آج کا کالم

بنگلہ دیش کے واقعہ پر۔۔۔۔

رویش کمار

فرانس کی طرح ہم ترکی کو بھول جائیں گے. ترکی کی طرح ہم بنگلہ دیش کو بھول جائیں گے. اس سے پہلے ہم سب بھول گئے ہیں. اس کے بعد ہم سب بھول جائیں گے. دہشت گردی کو کبھی مذہب سے تو کبھی مذہب کے بغیر پہچانا جاتا رہے گا. دہشت گردی ہر بار لوٹ کر آتی رہے گی. کسی بھی وقت، کہیں بھی. ہوائی اڈے کے اندر کوئی گھسا چلا آ رہا ہے، کوئی ریستوران میں تو کوئی اخبار کے دفتر میں. ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں دہشت گردی نہ پہنچی ہو. ہر علاقے، ملک کے لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں. عالمی رہنما ہر واقعہ کے بعد اظہار افسوس کرتے ہیں، لڑنے کا ارادہ مضبوط کرتے ہیں، بھروسہ دیتے ہیں کہ ہم ایک ہیں، ہم لڑ رہے ہیں، ہم اور بھی لڑے ہیں. فون کرکے آپس میں تسلی دینا پھر ٹی وی پر اپنے شہریوں کو تسلی دینا، موم بتیاں جلانا، اسٹیٹس لکھنا اور تصویریں لگا کر یادداشت لکھنا، سب کچھ کئی بار ہو جاتا ہے. دہشت گردی کے خلاف ایک نئی عوامی ثقافت پنپ گئی ہے. افسوس کی ایک ثقافت بن گئی ہے.

ہم اس ثقافت میں شامل ہوکر اعتماد بھی کر لیتے ہیں، جانتے ہوئے کہ ملکوں میں اتحاد نہیں ہے. ملک کے اندر ایک نہیں ہیں. انہی میں سے کوئی ذریعہ ہے تو کوئی لبادہ. ایسا کیا لکھا جائے جو لکھا نہیں گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے واقعہ پر کتنا ابلا جائے اور ترکی پر کتنا. جب تک ابال کم ہوتا ہے ٹی وی پر سی سی ٹی وی کا کوئی اور فوٹیج چلنے لگتا ہے. لوگ پھر سے مارے جانے لگتے ہیں۔ پھر سے وہی سب بولا جانے لگتا ہے. پھر کہیں پر بولا جاتا ہے کہیں پر خاموش رہ جایا جاتا ہے. اتوار کو بغداد میں شیعوں کے محلے میں کار دھماکے میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے اور دو سو زخمی ہو گئے. ڈھاکہ میں گلا ریت کر مارا گیا تو کہیں دھماکہ کرکے. بے رحمی میں کتنا فرق کریں. عالمی معاشرہ کیا واقعی ان واقعات سے ہل رہا ہے؟ بے چینياں کہاں دکھتی ہیں؟ غصہ کہاں دکھتا ہے؟

مذہب کا سیاسی استعمال ہر جگہ بدحواسی مچا رہا ہے، مذہب کے نام پر غنڈے سے لے کر دہشت گرد پیدا کر رہا ہے. اگر ہر ناانصافی کے خلاف دہشت گردی ہی انتقام بن جائے تو کون بچے گا؟ دہشت گرد مارے بھی جا رہے ہیں. پکڑے بھی جا رہے ہیں. پھر بھی وہ کون سی فیکٹری ہے، کہاں ہے وہ فیکٹری جہاں وہ پیدا ہوتے جا رہے ہیں. آج ہی خبر پڑھی کہ فرانس سے یہودی بھی شام جا رہے ہیں دہشت گرد بننے. وہ مسلم بھی ہیں جو یہودی تھے اور یہودی بھی جو صرف یہودی ہیں. یورپ کے کئی ممالک سے لڑکے دہشت گرد بننے جا رہے ہیں. بھارت میں بھی جاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں. بہت چلے بھی گئے ہوں گے. ملکوں نے دہشت گردی کو فوج اور متبادل کے طور پر استعمال کیا. دنیا چپ رہی. کھلے عام انہیں مجاہد آزادی کہا گیا. کیا کر لیا امریکہ نے ان کا. مجاہدین کس نے پیدا کئے؟ داعش سے کاروبار کون کر رہا ہے؟ کہیں سیاسی طور پر دہشت گردی کا استعمال ہو رہا ہے تو کہیں اس کے ذریعہ ایک مذہب کی اکثریت کے لئے تعصب پیدا کیا جا رہا ہے. ہم سب کچھ جان چکے ہیں. ہم ہر معلومات سے واقف ہو چکے ہیں.

دہشت گردی کسے ڈرا رہی ہے. کسے مار رہی ہے. مذہب کے نام پر مذہب کے لئے یا اقتدار کے کھیل میں کسی کے لئے مار رہی ہے. مذہب میں دہشت گردی ہے یا مذہب سے دہشت گردی ہے یا مذہب کے لئے دہشت گردی ہے. سب کچھ کہا جا چکا ہے. مذہب والوں نے مذمت کی ہے، دہشت گردی کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں کہ قتل گناہ ہے. ابھی حال ہی میں کیرالہ میں اس کے خلاف ریلی ہوئی، دہلی میں چند سال پہلے جمعیت نے بہت بڑی ریلی کرکے دہشت گردی کو غیر اسلامی کہا تھا. ہمیں نہیں معلوم دنیا کے باقی حصوں میں ایسا ہو رہا ہے یا نہیں. یہ اسلام کو بھی مار رہی ہے اور مسلمان کو بھی. پاکستان سے لے کر بنگلہ دیش اور دنیا کے تمام ممالک میں مسلمان کو بھی مار رہی ہے.

دہشت گردی الگ الگ مذہب اور ہستی کے نام سے آ چکی ہے. دوسرے مذاہب میں مذہب کے نام پر غنڈے پیدا ہو رہے ہیں. یہی غنڈے ایک دن دہشت گرد میں تبدیل ہو جائیں گے۔ راشٹروادي دہشت گردی، اسلامی دہشت گردی یا سکھ دہشت گردی، تامل دہشت گردی، ہندو دہشت گردی یا شیعہ کے خلاف سنی دہشت گردی، نکسل دہشت گردی. کوئی پادری کو مار رہا ہے تو کوئی مولوی کو تو کوئی صوفی كو۔ پاكستان میں قوال گلوکار امجد صابری کے جنازے میں لاکھوں لوگ شامل ہوئے. کیا اس انتقام سے کچھ ہوا؟ اسی پاکستان میں احمدیوں اور شیعوں کا قتل ہو رہا ہے. سینکڑوں کی تعداد میں شیعہ ڈاکٹروں کا قتل ہوا ہے. ہم تو صرف ہندو ہراساں کی خبروں پر قوم پرست ہو لیتے ہیں، مگر وہاں تو اپنوں کے قتل ہو رہے ہیں. حال ہی میں وہاں کے چینل کے ایک اینکر نے کھلے عام کہہ دیا کہ ہم لاکھوں احمدیہ کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ کیوں کر رہے ہیں ایسا؟ ایسا نہیں ہے کہ تشدد کے خلاف بولنے والے نہیں ہیں. اینکر نے تو اکیلے آواز اٹھائی. اس کے خلاف فتوی جاری ہو گیا اور چینلوں کی ریگولیٹری تنظیم نے اینکرنگ سے ہٹا دیا. ڈھاکہ کے اخباروں میں دیکھئے وہاں کے صحافی جو مسلمان ہیں کس طرح کھل کر اسلام کے سیاسی استعمال کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ بھارت میں ایک باپ نے ہی اپنے بیٹے کی وزارت داخلہ سے شکایت کر دی کہ اس کا بیٹا داعش کے رابطے میں تو نہیں ہے. ممبئی کے والدین کو معلوم ہوا تو خود پولیس کے پاس گئے. معاشرے کی حمایت ہوتی تولاکھوں دہشت گرد پیدا ہو گئے ہوتے۔ ظاہر ہے اس کے لئے کسی اور کی حمایت کام کر رہی ہے.

اس لئے چپی گننے والوں کا ارادہ بھی اتنا ہی خطرناک ہے. وہ اس گنتی کے بہانے اسی اکثریت کی دہشت گردی کو قائم کرنا چاہتے ہیں جو دہشت گردی چاہتا ہے. دہشت گردی اکثریت کو سرپھرا بنا دینا چاہتی ہے، مذمت یا خاموشی کی گنتی کرنے والے اسی قسم کے دوسرے اکثریت والوں کی توسیع کر رہے ہیں. کچھ لوگ ہر واقعہ کے بعد تلاش کرنے لگتے ہیں کتنے سیکولر چپ رہے. کتنے سیكولروں نے مذمت كی۔ ایسے شناخت ہوتی ہے جیسے ان ہی کی خاموشی اور حمایت سے دہشت گردی چل رہی ہے. گنتی کا کام بھی اسی سوچ کی پیدائش ہے جو دہشت گردی کے نام پر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے. مشتبہ کرو. شناخت کرو. جیسے مذمت کرنا ہی دہشت گردی سے لڑنا ہو گیا ہے. جیسے مذمت کرکے دہشت گردی کو مٹایا جا چکا ہے. چپ رہنے سے کچھ ہوا ہے، بولنے سے کچھ ہوا ہے تو کوئی بتائے کیا ہوا ہے۔ وزاء اعظم اور وزراء دفاع کی مذمت سے ہی کیا ہو گیا. کیا ہم میں سے کئی مذہب کی سیاست بازی اور جمہوریت میں اسے مدعا بنانے کو لے کر بولتے ہیں؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ بھیڑ کا سنکی پن کسی کے دماغ میں زہر بھر دیتا ہے. جمہوریت میں ہر جگہ ٹچے مذہبی سنكيوں کی دھمک بڑھتی جا رہی ہے. اسٹیٹس لکھنے اور ٹویٹ کرنے کی جگہ اسے دیکھئے، اس پر لكھئے.

دہشت گردی کو سمجھنے کے لئے تمام ممالک میں تحقیقاتی ادارے چل رہے ہیں. جرنل شائع ہو رہے ہیں. کتابیں ضخیم ہو رہی ہیں. ماہرین پیدا ہو گئے ہیں. طالب علم پڑھائی کر رہے ہیں. دہشت گردی اسپانسرڈ ہے، دہشت گردی قدرتی ہے. بے وقوفوں کی دہشت گردی ہے تو پڑھے لكھوں کی دہشت گردی ہے. نئی نئی دفاعی افواج بن رہی ہیں. نئی نئی دہشت گرد جماعتیں بن رہی ہیں. ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگ رہے ہیں. تقریریں ہو رہی ہیں. تجاویز پاس ہو رہے ہیں. کوئی کہہ رہا ہے دہشت گردی کی وضاحت کرو. کیا وضاحت کرنی ہے دہشت گردی کو لےكر۔ ایسا کیا ہے اس میں جسے سمجھنے کے لئے وضاحت ضروری ہے. دہشت گردی کی وضاحت کی جائے یا اس کے پنپنے کی وجوہات کی وضاحت کی جائے. سب ہو رہا ہے مگر دہشت گردی بھی چل رہی ہے. لوگ مارے جا رہے ہیں. ہر موسم اور تہواروں میں لاشوں کی گنتی ہو رہی ہے. ہم افسوس اور اداسی سے مرے جا رہے ہیں. وہ سر اٹھا کر منہ چھپا کر سب کو مارے جا رہے ہیں. یکجہتی کا اعلان بوگس ہوتا جا رہا ہے. دو دہشت گرد آتے ہیں اور سب بکھر جاتا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close