آج کا کالم

بچی کی عصمت دری کرنے والوں کا دفاع کیوں؟

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

ہم کہاں جا رہے ہیں؟ یہ جاننے سے پہلے ہم کہاں آ پہنچے ہیں، ذرا رک کر دیکھ لینا چاہئے. جموں کے کٹھوا میں عصمت دری کے معاملے میں ہمارے معاشرے نے اپنا نقاب خود ہی اتار دیا ہے. ہم بیٹیوں کی پرواہ کرتے ہیں، یہ ڈھونگ بھی اپنے آپ سامنے آگیا ہے. کٹھوا میں آٹھ سال کی بچی کی عصمت دری کے بارے میں ہی سن لیں گے تو آپ کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ آپ ایک مردہ وقت میں جینے کا بھرم پال رہے ہیں. یہی نہیں عصمت دری کے معاملے میں پولیس جب چارج شیٹ دائر کرنے پہنچی تو تھانے کو جس طرح گھیرا گیا اور جس طرح جے شری رام کے نعرے لگے، یہ سن لیں گے تو آپ کبھی رام سے نظریں نہیں ملا پائیں گے. اتفاق ہی ہو سکتا ہے کہ یوپی کے اناؤ میں عصمت دری کے ملزم ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر نے بھی کہا تھا کہ الزام تو شری رام پر بھی لگا تھا. جو لوگ جے شری رام کے نعرے لگاتے ہیں، مندروں میں نہیں ریلیوں میں، وہی بتا سکتے ہیں کہ اب جے شری رام کے نعرے اور کہاں کہاں لگنے باقی ہیں. افسوس کہ رام کے نام پر جمع ہو جانے والے نام نہاد مذہبی رہنماؤں نے بھی اس پر اعتراض نہیں ہے. کسی کو کیوں لگتا ہے کہ جے شری رام کا نام لینے سے یا نعرے لگا دینے سے وہ قانون سے اوپر ہو جائے گا. کیا قانون کے نظام کو تباہ کرنے کے لئے جے شری رام کر استعمال ہو رہا ہے؟ تو پھر اس میں وہ رام راج کہاں ہے جس میں سب کے ساتھ انصاف کا خواب دکھایا جاتا ہے. کئی مہینوں سے کہہ رہا ہوں کہ آپ کے بھارت میں ہر جگہ ایک بھیڑ کھڑی ہے. اسے صرف اشارہ ملنے کی دیر ہے، وہ کچھ بھی کر سکتی ہے. اگر آپ اس بھیڑ کو لے کر اب بھی محتاط نہیں ہوں گے تو ایک دن یہ بھیڑ آپ کو بھی کھینچ لے جائے گی. یا تو مار دینے کے لئے یا پھر آپ سے کسی کے قتل کرانے کے لئے.

8 سال کی لڑکی کے ساتھ مندر میں تین بار عصمت دری کی گئی ہے. اس کے بعد مجرم نے پوجا پاٹھ بھی کی. ایک بلاتکاری کو میرٹھ سے بلایا گیا. لڑکی کو بیہوش ہونے کی دوا دے کر رکھا گیا، اس کے بعد عصمت دری ہوتی رہی اور پھر گلا گھونٹ دیا گیا. وہ مر گئی لیکن زندہ رہنے کا کوئی امکان نہ بچے، اس لیے اس کے سر کو پتھر پر دو بار مارا گیا تاکہ وہ مر جائے. وہ مر گئی. سنا آپ نے کہ وہ مر گئی. آپ نے ٹھیک سے سن تو لیا نہ کہ وہ مر گئی. آپ کا سننا بہت ضروری ہے کہ بیہوشی کی دوا دینے، عصمت دری کرنے کے بعد گلا گھونٹ دینے اور پتھر پر سر دے مارنے کے بعد وہ معصوم بچی مر گئی. تب ایک پولیس والا کہتا ہے کہ ابھی رکو، وہ ایک اور بار عصمت دری کرنا چاہتا ہے. جموں کے کٹھوا میں بكروالا کمیونٹی کو ہٹانے کے لئے یہ سب کیا گیا. چارج شیٹ میں یہ سب لکھا ہے.

10 جنوری کو یہ لڑکی کٹھوا کے ہيرانگر سے اغوا کر لی جاتی ہے. 17 جنوری کو جنگل میں اس کی لاش ملتی ہے. 11 اپریل کو یہ کہانی آپ کے سامنے ہے کیونکہ 10 اپریل کو جموں کشمیر پولیس اس معاملے میں 11 صفحات کی چارج شیٹ فائل کرنے پہنچی تو اسے گھیرنے کے لئے شہر کا ایک طبقہ آگیا. وہی بھیڑ جو آپ کے ارد گرد تیار کھڑی رہتی ہے. اس کیس کو رفع دفع کرنے کے لئے اس پولیس اہلکار کو ڈیڑھ لاکھ کی رشوت دی گئی جسے معلوم تھا کہ لڑکی کہاں رکھی گئی تھی. کٹھوا میں ماحول کو فرقہ وارانہ بنا دیا گیا تاکہ ہندو مسلم ڈبیٹ چالو ہو جائے اور ایک آٹھ سالہ لڑکی کے ساتھ جو ہوا وہ بحث سے غائب ہو جائے. بلاتکاری کی حمایت میں ایک ہندو اتحاد پلیٹ فارم بن گیا. انڈین ایکسپریس کے مزمل جمیل نے لکھا ہے کہ اس پلیٹ فارم کو محبوبہ مفتی کے دو وزراء اور بی جے پی ممبر اسمبلی لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا کی حمایت مل رہی تھی.

سیاست اپنا راستہ تلاش لیتی ہے. مگر سیاست جب کمزور ہو جاتی ہے تو 8 سال کی بچی کو موہرا بناتی ہے. اب اس کے پاس ہندو مسلم کے علاوہ آپ کے سامنے آنے کے لئے کوئی راستہ نہیں بچا ہے. یا تو آپ مسلم بنیے یا پھر ہندو بنیے تب وہ آپ کے درمیان آئے گی. آٹھ سال کی اس بچی کے ساتھ کوئی شہری کھڑا ہے یا نہیں آپ کو بتا سکتے ہیں. جب پولیس چارج شیٹ دائر کرنے چلی تو اس کو گھیرنا، روکنا کس طرح سے صحیح تھا. کیا یہ صحیح تھا کہ جموں پولیس جب چالان  فائل کرنے پہنچی تو بہت سے لوگ اسے روکنے کے لئے آگئے. کئی صحافیوں نے رپورٹ کی ہے کہ پیر یعنی 9 اپریل کو کٹھوا ضلع جیل کے باہر وکلاء نے بھی مظاہرہ کیا. وہاں بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگے اور جے شری رام کے بھی. جموں کشمیر نے ہنگامہ کرنے والے وکلاء کے خلاف کیس درج کر لیا ہے. کیا وکلاء کو قانون کا قاعدہ نہیں معلوم. اگر بی جے پی کے نیتاؤں کو اپنی پولیس پر بھروسہ نہیں ہے تو پھر اس کے وزیر محبوبہ مفتی کی حکومت میں کیا کر رہے ہیں. ہر کسی کو پولیس کی تحقیقات پر شک ہوتا ہے، ہندوستان بھر کی پولیس کی پہچان بھی یہی ہے تو بھی کیا بھیڑ طے کرے گی کہ وہ کیا کرے اور اس کے پیچھے ہندو مسلم کی دلیل کھڑی کی جائے گی؟ کیا ایک آٹھ سال کی بچی کے قتل اور عصمت دری کے ملزمان کے حق میں بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگیں گے؟

11 صفحات کی چارج شیٹ پڑھیں گے تو آنکھ اور آنت دونوں باہر آ جائیں گی. اس قتل کا ملزم آمدنی محکمہ سے ریٹائر ہو چکا سنجي رام ہے. اس نے اس قتل میں اپنے بیٹے کو بھی شامل کیا اور بھتیجے کو بھی. ان دونوں کی عمر 18 سال سے کم ہے. جوینائل ہیں دونوں. آٹھ افراد گرفتار ہوئے ہیں جن میں اسپیشل پولیس آفیسر دیپک كھجوريا اور سریندر کمار کو بھی گرفتار کیا گیا ہے. معاون سب انسپکٹر آنند دتہ اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو ثبوت مٹانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے. سنجي رام بكروالا کمیونٹی کو رسنا گاؤں سے ہٹانا چاہتا تھا، اس لئے اس نے آٹھ سال کی ایک بچی کو اغوا کر کے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی. والد سنجي رام کے کہنے پر 7 جنوری کو اس کا بیٹا اور دوست ایک دوا کی دکان پر جاتے ہیں. بیمار چچا کی دوا کی پرچی دکھا کر Epitril 0.5 mg کی دس گولیاں خرید لاتے ہیں؟ اسی روز سندي رام نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ آٹھ سالہ لڑکی کو اغوا کر لے، جو اکثر جنگلوں میں گھوڑے چرانے آتی تھی. لڑکی نے فرار ہونے کی کوشش کی مگر اسے دبوچ لیا گیا. اس کی وہیں پر عصمت دری ہوئی. پھر وہاں سے اٹھا کر مندر میں لے جاکر رکھا گیا. اس کی تفصیلات بتائی نہیں جا رہی ہے پر بتا رہا ہوں. آپ دیکھ نہیں پا رہے ہیں کہ ہندو مسلم ڈبیٹ کی سیاست آپ کے بچوں کو قاتل بنانے کے لئے تیار کر چکی ہے. ہر پرائم ٹائم میں یہ بات کہی ہے، آپ چیک کر سکتے ہیں. لڑکی کے ماں باپ نے رام سے پوچھا بھی کہ کہاں ہے تو بولا کہ رشتہ داروں کے یہاں گئی ہوگی جبکہ رام نے ہی اسے مندر میں بند کر رکھا تھا. یہ سب چارج شیٹ میں لکھا ہے. اسے بیہوش ہونے کی دوا دے کر كھجوريا اور وہ بچہ جو 18 سال سے کم کا ہے، عصمت دری کرتا ہے. 11 جنوری کو 18 سال سے کم والا میرٹھ گئے وشال کو فون کرتا ہے، وشال میرٹھ سے جاکر اس کی عصمت دری کرتا ہے. دیکھئے پڑھا نہیں جا رہا ہے، پھر بھی پڑھوں گا. اس لڑکی کو خالی پیٹ بیہوشی کی تین گولیاں دی جاتی ہیں اور عصمت دری کی جاتی ہے. ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ناراض تو وہ ہیں جو عصمت دری کے ملزمان کے ساتھ کھڑے ہیں. ٹھنڈے دماغ سے پھر بھی سوچئے کہ عصمت دری کا خیال آتا کہاں سے ہے. کیوں آتا ہے. جموں کشمیر بار ایسوسی ایشن نے بدھ یعنی 11 اپریل کو جموں بند کا اعلان کیا ہے. وکیلوں کی تنظیم سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہی ہے. وہ سڑکوں پر ترنگا لے کر نکلے ہیں.

اس اسٹوری کو کَوَر کرنے والے رپورٹر بھی ہل گئے ہیں. اس قتل کی ڈٹیل اور چارج شیٹ کی مخالفت کی سیاست نے انہیں سناٹے میں ڈال دیا ہے. صحافی راہل پنڈتا نے فیس بک پر لکھا ہے کہ اس معاملے کی جانچ کرنے والے ایس ایس پی رمیش جالا کے اخلاص پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا ہے. ان کا شاندار ریکارڈ ہے. کئی دہشت گرد حملے بھی جھیلے ہیں. مہینوں ہسپتال میں بھرتی رہے ہیں. ایسے افسر اور اسی ٹیم کی بنائی گئی چارج شیٹ پر اس طرح سے سوال اٹھانا شرمناک ہے. اس نے جے شری رام اور ترنگا دونوں کو شرمسار کیا ہے.

اگر آٹھ سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری اور اس کا قتل کو ہندو مسلم سیاست کے نام پر جائز ٹھہرانے کی کوشش ہو رہی ہے، ملزمان کے ساتھ مذہب کے نام پر کھڑے ہونے کی کوشش ہے تو آپ سے یا خود سے کیا کہیں. وہ معصوم بچی تو اس جہنم کو چھوڑ کر جا چکی ہے، آپ کو ابھی اسی جہنم میں رہنا ہے. مذہب کے نام پر سائیڈ لے کر نہیں بولنے سے اور ترنگا لے کر چارج شیٹ کی مخالفت کرنے کی سیاست سے دہشت ہونی چاہئے اور شرم بھی آنی چاہئے. بكروالا کمیونٹی پہاڑوں پہاڑوں پر اپنا گزر بسر کرتی ہے. سیدھے سادے لوگ ہوتے ہیں. گلہ بانی کرتے ہیں اور ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا ہے.

گوجر بكروال واضح طور پر ایک مسلم خانہ بدوش کمیونٹی ہے، انہیں انوسوچت جن جاتی میں رکھا گیا ہے. یہ کمیونٹی اہم طور پر مویشیوں کو پال کر اپنا گزارا کرتی ہے. لیکن کسی ایک جگہ نہیں ٹكتی. عام طور پر جنگلوں میں یا اس کے ارد گرد کٹیا بنا کر چھوٹے چھوٹے ٹولوں میں رہتی ہے. مارچ اپریل میں گرمياں شروع ہونے کے ساتھ ہی یہ بكروال اپنے مویشیوں، جیسے گائے بھینس، بھیڑ وغیرہ کے ساتھ اونچے پہاڑی علاقوں میں چلے جاتے ہیں. اس دوران پہاڑی علاقوں میں ان مویشیوں کے لئے گھاس وغیرہ خوب ہوتی ہے. اکتوبر کے آخر تک یہ لوگ پھر شیوالک کے دامن میں لوٹ آتے ہیں جہاں اگلے چار پانچ ماہ گزارتے ہیں. گوجر بكروال کمیونٹی کو ماحول کے لحاظ سے کافی خاص سمجھا جاتا ہے. ان لوگوں کو جنگلی درخت اور پودوں کی اتنی معلومات ہوتی ہے کہ انہیں بیئر فٹ باٹنسٹ یعنی ننگے پاؤں چلنے والے ونسپتی وگیانی تک کہا جاتا ہے. لیکن آج یہ لوگ جنگلوں پر بھی اپنے بنیادی حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں. اور معاشرے میں ان کے حقوق کا حال کیا ہے یہ کٹھوا کی اس دل دہلا دینے والی کہانی سے آپ کو سمجھ آ گیا ہو گا.

اب ہو سکے تو اپنے معاشرے کے بارے میں سوچئے. اپنے بارے میں سوچئے. ہر طرف بھیڑ ہے، ہر طرف تشدد ہے. کل ہی بنگال سے ایک تصویر آئی. ہاتھوں میں ہتھیار لے ریلی میں نکلے تھے. کوئی کہیں سے ہتھیار لے آتا ہے، تلوار لہراتے ہوئے ریلی نکالتے ہیں. رام نومي کی شوبھا یاترا تو ہتھیاروں سے ہی بھری رہتی ہے. آپ سوچئے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں. ایک عوام کے طور پر سوچیں گے تو آپ کو یہ سوال سمجھ آ جائے گا. تشدد کرنے والے ہتھیار آپ کا بھلا نہیں کریں گے. کہیں رام کے نام پر نیتاگری ہے تو کہیں نیتا ہی اپنے آپ کو رام سے اوپر کے سمجھنے لگے ہیں. یہ جو بھیڑ آپ کو نظر آرہی ہے، اس سے ڈریے. آپ کے ملک میں کہیں کوئی نظام نہیں ہے جو ایسی بھیڑ پر لگام لگا لے. ہر جگہ لاچاری ہے، غلبہ تو صرف بھیڑ کا ہے۔

کٹھوا میں ہندو ایکتا منچ ملزمان کے حق میں ہے تو یوپی میں پوری بی جے پی اور یوگی حکومت ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے دفاع میں نظر آرہی ہے. اناؤ کی لڑکی بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سینگر پر قتل کا الزام لگا رہی ہے، آپ ان کے ہنستے ہوئے بیان کو دیکھئے. اس لڑکی کے والد کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا، الزام ممبر اسمبلی کے بھائی پر لگا، ہنگامہ ہوا تب گرفتاری ہوئی. اب تو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے نوٹس لیا. وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی ہلہ مچنے کے بعد ایک ایس آئی ٹی اس لڑکی کے گاؤں بھیجی. لیکن ایس آئی ٹی سے پہلے ہی ایم ایل اے کے سینکڑوں حامی وہاں پہنچ گئے، ہنگامہ کرنے لگے اور ممبر اسمبلی کو بے قصور بتانے لگے. مگر کسی کسی کا ضمیر جاگ رہا ہے. یوپی میں بی جے پی کی میڈیا سیل کی رکن دیپتی بھاردواج نے ٹویٹ کیا ہے کہ ‘محترم بھائی امت شاہ جی، اتر پردیش کو بچا لیجئے، حکومت کے فیصلے شرمسار کر رہے ہیں. یہ کلنک نہیں دھلے گا. محترم بھائی نریندر مودی جی اور آپ کے ساتھ ہم سب کے خواب چور چور ہوں گے.’

بی جے پی اپنے رکن اسمبلی کے تئیں ہمدردی رکھتی ہے. وہ نہیں چاہتی کہ میڈیا ٹرائل یا الزام کی بنیاد پر گرفتاری ہو. کیا یہی پیمانہ بی جے پی خود اپناتی ہے. جموں میں جہاں تحقیقات ہو رہی ہے، چارج شیٹ ہو رہی ہے وہاں تو اس کے وزیر ملزمان کا دفاع کر رہے ہیں. لڑکی کے والد کو پولیس کی حراست میں مارا گیا ہے. آپ دیکھتے رہیے کہ انصاف کا ترازو کس طرف جھکتا ہے. مذہب دیکھ کر جھکتا ہے یا ذات دیکھ کر جھکتا ہے. ہم بھی مانتے ہیں کہ بھیڑ کے دباؤ میں کچھ نہیں ہونا چاہئے لیکن ایک باپ کی پولیس کی حراست میں موت ہوئی ہے، ایف آئی آر میں بھائی کا نام تک نہیں شامل کیا جاتا ہے. کس کے دباؤ میں والد کی گرفتاري ہوئی اور اس کا قتل ہوا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close