آج کا کالم

بینکنگ کا سب سے بڑا گھوٹالہ

رويش کمار

یہ پروگرام بھارت کے ان لاکھوں کسانوں کے لئے وقف ہے جنہوں نے بینک کے قرضے تلے دب کر جان دے دی. یہ پروگرام ان کسانوں کی بیویوں کے لئے ہے جن کے شوہروں نے قرضے کے بوجھ سے تنگ آکر خودکشی کرلی. یہ پروگرام ان خاندانوں کے بچوں کے لئے وقف ہے جن کے والد نے کاشت اور قرضے سے تنگ آکر خودکشی کرلی. اسی سال کا پہلا مہینہ جنوری گزرا ہے. مہاراشٹر کے ودربھ میں قرضے سے تنگ آکر 104 کسانوں نے خود کشی کی ہے. یہ پروگرام ان کے لیے وقف ہے. کاش ان میں سے ایک کسان نیرَو مودی، مےهل چوکسی کی طرح ہوشیار ہوتا تو کتنے کسانوں کی زندگی بچا لیتا. لکھنؤ میں آج ہی بندیل کھنڈ سے آیا ایک کسان رام راج خودکشی کی کوشش میں درخت پر چڑھ گیا جب یوپی میں رام راج لانے کے لئے وہاں کی حکومت بجٹ پیش کرنے جا رہی تھی. اگر رام راج کو نیرَو  مودی جیسا کھیل آتا تو وہ بھی ڈاووس میں کرائے کا کالا سوٹ پہن کر وزیر اعظم کے پیچھے کھڑا ہو کر تصویر نکلوا رہا ہوتا. آپ یہ تصویر دیکھئے کہ کس طرح پولیس اہلکار ایک کسان کو اس کے بیٹے کی دہائی دے کر بچا رہے ہیں کہ رام راج آجاؤ، تمہارا بیٹا رو رہا ہے.

ماہر زراعت دیویندر شرما نے حساب لگایا ہے کہ اگر ڈیڑھ لاکھ تک قرض معاف کر دیا جائے تو اس 11000 کروڑ سے 30 لاکھ کسان قرض سے آزاد ہو جائیں گے. ڈیڑھ لاکھ کا قرض ہے رام راج پر، جان دینے لکھنؤ آگئے، 11000 کروڑ کا چونا لگا کر نیرَو مودی چلے گئے نیویارک، اس سے پہلے گئے سوئٹزرلینڈ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کالا دھن کا گھر ہے، وہیں کے ڈاووس میں جاتا ہے اور وزیر اعظم کے ساتھ تصویر نکلوا لیتا ہے. ہم نے کسانوں سے بات کی کہ وہ نیرَو مودی کے اس کرامات یعنی معجزہ پر کیا سوچتے ہیں.

15 فروری کے پریس کانفرنس میں روی شنکر پرساد نے کہا کہ نیرَو مودی وزیر اعظم کے ساتھ نہیں گئے تھے، بلکہ كنفڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے لوگ لے کر گئے تھے. مگر جب آپ گوگل کریں گے گے تو 2016 کی ایک خبر ملے گی. فنانشیل ایکسپریس کی اس خبر کے مطابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی اس سال 100 صنعت کاروں کو لے کر ڈاووس گئے تھے. بہت سے نام چھپے ہیں، ایک نام نیرَو مودی کا بھی ہے. 13 جنوری 2016 کو یہ خبر نیوز ایجنسی پی ٹی آئی سے جاری ہوئی ہے جسے بہت سے اخبارات نے چھاپا ہے. 16 فروری 2018 یعنی آج کے ٹائمز آف انڈیا کے سی اننيكرشن نے خبر لکھی ہے کہ 2016 کے سال میں نیرَو مودی کو 48 کروڑ کی پینالٹی دینی پڑی تھی کیونکہ دسمبر 2014 میں 1000 کروڑ کا ڈائمنڈ دکھا کر اسمگلنگ کر رہے تھے. ڈايریكٹروٹ آف ریونیو انٹیلی جنس، ڈی آر آئی میں دو سال کیس چلا، پھر 48 کروڑ کا جرمانہ بھرنا پڑا. سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی چوری کے بعد کیا ڈی آر آئی نے آگے کی جانچ کی یا صرف اسی صورت تک خود کو محدود رکھا. اسمگلنگ کا معاملہ چلتا رہا پھر بھی کس طرح یہ شخص وزیر خزانہ کے ساتھ 2016 میں ڈاووس گیا. سی بی آئی جانچ شروع کرنے جا رہی تھی پھر یہ نیرَو مودی وزیر اعظم مودی کے ساتھ فوٹو فریم میں موجود ہے. شاید اسی لیے روی شنکر پرساد کہہ رہے تھے کہ تصویر کی سیاست نہ ہو، تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے. وہ جب پریس کانفرنس کرنے آئے ہی تھے تو یہ سب بتانا چاہئے تھا. وزیر اعظم کے ساتھ بھلے نہ گئے ہوں مگر 1000 کروڑ کا مال چوری سے باہر بھیجنے والا وزیر خزانہ کے ساتھ ڈاووس جائے کیا یہ ٹھیک ہے.

نیرَو مودی نیویارک کے ہوٹل میں ہیں. دہلی میں ان کی دکان پر چھاپہ پڑا ہے. لیکن ان کی دکان تو دنیا کے کئی ممالک میں ہے. کیا وہاں بھی چھاپے پڑے ہیں. ایسی کوئی خبر سنی ہے آپ نے؟ معاملہ کئی کمپنیاں بنا کر ہیرے کے کاروبار کے نام پر پیسہ ادھر سے ادھر کرنے کا ہے. ثابت کچھ نہیں ہوگا اسی کا افسوس ہے کیونکہ اس خبر کو ختم کرنے کے لئے ضرور کوئی بڑی تقریب آ رہی ہو گی. کوئی ہنگامہ یا کوئی سوال.

ہماری ساتھی نمرتا برار نیویارک میں جے ڈبلیو میريٹ کے 36 ویں فلور پر جا کر کوشش کرتی رہیں کہ نیرَو مودی سے بات کر لیں، اپنا موقف رکھ دیں، کامیاب نہیں رہیں. گودی میڈیا نے فوری طور پر خبر لکھنا شروع کر دیا کہ 5000 کروڑ برآمد ہو گئے. اسی کھیل کو آپ کو سمجھنا ہے. مال ضبط ہوا ہے، قیمت طے ہونے میں کئی ماہ سے لے کر سال لگ جاتے ہیں. آپ کو کسی بھی انکم ٹیکس افسر سے پوچھ سکتے ہیں. لیکن یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ چھاپے کی ٹیم میں جواہرات کے ایکسپرٹ بھی ہیں جس کے ساتھ کا ساتھ دام بھی بتا دے رہے ہیں. جو بھی ہے، چھاپا تو بھارت کی دکانوں پر پڑا ہے لیکن نیرَو مودی جس ہوٹل میں ہے اسی کے پاس نیویارک میں ان کا ایک اور اسٹور ہے، دنیا کے بہت سے ممالک میں دکان ہے، کیا وہاں بھی چھاپے پڑ رہے ہیں. کیا آپ کو اس کی اطلاع ہے. گودی میڈیا نے لکھ دیا کہ پیسہ برآمد ہو گیا. کیا وہ کاغذ بھی برآمد ہوئے، کیا ان لوگوں کے نام بھی برآمد ہو گئے جن کے ساتھ مل کر یہ کھیل کھیلا گیا ہے. بھارت کے چھ شہروں میں 20 ٹھکانوں پر چھاپے پڑے ہیں. محکمہ انکم ٹیکس نے نیرَو مودی کی کمپنی کے 21 اکاؤنٹ سیل کر دیے ہیں.

نیرَو مودی کا پاسپورٹ منسوخ ہو گیا ہے. ہنگامہ ہوا تب منسوخ ہوا. اس سوال کا جواب نہیں ملا کہ 1 جنوری کو کیسے اپنے خاندان کے ساتھ فرار ہوا. کیا 1 جنوری تک جانچ ایجنسی کو بالکل پتہ نہیں تھا کہ نیرَو مودی کے یہاں چھاپے مارنے کی تیاری ہے. 31 جنوری کی ایف آئی آر کے صفحہ نمبر آٹھ پر صاف صاف لکھا ہے اور یہ ایف آئی آر کے ہی الفاظ ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا ناموں کے خلاف لک آؤٹ نوٹس جاری کیا جائے تاکہ وہ ملک چھوڑ کر جا نہیں سکیں اور قانون اپنا کام نہیں کر پائے.

تب 30 جنوری کو ہی پاسپورٹ کیوں نہیں منسوخ ہوا. اتنے دنوں کی رعایت کے بعد نیرَو مودی نے کیا کیا دھاندلی کی، کس طرح سے دستاویز غائب کر لئے ہوں گے یہ سب اب کبھی پتہ نہیں چلے گا. جب 2 جی گھوٹالے میں سب بری ہو گئے، جج سینی نے کہا کہ وہ صبح سے شام تک انتظار کرتے رہ گئے مگر سی بی آئی ثبوت نہیں پیش کر سکی. اگستا ویسٹ لینڈ هیلی كاپٹر کا معاملہ یاد ہوگا. اٹلی کی عدالت میں سی بی آئی رشوت خوری کے ثبوت پیش نہیں کر سکی. وہاں کی عدالت سے ملزم چھوٹ گئے اور یہاں کسی نے بحث نہیں کی. یہ ہے ہماری ایجنسیوں کا ریکارڈ. ایف آئی آر میں سات افراد کے نام ہیں. نیرَو مودی، امی نیرَو مودی، نشال مودی، مےهل چوکسی، گوكلناتھ شیٹی، منوج ہنومنت كھراٹ، ڈیپٹي مینیجر پي این بي اور دیگر نامعلوم لوگ، بینک افسران، پي این بي.

الزام ہے کہ فرضی طریقے سے لیٹر آف انڈرٹیكنگ جاری کیا گیا جس کے پارٹنر نیرَو مودی، مسٹر نشال مودی، مسٹرامی مودی ، نیرَو مودی اور مسٹر مےهل چوکسی ہیں. 2011 سے شروع ہونے کی بات کہی جا رہی ہے مگر ایف آئی آر میں ہی لکھا ہے کہ 9.02.2017 کو 44 ملین ڈالر اور 43 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم کی ایل او يو جاری ہوئی. 10.2.2017 کو 59 ملین ڈالر اور 60 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم کی ایل او يو جاری ہوئی. 14.2.2017 کو 58 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم کے دو ایل او يو جاری ہوئے.

جب یہ بتا ہی رہے ہیں کہ 2011 سے شروع ہوا تو یہ بھی بتانا چاہئے کہ 2017 تک چلتا رہا بلکہ 16 جنوری 2018 تک چلانے کی کوشش ہوئی مگر بھانڈا پھوٹ گیا. انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ 2011 سے 2017 کے درمیان ڈیڑھ سو لیٹر آف انڈرٹیكنگ جاری ہوئی ہے. یہ سوال اہم ہو سکتا ہے کہ گھوٹالہ کس راج میں شروع ہوا، کیا یہ اہم نہیں ہے کہ اس رقم کا حصہ کس کس کے پاس گیا. ان  کےکون کون قریبی ہیں. انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ 17 بینک اس گھوٹالے کی زد میں ہیں.300 11، کروڑ کے علاوہ 3000 کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے. بحث نیرَو مودی کی زیادہ ہو رہی ہے مگر اس کھیل کا بڑا کھلاڑی مےهل چوکسی بھی ہے. وہی جس کا نام روی شنکر پرساد ٹھیک سے نہیں لے پا رہے تھے مگر وزیر اعظم اطھے طریقے سے لے رہے تھے.

حکومت کی طرف سے ایک دن پہلے روی شنکر پرساد آئے تھے، آج انسانی وسائل کے وزیر پرکاش جاوڈیکر صاحب آئے. انہوں نے الہ آباد بینک کے ڈائریکٹر دنیش دوبے کے بیان کے حوالے سے کانگریس کو گھیرا. دنیش دوبے نے کہا ہے کہ 2013 ء میں ان پر دباؤ ڈالا گیا نیرَو مودی کو قرض دینے کے لئے تو استعفی دے دیا. کہا کہ راہل گاندھی نیرَو مودی کی نمائش میں جاتے ہیں. اس کے بعد الہ آباد بینک سے نیرَو مودی کو لون مل جاتا ہے. یہ گھوٹالہ یو پی اے کے وقت سے چل رہا ہے.

کب شروع ہوا یہ ضروری ہے تو یہ بھی اہم ہونا چاہئے کہ کب تک چلتا رہا. آخر فروری 2017 میں آٹھ جعلی لیٹر آف انڈرٹیكنگ کس طرح مل گیا نیرَو مودی کو. نمائش میں راہل کا جانا ضروری ہے تو نیرَو مودی کا وزیر اعظم مودی کے ساتھ تصویر كھچانا بھی اہم ہونا چاہئے. اس طرح آپ کو کانگریس بمقابلہ بی جے پی کے اس کھیل میں از اكول ٹو کی تھیوری کو ثابت کر دیتے ہیں. اگر کانگریس برابر بی جے پی ثابت ہو گیا تو اس کا مطلب گھوٹالہ ہوا ہی نہیں تھا. پولیٹكل سائنس میں از اكول ٹو کی تھیوری میری تلاش ہے جسے چھپرا کے جے پی یونیورسٹی سے پیٹنٹ کرانے کی سوچ رہا ہوں جہاں طالب علم تین سال کا بی اے چھ سال میں بھی نہیں کر پاتے ہیں. ویسے جھاوڑیكر کو یہ بھی بتانا چاہئے این ڈی اے کی حکومت آنے، ان کی حکومت کی وزارتوں سے شکایت کرنے کے بعد بھی یہ گھوٹالہ کیوں چلتا رہا، کیوں رجسٹرار آف کمپنی نے شکایت کرنے والوں کو جواب دیا کہ آپ کے معاملات کو بند کیا جاتا ہے.

کیا 3 اكتبور 2017 کو ایک دن کے اندر اندر تمام کمپنیوں اور بینکوں نے اپنی ذمہ داری یعنی بقائے کا اعلان کیا. ہماری معلومات کے مطابق بینکوں کا یہ سوچھتا مشن اچانک غائب ہو گیا. ابھی دعوی تو نہیں کر سکتے کیونکہ ہم اس علاقے کے ایکسپرٹ نہیں ہیں لہذا آپ بھی کسی بینک افسر سے پوچھ لیں. تمام اخبار سے ہی نہیں پتہ کیا جاتا ہے کچھ رشتہ دار بھی بتا دیتے ہیں. 16 فروری کو پنجاب نیشنل بینک کا شیئر تین فیصد اور گرا. اس گھوٹالے کے بعد پنجاب نیشنل بینک کا اسٹاک 52 ہفتے میں سب سے نیچے چلا گیا ہے. 8 ہزار کروڑ سے زیادہ اس کے حصص یافتگان کو نقصان ہو چکا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close