آج کا کالم

بریگزٹ: عوام کو گالی دینے کا نیا  پروجیکٹ

رویش کمار

عزیزی دوست ایڈیٹر،

مجھے تین ماہ کی چھٹی چاہئے. میں ‘لیو’ لفظ کا استعمال نہیں کر رہا ہوں ورنہ آپ سمجھنے لگیں گے کہ میں فوبيا اور جھوٹی تشہیر کے بہکاوے میں آ گیا ہوں. جب سے برطانیہ میں ‘لیو’ جیتا ہے تب سے ‘ريمین’ والے لوگ ‘لیو’ والوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں. ‘لیو’ حامیوں کو كم عقل اور بدعقل سمجھا جا رہا ہے. اس لیے میں نے چھٹی لفظ کا استعمال کیا ہے. برطانیہ نے یوروپی یونین سے الگ ہونے کا جو فیصلہ لیا ہے اسے بریگزٹ کہا جا رہا ہے.

میں کیوں تین ماہ کی چھٹی چاہتا ہوں؟ میں کئی دنوں سے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ پرانے ماڈل کا ہوائی جہاز لے کر لیڈر یہاں وہاں اڑ رہے ہیں، کچھ ہو نہیں رہا. الٹا کئی طرح کے اقتصادی اور سفارتی کلب بن گئے ہیں. اب ٹھیکے لینے کی دوڑ میں ملک بھی اس طرح شامل ہونے لگے ہیں کہ مجھے خدشہ ہے کہ وہ ملک کے نام میں کنسٹرکشن لمیٹڈ نہ شامل کر لیں. زیادہ نہیں بس اتنا سمجھ میں آیا ہے کہ 2008 سے ان لیڈروں نے کتنے تیل پھونک دیئے، اس کے چکر میں ٹی وی کے ذریعہ خود عظیم اور عالمی ہیرو بن گئے لیکن اقتصادی حالات میں بہتری نہیں ہوئی. اس میں کمال یہ ہے کہ کوئی اس اقتصادی نظام پر سوالیہ نشان نہیں لگانا چاہتا. کوئی نہیں بتا رہا ہے کہ آٹھ سال کی کوشش کے بعد معیشت کے باغوں میں بہار کیوں نہیں آئی. بچپن میں جب میں کمزور طالب علم تھا تو بستہ میں ساری کتابیں لے کر چلتا تھا. میرے پڑوسی انکل نے کہا کہ کمزور طالب علم کا بستہ ہمیشہ بھاری رہتا ہے. وہی حال ان لیڈروں کا ہے.

خیر اس خط کا مقصد چھٹی مانگنا ہے. معیشت پر لیکچر دے کر نوبل انعام حاصل کرنا نہیں ہے. میرٹھ، مظفر نگر، سونی پت گھومتے گھومتے بیس سال گزر گئے تو ہندی کے اس صحافی کو عالمی شہری ہونے کی خواہش بیدار ہوئی ہے. میں اپنے اندر جمع شمالی ہندوستان کے تمام تجربات سے آزاد ہونا چاہتا ہوں. کب تک ہر الیکشن میں ایک ہی بات جانوں گا اور بتاؤں گا. لگا کہ نئے نئے موضوعات اور جغرافیہ کی طرف قدم بڑھا کر دیکھیں کہ کیا وہاں دنیا کچھ مختلف ہے. مجھے نئی معلومات پرجوش بھی کر رہی تھیں. سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا تھا کہ بریگزٹ ہو گیا.

جس طرح ہندوستانی میڈیا کی کشش ثقل کی طاقت دہلی میں ہوتی ہے اسی طرح برٹ میڈیا کا لندن میں ہوتا ہے. ہندوستان سے کسی نے وہاں جاکر برطانیہ کے بدلتے سماج کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی. برطانیہ والوں نے بھی یہی کیا، لوگوں سے بات کرنے کے بجائے سروے سروے کھیلنے لگے. وہاں کے پھٹیچر میڈیا کا جو حال ہے وہی یہاں کے میڈیا کا ہے. ہندوستان میں سارے لوگ انڈپنٹینڈ، گارڈین، ڈیلی میل، ٹیلیگراف، نیو ياركر، آئی ٹی وی، بی بی سی، سی این این کے ذریعہ برطانیہ کو دو دن میں سمجھ گئے ہیں اور ہندوستانی اخبارات میں مضامین لکھنے لگے ہیں. دو دن سے کوئی ہندوستانی اخبار ہی نہیں پڑھ رہا ہے!

جبکہ بریگزٹ ہونے سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے. ہو گیا تو یہاں وہاں کا میڈیا ہونے والوں کے حامیوں کو ہی گالی دے رہا ہے. میڈیا کس کے مفاد میں شہریوں کی مخالفت میں کھڑا ہو رہا ہے. بولتا کیوں نہیں کہ چواليس لاکھ روپے کا قرض لے کر کوئی گریجویٹ بنے گا تو باقی بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے جو گریجویٹ نہیں بنیں گے. جب غریبوں کو آکسفورڈ نہیں ملا تو وہ کیوں كیمبريج کی طرح بات کریں گے. بتاو نا بھائی کہ وہاں کم پڑھے لکھے لوگ کیوں ہیں. کل اگر مودی فیل ہو جائیں تو اس میں ووٹر کی کیا غلطی ہے. اس کا فیصلہ کس طرح غلط ہے. اسی طرح بریگزٹ کو ووٹ کرنے والے غریب اور کم پڑھے لکھے ووٹر کس طرح مجرم ہیں. لندن کا میڈیا کہہ رہا ہے کہ لوگ بہکاوے میں آ گئے. ارے تو آپ لوگ کیا کر رہے تھے؟ کیا آپ سیاسی کارپوریٹ اور میڈیا کے اس کھیل کے خلاف لکھ رہے تھے جس کے خلاف وہاں کے لوگ ہوتے جا رہے تھے. میڈیا کا بھی کردار کارٹیل کلب کی طرح ہوتا جا رہا ہے.

دنیا بھر میں جس طرح سے لکھنے والے سرگرم ہو گئے ہیں اسی طرح سے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے فعال ہو گئے ہیں. کبھی کوئی گارڈین کا مضمون ٹھیل دے رہا ہے تو کبھی واكس ڈاٹ ڈاٹ کام اور میڈیم کا. ہم لوگ وہاں کی میڈیا پر اپنے یہاں کی میڈیا جتنا ہی انحصار کرتے ہیں. میڈيا آنکھیں بند کرکے لکھتی ہے اور ہم لوگ آنکھیں بند کرکے پڑھ لیتے ہیں. بتائیے سر وہاں کی میڈیا کو معلوم ہی نہیں چلا کہ ‘لیو’ جیتنے والا ہے. وہ ‘ريمین’ کی امیدیں پروس رہا تھا. ہم اس میڈیا کے تجزیے کو پڑھے جا رہے ہیں. پڑھے جا رہے ہیں پھر یہاں کے اخبارات میں لکھے جا رہے ہیں.

اب سب پڑھ کر لکھنے لگے ہیں کہ میں جس برطانیہ میں جاگا ہوں، وہ وہ برطانیہ نہیں جسے میں جانتا تھا. جاننے والوں نے سمجھا تھا کہ نیا سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے. جن جماعتوں کے درمیان وہ شٹل کارک بنے ہوئے ہیں ان کے کرتوتوں پر سوال تقریبا بند ہو گئے ہیں. سیاسی پارٹیاں ‘کارٹیل’ کا کاکٹیل پی رہی ہیں. کسی کو دیکھنا چاہئے کہ دنیا بھر میں پندرہ سال سے زیادہ عمر کی جماعتوں کے ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے. ان میں کچھ بچا نہیں ہے. نیا لیڈر اور مضبوط لیڈر کے  رکیک دلائل بیکار ثابت ہو رہے ہیں. جانکار سرکردہ افراد کی وفاداری لوگوں کے تئیں کم ان جماعتوں کے تئیں زیادہ ہو گئی ہے. وہاں کے لوگوں کو كتركي اور اندھ قوم پرست بتانے کی جگہ امیر اور غریب کہا جانا چاہئے.

کارپوریٹ کی توسیع غلط نہیں ہے لیکن عوام کو بازار کا پہاڑا رٹا كر انہیں سبسڈی دینا کس طرح ٹھیک ہے. ہندوستان میں لاکھوں کروڑوں کا قرض کارپوریٹ نے ہضم کر لیا کسی کو غصہ تک نہیں آیا. اس کے بعد بھی لیڈر لوگ عظیم بنے ہوئے ہیں. ٹويٹرسے ماوراء ہندوستانی کسان خود کشی کر رہا ہے اور سرکاری اسکولوں میں مستقل استاد تک نہیں ہے. اس کے بغیر بھی جی ڈی پی ترقی کر رہی ہے. کاسہ لیسی انتہاء پر ہے.

تو آپ بتائیے کہ جو اس نظام سے باہر ہیں وہ کیا کریں. اس نظام نے کیا دیا کہ کھانے کی میز پر کانٹا چھری سے روٹی اور آم کترے. کیا لندن اور ہندوستان کے ماہرین ان لوگوں کے درد کو جانتے ہیں جو سر دھن رہے ہیں کہ یہ وہ لندن نہیں جسے میں جانتا تھا. سوشل میڈیا کی بوگس قوم پرستی کسی ملک کا آئینہ نہیں ہوتی. ایکسپرٹ نہیں جانتے ہوں گے اس لندن کو لیکن لندن کا غریب مزدور ان کو جان گیا ہوگا. بغیر پنشن اور سستے اسپتال کے ایکسپرٹ جی سکتے ہیں، عام لوگ کیسے جی لیں گے. ہندوستان میں رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی، وزیر اعظم اور وزیر اعلی تک کو پنشن ہے لیکن ملازم کو نہیں. جس دن لوگ سمجھیں گے اس دن وہ کیا کریں گے. ایکسپرٹ بتا دیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے.

اس لئے لندن والے ماہرین صدمہ میں ہیں. ان ہی کے جیسے بھائی بندھو ہندوستان میں صدمہ میں ہیں جیسے کسی کے نئيہر میں چوری ہو گئی ہو. ارے بھائی ٹی وی اور اخبار کے ذریعہ جب ملک کو جانیں گے تو اتنا ہی جانیں گے جو آپ جانتے ہیں. وہاں کے سوشل میڈیا میں بھی وہی سب جھلكا جو میڈیا میں چھلكا تھا. سب سرکس کے موت کے کنویں میں بائیک گول گول گمھا رہے تھے. ایک ہی بات کو کوئی سروے میں کہہ رہا تھا تو کوئی مباحثہ میں.

یہاں تک تو ٹھیک ہے. اب بریگزٹ ہو گیا ہے تو اس پر ہزاروں کی تعداد میں تجزیے چھپ رہے ہیں. اتنے زاویے سے مضامین شائع ہوئے ہیں کہ میں پڑھتے پڑھتے پریشان ہوں. واقعہ سے بڑا واقعہ اس پر چھپے مضامین کے ذخیرے ہیں. لوگوں کو ہی گالی دینے کا اتنا بڑا پروجیکٹ میں نے کبھی نہیں سنا اس لئے میں سارے مضامین پڑھنا چاہتا ہوں. اس کے لئے مجھے تین ماہ کا وقت چاہئے. بھائی لوگوں نے اتنا لکھ دیا ہے کہ چھٹ پوجا تک کا ٹائم لگ ہی جائے گا. پر میں تین ماہ میں بریگزٹ کا ڈوز پورا کر لوں گا. اس لئے آپ میرے ‘لیو اپلیکیشن’ پر غور کریں اور چھٹی مرحمت فرمائیں.

آپ کا ‘ريمین’

رويش کمار

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close