آج کا کالم

بھارتیہ جنتا پارٹی کا مورچے سے پیچھے ہٹنا شروع

صفدر امام قادری

 نوٹ بندی سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس چھاپے مار طریقے سے حکومت کے فیصلے کرنے کا جمہوری نظامِ حکومت میں طور اپنایا تھا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ماہرین نے اپنے فکر و خیال میں تبدیلیاں لائی ہیں اور انھیں اپنے فیصلوں پر عوام کے دباو میں نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جی ایس ٹی پر حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا اور آخرکار چند ہی چیزوں میں سہی مگر حکومت کو عوام کی باتیں سننی پڑیں اور اپنے پرانے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اب آنے والے وقت میں انھیں عوام کے دباو کو سمجھنا ہوگا اورغیر ضروری طور پر جو پالیسیاں بنائی جارہی ہیں ، ان کی اصلاح کی ممکن کوشش بھی انھیں ہی کرنی ہوگی ورنہ قومی انتخاب میں ان کے پرخچے اُڑ جائیں گے۔ حزبِ اختلاف اگرچہ بکھراو کا شکار ہے اور آسانی سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ دو برس کے اندر اس لائق ہوجائے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی ، امت شاہ کی جو ڑی سے دو دو ہاتھ کرپائے مگر وہ مستقبل کا معاملہ ہے۔

نوٹ بندی پر ہر طبقے سے سوالات قائم ہوئے۔ یہ بھی بات سامنے آئی کہ جمع خوری واپس نہیں ہوئی اور کالے دھن کی شناخت کا خواب ادھورا رہا۔ بینکوں میں سب کے سب پیسے واپس ہوگئے۔ لوگوں نے مذاق اڑایا کہ کالا دھن تو حقیقت میں بھاجپائیوں کے پاس ہی تھا اور انھیں بہ حفاظت کام میں لانا تھا۔ وقت سے پہلے یہ بتا بھی دیا گیا تھا کہ اسے کس انداز سے محفوظ کیا جائے گا۔ اس وجہ سے یہ موثر طور پر نافذ ہوہی نہیں سکتا تھا۔ جی ایس ٹی پر بھی حکومت نے چھاپہ مار دستے کی طرح سے کام کیا۔ اس کی اپنی صوبائی حکومتیں ساتھ میں تھیں جس کی وجہ سے نفاذ میں تو کوئی پریشانی نہیں ہوئی مگر رفتہ رفتہ عوام کی مخالفت زمینی سچائیوں کی وجہ سے سامنے آئی اور سب کچھ بگڑتا دیکھ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہی پڑا۔ ابھی کپڑے اور کاغذ کے سلسلے سے تھوڑے سے فیصلے حکومت نے کیے ہیں مگر ابھی انھیں اپنے پرانے فیصلے میں بار بار ترمیم کرنی پڑے گی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ حکومت کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ اس کی اقتصادی پالیسیاں امبانی اور اڈانی طے کرتے ہیں اور سیاسی پالیسیاں ناگپور میں آر ایس ایس کے کیمپ میں تیار ہوتی ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا یہ بھی تاثر ہے کہ ان دونوں باتوں میں کہیں گٹھ جوڑ اور خفیہ سمجھوتا ہے جس کی وجہ سے آر ایس ایس نے بھی کھلے طور پر اقتصادی پالیسیوں کی مخالفت نہیں کی۔ اس کا کام دوسرے انجام دیتے رہیں تو آخر دشواری ہی کیا ہے۔ مگر ان دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ پرانے لیڈر نریندر مودی حکومت کی کھلے عام مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں۔ یشونت سنہا اورارون شوری کی باتوں کو صرف نریندر مودی سے دیرینہ اختلاف کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ اتفاق سے دونوں افراد اٹل بہاری باجپئی کے زمانے میں بڑے منصب دار اور ان کی پالیسیوں کے لیے ذمے دار مانے گئے تھے۔ انھوں نے جو باتیں کہیں ان میں صرف نریندر مودی کی مخالفت اور امت شاہ یا اس حکومت کے کارپردازوں کو سبق سکھانے کا مقصد پنہاں نہیں بلکہ انھوں نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں ان کی جانچ پرکھ شروع ہوچکی ہے اور اگر ان میں حقائق کی بنیادیں نہ ہوتیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چند دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے کاموں میں بنیادی تبدیلی کرنے کی ضرورت پڑتی۔

 نریندر مودی کی حکومت قائم ہونے سے پہلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی میں جو بھونچال آیا ہوا تھا،جس کے نتیجے کے طور پر مودی کی قیادت اچانک ابھر ی تھی۔ اس اختلاف اور طوفان کی بنیادیں اتنی گہری تھیں جو اب سامنے آرہی ہیں ۔ نریندر مودی بھاجپا کے اندرونی اختلافات سے سب سے زیادہ خوف زدہ ہیں ۔ انھیں اسی سے زیادہ پریشانی ہے۔ مختلف صوبوں میں جہاں ان کی حکومت ہے یا جہاں ان کے لوگ مضبوط ہیں اور انھیں یہ توقع ہے کہ آنے والے وقت میں وہاں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوسکتی ہے؛ ان سب جگہوں پر اس بات کے واضح خدشات نظر آرہے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں اندرونی اختلافات کہیں ساری توقعات کو اختتام تک نہ پہنچا دے۔ اس لیے اسے روکنا ضروری تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں کئی ایسے افراد موجود ہیں جو اقتصادیات کو سنجیدگی سے سمجھتے ہیں ۔ پرانے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ ہیں ۔ ایسے لوگوں کو صرف بہلاوے سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے نریندر مودی حکومت کو ذرا پیچھے ہٹ کر ایک بار اپنے فیصلوں کو عوامی عدالت کے فیصلوں کے سبب بدلنا پڑا ہے۔

  ہمارا یہ ماننا ہے کہ جی ایس ٹی پر نظر ثانی کے وقتی فیصلے کا جو وقت مقرر ہوا ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نریندر مودی نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھاجپا کی ہر سطح پر مخالفت رفتہ رفتہ بڑھتی جارہی تھی۔ عوام کی بے اطمینانی اور مقامی سطح کے بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈروں کے دبے دبے اختلافات سے حکومت بے خبر نہیں تھی۔ اس لیے اسے کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا لیکن یسونت سنہا اور ارون شوری کے پے بہ پے حملوں نے ان عوامی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر کے اختلافات کو مضبوط کرنے کا کام کیا۔ جن بے زبان لوگوں کے پاس اقتصادی دلائل اور اعداد و شمار کی کمی تھی، ان بزرگوں نے اپنے مضامین سے ان کی بھرپائی کردی۔ اب سب جی ڈی پی اور فروغِ وسائلِ انسانی کی بات کرکے نریندر مودی کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہے ہیں ۔ اسی لیے جی ایس ٹی پہ فوری طور پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کم از کم ارون شوری اور یشونت سنہا کے اعتراضات سے بچا جاسکے۔

 ابھی آرایس ایس کے حلقے سے اچانک سرگرمیوں کے تیز ہونے کی خبریں آنے لگی ہیں ۔ جہاں جہاں الیکشن قریب ہیں یا سیدھے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں حکومت نہیں ، وہاں موہن بھاگوت اور ان کی ٹیم کے افراد نے آنا جانا اور جلسہ جلوس قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پروین توگڑیا بھی عوامی سطح پر سرگرم نظر آرہے ہیں ۔ سب کے الگ الگ موضوعات اور ایجنڈے ہیں۔ مگر سب نے ایک ہی نشانہ رکھا ہے کہ 2019ء میں ایسی صورتِ حال پیدا ہو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آسانی سے بن جائے۔ اس کام کے لیے مرکزی حکومت کے ہاتھ تھوڑے بندھے ہوئے ہیں ۔ سیدھے دنگا فساد کرانے میں انھیں دشواری ہے۔ امت شاہ اور نریندر مودی دونوں کو سماجی اور سیاسی سطح پر نپی تلی گفتگو کرنی پڑتی ہے۔ بھڑکائو تقریریں کرنے اور اشتعال پھیلانے میں انھیں زیادہ مشکل ہوگی۔اس لیے ایسے کام اب وہ سیدھ وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کو سپرد کردیں گے۔ ان کے بعض وزرا بھی اب دھرم پرچارک یا نفرت کی کھیتی کرنے کے کام سے الگ کردیے گئے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلا کی زبان بھی اب سنبھلے ہوئے انداز میں کام کرتی نظر آرہی ہے۔ تب آپریشن 2019 آخر کس طرح ہوگا؟ اسی لیے جگہ جگہ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے لوگ زمینی سطح پر تیاریاں کرنے لگے ہیں ۔ کہیں میلے میں وہ نظر آرہے ہیں تو کبھی کھیل کے میدان میں پہنچ رہے ہیں ۔ تہذیبی اور ثقافتی میٹنگ بھی چل رہی ہے۔ ہر جگہ باتیں انھیں وہی کرنی ہیں مگر سائن بورڈ کچھ دوسرا ہوتا ہے۔ انھیں یہ کام سپرد کیا گیا ہے کہ وہ عوامی طور پر حکومت کی خدمات تو بتائیں ہی لوگوں کو اس بات کے لیے بھی راضی کریں کہ نریندر مودی کی جگہ پر کوئی دوسرا ہوگا تو ہندو راشٹر کا سپنا پورا نہیں ہوگا۔

 ہندو راشٹر کے لیے ضرورت پڑی تو بھارتیہ جنتا پارٹی ، رام جنم بھومی پر نیا مندر بھی تعمیر کرسکتی ہے۔ ممکن ہے 2019ء کے الیکشن سے ٹھیک پہلے ایسے کام شروع کردیے جائیں اور پھر 2024ء تک خاموشی سے مرکز کی حکومت چلتی رہے۔ مختلف صوبوں میں ان کی حکومت جو کام کررہی ہے اس سے بھی ان کے خطرے بڑھ رہے ہیں کیوں کہ حقیقی اور زمینی ترقی کہیں نظر نہیں آرہی ہے لوگ ہر جگہ سوال و جواب میں مبتلا ہیں ۔ ایسے میں اشتعال انگیز سیاست کے ماہرین کے پاس چارۂ کار ہی کیا رہ جاتا ہے؟ جی ایس ٹی پر نظر ثانی کو بھاجپا کی حقیقی سیاست سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے اور یہ مان لینا معقول بات ہوگی کہ یہ وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کی ایک قواعد ہے۔ بھاجپا آسانی سے صنعت کاروں کے چنگل سے نکلنے والی نہیں ہے اور عوام کو بھی آسانی سے مشکلات سے نجات شاید ہی ملے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Close