آج کا کالم

بنگال کی شیرنی نے گجراتی  کمل کے چیتھڑے اڑا دیے

یہ   فیصلہ  ممتا بنرجی   کی  اخلاقی فتح ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

سی بی آئی کے پس پشت  بی جے پی  کا کمل ہے۔ مودی بابا کے اشارے پر چالیس چوروں  نے   مغربی بنگال کے پولس سربراہ راجیوکمار کے گھر پر چھاپہ مارنے کی ناکام کوشش کی۔ اس شب خون کے سیاسی  فائدہ اٹھانے کے لیے   ممتا بنرجی  کھل کر میدان میں آگئیں۔   راجیو کمار کے خلاف سی بی آئی کا یہ   بظاہر حملہ دراصل  ممتا  اور مودی کی جنگ ہے۔ اس معاملے میں سارا کنفیوزن ناموں کے سبب ہے مثلاً ممتا  سنتے  ہی ماں کی ممتا ذہن میں آتی ہے حالانکہ ممتا بنرجی نے چونکہ شادی کرنے کی زحمت نہیں کی اس لیے اولاد اور ممتا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے نام سے ایسا لگتا ہے کہ یہ سینٹرل گورنمنٹ کا ایک ایسا  ادارہ ہے جس کا دائرۂ کار مرکزی حکومت کی مانند  سارا ہندوستان ہے۔  یہ  بہت بڑی غلط      فہمی ہے۔ انٹر نیٹ پر سی بی آئی  آفیشیل ویب سائٹ پر اس کے قیام کا پس منظر اور دائرۂ کار بیان ہواہے۔ اس کودیکھنے سے ساری گتھی اپنے آپ سلجھ جاتی ہیں۔

مذکورہ  ویب سائٹ پرسی بی آئی  کے قیام کا مقصد دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں رشوت ستانی  کی روک تھام  بتایا گیا  ہے۔ آگے چل کر جنگ کے علاوہ ریلوے اور دیگر معاملات میں بدعنوانی  کی تفتیش کو اس کے دائرۂ کار میں شامل کردیا گیا۔ ۱۹۴۱ ؁ میں قائم کردہ اس ادارے کا اختیار عمل ۱۹۴۶ ؁ میں ختم ہوگیا۔ اس کے بعد دہلی اسپیشل پولس اسٹابلشمنٹ ایکٹ ، ۱۰۴۶ ؁ کے تحت سی بی آئی   کو  تفتیش کا حق دیا گیا۔ اسی کے ساتھ  یہ بھی  درج ہے  کہ سی بی آئی کا دائرۂ عمل  صرف یونین ٹیری ٹیریز یعنی دہلی ، چندی گڑھ، انڈمان نکوبار وغیرہ تک محدود رہے گا۔ ضابطے  کی دفع ۵(۱) کے تحت ملک کے دیگر صوبوں میں اسے تفتیش کے لیے ریاستی حکومت کی توثیق حاصل کرنی ہوگی۔  اس تعارف کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ سی بی آئی  مرکزی حکومت کے تحت کوئی ملک گیر ادارہ نہیں ہے۔ یہ یونین ٹریٹریز کے باہر صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر کام کرنے کا مجاز بھی  نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے اس کو اپنے صوبے میں کام کرنے سے روکا تو اسے آئین کی خلاف ورزی نہیں قرار دیا گیا۔

  ملک کے اندر ایک دفاقی ڈھانچہ رائج  ہے جس میں   نظم و نسق قائم  کرنے کی ذمہ داری  صوبائی حکومت پرعائد   ہوتی  ہے۔ ان تناظر میں مغربی  بنگال کے حالیہ واقعات کا جائزہ لیا جائے تو  سی بی آئی کا ریاستی حکومت کو اعتماد لیے بغیر اقدام کرنا آئین کی  کھلی خلاف ورزی قرار پاتا ہے۔ اس نے ایسا کرکے اپنے حدود و قیود کو پامال کیا تھا اور  صوبائی حکومت کی حق تلفی بھی  کی تھی۔  سی بی آئی کا یہ الزام  درست ہوسکتا ہے کہ ماضی میں تین مرتبہ سمن بھیجنے کے باوجود راجیو کمار تعاون نہیں کررہے ہیں  اس کے باوجود بغیر وارنٹ کے کسی کو گرفتار کرنے کا حق اسے نہیں ہے۔ اس لیے سی بی آئی افسران کی گرفتاری قانون کے عین مطابق کی جانے والی کارروائی ہے۔ راجیو کمار کوئی روپوش مجرم نہیں ہے کہ اس کی رہائش پر نصف شب میں ۴۰ افراد کا جتھا ہلا بول دے۔ یہ پولس  کے اعلیٰ افسر کے ساتھ اس  حکومت  کی بھی توہین  وتضحیک ہے جس کے تحت وہ  کام کررہا ہے۔ اس لیے  ممتا بنرجی کا فرض منصبی ہے کہ وہ  راجیو کمار کی حمایت میں کریں  اور اس ظلم و جبر کے خلاف احتجاج درج کرائیں ۔ سیاسی نفع نقصان سے اوپر اٹھ کر اپنے صوبے کے افسر کی عزت و وقار کو بحال رکھنا  ان کی ذمہ داری ہے۔

سی بی آئی کے افسران کی گرفتاری پر ممتا بنرجی کو برا بھلا کہنے والے میڈیا کو مرکزی سرکار کے ذریعہ اس ادارے کے استعمال پر بھی غور کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے ضمیر یہ  سے پوچھنا چاہیے کہ  کیا واقعی سی بی آئی کے ذریعہ بدعنوانی  پر لگام لگانے کا کام لیا جاتا ہے؟  اگر ایسا ہوتا تو بدعنوانی کی تفتیش کرنےکا ۱۶۰ مہینوں کا تجربہ رکھنے والے  جاوید احمد پر اس میدان میں بالکل ناتجربہ کار رشی کمار شکلا کو ترجیح دے کراس موقر ادارے کا سربراہ نہیں بنایا جاتا۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک  کے اندر بی جے پی اور اس کے حامی کئی صوبوں میں اقتدار پر فائز ہیں کیا وہ سب دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی بھی  بدعنوانی  میں ملوث نہیں ہے۔  جب سے یہ حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے کیا  سی بی آئی نے حکمراں جماعت کےکسی رہنما پر ہاتھ ڈالا ہے؟

بی ایس پی کے جب تک  بی جے پی کے ساتھ آنے کا امکان تھا اس وقت تک مایاوتی بدعنوان  نہیں تھیں جیسے ہی انہوں نے ایس پی کے ساتھ اتحاد کیا دونوں  سی بی آئی کی نظر میں کھٹکنے لگے اور ان پر چھاپے مارے گئے۔ بہار میں نتیش کمار جب تک لالو یادو کے ساتھ تھے سی بی آئی ان کے خلاف سرجن گھوٹالے کی تفتیش کررہی تھی جیسے ہی وہ بی جے پی کے ساتھ ہوئے سرجن ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔ ترنمول کے مکل رائے جب تک ممتا کے ساتھ تھے سی بی آئی کی نظر میں بدعنوان تھے جیسے ہی وہ بی جے پی میں آئے منظور نظر ہوگئے۔ یہی معاملہ ہیمنت بسوا شرما کا ہے    کر بی جے پی میں   شامل ہونے کے بعد ان کا نام ایف آئی آر سے غائب ہوگیا۔ کیا بدعنوانی کے بھی مختلف رنگ ہوتے ہیں کہ اگر زعفرانی ہو تو حلال و مستحب اور نیلی یا سبز ہوتو ناجائز و حرام؟  اس طرح  بدعنوانی ختم نہیں ہوتی بلکہ فروغ پاتی ہے۔

وطن عزیز  میں بدعنوانی  کی سونامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی تفتیش کرنے والی سی بی آئی کے افسران کے خلاف  اسی ادارے  کے عہدے دار  رشوت خوری کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کو سزا دینے کے بجائے تبادلہ کرکے بچایا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر  ہے کہ وہ اپنے آقاوں کے اشارے پر ان کے مفاد میں رشوت جمع کرتے ہیں۔ آلوک کمار نے راکیش استھانہ کے خلاف اور استھانہ نے راکیش کمار کے خلاف جو الزام لگائے ہیں ان میں اگر سچائی ہے تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ وہ الزامات اگر جھوٹ ہیں تو الزام لگانے والے پر ہتک عزت کا مقدمہ چلا کر سزا دینی چاہیے۔ ناگیشور راوپر لگائے گئے سبرامنیم سوامی کے الزامات اگر درست ہیں تو ان کا عبوری سربراہ نہیں بنایا جانا چاہیےاور اگر بے بنیاد ہیں تو سوامی جی  کو آسارام باپو کے پاس جیل کی سلاخوں کے پیچھے روا نہ کردیاجانا چاہیے۔

سی بی آئی کو ایک ایسی مقدس گائے بناکر اس کے افسران کی گرفتاری کو ایک سنگین مسئلہ  کے طور پرپیش کیا جارہا ہے حالانکہ یہ معمولی بات ہے۔ ۱۸اگست ۲۰۱۷ ؁ کو گوہاٹی پولس نے پیرسن شادنگ نامی سی بی آئی کے ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ کو گرفتار کرلیا کیونکہ اس نے ایک آئی آر ایس افسر کی بیوی کو اپنی ہوس کا شکار کرنے کی کوشش کی۔ ست گاوں پولس تھانے کی اے سی پی پوربی مجمدار نے بتایا کہ ملزم کا عہدہ ہمارے کام میں مانع نہیں ہوگا۔ ہمارا کام موثر تفتیش کرکے انصاف کی بحالی ہے۔ سی بی آئی کے لوگ بھی   دیگر سرکاری افسران بشمول آئی بی  والوں کو پکڑ کر پولس کے حوالے کردیتے ہیں۔ آلوک کمار کے گھر کی نگرانی کرنے والے آئی بی افسران کو سی بی آئی نے پکڑ کر گرفتار کروادیا۔ پولس والے بھی ایک دوسرے کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں مثلاً سپریم کورٹ میں  مرکزی حکومت  کی سماعت کے دن  بہار کے سپول ضلع میں دہلی پولس کے دو اہلکار گرفتار ہوگئے۔

اس واقعہ کی تفصیل بہت دلچسپ ہے۔ بہار کے سپول ضلع میں دہلی پولس کے  اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایس دَت اور ہیڈ کانسٹیبل مکیش کمار  ایک اغوا شدہ  لڑکی کی تلاش میں پہنچے اوراسے ملزم لڑکے  سمیت اپنے شکنجے میں لے لیا۔ اس  کارروائی کے دوران  محلے کے لوگوں نے  دیکھا کہ پولس والے نشے میں ہیں۔ انہوں نے اس کی خبر متعلقہ شعبہ  کو کردی۔  دو گھنٹے کی ہاتھا پائی کے بعد دہلی کےپولس والوں  نے  سانس کی جانچ کرائی۔ پروڈکٹ انسپکٹر نے مشین سےنشہ کی تصدیق کے بعد انہیں  عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ اس واقعہ کولکاتہ سانحہ سے مماثلت اس لیے بھی ہے کہ لڑکی کے زبردستی اغواء کا الزام  بے بنیاد نکلا۔ اس  لڑکی نے بتایاکہ  راجہ نام کے محبت میں  دونوں نے برضا و رغبت شادی کی ہے اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ سارا قصور لڑکی کے باپ کا ہے جس نے جھوٹا الزام لگا کر ان پولس والوں کو بھیجا جو گرفتار ہوئے۔ ایسا ہی معاملہ سی بی آئی کے افسران کا بھی ہے۔ سارا قصور بھیجنے والے باپ کا ہے۔ وہ تو بلا وجہ کی وفاداری میں پھنسے۔ سچ تو یہ کہ کوئی سی بی آئی میں ہو ، آئی بی میں یا پولس میں اگر قانون شکنی کا مرتکب ہوگا  تو اسے سزا ملے گی۔ کسی  ادارے سے تعلق  اس کے کام نہیں آئے گا۔

پچھلے ہفتہ مودی جی   نے مغربی بنگال  میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کوخوب  برا بھلا کہا لیکن چونکہ  درمیان میں ہنگامہ ہوگیا اس لیے ۴۰ منٹ کی تقریر ۱۴ منٹ میں سمیٹ کر واپس آگئے۔ عوام کے جم  غفیر نے  ان کا حوصلہ بلند کردیا۔ انہوں نے اپنا ادھورا کام پورا کرنے کے لیے یوگی جی کو بھیجنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اپنی جلتی ہوئی دم سے ممتا کی لنکا ڈھائیں۔ ممتا بنرجی نے یوگی کے ہیلی کاپٹر کو اترنے کی اجاز ت ہی نہیں دی۔ اس سے جھلاّ کر مودی جی نے  انتقام کی غرض  سے سی بی آئی کو  روانہ کردیا۔ اس کے جواب میں سی بی آئی  افسران کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ ممتا اپنی کابینہ کے ساتھ احتجاجی دھرنے پر بیٹھ کر ذرائع ابلاغ پر چھا گئیں۔ مرکزی حکومت منہ بسور کرکسی بچے کی مانند  روتے پیٹتے شکایت لے کر عدالت عظمیٰ پہنچ گئی۔  عدالت نے دونوں کے آنسو پونچھے۔ راجیو کمار کو سی بی آئی سے تعاون کی تلقین کی  اور سی بی آئی کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔ یہ   فیصلہ  ممتا بنرجی   کی  اخلاقی فتح ہے۔ اس سیاسی پٹخنی  کے بعد مودی جی  کو اٹل جی کی طرح مان لینا چاہیے کہ جس طرح ایک زمانے میں بھارت  کی درگا اندرا گاندھی ہوا کرتی تھیں  اسی طرح  فی الحال  بنگال  کی درگا ممتا بنرجی ہیں۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو بھوکے شیر کی مانند چیر پھاڑ کر پھینک دیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

4 تبصرے

  1. ڈاکٹر سلیم خان صاحب کا مضمون معلوماتی، دلچسپ اور بے لاگ تبصرہ ہے
    مرکزی حکومت کی مفاد پرست منافقانہ پالیسی پر۔

  2. ڈاکٹر سلیم خان صاحب ایک بے باک غیر جانبدار اور حق گو ادیب و مضمون نگار ہیں ۔ مندرخہ بالا مضمون وفاقی اور ریاستی حکومت پر بے لاگ تبصرہ حق گوئی بہترین مثال ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close