آج کا کالم

بوگس دلیلوں کے دور میں کابینہ توسیع

رویش کمار

منگل کی رات تک میڈیا کو کابینہ توسیع میں کچھ خاص نہیں ملا. 19 ریاستی وزراء کے بنائے جانے کا جواز سمجھ میں نہیں آ رہا تھا. جو مبصرین بولتے آ رہے تھے کہ وزیر اعظم کا کابینہ اور پارٹی پر کنٹرول ہے؛ سب کو خوش کرنے کا دور چلا گیا؛ مودی کابینہ چھوٹی رہے گی؛ اب وہی بولنے لگے کہ حکومت ہمیشہ انتخابی موڈ میں رہتی ہے؛ یہ کابینہ نہیں، انتخابی مشینری ہے. منموہن سنگھ جیسی کابینہ لگتی ہے. 78 وزراء تو ان کے یہاں بھی ہوئے جبکہ ان کی حکومت کے استحکام کا انحصار کئی جماعتوں پر تھا. مودی حکومت کا استحکام شرکاء پر منحصر نہیں ہے. وہ اپنے پرانے شریک شیوسینا کو بھی ناراض کر سکتی ہے. ان ہی ہلکی پھلكي تنقیدوں کے بعد کابینہ میں توسیع کی خبر اتنی ٹھنڈی پڑ گئی کہ شام کا ٹی وی تقریبا اس خبر سے کنارے ہو گیا.

تبھی خبر آتی ہے کہ اسمرتی ایرانی کو فروغ انسانی وسائل کی وزارت سے ہٹا دیا گیا ہے. وہ اب کپڑا وزارت سنبھالیں گی، جسے اب تک سنتوش گنگوار آزاد اختیار والے وزیر مملکت کی حیثیت سے سنبھال رہے تھے. کسی نے کہا، گنگوار نے اچھا کام کیا ہے، اس لیے انہیں وزارت خزانہ میں وزیر مملکت بنا دیا گیا ہے. اگر کوئی آزادانہ طور پر کپڑا وزارت میں اچھا کام کر رہا ہو تو اس سے آزاد اختیار لے کر کسی کے تحت بھیج دینا کام کا انعام ہے یا کچھ اور.

اسمرتی کے ہٹتے ہی سوشل میڈیا کا مخالف حصہ جھوم اٹھا. اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمرتی کو لے کر ایک طبقہ خنس میں رہتا ہے، پارٹی کے اندر بھی اور پارٹی کے باہر بھی. سارے جھومنے لگے. گزشتہ دو سال میں اسمرتی پارٹی اور حکومت کی جارحانہ سپہ سالار بنی ہوئی تھیں. اسمرتی کی سیاسی قابلیتوں کے گن گائے جاتے تھے، ان کی تقاریر کی تعریف ہوتی تھی، مخالف غش کھاتے تھے. سنگھ اسمرتی کو اپنا آئینہ دار وزیر مانتا تھا. پارلیمنٹ میں کھڑی ہوتی تھیں تو سوشل میڈیا پر بھکتوں کو لگتا تھا، سلاگ اوور میں سچن تندولکر آئے ہیں. منگل کی رات کے بعد ایک جھٹکے میں سارے تجزیے بدل گئے. اسمرتی کا قد چھوٹا کر دیا گیا ہے. ان کا کام اچھا نہیں رہا، اس لیے مودی نے انہیں اپنی پسند کی فہرست سے باہر کر دیا.

جو مبصرین جس کابینہ کو ‘جمبو’ اور ‘انتخابی مشینری’ بتا کر بھی وزیر اعظم کی کھلی تنقید سے بچ رہے تھے، ان سب کو اب مودی کی تعریف کا موقع مل گیا. ٹویٹ کرنے لگے کہ مودی صرف کام پسند کرتے ہیں، ان کا کوئی پسندیدہ نہیں ہوتا ہے. اگر کام پر اتنی گہری نگاہ ہے، تو بتائیے نہ سر، دو سال تک وہ اس وزارت میں کیوں رہیں …؟ جبکہ ایرانی کے بہت سے فیصلوں پر تنقید ہو رہی تھی اور تنازعات بھی ہو رہے تھے. دو سال تک تو کبھی نہیں لگا کہ پارٹی اور وزیر اعظم، اسمرتی ایرانی کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں. کارکردگی کی یہ کون سی مانیٹرنگ ہوئی کہ مبینہ طور پر ایک خراب وزیر کو ہٹانے میں دو سال لگ گئے.

جن کے مباحثوں میں برانڈ مودی کمزور پڑ رہا تھا، اب ان ہی مباحثوں میں كھلكھلانے لگے. ایک فیصلے سے کابینہ توسیع کے ہیرو وزیر اعظم بن گئے اور جو ابھی تک کابینہ کی سب سے بڑی ہیروئن تھیں، انہیں کھلنائکا بنا دیا گیا. جبکہ وہی مبصرین کبھی اسمرتی ایرانی کا بھی گن گایا کرتے تھے، کیونکہ اس وقت وہ انسانی وسائل کی وزیر تھیں اور وزیر اعظم کی معتمد. اسمرتی ایرانی کے لئے بھی سبق ہے. انہیں دوبارہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عہدے کی وجہ سے اہم نہیں ہیں، قابلیت کی وجہ سے ہیں. کپتان نے صرف بیٹنگ ترتیب میں تبدیلی کی ہے.

ورنہ تو اتنے ریاستی وزراء کو لے کر پارٹی کے ترجمانوں کو بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ کس طرح دفاع کریں. لہذا وہ اپنی ہی حکومت کی پول کھولنے لگے. بولنے لگے کہ اتنے وزیر مملکت کام کے لئے نہیں، کام کی تشہیر کے لئے بنائے جاتے ہیں. پارٹی نے سرکاری اخراجات پر پروموشنل گاڑیاں رکھ لی ہیں. کوئی ٹھیک سے دفاع نہیں کر پا رہا تھا. اب سب کو نیا ہتھیار مل گیا. مودی سے بڑھ کر کوئی نہیں. یہ کون سا نیا طریقہ ہے کہ سرکاری خرچے پرتشہیر کرنے کے لئے وزیر مملکت بھرے جا رہے ہیں. ریاستی وزراء کے پاس کام کیا ہوتے ہیں، یہ کوئی نہیں بتا رہا. ویسے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب کابینہ وزراء کے پاس کام نہیں تو وزیر مملکت کو پوچھ کون رہا ہے.

وزیر اعظم نریندر مودی اپنے مخالفین اور ناقدین سے دو قدم آگے چلتے ہیں. ان کے ناقدین کی ایک خوبی ہے، وہ تنقید میں جھومنے لگتے ہیں. تبھی مودی کچھ ایسا کرتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کسی نے جھٹکا دے دیا. مودی نے ایرانی کی وزارت بدل کر اپنی چھاپ اور ساکھ کا قد اور بلند کر لیا. کابینہ میں توسیع اور رد وبدل اب مودی طریقہء کار کی مہر کا ایک اور دستاویز بتایا جا رہا ہے، جس کے بارے میں وزیر اعظم خود میڈیا سے کہہ رہے تھے کہ یہ تبدیلی نہیں، توسیع ہے. کیوں ایسا کہا، کون یہ سب پوچھے.

اگر اسمرتی کو خراب کارکردگی کی وجہ سے خارج کر دیا گیا تو پرکاش جاوڈیکر کو کیوں خارج کر دیا گیا …؟ جب وہ پروموشن پانے والے واحد کابینہ وزیر کے طور پر حلف لے رہے تھے، تب کافی تعریف ہو رہی تھی. ویسے اخلاقی سلوک میں پرکاش جی کئی سے بہتر لیڈر ہیں، مگر جس وزارت ماحولیات میں ان کے بہتر کام کے لئے کابینہ وزیر بنایا گیا، وہاں سے ہٹایا کیوں گیا. دو سال میں ایک اچھا وزیر جب اپنی پکڑ بنا لیتا ہے تو اسے ہٹانے کا فیصلہ کس بنیاد پر کارکردگی کی سیاست کی مثال بن جاتا ہے.

پیوش گوئل کے پروموٹ ہونے کی خوب بحث ہو رہی تھی، نہیں ہوئے. لیکن جب تبدیلی کی خبر آئی تو ان کے محکموں کی تعداد بڑھی ہوئی تھی. یہ پروموشن کا کون سا طریقہ ہے …؟ شاید کارپوریٹ اسٹائل ہے. کئی بار سیلری بڑھ جاتی ہے، مگر عہدہ نہیں بدلتا ہے …! روی شنکر پرساد سے ایک وزارت لیا جانا کیا مودی کے كام پسند، کارکردگی پسند طریقہء کار کی مثال ہے …؟ کیا روی شنکر پرساد کی کارکردگی ٹھیک نہیں رہی …؟ اگرآئی ٹی میں کام ٹھیک نہیں رہا تو کیا مودی کابینہ میں کام ٹھیک نہ ہونے پر انعام میں وزارت قانون ملتا ہے …؟ اگر وزیر اعظم کارکردگی کو ضدی دھن کی حد تک پسند کرتے ہیں تو ابھی تک ایک مستقل وزیر قانون کیوں نہیں تلاش سکے …؟ وزارت قانون کا یہ حال کس طریقہ کار پر تبصرہ ہے …؟ سدانند گوڑا کا اگر وزیر قانون کے طور پر کام اچھا نہیں تھا تو کس دلیل سے انہیں کابینہ میں رکھا گیا ہے …؟

ظاہر ہے، سخت سوالات سے بچنے کے لئے وزراء کے حساب سے دلیلیں گھڑی جارہی ہیں. سب اسمرتی ایرانی کو لے کر بھڑاس نکالنے میں مصروف ہو گئے. وزیر اعظم نے  اپنی شبیہ کے لئے اپنے سب سے پیارے وزیر کو داؤ پر لگا دیا یا واقعی وہ وزیر ناکارہ تھیں، اس کا فیصلہ تاریخ کرے گا، کیونکہ حال اسمرتی ایرانی سے چڑتا ہے. چڑنے کی حالت میں صحیح پرکھ نہیں ہوتی ہے. جیسے ہی خبر آئے گی کہ اسمرتی کہیں کی وزیر اعلی کی امیدوار ہیں، پھر سے یہی تبصرہ نگار ان کی خوبیاں بتانے لگیں گے.

انسانی وسائل کی وزارت سے بھی بڑی وزارت ہے دیہی ترقی کی وزارت. اس کے وزیر چودھری وریندر سنگھ کو ہٹا کر چھوٹی سی وزارت میں بھیج دیا گیا. اس کی تو کہیں بحث بھی نہیں …؟ کیا وریندر سنگھ بھی فیل ہوئے ہیں …؟ پھر کابینہ میں کیوں ہیں …؟ پھر سیاسی مجبوری کی دلیل کس طرح ہوا ہو گئی …؟

چنانچہ اے تبصرہ نگار صحافی، مجھے ایک بات بتائیے، اگر وزیر اعظم صرف کام کی بنیاد پر پرکھ کرتے ہیں تو آپ کے حساب سے کس کا کام خراب ہے. جس کا کام خراب ہے، وہ کابینہ سے باہر کیوں نہیں ہوا …؟ دوسرا محکمہ کیا اس لیے دیا گیا، تاکہ وہ پھر سے دو سال خراب کام کرتا رہے. کون سا محکمہ پروموشن پانے والوں کے لئے ہوتا ہے اور کون سا محکمہ ڈموٹ ہونے والوں کے لئے ہوتا ہے … ‘ڈو ٹیل می ڈیوڈ …’

دو سال تک نیہال چند میگھوال مبینہ طور پر عصمت دری کے الزامات کے بعد بھی حکومت میں رہے اور جب ہٹائے گئے تو کہا گیا کہ ان کی کارکردگی خراب تھی. تب کہا جاتا تھا کہ نیہال چند وسندھرا مخالف ہیں، اس لئے وزیر ہیں. کیونکہ 26 مئی، 2014 کو جب مودی حکومت کی حلف برداری کی تیاری چل رہی تھی، تب وسندھرا راجے نے دہلی میں ممبران پارلیمنٹ کا ایک اجلاس بلا لیا تھا. تبصرہ نگاروں نے کہا کہ مودی کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس لیے  نیہال چند کو اچانک بلا کر حلف دلایا گیا. اب ان کے نکالے جانے پر یہی تبصرہ نگار صحافی کیا یہ کہیں گے کہ ان کا کام ہو گیا تو نکال دیے گئے. فکر مت کیجئے، اب یہی صحافی ارجن میگھوال کو وسندھرا مخالف بتانے لگے ہیں.

ہماری سیاست جمود کی علم بردار ہے. اس میں نیا ہونے کا امکان کم بچا ہے. اسی لئے لوگ سب طرح کے دلائل کو گھڑتے ہیں، تاکہ لگے کہ کچھ نیا ہوا ہے. کابینہ وزیر بننے کی الگ الگ دلیلیں ہوتی ہیں. وزارتوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور اس کی کئی بنیادیں ہوتی ہیں. اگر کام ہی صرف پیمانہ ہے تو اس کا اعلی معیار یہ ہے کہ جو کام پر کھرا نہیں اترے گا، وہ باہر ہو جائے گا. اس کا اعلی معیار یہ نہیں ہے کہ جس کا کام خراب ہو جائے گا، اسے دوسری وزارت ملے گی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close