آج کا کالم

بی جے پی اور شیو سینا: یہ تو ہونا ہی تھا

جب  حزب اختلاف متحد ہوتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے ہماری طاقت سے خوفزدہ ہے اور جب خود دوسروں کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم انہیں ڈرا  دیا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

شیوسینا آخر راضی ہوگئی اور بی جے پی کا کمل تھام لیا۔ ازدواجی زندگی میں جو میاں بیوی آر پار کی لڑائی کے بعد بھی ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں ان سے وجہ دریافت کی جائے بیوی کہتی ہے ’’کیا کروں ان معصوم  بچوں کا خیال نہ ہوتا تو کبھی اس کلموہے  کا منہ نہیں دیکھتی‘‘۔ اسی طرح کی دلیل  شیوسینا  نے پیش کی ہے۔ ان بچوں  میں سے ایک ۴ دنوں کا نوزائیدہ نور نظر پلوامہ  بھی ہے۔ اس کے علاوہ قوم کا درد اور ہندوتوا کی محبت ہے۔ ویسے ساری دنیا جانتی ہے کہ  اس لڑاکو بیوی کو صرف اور صرف شوہر کی دولت پر عیش و عشرت کر نے کی ہوس نے  ساتھ رہنے پر مجبور کیا ہے۔ پانچ سالوں تک  بی جے پی کے گھر میں رہنے کے باوجود ہر روز شیوسینا چوراہے پر آکر   بی جے پی کو ایسی گالیاں دیتی تھی کہ ان کو زبان پر لانے میں کانگریس  کو بھی شرم  آتی تھی ۔ بی جے پی اس معاملے کم نہیں تھی  ابھی حال میں لاتور کے اندر شاہ جی نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وہ ساتھ نہ آئے تو اٹھا کر پٹخ دیں گے۔ اس تضحیک کے جواب میں کہا گیا ہم ان کا سر پھوڑ دیں گے لیکن اب یہ حال ہے کہ بی جے پی اس پرانی دلہن کو گود میں لے کر گھوم رہی ہے اور سینا سر پھوڑنے کے بجائے اس کا ماتھا چوم رہی ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر 1975کی فلم ’کھیل کھیل میں ‘ کا نغمہ ترمیم کے ساتھ  یاد آتا ہے؎

ایک میں اور ایک تو، دونوں ملے اس طرح

اور جو الیکشن میں ہورہا ہے، یہ تو ہونا ہی تھا

اس مدھر ملن کی ایک وجہ کانگریس اور این سی پی کا اسی فلم کے اور گانے ’’کھلم کھلا پیار کریں گے ہم دونوں ‘‘ والا رویہ ہے۔ اگر ان دونوں کے بیچ ان بن ہوجاتی تو بی جے پی اور شیوسینا کے پھیرے اتنی آسانی سے پورے نہیں ہوتے۔  پچھلی بار لوک سبھا انتخاب میں دونوں کانگریس متحد تھیں تو بی جے پی بھی سینا کے ساتھ رہی لیکن ودھان سبھا کے وقت بی جے پی نے این سی پی ڈرادھمکا کر کانگریس سے الگ کردیا اور شیوسینا کو خلع لینے پر مجبور کیا۔ مودی جی نئے نئے آئے تھے اس لیے این سی پی کو ڈر تھا کہ کہیں وہ ان سے جیل کی چکی نہ پسوائیں  لیکن اب  پوار صاحب   پتہ چل گیا ہے کہ کرپشن کے معاملے بی جے پی تو  ان  سے بہت  آگے ہے۔ اس کے علاوہ مودی جی  کا رعب داب بھی باقی نہیں رہا  اس لیے گھڑی کی ٹک ٹک  یہ نغمہ سنانے لگی  ؎

پیار ہم کرتے ہیں چوری نہیں، دل لیتے ہیں زورا زوری نہیں

ہم وہ کریں گے دل جو کہے، ہم کو زمانے سے کیا ؟ آہا

کھلم کھلا پیار کریں گے ہم دونوں، بی جے پی  سے نہیں ڈریں گے ہم دونوں

اس موقع پر بہت سے لوگ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں لیکن حقیقت میں  وہ مبارکباد کے  مستحق ہیں۔ یہ چار سال انہوں نے جس مشکل میں گزارے  اس کا اندازہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔ ان کے سامنے بیک وقت دو چیلنج تھے۔ پہلا تھا اپنے لیڈرس یعنی ارکان پارلیمان اور اسمبلی کو بی جے پی میں جانے سے روکنا اور دوسرا اپنے کیڈر یعنی رائے دہندگان کو کمل تھامنے سے روکے رکھنا۔ پہلے کو خوش رکھنے کے لیے اقتدار کے ساتھ رہنا ضروری تھا اس لیے لاکھ ناراضگی کے باوجود شیوسینا  این ڈی اے سے باہر نہیں نکلی۔ ادھو ٹھاکرے اگر یہ جرأت دکھاتے تو ارکان پارلیمان و اسمبلی بغاوت کرکے بی جے پی کی گود میں جابیٹھتےاور اگر ہر روز سامنا اخبار میں بی جے پی کو برا بھلا نہیں کہا جاتا تو شیوسینا کا ووٹر تیر کمان چھوڑ کر کمل تھام لیتا۔  اس پل صراط پر چلنا ایک نہایت دشوار گزار کام تھا لیکن ادھو ٹھاکرے نے کمال فنکاری سے اسے سرنجام دیا۔ سچ تو یہ ہے سیاست کی دنیا میں اس نئی نسل نے اپنے بزرگوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ملائم جو کام نہیں کرسکتے تھے وہ مایاوتی کو مناکر اکھلیش نے کردیا۔  راہل نے بڑی آسانی سے نائیڈو پر پنجہ کس دیا۔ یہ تو راجیو گاندھی کے لیے بھی مشکل تھا   اور ادھو نے جوکارنامہ  کیا  ہےوہ بالا صاحب ٹھاکرے کے لیےنا ممکن تھا۔

2014کے قومی انتخابات میں  جبسینا بی جے پی کے ساتھ تھی  تو بی جے پی نے 24 اور شیوسینا نے 20 نشستوں پر انتخاب لڑا تھا۔ چار مقامات دیگر ساتھی جماعتوں کے لیے چھوڑ دیئے گئے تھے۔ اس بار ان چھوٹی جماعتوں کو اتحاد سے نکال باہر کیا گیا ہے اور جملہ نشستوں کو آپس میں اس طرح  تقسیم کیا گیا کہ  ان چار میں سے تین شیوسینا کو دی گئیں اور ایک بی جے پی نے رکھ لی۔ ان دونوں کی لڑی جانے والی نشستوں میں فرق ضرور کم ہوا مگر بی جے پی کو اب بھی برتری حاصل ہے جو اس کی قوامیت کا ثبوت ہے۔ ایسا اس لیے بھی  ہوا کہ پچھلی بار بی جے پی صرف ایک مقام پر ہاری تھی جبکہ شیوسینا کو دومقامات پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ ووٹ  کے  تناسب میں بی جے پی کو تقریباً 7 فیصد زیادہ ووٹ ملے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو شیوسینا کے بغیر انتخاب لڑنے کا خیال آیا۔ اپنے بل بوتے پر الیکشن  لڑتے ہوئے بی جے پی کے ووٹ کا تناسب ساڑھے تین فیصد بڑھ گیا اور شیوسینا کا ایک فیصد گھٹ گیا۔ وہ مودی لہر کا زمانہ تھا جو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد  مودی قہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ہر محاذ میں ناکامی کے بعد بی جے پی  اس  بار خوفزدہ ہے اس لیے اس نے شیوسینا کو دھتکارنے کے بجائے گلے سے لگا لیا ہے۔

اس اتحاد کے سبب  دونوں ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑنے کی بہ نسبت فائدے میں رہیں گے لیکن توقع ہے کہ یہ  فائدہ اس بار محدود ہوگا۔ بی جے پی کے خلاف عوام کے اندر جو ناراضگی پائی جاتی ہے اس کی دعویداری سے شیوسینا محروم ہوجائے گی  اور  کانگریس و این سی پی اتحاد کے ساتھ وہ سارے ووٹرس چلے جائیں گے۔ بی جے پی کو اس کا  یہ  نقصان ہوگا کہ اس دوران اس نے بہت سارے ناراض  کانگریسیوں کو اپنے شرن (پناہ) میں لے رکھا  تھا کیونکہ  سینا ساتھ میں نہیں تھی۔ اس کے پاس بانٹنے کے لیے ٹکٹوں کی افراط تھی  لیکن اب وہ  ان باغیوں کو ٹکٹ نہیں دے پائے گی  اور وہ مایوس ہوکر اپنے گھر لوٹ جائیں گے۔ اس خطرے کو  محسوس  کیا جارہا ہے۔ مثلاْ نارائن رانے کو جیسے ہی اتحاد کی بھنک ملی انہوں نے بی جے پی سے الگ ہوکر انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا۔ اسی طرح پالگھر سیٹ پر بی جے پی نے ایک کانگریسی  راجندر گاوت کو ٹکٹ دے کر ضمنی انتخاب جیتا تھا ۔ اب جیسے ہی گاوت کو اندازہ ہوا کہ  یہ سیٹ شیوسینا  کو جاسکتی ہے وہاں پر ۵۰ بی جے پی کارکنان و ذمہ داران  نے اپنا اجتماعی استعفیٰ پیش کردیا۔ اس طرح اس بار بی جے پی ساری نشستوں پر کامیاب ہوجائے تب بھی وہ  مہاراشٹر میں صرف ۲ارکان کا اضافہ کرپائے گی جو ناممکن ہے۔

اس اتحاد سے دوباتیں صاف ہیں۔ اول تو امیت شاہ کا یہ دعویٰ کھوکھلا ہے کہ وہ کانگریس مکت بھارت بنانے میں وہ  ناکام ہوگئے ہیں۔ یہ نعرہ اگر درست ہے تو مہاراشٹر میں شیوسینا کے ساتھ الحاق  کرنے ضرورت کیوں پیش آئی؟ کانگریس موجود ہی نہیں ہے اس لیے شیوسینا کو ہرا کر ۴۸ نشستیں جیت لیتے۔ دوسرا یہ کہ جب  حزب اختلاف متحد ہوتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے ہماری طاقت سے خوفزدہ ہے اور جب خود دوسروں کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم انہیں ڈرا  دیا ہے۔ بہار میں نتیش کمار اور پاسوان سے اتحاد، اترپردیش میں اپنا دل اور راج بھر سے الحاق  اور تمل ناڈو میں اے آئی ڈی ایم کا ساتھ گٹھ بندھن ہےلیکن  بہار میں کانگریس اور آر جے ڈی کا ملنا، مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی کا قریب آنا اور یوپی میں ایس پی اور بی ایس پی کا مل کر انتخاب لڑنا ٹھگ بندھن ہے۔ یہ ٹھگ  اچانک بی جے پی کے شامل ہوتے ہی گٹھ کیسے ہوجاتا ہے؟ ایک اتحاد سے مضبوط تو دوسرے  سےمجبور سرکار کیوں بنتی ہے؟ حزب اختلاف کا اتحاد اگر مہا ملاوٹ ہے تو بی جے پی کا اتحاد مہا پوتر کیسے ہوجاتا ہے؟ ہندوستان کے رائے دہندگان جب  ان سوالات پر غور کریں گے تو کمل مرجھا جائے گا۔ ورنہ  ان کے دن کبھی نہیں بدلیں گے اور اسی فلم میں ایک اور نغمہ ان پر صادق آجائے گا ؎

ہم نے تم کو دیکھا، تم نے ہم کو دیکھا کیسے؟

 ہم تم صنم، لاکھوں جنم ملتے رہے ہوں جیسے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close