آج کا کالم

برطانیہ کے جانے سے کیا کمزور ہوگا یوروپی یونین؟

رویش کمار

برطانیہ میں ہوئے ریفرنڈم کو لے کر ہندوستانی میڈیا کی دلچسپی سے کلبلاہٹ سی ہو رہی ہے. کیا ہندوستانی میڈیا ہندوستان میں بھی ریفرنڈم کے خیال کی حوصلہ افزائی کرے گا. کیا ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی ریفرنڈم پسند آ رہا ہے، کیا وہ جماعتیں اور تنظیمیں ریفرنڈم کا مطالبہ کریں گی جو بیرون ملک میں آباد  ہندوستانیوں کے لئے ہندوستان کے انتخابات میں ووٹ کے حق کی بات کرتی ہیں. یہی سوال ان ہندوستانیوں سے بھی پوچھا جائے جو برطانیہ میں آباد ہیں اور وہاں کے ریفرنڈم میں حصہ لے رہے ہیں. کیا وہ ہندوستانی رہنماؤں سے مطالبہ کرنا چاہیں گے کہ اپنے یہاں بھی ریفرنڈم ہونا چاہئے. دنیا کی سب سے بڑی اور عظیم جمہوریت میں قومی یا ریاستی سطح پر ریفرنڈم کیوں نہیں ہوتا ہے. جبکہ پنچایتوں کی سطح پر گرام سبھاؤں کا سسٹم ریفرنڈم جیسا ہی تو ہے. ہم نے سوچا کہ یہ سوال آپ کے سامنے رکھ  دیتے ہیں مگر ایک مشورہ بھی ہے. ہندوستان میں ریفرنڈم کی بات کرتے ہوئے جگہ اور مسئلے کا ذکر نہ کریں کیونکہ اس سے پہلے جن لوگوں نے یہ کام کیا ہے ان کی پرانی قمیض سیاہی پھینک کر اور بھی خراب کر دی گئی ہے. برطانیہ کے ریفرنڈم کے فیصلے سے ہندوستان سے لے کر دنیا بھر میں لوگ ان لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہیں جنہوں نے یوروپی یونین سے نکل جانے کے حق میں ووٹ دیا ہے. بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ وہ صبح نہیں جس کا ہمیں انتظار تھا. ہم اس برطانیہ کو نہیں جانتے. یہ وہ برطانیہ نہیں ہے جہاں مختلف ملکوں کے لوگ آکر رہتے تھے. یہاں افسر بنے، منتخب لیڈر تک بنے، جس کے لوگ بردبار تھے، ان کے اندر کوئی تعصب نہیں تھا، کوئی نفرت کی بات نہیں کرتا تھا. الگ ہونے والی جماعت کو اسلام مخالف، نسل پرست، اندھا محب وطن اور كتركي کہا جا رہا ہے. کوئی کہہ رہا ہے کہ ان لوگوں نے برطانیہ کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے زہریلا کر دیا. كل ملا كر انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے. ایک ایسی بھیڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں ہے. سیاسی اصطلاح میں اس بھیڑ کی صفت، دائیں بازو اور كتركي کی تصویر  کے طورپر پیش کی جا رہی ہے.

برطانیہ کی دو بڑی پارٹیاں ہیں. ایک کنزرویٹیو پارٹی اور دوسری لیبر پارٹی. ان دونوں جماعتوں نے یوروپی یونین میں بنے رہنے کی حمایت کی تھی. کچھ لیفٹ کے رہنماؤں نے پارٹی لائن سے الگ ہو کر یوروپی یونین سے الگ ہونے والی جماعت کے ساتھ ووٹ بھی کیا. لیو جماعت کو ایک سیاسی اور نظریاتی رنگ میں رنگنا صحیح ہو گا کیا. کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کچھ ہی ہفتوں میں برطانیہ کی آدھی سے زیادہ آبادی اچانک نسل پرست اور دائیں بازو کی ہو جائے.

برطانیہ کی پارلیمنٹ کے 650 اراکین پارلیمنٹ میں سے 559 اراکین پارلیمنٹ تو صرف حکمراں كنزرویٹیو اور اپوزیشن لیبر پارٹی کے رکن ہیں. ان دونوں نے الگ نہ ہونے کی اپیل کی تھی. آخر لوگوں نے دونوں جماعتوں کے 559 اراکین پارلیمنٹ کو کیوں نہیں سنا جنہیں وہ برسوں سے سنتے آئے ہیں. کیا اس لئے لوگوں نے لیبر پارٹی کو بھی رجیکٹ کیا کیونکہ اس معاملے میں لیبر اور کنزرویٹیو ایک سے ہو گئے تھے جیسے ہندوستان میں کئی بار بی جے پی کانگریس کی اقتصادی پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں دکھائی دیتا. 559 اراکین پارلیمنٹ کی دو جماعتوں کی جگہ ایک رکن پارلیمنٹ والی پارٹی یو کے انڈیپینڈینس پارٹی کو اتنا اسپیس کیسے مل گیا. اس کے لیڈر نائیجل پال فراج کس طرح یوروپی یونین سے الگ ہونے والی جماعت کی نمائندہ آواز بن جاتے ہیں. کیا اس لئے کہ فراج اشتعال انگیز اور بے تکی باتیں کرتے ہیں. فراج نے کہا ہے کہ یہ جیت ان عام لوگوں کی فتح ہے جو سیاست سے تنگ آ گئے ہیں. وہ سیاست جو عام آدمی کی قدر نہیں کرتی ہے. آپ فراج کو بولتے سنیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ ہندوستان میں بھی ایسا ہوا ہے اور ہو رہتا ہے.

کیا فراج جیسے لیڈروں نے برطانوی رہنماؤں کے بولنے کی گرامر تبدیل کر دی ہے. فراج اور سابق میئر بورس جانسن جیسے لیڈر سیاسی خوش آمدی کے سوال اٹھاتے ہیں، نسل اور تارکین وطن پر جم کر حملے کرتے ہیں. بی بی سی سے فراج نے کہا کہ لوگوں کی فکر جائز ہے. اگر کوئی رومانین آپ کے پڑوس میں آکر رہنے لگے تو آپ کیا کریں گے. فراج نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ یوروپی یونین سے نکل جائے گا تو عورتوں پر حملے نہیں ہوں گے کیونکہ دوسرے یوروپی ممالک سے آئے لوگ کم ہو جائیں گے. فراج کی باتیں خوفناک طور سے عورت مخالف ہیں. کہتے ہیں کہ بریسٹ فيڈنگ کونے میں کرنی چاہئے. جو مائیں ہوتی ہیں وہ مردوں کے مقابلے میں بزنس کے لئے کم فائدہ مند ہوتی ہیں. ایسے لوگوں کو ووٹ کیسے مل جاتا ہے اور میڈیا میں کوریج بھی. ان کی پارٹی کے پروگرام بھی جان لیجئے.

– ٹیکسی ڈرائیور کے لئے يونیفارم لازمی کیا جائے گا

– اراکین پارلیمنٹ کو ان کے اخراجات کے لئے زیادہ آزادی ہونی چاہئے

– ٹرین کو روایتی رنگوں میں پھر سے پینٹ کیا جائے

– برطانوی فٹ بال ٹیم میں تین سے زیادہ غیر ملکی کھلاڑی نہ ہوں

ایسی لا یعنی باتیں ہندوستان میں کہی بھی جا رہی ہیں اور ہو بھی رہی ہیں. کوئی ثقافت کے بہانے تو کوئی کسی خاص سبجیکٹ کے بہانے سب کو ایک خاص طرح کی ڈرل کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے. دنیا بھر میں منتقلی ایک چیلنج ہے. لیکن جو ملک گلوبل نظام معیشت اور شہریت کے حامی ہیں وہ کام کے لئے دوسرے ملک سے آئے لوگوں کو کیسے ملک کا اقتصادی دشمن قرار دے سکتے ہیں. دنیا کے رہنما مل کر بولتے کیوں نہیں ہیں اس میں. یہ ایک رہنما اور ایک ملک کا مسئلہ کس طرح ہے. شام، عراق اور افغانستان کا مسئلہ کیا پناہ گزینوں نے پیدا کیا ہے. برطانیہ میں ملازمتوں اور مزدوری کا بحران کیا صرف مہاجرین اور تارکین وطن کی وجہ سے ہے. تب تو یہ جرمنی میں سب سے زیادہ ہونا چاہئے جہاں سب سے زیادہ پناہ گزین گئے ہیں.

برطانیہ میں ریفرنڈم سے پہلے تمام بڑے مالیاتی اداروں اور كارپوریٹ نے اپنے ملازمین کو بھی سمجھانے کے کام میں لگایا کہ لوگ یوروپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ نہ کریں، اس سے ان کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچے گا. میڈیا میں بھی اس پہلو کو لے کر خوب بات ہوئی ہی ہوگی. اس کے بعد بھی کیوں لوگوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا. لندن جیسا مالیاتی مرکز یوروپی یونین کے ساتھ گیا لیکن کم بڑے شہر اور دیہی علاقوں سے لوگ الگ ہونے کے فیصلے کے ساتھ گئے. زیادہ امیر اور شہری مزدور طبقے یوروپی یونین کے ساتھ رہنے کی جماعت میں رہے تو کم امیر اور شہروں سے دور رہنے والے مزدور طبقے الگ ہونے والی جماعت کے ساتھ گئے. کیا ان سب کے فیصلے کو دائیں بازو کے فریم میں سمیٹا جا سکتا ہے. عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اقتصادی بحران کے وقت نوجوان طبقہ اندھا قوم پرست، نسل پرست اور دایاں بازو ہو جاتا ہے لیکن برطانیہ میں ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں میں سے 75 فیصد نے یوروپی یونین میں بنے رہنے کے حق میں فیصلہ دیا ہے. ان کی عمر 18 سے 24 سال ہے. جب کہ 50 سے 65 سال کے زیادہ تر ووٹروں نے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا جنہیں پرانے برطانیہ کے حساب سے پنشن کی سہولت ہے، سرکاری ملازمتیں ہیں.

جدید آزاد نظام معیشت کے بحرانوں کی وجہ سے اگر یہ عدم اطمینانی پھیلی ہوئی ہے تو وہاں کے لوگوں اور میڈیا نے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ فراج یا جانسن رہنماؤں کے پاس معیشت کا کون سا دوسرا ماڈل ہے، جس میں اس طرح کے بحران نہیں ہوں گے، سب کو نوکری ملے گی. کیا یورپ بھر کے دائیں بازو کی جماعتوں کے پاس نئے لبرل ازم سے مختلف کوئی اقتصادی خیال ہے. کیا ہم اسے يوروپی یونین جیسی ایک ایسی تنظیم کے بحران سے سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں. برطانیہ نے کبھی یوروپی یونین کو دل سے قبول نہیں کیا مگر کیا یہ درست نہیں ہے کہ برطانیہ میں آدھے سے زیادہ قانون یوروپی یونین کے بنائے ہوئے ہی لاگو ہیں. کیا ان تمام قوانین کے خلاف اتنی بڑی بغاوت ہوئی ہے.

جرمنی کی چانسلر انجیلا مركیل نے برطانیہ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یوروپی یونین کو برطانیہ کے ساتھ تعلقات بنا کر رکھنے چاہئیں. انہوں نے کہا کہ بحران کے اس دور میں صبرو تحمل سے کام لینا ہوگا. یوروپی یونین دنیا کا سب سے بڑا اقتصادی علاقہ ہے، جو سیکورٹی اور استحکام کی ضمانت دیتا ہے. مركیل کے مطابق یوروپی یونین ایک یونیک کمیونٹی ہے. کہیں مسئلہ یوروپی یونین کے ڈھانچے میں تو نہیں ہے. وہ یورپ کے بازار کو ایک تو کر سکا لیکن مختلف قومی خواہشات کی تکمیل نہیں کر سکا. برطانیہ کا نکلنا کیا یہ کہہ رہا ہے کہ اقتصادی بنیاد پر عالمی شہریت قائم کرنے کی مہم مصیبت میں پڑ سکتی ہے. یوروپی یونین کی سیاست پر میری گرفت کم ہے پھر ہم سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی قوم سے اقتصادی پالیسیاں بنانے کی طاقت نکال کر کسی ادارے کو دے دی جائے اور قوم کا کام کہیں اور سے بن کر آنے والی پالیسیوں کو نافذ کرنا رہ جائے بھلے ہی وہ سب کے بھلے کے لئے بنتی ہوں. اگر یہ بنیاد ہے تو دنیا کے کس ملک میں عالمی مالیاتی اداروں کی بنائی گئی پالیسیاں لاگو نہیں ہو رہی ہیں. اگر یوروپی یونین میں کھوٹ ہے تو کیا یہ سمجھا جائے یوروپی قوم پرستی کا یہ مصنوعی كارپوریشن اب زیادہ چل نہیں سکتا. توجہ ركھيے گا یوروپی یونین کے وجود پر پہلے بھی بحران آئے ہیں اور وہ ان سے نکلا ہے.

برطانیہ کے فیصلے پر سرکردہ دانشوران ہنس رہے ہیں. ہندوستان کے دانشوران ہنس رہے ہیں کہ جمہوریت کے نام پر بھيڑتنتر نے احمقانہ فیصلہ کر لیا. کیا ہم واقعی کسی احمقانہ دور میں رہ رہے ہیں جہاں کترک ہی اہم ترک ہو گیا ہے. کیا پوری دنیا میں کلیگ سے پہلے كرتك يگ آ گیا ہے. کیا ایسا کہنا تکبر نہیں ہوگا. برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کے فیصلے کو قبول کیا ہے. وہ یوروپی یونین سے نکلنے کے حامی نہیں تھے.

نتائج آنے کے بعد کیمرون اپنی بیوی سمینتھا کیمرون کے ساتھ آئے اور استعفی دیا. ہندوستانی لیڈر جب استعفی دیتے ہیں تو وہ خاندان کے ساتھ نہیں ہوتے. حامیوں اور چمچوں سے گھرے ہوتے ہیں. بیویاں ہیں تو کبھی کبھار ہی نظر آتی ہیں. ہمارے لیڈروں کی بیویاں گره پرویش یا کروا چوتھ  کے وقت نیتا جی کے ساتھ نظرآ جائیں وہی بہت ہے. مجھے اچھا لگا کہ جب کیمرون استعفی دے رہے تھے تب ان کی بیوی ایک دوست کی طرح کھڑی تھیں. اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نے کہا ہے کہ اسکاٹ لینڈ برطانیہ سے الگ ہونے کے سوال پر دوبارہ ریفرنڈم کرا سکتا ہے. اسی اپریل میں سویڈن میں ایک سروے ہوا تھا جس میں یوروپی یونین سے الگ ہونے کی بات رد کر دی گئی تھی. اس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ اگر برطانیہ چھوڑتا ہے تو وہ کیا کریں گے؟ تب اس سروے میں یوروپی یونین سے الگ ہونے والے کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی. بازار جو مختلف وجوہات کی بنا پر ہر دوسرے تیسرے دن گرتا ہی رہتا ہے، جمعہ کو کچھ زیادہ بھربھرا گیا. ساری کرنسیاں تھرتھرانے لگیں اور ہندوستان تک کے شیئر مارکیٹ میں ہاہاکار مچ گیا. ایسا لگا کہ برطانیہ صرف یوروپی یونین سے نہیں، پوری دنیا سے نکل کر چاند پر چلا گیا ہے.

کیا یورپ میں زبان، ثقافت اور قوم پرستی کو لے کر کچھ نئی قسم کی آہٹ ہے جسے مستحکم اور اقتدار کی عادی ہو چکی سیاست کہہ نہیں پا رہی ہے؟ کیا موجودہ اقتصادی پالیسی میں سب کو یکساں مواقع ملنے کا بھرم ٹوٹ گیا ہے؟ کیا غریب اب یہ دیکھنے لگے ہیں کہ امیر ہی کیوں امیر ہو رہے ہیں؟ کیا ہم برطانیہ کے اس فیصلے کو دنیا بھر میں چل رہی موجودہ اقتصادی پالیسی کے خلاف عوامی فرمان کے طور پر دیکھ سکتے ہیں؟ کیا اس فیصلے کو دائیں بازو فریم میں دیکھنا درست رہے گا؟ مگر اس سے پہلے لندن کے نو منتخب میئر کا ایک بیان پڑھنا چاہتا ہوں جو ریفرنڈم کے فیصلے کے بعد آیا ہے. ‘میں لندن میں رہنے والے تمام یوروپی شہریوں کو صاف صاف پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ سب کا یہاں استقبال ہے. ایک شہر کے ناطے آپ کی تمام شراکتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور وہ اس ریفرنڈم کی وجہ سے نہیں بدلنے والا ہے. آج کی تاریخ میں لندن میں دس لاکھ يوروپين شہری رہتے ہیں اور وہ ہمارے شہر میں اپنی محنت، ٹیکس اور وقت کے علاوہ شہری اور ثقافتی زندگی کو کامیاب کرتے ہیں. اس پوری مہم کے دوران جو خلیج پیدا ہوئی ہے اس کو بھرنے کی ذمہ داری ہماری ہے. ہمیں ان باتوں پر توجہ دینی ہے جو ہمیں جوڑتی ہیں، اس پر نہیں جو ہمیں توڑتي ہے. ‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close