آج کا کالم

بھارت بند کی اپیل کس نے کی تھی ؟

رویش کمار

بھارت بند کی اپیل کس پارٹی نے کی تھی، اس کا پتہ لگانا ضروری ہے، کیونکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس کا جواب نہیں معلوم ہے۔  اتوار سے پیر تک وہ یہی صفائی دیتے رہے ہیں کہ انہوں نے بھارت بند کی اپیل نہیں کی ہے۔ اتوار کو اترپردیش کے کشی نگر کی ریلی میں وزیر اعظم نے کہا کہ ایک طرف حکومت بدعنوانی کے سارے راستے بند کرنے میں لگی ہیں، بلیک منی کے سارے راستے بند کرنے میں لگی ہے، تو دوسری طرف لوگ بھارت بند کرنا چاہتے ہیں۔ آپ مجھے بتائیے بدعنوانی کا راستہ بند ہونا چاہئے کہ بھارت بند ہونا چاہئے۔

وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد اپوزیشن ثبوت مانگننے لگی کہ کس نے بھارت بند کی اپیل کی ہے۔ کیا میڈیا اور سوشل میڈیا نے اپنی طرف سے 28 نومبر کے الگ الگ حکومت کی مخالفت کے پروگراموں کو بھارت بند کہا۔ بی جے پی کے لیے بھی ثابت کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ بی جے پی 24 نومبر کے تمام پریس کانفرنس اور پریس ریلیز کا باریکی سے مطالعہ کر سکتی ہے۔ جب 28 نومبر کے پروگرام کا اعلان ہوا تھا۔ ہم نے کئی پارٹیوں کا دیکھا ہے، دعوی تو نہیں کر سکتے لیکن جتنا دیکھا ہے اس میں کسی میں بھارت بند کا ذکر نہیں ہے۔

24 نومبر کو کانگریس لیڈر رند يپ سرجےوالا نے کہا تھا کہ کانگریس ملک بھر میں بڑے پیمانے پر آکروش  دوس منا ئےگي۔ 24 کو ہی سیتارام یچوری کا بیان ہے کہ 28 نومبر کو کئی پارٹیاں ملک بھر میں آکروش دوس منائیں گی۔ 24 نومبر کو ہی سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ نے کہا تھا کہ لیفٹ پارٹی 24 نومبر سے 30 نومبر کے درمیان پورے ہفتے احتجاج کرے گا۔ سی پی ایم کی ویب سائٹ پر ایک پریس ریلیز ہے جو 23 نومبر کو جاری ہوئی ہے۔ اس میں صاف کہا گیا ہے کہ 6 لیفٹ پارٹیوں نے طے کیا ہے کہ ایک ہفتے کا احتجاج ہوگا۔ پریس ریلیز میں بھارت بند لفظ ہی نہیں ہے۔ 27 نومبر کو وزیر اعظم کے بیان کے بعد اسی دن دہلی میں جے رام رمیش نے پریس کانفرنس کر صاف کر دیا کہ کانگریس نے بھارت بند کا اعلان نہیں کیا۔ اتوار کو ہی عام آدمی پارٹی نے بھی صاف کر دیا کہ ان کی طرف سے بھارت بند کی اپیل نہیں ہوئی ہے۔

ویسے تریپورہ اور کیرالہ میں سی پی ایم نے بند کا اعلان کیا۔  کولکاتہ میں سی پی ایم لیڈر اور پولت بیورو رکن ومان بوس نے اس بند کی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ بند کا اعلان کر لیفٹ نے غلطی کی ہے۔ بند اور بھارت بند میں فرق ہوتا ہے۔ سوال ہے بھارت بند کی اپیل کس نے کی؟ بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے بھی پیر کو بیان دیا کہ بی ایس پی نے بھارت بند کی اپیل نہیں کی.۔ سماج وادی پارٹی کے ایم پی نریش اگروال نے کہا کہ میرے خیال سے یہ اب تک کا کامیاب بند ہے، کیونکہ ہندوستان تو نوٹ بندی کے دن سے ہی بند ہے۔ ہم کوئی نیا بند نہیں بلا رہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں غلام نبی آزاد نے بھی کہا کہ وزیر اعظم نے غلط بیانی کی ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم سے غلط بياني کے لئے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی ایس پی، ایس پی، عآپ، ترنمول کانگریس اور چھ لیفٹ پارٹی یعنی 11 اپوزیشن پارٹی یہی کہتے رہے کہ ہم نے بھارت بند کی اپیل ہی نہیں کی تھی تو پھر وزیر اعظم نے بھارت بند کی بات کہاں سے کر دی۔ اپوزیشن کو پی ایم سے جواب تو نہیں ملا لیکن پی ایم کے بھارت بند کہنے سے اپوزیشن دن بھر صفائی دینے میں لگا رہا۔ بی جے پی بھی سمجھ گئی کہ اپوزیشن کو بند کرنے کا سب سے اچھا لفظ بھارت بند ہے۔

بہر حال پیر کو کئی مقامات پراحتجاجی مظاہرہ ہوا۔ نوٹ بندی کو لے کر سیاسی پارٹیوں کے کارکنان ہی سڑکوں پر نظر آئے۔ عام لوگ حمایت میں نہیں اترے۔ کئی مقامات پر بزنس چیمبرز نے اپنا پوسٹر بھی لگا دیا کے وہ بھارت بند کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ وهاٹس ایپ پر ہفتے کے روز سے ہی ایک مہم سی چل رہی تھی کہ ہم بھارت بند کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ تو کیا بھارت بند کا نعرہ وهاٹس ایپ کے ذریعہ پھیلایا گیا اور اس کی حمایت اور مخالفت کی باتیں ہونے لگیں۔ خبریں پڑھنے کا یا جاننے کا وقت نہیں ہے تو کوئی بات نہیں، وهاٹس ایپ کے مواد کو ہی خبر ماننے کی غلطی نہ کریں۔ ہر پارٹی کے لوگ اس کے ذریعہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔

 بہرحال اس درمیان نوٹ بندی کے دوران اتنے قوانین کے اعلانات ہوئے ہیں کہ سب کا حساب رکھنا مشکل ہے۔ پہلے بحث ہوئی کہ جو لوگ اپنے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ پیسہ جمع کریں گے تو 200 پرسینٹ جرمانہ لگے گا۔ 10 نومبر کو مرکزی آ سیکرٹری ڈاکٹر ہنس مکھ ادھيا سے سوال پوچھا گیا کہ فرض کریں محکمہ کو یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی اکاؤنٹ میں دس لاکھ سے زیادہ کی رقم جمع کی گئی ہے اور رقم جمع کرنے والے کی اعلانیہ آمدنی سے میل نہیں کھا رہی ہے۔ ایسے میں جمع کرنے والے  پر کتنا ٹیکس اور جرمانہ لگایا جائے گا۔ تو ادھيا صاحب کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو ٹیکس چوری سمجھا جائے گا۔ ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 270 (A) کے حساب سے ٹیکس کی رقم وصولی جائے گی اورجمع کی  گئی رقم کے علاوہ 200 فیصد کی رقم جرمانے کے طور پر وصولی جائے گی۔

  خط معلومات دفتر کی ویب سائٹ پر یہ پریس ریلیز موجود ہے۔ غازی پور کی ریلی میں وزیر اعظم نے صاف کر دیا تھا کہ گنگا میں نوٹ بہانے سے گناہ نہیں دھل جاتے ہیں۔ ان بیانات سے یہی لگ رہا تھا کہ جو لوگ 30 دسمبر کے بعد اپنی آمدنی کا حساب نہیں دے پائیں گے ان کی خیر نہیں ہے۔ ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ 28 نومبر کو وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے لوک سبھا میں انکم ٹیکس ترمیم بل پیش کیا۔ اس کے مطابق خود آگے آکر اپنا بلیک منی  بتانے والوں کو وائٹ کرنے کا ایک اور موقع ملا ہے۔ ایک کروڑ بلیک منی پر 30 فیصد یعنی تیس لاکھ روپے ٹیکس دینے ہوں گے۔ دس فیصد یعنی دس لاکھ جرمانہ لگے گا۔ 33 فیصد سرچارج جو ٹیکس پر لگتا ہے، یعنی 9.90 لاکھ روپے۔ یعنی ایک کروڑ میں سے 49.90 لاکھ روپے ٹیکس کے کٹ جائیں گے۔ اب بچا 50 لاکھ تو اس کا 25 لاکھ فوری طور پر مل جائے گا۔ 25 لاکھ روپے وزیر اعظم غریب بہبود ڈپوزٹ اسکیم میں جمع کریں گے۔ چار سال تک بغیر سود کے پیسہ حکومت کے پاس رہے گا۔ اس کے بعد 25 لاکھ بلیک منی  والے کو ملے گا۔

 یعنی ایک کروڑ بلیک منی ہے تو اس میں سے پچاس لاکھ اب بھی بچ سکتا ہے۔ یہی نہیں جن لوگوں نے اپنی آمدنی کا اعلان نہیں کیا اور چھاپے میں پکڑے گئے، حساب نہیں دے پائے تو ان پر 60 فیصد ٹیکس لگے گا۔ 25 فیصد سرچارج اور 10 فیصد جرمانہ لگے گا۔ 100 روپے میں 85 روپیہ ٹیکس میں چلا جائے گا۔

 خود بتا دیں گے تو 100 میں سے 50 روپیہ آپ کا رہے گا۔ نہیں بتائیں گے تو 100 میں 15 روپیہ ہی آپ کو مل جائے گا۔ یعنی دونوں ہی صورت میں آپ کے بلیک منی کا پچاس فیصد وائٹ ہو سکتا ہے۔ جب حکومت نے 1 جون سے 30 ستمبر کے درمیان غیر اعلانیہ آمدنی کا اعلان کرنے کا ایک منصوبہ چلایا  ہی تھا اور اسے آخری منصوبہ کہا تھا تو ایسی صورت میں اس نئے ترمیم کو کیا سمجھا جائے۔ کیا حکومت بلیک منی والے کو ایک اور موقع دے رہی ہے؟

جون سے ستمبر کی منصوبہ بندی کو لے کر حکومت نے صاف کر دیا تھا کہ انکم ٹیکس محکمہ اس بات کی کوئی جانچ نہیں کرے گا کہ پیسہ کہاں سے آیا ہے.۔لیکن انہیں 45 پرسینٹ ٹیکس اور جرمانہ دینا ہو گا۔ جون 2016 کے ‘من کی بات’ میں وزیر اعظم نے یہ بات کہی تھی، "جن لوگوں کے پاس غیر اعلانیہ آمدنی ہے، ان کے لئے حکومت ہند نے ایک موقع دیا ہے۔ جرمانہ دے کر ہم کئی قسم کے بوجھ سے آزاد ہو سکتے ہیں۔ میں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ رضاکارانہ طور پر جو غیر اعلانیہ آمدنی کے سلسلے میں حکومت کو معلومات دے گا تو حکومت کسی قسم کی تحقیقات نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی میں ہم وطنوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ 30 ستمبر تک کا یہ منصوبہ ہے۔ اس کو ایک آخری موقع مان لیں۔  30 ستمبر کے پہلے آپ اس سسٹم کا فائدہ اٹھائیں اور 30 ستمبر کے بعد ممکنہ تکلیفوں سے اپنے آپ کو بچا لیں۔ "

 نئے ترمیم پر ہم بات کریں گے۔ کچھ تجاویز تو پرانے بھی ہیں، کچھ شامل ہیں۔ حکومت کو یہ ترمیم کیوں کرنی پڑی، جب اس نے 1 جون سے 30 ستمبر کی کارروائی کو آخری موقع کہا۔ کیا نوٹ بندی کے دوران یا بعد میں ملنے والے غیر اعلانیہ آمدنی کو پورا ضبط نہیں کر لینا چاہئے۔ کہیں یہ ایک اور موقع تو نہیں ہے۔ جب نوٹ بندی چل ہی رہی ہے تو اس میں ترمیم کا کیا مطلب ہے ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اس ترمیم میں کیا سونا، پراپرٹی اور اسٹاک بھی آتے ہیں یا اسے ہم صرف نقدی نوٹ کے تناظر میں ہی سمجھ رہے ہیں۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close