آج کا کالم

بچے کی پیدائش کے لئے آپریشن درست ہے یا نارمل ڈلیوری؟

عدالت کے حکم کے بعد اب اسٹینٹ کی قیمت حکومت کو طے کرنی پڑی ہے. تیس ہزار سے زیادہ اس کی قیمت نہیں ہوگی. مگر دل کے مریضوں کے لواحقین اس سوال سے گزرتے رہے کہ اسٹینٹ لگانے کا فیصلہ درست ہے یا نہیں، وہ کیسے جان سکیں گے. ان کے پاس کیا طریقہ ہونا چاہئے، جس سے وہ ڈاکٹر کی بات پر دلائل سے اس بات کر سکیں کہ اسٹینٹ لگانے کی جو بات بتائی گئی ہے، وہ پوری طرح ٹھیک ہے. کیوں جب پرائم ٹائم میں بحث ہوئی تھی تب یہ بات سامنے آئی تھی کہ کئی بار ضرورت بھی نہیں ہوتی اور اسٹینٹ لگا دیے جاتے ہیں . بھارت میں ابھی تک تمام ہسپتالوں کے لیے اسٹینٹ لگانے کے لئے کوئی گاڈلاین ہی نہیں بنی ہے. ناظرین کا یہ سوال جائز ہے کہ عام لوگوں کو کس طرح معلومات دی جائے، کس طرح قابل کیا جائے تاکہ وہ ڈاکٹر سے صحیح سوال کر سکیں. آج ہم بات کریں گے بچے کی پیدائش آپریشن سے ہونا ٹھیک ہے یا نارمل طریقے سے؟ کیا ہسپتال زیادہ کمائی کے لئے آپریشن کا راستہ کا انتخاب کرتے ہیں . آپ کو شو میں سي زیرين، سی سیکشن جیسے الفاظ خوب سنیں گے جس کا مطلب ہے آپریشن کے ذریعہ بچے کی پیدائش ہونا.

دو مہینہ پہلے چینج ڈاٹ تنظیم پر ممبئی کی سورا گھوش نے ایک عرضی داخل کی اور لوگوں سے حمایت مانگی. درخواست کے ذریعہ سروا جی نے مطالبہ کیا کہ تمام ہسپتالوں کے لئے لازمی کیا جائے کہ وہ اپنے ہسپتال میں ہونے والے سي ذیرين ترسیل کی تعداد کا اعلان کریں. دو ماہ کے اندر اندر اس مہم کو ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں نے اپنا حمایت کی ہے، جن میں سے ساٹھ فیصد خواتین ہیں . مرکزی حکومت کی عورت اور بال کی ترقی وزیر مینکا گاندھی نے بھی اس مہم کی حمایت کرتے ہوئے وزارت صحت سے کہا ہے کہ اس سمت میں قدم اٹھایا جانا چاہئے.

کئی بار ایسی بحثیں دہلی اور ممبئی کے لیے سمٹ کر رہ جاتی ہیں مگر بچہ آپریشن سے ہوگا یا نارمل سے ہوگا، ہر جگہ اس بحث ہوتی ہے. اس بنیاد پر علاقے میں ڈاکٹر کی شہرت بھی ہوتی ہے اور خاندانوں میں بے چینی  کہ فلاں ہسپتال میں جائیں یا نہ جائیں جہاں سي ذیرين ہی سے بچہ ہوتا ہے. دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ مریض بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ بچہ آپریشن سے پیدا ہو. کئی بار لوگ ستوتیش وقت نکلوا لاتے ہیں اور خاص تاریخ کو پیدا ہونے کی خواہشات کی وجہ سے ڈاکٹر سے گزارش کرتے ہیں کہ آپریشن ہی بچہ پیدا ہو.کئی بار مریض کے دیگر وجوہات بھی ڈاکٹر کو مجبور کرتے ہیں . کئی بار ہسپتال اور ڈاکٹر بھی مجبور کرتے ہیں کہ ان کے یہاں بچہ آپریشن سے ہی پیدا ہو. نیشنل رورل ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار پہلے دیکھ لیتے ہیں .

 آپ بھی کہاں رامجس کالج، مہاراشٹر میں بی جے پی کی شاندار کامیابی اور یوپی انتخابی کے نمنستريي تقریروں میں الجھے ہوئے ہیں ، تو اچانک سے آپ کے اوپر سی زیرين کا مسئلہ مسلط بھی ٹھیک نہیں ہے. 2015-16 کا اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ کے پرائیویٹ استپالو میں 74 فیصد پیدائش آپریشن سے ہوتا ہے اور 40.6 فیصد نارمل طریقے سے ہوتا ہے. تریپورہ کے پرائیویٹ استپالو میں 73.7 فیصد پیدائش آپریشن سے ہوتا ہے. 18.1 فیصد نارمل طریقے سے ہوتا ہے. تمل ناڈو کے پرائیویٹ استپالو میں 51.3 فیصد پیدائش آپریشن سے ہوتا ہے اور 26.3 فیصد پیدائش نارمل طریقے سے.

اسی دوران ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر پڑھتے ہوئے اچھا لگا کہ تمل ناڈو میں 99 فیصد بچے استپالو میں پیدا ہوتے ہیں . لیکن یہاں کے استپالو میں بھی آپریشن کا جلوہ ہے. 10 میں سے 3 بچے آپریشن سے پیدا ہوتے ہیں . ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق تمل ناڈو نے 2000 اسپتالوں سے کہا ہے کہ وہ مارچ کے اختتام تک آن لائن رپورٹنگ کہ کتنے بچے آپریشن سے اس دنیا میں آئے اور کتنے نارمل طریقے سے. ایک دلیل دی جا رہی ہے کہ آپریشن سے بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے ترسیل کے دوران ماں اور بچے کی موت کی تعداد میں کمی آئی ہے.

مینکا گاندھی کا بیان اور چینج ڈاٹ تنظیم کا یہ مہم کہتا ہے کہ ہسپتالوں کو اب بتانا پڑے گا کہ ان کے یہاں مہینے میں کتنے بچے آپریشن سے پیدا ہوئے.کیا یہ کافی ہوگا؟ اس سے کیا فرق پڑ جائے گا؟ آپ کو یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر یہ پتہ ہی چل گیا کہ فلانے سرکاری یا پرائیویٹ استپال میں ہر ماہ زیادہ تر بچے سي ذیرين سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ کیا کر لیں گے. دوسرے ہسپتال میں جائیں گے، وہاں بھی یہی تعداد لکھی ہوگی. تب کیا کریں گے. چینج ڈاٹ تنظیم کو آر ٹی آئی کے حوالے سے معلومات ملی ہے کہ 2015 میں ممبئی کے سرکاری اور کارپوریشنز کے ہسپتالوں میں 21،744 بچے آپریشن سے پیدا ہوئے. 2010 میں ممبئی کے سرکاری اور کارپوریشنز کے ہسپتالوں میں 9،593 بچے ہی آپریشن سے پیدا ہوئے. پانچ سال میں تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے.

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پوپلیشن ساسیس کے انتخاب رائے چودھری نے ریسرچ کیا ہے کہ دنیا کے جن ممالک میں آپریشن سے سب سے زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں ، اپنا بھارت بھی ان میں شامل ہے. یہ تصویر تب ہے جب ہمارے ملک میں اعداد و شمار کو جمع کرنے کا انتظام تھوڑا کمزور ہے. ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی خوفناک صورت حال ہو. کولکتہ کے ایک میڈیکل کالج کا پانچ سال کا مطالعہ کیا گیا ہے. وہاں آپریشن سے پیدا ہونے والے بچوں میں 49.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے. تو کیا ہسپتال مریضوں کو آپریشن کے لئے مجبور کر رہے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close