بی جے پی سانسد آر کے سنہا کی صفائی اشتہار کی شکل میں کیوں شائع ہویٔی؟

رويش کمار

پیراڈایٔس پیپرس میں بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ آر کے سنہا کا بھی نام آیا تھا. انڈین ایکسپریس اخبار نے ان کی صفائی کے ساتھ خبر شائع تھی. پیراڈایٔس پیپرس کی رپورٹ کے ساتھ یہ بھی سب جگہ چھپا ہے کہ اسے کس طرح پڑھیں اور سمجھیں. صاف صاف لکھا ہے کہ آف شور کمپنی قانون کے تحت ہی بنائے جاتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام لین دین مشتبہ ہی ہو مگر اس کی آڑ میں جو کھیل کھیلا ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے. حکومت کو بھی بھاری بھرکم تحقیقاتی ٹیم بنانی پڑی ہے. خیر اس پر لکھنا میرا مقصد نہیں ہے.

آج بہت سے اخباروں میں آر کے سنہا کا بیان اشتہارات کی شکل میں چھپا دیکھا. یہ تشویش کی بات ہے. مجھے معلومات نہیں کہ اخبار نے اس کے لئے پیسے لئے ہیں یا نہیں. اگر مفت میں بھی چھاپا  ہے تو بھی اس طرح سے شائع کرنا غلط ہے. آر کے سنہا نے بطور سانسد راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کو خط لکھا ہے اور اس خط کو اشتہارات کی شکل میں شایٔع کیا گیا ہے.

میری نظر میں یہ تاوان وصولنا ہے. پیڈ نیوز بھی ہے. کیا جن اخباروں نے سنہا کی صفائی شائع کی ہے، انہوں نے پیراڈایٔس کاغذات کی رپورٹ شائع کی تھی؟ اگر نہیں تو اس سے بھی بڑا اخلاقی جرم ہے؟ خبر نہیں چھاپی مگر صفائی کے نام پر دھندہ کر لیا؟ میڈیا اور سیاستدان کا تعلق خیالات اور بیانات کے تبادلے کا ہونا چاہئے. اس بنیاد پر کوئی اخبار کسی لیڈر کا ہر بیان نہیں چھاپے گا مگر چھاپنے کے لئے رقم نہیں لے سکتا ہے، یہ طے ہے. ایکسپریس نے اشتہارات والی صفائی نہیں شائع کی ہے. اگر نہیں شائع کی ہے تو ٹھیک ہے.

ہمارے ملک میں کسی ادارے کی کوئی وشوسنییتا نہیں رہ گئی ہے، ورنہ اس پر ان اخبارات کے خلاف ایکشن ہونا چاہئے تھا جنہوں نے سنہا کی اشتہار شایٔع کیا. ٹھیک ہے کہ سنہا ہی لے کر آئے ہوں گے مگر اخبارات کو منا کرنا چاہئے تھا اور کہنا چاہیے کہ ہم ایسے ہی آپ کی صفائی چھاپیں گے.

کئی بار کمپنیاں اپنی صفائی میں اشتہارات دیتی ہیں تاکہ ساری بات ان کے حساب سے چھپ جائے جسے کوئی نہیں پڑھتا ہے. ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ پڑھ لیتے. قاعدے سے اس پر بھی خبر چھپني چاہئے کہ فلاں کمپنی نے ہمارے اخبار میں 5 لاکھ کی اشتہار دے کر تفصیل سے صفائی شائع کی ہے اسے بھی صفحہ نمبر دس پر جاکر پڑھیں. ویسے بھی سنہا کی صفائی تو بطور سانسد ہے. اس میں سیاسی الزام بھی ہے. ان کی کمپنی کی جانب سے صفائی نہیں شائع ہویی ہے. کیا سیاستدانوں سے ان کی صفائی کے لئے پیسے لئے جائیں گے؟

میری رائے میں اخباروں کو آر کے سنہا کا پیسہ لوٹا دینا چاہئے. سنہا خود چل کر تاوان دینے آئے، اس سے اغوا کا جرم کم نہیں جاتا اور نہ تاوان اخلاقی ہو جاتی ہے. کسی کے کمزور وقت میں فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے. ہم کارٹون بنا سکتے ہیں، ان پر ہنس سکتے ہیں ان کے خلاف لکھ سکتے ہیں تو ان کی صفائی بھی بغیر پیسے کے چھپني چاہئے. اس سے سیاستدان اور میڈیا کا تعلق بدل جائے گی. اخبار تاوان وصولنے لگیں گے. لیڈر خبر دبانے کے لئے پہلے ہی اشتہارات دے گا اور صفائی چھاپ دے گا کہ ایک صحافی ان کی کمپنی کو بدنام کرنے میں لگا ہے. کئی لیڈروں کی اپنی کمپنیاں ہوتی ہیں. تب کیا ہوگا.

میں مانتا ہوں کہ آر کے سنہا کا اخباروں نے جذباتی استحصال کیا ہے. انہیں مفت میں صفائی کا اسپیس ملنا چاہئے تھا. ویسے بھی سنہا بھاگوت یگیہ کے بیچ میں ہے. خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں. اشتہار کی شکل میں اتنی لمبی صفائی لکھ ڈالی. یگیہ سے ان کی توجہ ہٹ گیا ہے. کسی کا بھی ہٹ جائے گا. کیا انہوں نے پریس کانفرنس بلائی تھی؟ ایڈیٹرز تک بھی بھجوا سکتے تھے. مجھے اس کی اطلاع نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا کیا یا نہیں. پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ صفائی کو اشتہار کے معاملے میں چھاپ کر یا چھپوا کرا کر دونوں نے غلط کیا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے