آج کا کالم

بینک ملازمین کا حال کیا ہے؟

رويش کمار

جب نوٹبندي کے لئے بینک کے ملازم رات رات بھر جاگ رہے تھے تب کسی نے نہیں کہا کہ سرکاری بینکوں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں بیچ دو. جب لاکھوں بینک کے ملازم اپنے کام سے اضافی وقت نکال کر جن دھن کے لاکھوں اکاؤنٹ کھول رہے تھے تب کسی نے نہیں کہا کہ یہ ناكارہ ہیں، بوجھ ہیں، ان بینکوں کو پرائیویٹ ہاتھوں میں بیچ دو. جب کئی قسم کی وزیر اعظم انشورنس اسکیمیں، منریگا سے لے کر بوڑھوں کے پنشن کے اکاؤنٹس میں 200 سے 1000 روپے کے اکاؤنٹ میں جمع کئے جا رہے تھے تب کسی نے نہیں کہا کہ حکومتی بینک کے ملازم ناكارہ ہیں، ان بینکوں کو بیچ دو.

نیرَو مودی اور مےهل چوکسی جیسوں نے اقتدار کی یاری سے 11 ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم غبن کیا ہے، بہت سے ماہرین چينٹيوں کی طرح نکل آئے ہیں، کہنے کے لئے کہ ان سرکاری بینکوں کو بیچ دو. سرکاری بینکوں کے چیئرمین کی زبان سے ہر وقت مصری ٹپکتی ہے، وہ معیشت کا بیان ایسے کریں گے جیسا کہ ‘باغوں میں بہار ہو’. مگر لاکھوں ملازم انہی بینکوں کے اندر اندر کیا سب بھگت رہے ہیں، کیا سب دیکھ رہے ہیں، اگر ان کے تجربات اور باتوں کو حکومت اور عوام کے سامنے آراء کے طور پر رکھ دیا جائے تو بہتوں کی بولتی بند ہو جائے گی. آج کل سینکڑوں کی تعداد میں بینک ملازمین کے بھیجے ہوئے خطوط پڑھ رہا ہوں. ان خطوط میں جو حال بیان کیا جا رہا ہے، اس سے جو تصویر بن رہی ہے وہ بہت بھیانک ہے.

2012 سے سیلری بڑھنے کا انتظار ان کے اندر ڈپریشن تو بھر ہی رہا ہے اوپر سے کام کے اوقات بڑھ گئے، چھٹیاں ندارد ہو گئیں. ان مقاصد کو پورا کرنے کی ڈانٹ اور دباؤ نے بینک ملازمین اور افسران کو توڑ کر رکھ دیا ہے. ہم ان خطوط سے نکلی باتوں کو بینکوں کی اپنی یکطرفہ جن سنوائي میں رکھیں گے. آي ڈي بي آي کے ملازم اور افسر چاہتے ہیں کہ ہم پرائم ٹائم میں ذکر کر دیں کہ 2012 کے بعد سیلری نہیں بڑھی. 2016 میں ریٹائر کر گئے. پنشن سے لے کر سب کچھ پھنس گیا. معاشرے کے اندر کتنا استحصال ہے. جنت صرف نعرہ میں ہے. بینکوں کی شاخوں میں خواتین کے لئے دستیاب طہارت خانوں کو ایک دن میں آڈٹ کیا جا سکتا ہے. ٹوائلٹ کی حالت خراب ہے. ڈیجیٹل انڈیا کے کئی بینک منیجروں نے لکھا ہے کہ ہمیں جو انٹرنیٹ کی رفتار دی جاتی ہے وہ كے بي پي ایس میں ہوتی ہے، ایم بی پی ایس میں نہیں. یعنی بہت سست ہوتی ہے. آج ہمیں انشورنس پالیسی بیچنے سے جو پریشانی آ رہی ہے، صرف اسی پر بات کریں گے. بینکوں کی زبان میں اسے کراس سیلنگ کہتے ہیں. پہلے سارے کاغذات کا نچوڑ پیش کرتا ہوں.

بینکر کا کام ہے پیسے کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کا. ابھی بینکر کو انشورنس فروخت کرنے کے لئے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے. قرض دینے کے ساتھ ساتھ اس کا انشورنس بھی بِكوايا جا رہا ہے. دو تین فیصد اوپر کے ملازمین کو بیرون ملک کا سفر اور موٹی کمیشن ملتی ہے. اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بینکر انشورنس ایجنٹ بن گئے ہیں. آپ جانتے ہیں کہ انشورنس میں غیر ملکی کمپنیوں کا پیسہ لگا ہوتا ہے. پرائیویٹ کمپنیوں کی حصہ داری والے انشورنس عوام کے پیسے سے تنخواہ پانے والے فروخت کر رہے ہیں. اس کے لئے انشورنس کمپنیوں کو اپنی طرف سے ملازم رکھنے پڑتے ہیں، مگر بینکوں کے موجودہ ملازمین ہی سے انشورنس کمپنیوں نے اپنا کام نکال لیا. ظاہر ہے انشورنس کمپنیوں کو بغیر قیمت کے ہی زیادہ منافع ہو گیا.

کراس سیلنگ کا یہی مطلب ہوا کہ بینک میں جب صارفین آئیں تو اسے انشورنس کی پالیسی بیچ دو. مشترکہ فنڈ میں اسے پیسے ڈال دو. کئی بار تو اس منظوری کے بغیر ہی. یہ یقین کے ساتھ دھوکہ ہے. جیسے کئی بار بینک آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے کاٹ لیتے ہیں. کسانوں کے لون کے پیسے سے بغیر ان کی معلومات کے انشورنس کے پیسے لے لیے جاتے ہیں. بینکاری نظام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی ہم اسے عام یا رعایت مان کر بھول جاتے ہیں. ہم نے امریکہ کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی کا ایک ریسرچ پیپر پڑھا، جسے برائن تيان نے دسمبر 2016 میں لکھا تھا. وہاں پر ایک بینک ہے ویلز فارگو. اس بینک نے بھی ٹھیک وہی کیا جو اس وقت ہندوستانی بینکوں کے عملے سے کروایا جا رہا ہے.

ویلز فارگو کے چیئرمین اور بڑے افسران کو خوب انعام ملتے تھے. واہ واہی ہوتی تھی. بینکر آف دی ایئر کا ایوارڈ ملتا تھا، مگر سب کچھ دنوں کی بات تھی. جلد ہی بھانڈا پھوٹ گیا کہ ویلز فارگو اپنے ملازمین سے بینکنگ کے کام کے علاوہ جبراً کراس سیلنگ کروا رہا ہے. یعنی انہیں انشورنس پالیسی، کریڈٹ کارڈ فروخت کے ٹارگیٹ دیے جا رہے ہیں. جب لاس اینجلس شہر اور بینکاری ریگولیٹر نے ویلز فارگو پر کیس کیا تو جرمانے سے بچنے کے لئے ستمبر 2016 میں بینک کو اعلان کرنا پڑا کہ معاملے کو سیٹل کرنے کے لئے 185 ملین ڈالر دیا جا رہا ہے. بینک نے مانا کہ 5 سال میں اس کے عملے نے 20 ملین سے زیادہ اکاؤنٹ بغیر صارفین کی منظوری کے کھول دئے. ٹھیک جیسا کہ جن دھن کھاتے میں ہوا یا کسانوں سے انشورنس کی رقم کاٹ لی گئی. مگر امریکہ میں اس کے بے نقاب ہونے پر طوفان مچ گیا. بینک کو صارفین کو 16 کروڑ روپے لوٹانے پڑے. اس کا اثر یہ ہوا کہ 5 سال میں 5300 ملازمین کو نکالنا پڑا اور جتنے بھی سینئر افسروں کو بینکر آف دی ایئر ٹائپ کے فرضی ایوارڈ ملتے تھے ان سب کو بینک چھوڑ کر باہر جانا پڑا.

کراس سیلنگ کے معاملے میں ویلز فارگو کی مثال دی جاتی ہے. آپ کو کوئی بینک اپنا ہی پروڈکٹ لینے کے لئے مجبور نہیں کر سکتا. کیا پتہ بازار میں اس سے اچھا پروڈکٹ ہو. ایک طرح سے بینک اپنا ہی پروڈکٹ خریدنے کے لئے مجبور کر کے آپ کو غلام بناتا ہے. بینک اور صارفین کا رشتہ اعتماد پر چلتا ہے جو کراس سیلنگ میں ٹوٹ جاتا ہے. ایک امریکی بینکر رزی جیوی کا مضمون ملا. اس نے بھی ویلز فارگو کی مثال دیتے ہوئے کراس سیلنگ پر سوال اٹھائے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ کراس سیلنگ کے لئے بہت بڑے ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے جو عام طور پر بینکوں کے پاس نہیں ہوتا.

بھارت میں بھی انشورنس پالیسی فروخت کرنے کے لئے بینکر پر دباؤ ہے. لوگ کم ہیں اور کام زیادہ. ایسے میں معمولی پالیسی بیچ دی جاتی ہے اور اس کی سروس بہت خراب ہوتی ہے. آپ بھروسے کی وجہ سے اور زیادہ نہیں سمجھنے کی وجہ سے پابندیوں میں بینک کی پالیسی خرید لیتے ہیں. جبکہ ہو سکتا ہے کہ دوسرے بینک کا پروڈکٹ زیادہ اچھا ہو. ویلز فارگو کا تجربہ اگر آپ جبرا جن دھن اکاؤنٹ کھلوانے کے تجربے سے دیکھیں گے تو آپ دیکھ پائیں گے کہ آپ کے سرکاری بینک کسی ڈھلان سے تیزی سے نیچے گرتے ہوئے آ رہے ہے. ویلز فارگو کراس سیلنگ گھوٹالہ میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ بڑے سطح کے حکام کو انشینٹو یعنی کمیشن دیے گئے، سب کو نہیں ملا. بیچ رہا تھا برانچ لیول کا افسر مگر کمیشن مل رہا تھا سینئر افسر کو.

ابھی آئیے بھارت کے بینک ملازمین اور افسران کی شکایات پر. انہیں انشورنس پالیسی فروخت کرنے کا ٹارگیٹ کیوں دیا جا رہا ہے. کیوں کچھ خاص سطح کے حکام کو کمیشن دیا جا رہا ہے. جبکہ بینکاری ریگولیشن ایکٹ اس کے لئے منع کرتا ہے. 31 اکتوبر 2014 کو بھارتی ریزرو بینک نے بینکوں کو ہدایات جاری کی کہ بینکاری ریگولیشن ایکٹ 1949 کے sec 10 (1) b (11) کے مطابق کوئی بھی بینک ایسے شخص کو مقرر نہیں کرے گا، جسے کسی خاص کام کے بدلے کمیشن جائے گا یا منافع میں حصہ داری دی جائے گی. انشورنس فروخت کرنے کے لئے بینک کے عملے کو کمیشن دینا بینکاری ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے.

بھارت میں بینکوں میں ڈي جي ایم سے اوپر کے افسران کو خوب کمیشن مل رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ نیچے کے افسران اور ملازمین کی سیلری کو لے کر لاپرواہ ہیں. 2012 سے بینکوں کی سیلری نہیں بڑھی ہے. بینکوں کی شاخوں کی سہولیات میں کوئی بہتری نہیں ہے. مگر 2 فیصد اعلی افسران کی امیری کے لئے قربانی دے رہے ہیں. عام غریب صارفین اور دونوں کی چکی میں پس رہے ہیں لاکھوں ملازمین. ہندی میں ایسی باتوں کا ذکر نہ ہونے سے عام قارئین اور ناظرین کو پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ چونا نوچتے-نوچتے پوری دیوار نکلنے جارہی ہے. ہم ٹرائی کرتے ہیں. پورے بینکوں میں مرکزی ویجلنس کمیشنر کے حکم سے ہلچل مچی ہوئی ہے. کمیشن سوتا رہا اور جب جاگا تو حکم دے دیا کہ تمام ملازمین کا تبادلہ ہو. کسی کا اسکول ہے کسی کا کچھ ہے. کیا اس طرح تبادلے کی تلوار چلانا ٹھیک ہے. جیسا کہ خبر مل رہی ہے کہ پنجاب نیشنل بینک نے 18 ہزار ملازمین کا تبادلہ ایک ہفتے کے اندر کر دیا ہے سی وی سی کی ہدایات کے بعد. گاڈلائن بناوانے کے چکر میں سی وی سی نے کیسی ہلچل مچا دی ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close