آج کا کالم

بھیڑ بننے بنانے کے ہم سب مجرم ہیں!

رویش کمار

چنئی اور بنگلور سے آتی تصاویر میں چند لوگ کسی کو کھدیڑے جا رہے ہیں، کسی کو مار رہے ہیں، کسی کی گاڑی پلٹ کر جلا رہے ہیں، بس ڈپو میں گھس کر بسوں کو جلا رہے ہیں. مار پیٹ کرتے ان لوگوں کو بے بس ہوکر دیکھتا رہا. ان چند لوگوں کے لئے سینکڑوں بٹالین تعینات ہیں. پولیس لاٹھی لے کر دوڑنے کی خانہ پوری کر رہی ہے. کاویری تنازع کوئی نیا نہیں ہے کہ اچانک غصہ پھوٹا ہو اور لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ اس کے غصے کو کس طرح ظاہر کریں. بسوں نے کسی ریاست کا کیا بگاڑا ہے …؟ تصاویر سے لگ رہا ہے کہ ریاستی کانگریس حکومت جان بوجھ کر حوصلہ افزائی کر رہی ہے، تاکہ تشدد کی زبان سے کاویری پانی تنازع کے مسئلے کو سیاسی طور پر سنگین بنایا جا سکے.

کرناٹک ہی نہیں، گجرات، بہار، اتر پردیش کسی بھی ریاست کی مثال لے لیجئے. ہریانہ کی جاٹ ریزرویشن تحریک، گجرات کی پٹیل تحریک، گوجر تحریک کے تشدد کا خوفناک دور یاد کر لیجئے. 2012 میں رنبیر سینا کے سربراہ برہمیشور مکھیا کے قتل پر پٹنہ میں کیا ننگا ناچ ہوا تھا، اسے بھی یاد کر لیجئے. بابری مسجد پر وہ بھیڑ ہی تو تھی جو چڑھ گئی توڑنے کے لئے اور ہمیشہ کے لئے تاریخ میں چھپ گئی. ممبئی میں مقیم مزدوروں کو مارنے والی بھیڑ دس بارہ افراد کی ہی ہوتی ہے، مگر ان کی وجہ سے دو دو ریاستوں میں آگ لگ جاتی ہے. کہیں راستہ روک کر کار توڑنے سے لے کر بس جلانے کے بے شمار واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں.

بھارت میں بھیڑ کئی قسم کی بنتی ہے. چند لوگوں کا گروہ کسی ٹرک کو روک کر گئوركشا کے نام پر وصولی سے لے کر آگ تک لگا سکتا ہے. پیشاب سے لے کر گوبر تک کھلا سکتا ہے. بنگال سے ہی خبر آئی کہ لوگوں نے تھانے کو گھیر لیا. کہیں لوگ تھانے کو جلا دیتے ہیں تو کئی بار بھیڑ پولیس کے افسر کو ہی گھیر کر مار دیتی ہے. یوپی میں پولیس افسر ضیاء الحق کو ایسی ہی ایک بھیڑ نے مار دیا تھا. چند لوگوں کی بھیڑ محلے میں گھس کر کس سے شادی کریں، اس کا فیصلہ کر سکتی ہے. آج کل ہندو بھیڑ ہونے لگی ہے، مسلم بھیڑ ہونے لگی ہے. تشدد اس بھیڑ کا واحد ہتھیار ہوتا ہے.

بھارت میں بھیڑ اپنے آپ میں حکومت ہے. اچانک بن جاتی ہے اور حکومت اور شہر کو کنٹرول میں لے لیتی ہے. متشدد بھیڑ کے معاملے میں کانگریس، بی جے پی، جے ڈی یو یا سماج وادی پارٹی کی حکومت ایک ہی ہوتی ہے. بھیڑ پر کسی قانون کا زور نہیں چلتا. ویڈیو میں لوگ توڑ پھوڑ کر رہے ہوتے ہیں، لیکن کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی. مجھے نہیں پتہ، بنگلور میں توڑ پھوڑ کرنے والے لوگوں کو کاویری تنازع کی تفصیلات کا کتنا علم ہے یا ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کے دوران تشدد کرنے والوں کو ریزرویشن کے قانون کے بارے میں زیادہ معلوم تھا یا کس دکان کو لوٹنا ہے، اس کے بارے میں زیادہ جانتا تھا.

ہم متشدد بھیڑ کے تئیں مسلسل بردبار ہوتے چلے جا رہے ہیں. چپ رہ کر اس بھیڑ میں شامل ہوتے جاتے رہے ہیں. ہر دوسرے دن ایسی جان لیوا بھیڑ نازل ہوتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے. جمہوریت میں بڑی سے بڑی تعداد میں مظاہرہ کرنا چاہئے، لیکن اگر اس طرح کی پر تشدد بھیڑ کے تئیں ہم بردبار ہوتے رہے تو ایک دن اپنے جمہوری مسائل کو غنڈوں کے حوالے کر دیں گے.

حکومتوں کو متشدد بھیڑ سے نمٹنے کی نیا مثال قائم کرنی ہوگی. پولیس کو بھی بھیڑ کو تشدد پر اکسانے اور تشدد سے پہلے لاٹھی چارج سے بچنا چاہئے. ہم پولیس کے تشدد کے تئیں بھی مطمئن ہوتے جا رہے ہیں. یہ بھیڑ ایک دن ہماری ذاتی طاقت کے امکانات کو ختم کر دیتی ہے. بہتر جمہوریت وہ ہوتی ہے، جہاں ایک شخص سو لوگوں کی بھیڑ کے برابر ہوتا ہے. اس کے سامنے کھڑا ہوکر اپنی بات کہتا ہے. دونوں ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں اور کہتے ہیں. ہم مسائل کے نام پر غنڈوں کو اپنے جمہوریت پر حاوی ہونے دے رہے ہیں. فسادیوں کی بھیڑ اور کسی مسئلے کو لے کر اتری ہوئی بھیڑ میں کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے.

کئی بار سوچتا ہوں، الگ الگ بھیڑ میں الگ الگ لوگ جاتے ہیں یا ایک ہی آدمی ہر طرح کی متشدد بھیڑ میں جاتا ہے …؟ ان سارے لوگوں کو کیا جرم ہوتا ہوگا …؟ ہر سیاسی پارٹی کب بھیڑ میں بدل جائے، پتہ نہیں. ایسا لگتا ہے، ہم نے اپنی آزادی کی جنگ سے کچھ نہیں سیکھا. عدم تشدد مظاہرہ کرنے کی روایت کی ترقی ہمارے سیاسی جماعتوں نے بھی نہیں کی ہے. سب کا ریکارڈ خراب ہے. کیا کبھی کسی بھیڑ کے تشدد کا نتیجہ نکلا ہے …؟ حکومتوں کو بھیڑ سے فائدہ ہوتا ہے، تو وہ ایک بھیڑ کو بچاتی ہے تو ایک بھیڑ کو خوفزدہ کرتی ہے. ہر کسی کے پاس اپنی ایک بھیڑ ہے. بھیڑ تشدد نہ کرے، اس کا کوئی علاج کسی کے پاس نہیں ہے. ہم سب بھیڑ بننے، بنانے اور اسے بچانے کے مجرم ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close