آج کا کالم

بہار کی آگ اور خون کے ذمہ دار نتیش

حفیظ نعمانی

بہار کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ جب مودی سرکار لالو یادو کو بے ایمان ثابت کرکے 14 برس کے لئے جیل میں ڈال رہی ہے تو بہار کے لوگ کیوں انہیں لیڈر مان کر ان کی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں؟ بی جے پی کے سب لیڈر یہ سوچے بیٹھے تھے کہ نتیش کمار کو خرید لو ان کے کاندھوں پر زعفرانی پٹکا ڈال دو پورا بہار زعفرانی ہوجائے گا۔ لیکن ضمنی الیکشن نے ثابت کردیا کہ نتیش کمار لالو یادو کی وجہ سے ہیرو تھے اور انہوں نے لالو کو چھوڑکر جب سے سوشیل مودی کا ہاتھ پکڑا ہے وہ پھر زیرو ہوگئے بہار جل رہا ہے اور وہ اپنی اس شہرت کی ارتھی اٹھتی ہوئی دیکھ رہے ہیں جو انہوں نے پورے بہار میں شراب بندی سے کمائی تھی۔

یہی حال بنگال کا ہو رہا ہے کہ وہاں بھی مودی جی اور امت شاہ کو یہ شکایت ہے کہ ایک دبلی پتلی عورت کے مقابلہ میں ہم بھاری بھرکم لیڈروں کو بنگال والے قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ بنگال ہو یا بہار ہو یا اُترپردیش ہر جگہ ہر موقع پر جلوس ضروری ہے اور اس جلوس میں تلواریں بندوقیں اور بانکے ضرور لہرائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ ہم نے رام چندر جی کے ہاتھ میں نہ تلوار دیکھی اور نہ بندوق تو پھر رام نومی کے جلوس میں ہتھیار کیوں؟ ہندوستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں وزیر بھی آگ بھڑکاتے اور فساد کراتے ہیں۔ ایک وزیر کا نام بنگال میں بار بار زبانوں پر آرہا ہے ایک وزیر بہار میں مستقل یہ کام کرتا رہتا ہے۔ اور ان کی کون شکایت کرے جب ملک کے وزیراعظم تھوڑے سے ووٹوں کے لئے کھل کر فرقہ پروری والی تقریریں کرتے ہیں۔

ایک چھوٹی سی بات کرناٹک میں سامنے آئی ہے۔ کرناٹک، مہاراشٹر، تلنگانہ اور آندھرا میں ایک آبادی ہے جو اپنے کو ’’لنگایت‘‘ کہتی ہے کہا جاتا ہے کہ کرناٹک میں 18  فیصدی لنگایت ہیں وہ برسوں سے کوشش کررہے ہیں کہ انہیں جین، سکھ اور بودھ کی طرح الگ فرقہ مان لیا جائے وہ ہندو نہیں ہیں۔ یہ مطالبہ صرف کرناٹک میں نہیں ہر اس صوبہ میں ہے جہاں وہ آباد ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس حکومت نے اسے مان لیا اور ان کو اقلیتی فرقہ قرار دے دیا۔ اب تک ان کو ہندو کہا جاتا تھا اور بی جے پی کا جو وزیراعلیٰ کا چہرہ ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق اسی فرقہ سے ہے۔ امت شاہ نے اپنی تقریر کے دوران کانگریس کے وزیراعلیٰ سدار میہ کو کرناٹک کا سب سے بدعنوان وزیر اعلیٰ کہنا چاہا لیکن ان کے بقول ان کی زبان پھسل گئی اور اس سے نکل گیا یدورپا سب سے زیادہ بدعنوان ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی وزیراعلیٰ ہیں جنہیں بی جے پی نے نکال دیا تھا۔

اب امت شاہ کو اُن 18  فیصدی ووٹوں کی فکر کھائے جارہی ہے۔ اور وہ کرناٹک میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔ بات صرف کرناٹک کے لنگایت کی نہیں ہے بلکہ بہت تیزی کے ساتھ آدی باسی بھی اعلان کررہے ہیں کہ ہم ہندو نہیں ہیں۔ اور بات صرف لنگایت کی نہیں جین، بودھ، سکھ سب ہندوئوں کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں جبکہ ان میں کوئی ہندو نہیں ہے۔ امت شاہ سدارمیہ کو ملزم بنارہے ہیں کہ انہوں نے ہندوئوں کو بانٹ دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے وہ مطالبہ پورا کیا ہے جو جواہر لعل نہرو کے زمانہ سے ان کے بڑے کرتے آئے ہیں۔

ہم نے بات شروع کی تھی بہار سے جہاں اپنے کو ہندو کہنے والے آگ اور خون کی رام نومی منا رہے ہیں۔ لالوجی دہلی میں وہ بھی اسپتال میں ہیں اور کوئی ایسا نہیں ہے جسے آواز دے کر بلائیں اور کہیں کہ نتیش کمار کو جاکر پکڑو اور ان سے کہو کہ یا تو ثابت کرو کہ تم وزیراعلیٰ ہو اور سوشیل مودی تمہارا ہاتھ روکے تو اپنی بھابھی رابڑی دیوی کے پاس جائو اور اپنی غلطی کی معافی مانگ کر لالو کے بیٹوں کو گلے لگالو اور بہار کی آگ بجھادو ورنہ سیاسی دنیا میں تمہاری حیثیت رام بلاس پاسوان سے بھی کم ہوجائے گی اور 2019 ء کے ب عد کچھ خبر نہیں کہ تمہارا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ جب تک سی بی آئی یا اُن کے جج کے ہاتھ میں لالوجی کا مقدمہ رہے گا یہی نوٹنکی ہوتی رہے گی۔ دہلی سے نچایا جائے گا اور رانچی میں ناچ ہوگا اور 2019 ء کے بعد مودی اتنے کمزور ہوجائیں گے کہ بندر ناچنا بند کردیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close