکے بعد دیگر ے محسوس ہو رہے ہیں ۔  ابھی گزشتہ ہفتے عام آدمی پارٹی کے ایک بہت ہی قد آور اور بے حد سیکولر سمجھے جانے والے لیڈر کے ساتھ ایک ذاتی گفتگو میں  جب میں  نے سیکولرزم کو در پیش خطرات کی بات کی تو وہ اچانک بھڑک اٹھے اور فرمایا کہ یہ سیکولرزم وغیرہ کی باتیں  اب بند کر دینی چاہئے کیونکہ جیسے ہی ہم سیکولر لفظ کا استعمال کر تے ہیں  تو عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ مسلمانوں  کی بات کی جا رہی ہے اس لئے اس لفظ کا استعمال اب ترک کر دینا چاہئے اور اب انسانیت کی بات کر نی چاہئے انہوں  نے کہا کہ ملک میں  نئی سیاسی صف بندی انسانیت کے اصولوں  کے پیش نظر ہونی چاہئے نہ کہ سیکولر جیسے گھسے پٹے الفاظ کی دہائی دے کر۔

اسی طرح ایک دوسرے مو قع پر کمیونسٹ پارٹی کے ایک بہت مشہو رو معروف لیڈر کو جب میں  نیـ’’ مشن‘‘ کے اجرائی پروگرام کے لئے مدعو کیا تو انتہائی غصے کے ساتھ انہوں  نے کہا آپ لوگ ہمیشہ مسلمانوں  کی بات کر تے رہتے ہیں  کیا ملک میں  دوسرے طبقات موجود نہیں  ہیں  ہر وقت آپ لوگوں  کے ذہن میں  مسلمان، مسلمان کی بات رہتی ہے ملک میں  یکساں  ترقی اور بہبود کی بات آپ لوگ کر تے ہی نہیں  ہیں ۔ یہ دو وہ لیڈران ہیں  جن کے بارے میں  ذاتی طور پر جانتا ہوں  کہ مسلم تنظیموں  کے دفتروں  میں  گھنٹوں بیٹھ کر سیکولرزم اور سماجواد کو توانائی بخشنے کے منصوبوں  پر بحث کر تے رہتے تھے اور انہی تنظیموں کے وسائل سے بہرہ ور ہو کر اپنی زندگی گزار رہے تھے مگر آج محض  یرقانی حکمرانی نے ان جیسے لیڈروں  کو اتنا حوصلہ دے دیا ہے کہ وہ سیکولر زم کا لفظ سننا بھی گوارا نہیں  کر تے۔ ادھر عام لوگوں  کے اندر گھروں  میں ،  ریلوں میں،  بسوں  میں ،  کھیتوں  میں  کام کر تے کسانوں میں  اور فیکٹریوں میں کام کر تے مزدوں  میں  غریب سے غریب آدمی  میں  بھی یہ احساس سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ اب پہلی بار ’’ہماری ‘‘سرکار آئی ہے گویا ملک کے غیر بھاجپائی سیاست داں  اور عوام یکساں  طور پر موجودہ سرکار کے قیام سے کسی نہ کسی حد تک مطمئین نظر آ رہے ہیں  یہیں  یہ سوال اجاگر ہوتا ہے کہ 67سال تک سیکولرزم کے نام پر مسلمانوں  کے ووٹ حاصل کر نے کے لئے سیکولرزم کی دہائی دیتے ہوئے فسطائی قوتوں  کو اقتدار سے دور رکھنے کے خاطر مسلمانوں  کے بیچ مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے انکے ووٹ کی گہار لگانے والی پارٹیاں  اتنے کم عرصے میں  اپنے نقاب کیوں  اتاربیٹھیں ۔ خود مسلمانوں  کے لئے یہ لمحہ فکر ہے کہ کیا واقعی 67سال پہلے سیکولر بنیادوں  پر ایک آزاد بھارت کی تشکیل کوئی فریب تھا یا اس وقت کے کانگریسی حکمرانوں کی کوئی طویل مدتی حکمت عملی تھی؟ جس نے اس وقت کی ہندوتووا دی طاقتوں  کو بھی نہ صرف خاموش رہنے پر مجبور کر دیا بلکہ کانگریس کے ساتھ مل کر ایک سیکولر بھارت کی تشکیل میں  مدد پہنچانے پر مجبور کر دیا  اس سوال پر اگلے کسی مضمون میں  تفصیل سے بحث کی جائے گی۔ ابھی سیکولر جماعتوں  کے رویے پر غور کر نا مقصود ہے۔

عام طور پر ملک کے مسلمانوں  پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ انتخابات کے مو قع پر اپنے ووٹ تقسیم کر دیتے ہیں  جس سے فسطائی قوتوں  کو جیتنے کا موقع ملتا ہے۔  2014کے انتخاب میں  یہ الزام مزید شدت کے ساتھ مسلمانوں  کے سر تھوپا گیا ہے اور اس کے لئے اتر پر دیش میں  73سیٹوں  پر بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں  کی فتح کو مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے اسی طرح بہار میں  40میں  سے 31سیٹوں  پر بھاجپا کی جیت کو مسلمانوں کے ووٹوں  تقسیم کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ بجا طورپر یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اترپر دیش میں  ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی بی ایس پی دونوں  سیکولرزم کے علم بردار ہیں  اور دونوں صوبے کی وزارت اعلی کے دعوے دار بھی ہیں  اور محض اقتدار کی سب سے بڑی کر سی کے حصول کے خاطر الگ پارٹیوں  کی تشکیل کی ہے۔ تو کیا ان پارٹیوں  کی تشکیل میں  مسلمانوں  نے کوئی رول ادا کیا ہے؟ بہار میں  نتیش کمار اور لالو پر ساد یادو دونوں  وزیر اعلیٰ بننے کے خواہش مند ہیں  اور اس غرض سے جنتا دل توڑ کر دونوں  نے الگ الگ پارٹیاں  تشکیل کی ہیں ۔ کیا جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے قیام میں  بہار کے مسلمانوں  نے کوئی رول ادا کیا ہے ؟بنگا ل میں  محض وزیر اعلیٰ بننے کی خاطر ممتا بنر جی نے کانگریس سے کنار کشی اختیار کر کے ترنمول کانگریس کی بنیاد کسی سیاسی اصول کی خاطر ڈالی ہے یا محض ذاتی ہوس اقتدار کے خاطر ؟اسی ریاست میں  لیفٹ پارٹیوں  کے چار بڑے گروپ کیا کسی نظریاتی اختلاف کے خاطر قائم ہوئے ہیں  یا صر ف اقتدار کی رسہ کشی کی خاطر؟اور کیا کمیونسٹ پارٹیوں  کی اس ٹوٹ پھوٹ میں  مسلمانوں  نے کوئی رول ادا کیا ہے ؟اسی طرح آندھرا پر دیش میں  تیلگو دیشم،  ٹی آر ایس اور وائی ایس آرکانگریس کا قیام کسی نظریاتی اختلاف کی خاطر ہے یا محض اقتدار کی خاطر ؟ کرناٹک میں  جنتا دل سیکولر،  تمل ناڈو میں  ڈی ایم کے اوراے آئی ڈی ایم کے نیزکیرل میں  چھوٹی چھوٹی پارٹیوں  کا جم غفیر کسی بھی نظریاتی اختلاف کا نتیجہ نہیں  ہے بلکہ محض چند لیڈروں  کی ذاتی خواہش ِ اقتدار کی جدو جہد کا شاخسانہ ہے اور ان میں  سے کسی بھی معاملے میں  مسلم عوام و ان کی لیڈر شپ کا ذرہ برابر کوئی رول نہیں  ہے۔ گویا سیکولر ووٹوں  کی تقسیم خود کو سیکولر کہنے والے لیڈروں  کی سیاسی دکانداری اور ان کے پیچھے کھڑے ہوئے کارپوریٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں  کی آپسی ملی بھگت کا نتیجہ ہے جس نے اس ملک کی سیاست میں  سیکولر زم کو موضوع مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اور انہیں  کی آپسی ریشہ دوانیوں  کے نتیجے میں  مسلم ووٹ کنفیوژ ہو کر انہی میں  سے کسی نہ کسی سیکولر لیڈر کے دام فریب کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر خود ہی ووٹوں  کی تقسیم کا مجرم بھی قرار پاتا ہے۔

آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ ملک کا تقریباً پندرہ فیصد مسلم ووٹ حاشیے پر کھڑا ہے اور ہر سیاسی جماعت اپنی اپنی برادری،  ذات اور خاندان کی بنیاد پر طاقت حاصل کر چکی ہے اور مسلمانوں  کو منھ لگانے کو تیار نہیں  ہے۔ ۔اسی طرح ملک کا ہر غیر مسلم لیڈر محض اپنی اپنی کر سی کا معاہد ہ کر کے آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو تقویت پہنچانے پر آمادہ نظر آتا ہے۔  مہاراشٹر میں  این سی پی کی سیاسی جست وخیز سے ظاہر ہے کہ شرد پوار اسمبلی انتخابات کے بعد شیو سینا اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر نے میں  کوئی عار محسوس نہیں  کریں  گے۔ ان حالات میں  ملک کے مسلمانوں  کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں  کہ یا تو وہ اپنی شناخت و تشخص پر اسرار بند کردیں  اور انہی پارٹیوں  کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو قبول کر لیں  اور اپنی داڑھیوں  اور ٹوپیوں  کو’’ آب رود گنگا ‘‘میں  بہا دیں  یا پھر اپنی سیاسی شیرازا بندی کر تے ہوئے ملک کے سیکولر اور سماجوادی ڈھانچے اور دستور کی بقاء کے خاطر تن تنہا خود کو متحد کر کے اسی طرح کھڑے ہو جائیں  جس طرح جنگ آزادی کے وقت تنہا مسلمان قیادت نے کھڑے ہو کر انگریزوں  کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اور بعد میں  دیگر اقوام ساتھ آ گئی تھیں۔  اسی طرح ایک بار پھر مسلمانوں  کے سامنے یہ چیلنج موجود ہے کہ ملک کے جمہوری،  سیکولر،  سوشلسٹ،  کر دار کو بچانے کے لئے وہ تمام دیگر سیاسی پارٹیوں  سے صرف نظر کرکے خو د ایک سیاسی اکائی کی حیثیت سے اکٹھا ہو کر فسطائیت سے مقابلے کے لئے بر سر پیکار ہو جائیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close