آج کا کالم

بی جے پی میں نریش آئے ہیں!

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

"وہسکی میں وشنو بسے، رم میں شری رام، جن میں ماتا جانکی، ٹھرّے میں ہنومان.”

مندرجہ بالا بیان سنت تلسی داس کا نہیں بلکہ سنت نریش اگروال کا ہے جو سماج وادی پارٹی سے نکل کر بی جے پی میں آ چکے ہیں. جولائی 2017 میں جب راجیہ سبھا میں جب وہ وچن دے رہے  تھے تب بی جے پی کے رہنما پر مشتعل ہوئے تھے. چینلز پر ہندو مسلم ڈبیٹ کی محفل سجی تھی. عوام کو بہلانے کا موقع مل گیا تھا. وہ بھی غصہ ہو کر اصل سوالوں کو چھوڑ اس غصہ کو پی رہے تھے کہ کیا اس ملک میں رام کے ساتھ اب یہ بھی ہوگا. چینل سے لے کر سڑکوں پر برداشت کے باہر کا ماحول بنایا گیا. اس کا فائدہ اٹھا کر فرقہ واریت کوٹ کوٹ کر بھری گئی تھی. اگروال کو تحریری معافی مانگنی پڑی تھی. اس بیان کے آٹھ ماہ کے اندر اندر نریش اگروال بی جے پی میں ہیں. ریلوے کے وزیر کو چادر اوڑھا کر استقبال کر رہے تھے.

اس وقت کیا کیا نہیں کہا گیا. راکیش سنہا نے ٹویٹ کیا تھا کہ نریش اگروال کا مواخذہ کیا جانا چاہئے. پارلیمنٹ سے نکال دیا جانا چاہئے. نیشنل انویسٹی گیٹنگ ایجنسی اور را پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات کی جانچ پڑتال کرنا چاہئے. امید ہے اے آئی اے نے اپنی جانچ مکمل کر کے امت شاہ کو رپورٹ سونپ دی ہوگی. اس سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ بی جے پی جسے پاکستان کا ایجنٹ کہتی ہے، غدار کہتی ہے، اسے بھی اپنی کی پارٹی میں لے سکتی ہے.

ایک بی جے پی لیڈر نے کہا تھا کہ نریش اگروال کا منہ کالا کرنے والے کو ایک لاکھ کا انعام ملے گا. بیچارا وہ لیڈر اب اسی نریش اگروال کے لئے پھول مالا لیکر کھڑا رہے گا. ہم سیاست میں بہت بھولے ہیں. یہ سب بیان لیڈر بہت دور کی سوچ کر دیتے ہیں. ممکن ہے اگروال جی نے وہسکی میں وشنو بسے، رم میں شری رام بول کر بی جے پی کا ہی کام کیا ہوگا تاکہ ہنگامہ ہو، فرقہ واریت پھیلے، نفرت پھیلے اور پارٹی کا کام ہو جائے. اب وہی نریش اگروال بی جے پی میں ہیں.

جولائی 2015 میں بی جے پی کے پارلیمانی پارٹی نے کانگریس حکومت والی ریاستوں میں بدعنوانی پر ایک کتابچہ نکالا. سامنے کے صفحے پر آسام کے ہیمنت وشوا شرما پر الزام لکھا ہوا تھا، ایک ماہ بعد وہی بی جے پی ہیمنت وشوا شرما کا استقبال کر رہی تھی. اس سے پہلے بی جے پی ہیمنت وشوا شرما پر گھوم گھوم کر الزام لگاتی تھی کہ یہ گوگوئی حکومت کا سب سے بڑا بدعنوانی کا چہرہ ہے. ایک ماہ بعد ہیمنت وشوا شرما بی جے پی میں شامل ہو گئے.

میڈیا نے چالاکی سے اس سوال کو ہلکا کر دیا اور آپ کو اس وقت کے جتنے بھی تجزیے گوگل سے نکال کر پڑھیں گے، سب میں لکھا ملے گا کہ راہل گاندھی نے ان سے بات نہیں کہ اس وجہ سے اس عظیم  کارکن کے نے کانگریس چھوڑ دی. وہ ہیمنت وشوا شرما پر لگے بدعنوانی کے الزام نہیں لگا رہے تھے بلکہ راہل گاندھی کے تکبر کے سوال کو بڑا بنا رہے تھے.

وہ وقت تھا جب مودی حکومت یا بی جے پی کے خلاف کہنے پر آئی ٹی سیل اور حامیوں کی جماعت ٹوٹ پڑتی تھی. عوام بھی جنون میں ان سوالات پر غور نہیں کر رہی تھی. اس نے توجہ ہی نہیں دی کہ جس ہیمنت وشوا شرما پر بی جے پی کتابچہ نکال چکی ہے وہ شمال مشرق میں ان کا ہیرو ہے. آپ آسام کے وزیر اعلی سونیوال سے زیادہ اس نیتا کے بارے میں سنیں گے. کہاں ممبر اسمبلی خریدنا ہے، کہاں سرکار بنانی ہے.

9 اپریل 2016 کو امت شاہ نے کہا تھا کہ ہیمنت وشوا شرما کے خلاف سارے الزامات کی جانچ ہوگی. اپوزیشن کا کوئی لیڈر ہوتا ہے تو سی بی آئی اوور ٹائم (اضافی) کام کرتی ہے مگر  اپنے نیتاؤں کی جانچ بھول جاتی ہے. سب کو پتہ ہے ہیمنت وشوا شرما کی تصویر کے بارے میں. ایسے لیڈر جب دوسری پارٹیوں میں ہوتے ہیں تو مهابھرشٹ ہو جاتے ہیں مگر بی جے پی میں ہوتے ہیں تو عظیم سیاست داں ہو جاتے ہیں.

لیکن ہیمنت وشوا شرما کی آمد پر ایک شخص نے مخالفت کی تھی. آئی آئی ایم احمد آباد سے براہ راست بی جے پی جوائن کرنے والے پرديت بوہرا نے ہیمنت وشوا شرما کے بی جے پی میں شامل ہونے پر امت شاہ کو ایک خط لکھا اور دس سال سے زیادہ وقت تک بی جے پی میں رہنے کے بعد بھاجپا چھوڑ دی.

امریکہ میں ایک ڈپارٹمنٹ آف جسٹس ہے، جس نے 7 جولائی 2015 کو لوئس برگر کمپنی کے خلاف کیس کیا کہ اس نے بھارت سمیت کئی ممالک میں رشوت دی ہے. سب سے زیادہ رشوت بھارت کے حکام کو دی ہے. اس کمپنی کو گوا اور آسام میں پانی کی سپلائی کے معاملے میں كنسلٹیسي کام ملا تھا. اس چارج شیٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ کمپنی نے حکام کے ساتھ ایک وزیر کو بھی رشوت دی ہے. بی جے پی نے پبلک میں شرما کے خلاف الزام لگائے تھے. تب سونیوال مرکز میں وزیر تھی، انہوں نے ترون گوگوئی سے پوچھا تھا کہ وہ کیوں خاموش ہیں. آج سونیوال خاموش ہیں اور شرما انہی کے ساتھ وزیر ہیں. اس معاملے کی تحقیقات کر رہی سی آئی ڈی تین تین بار کورٹ میں ڈانٹ کھا چکی ہے کہ جانچ میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے.

نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا. 2019 میں جب وزیر اعظم نریندر مودی عوام کے درمیان جائیں توان کو اپنا نعرہ بدل لینا چاہئے. جو کھایا ہے اسے بلاؤں گا جو دے دے گا اسے بھگاؤں گا. ہیمنت وشوا شرما پر الزام لگا کر، اپنے ہی الزامات کے تھوک کا گھونٹ کر بی جے پی نے شمال مشرقی میں جو کامیابی حاصل کی ہے امید ہے کہ وہی کامیاب وہسکی میں وشنو اور رم میں شری رام کا درشن کرنے والے نریش اگروال یوپی میں دلا دیں گے.

بدعنوانی کا سوال عوام کو بے وقوف بنانے کا ہوتا ہے. اخلاقیات کا سوال ہم تجزیہ نگاروں کے پاس ہی بچا ہوتا ہے. عوام بھی ان سوالات کو نظر انداز کر دیتی ہے. ہر پارٹی کا یہی حال ہے. آپ اپوزیشن کی بھی ضمانت نہیں لے سکتے کہ اس کے یہاں ایسے لیڈر نہیں ہیں اور ایسے لیڈر کہیں اور سے نہیں آئیں گے. یہ بات از اكول ٹو کے لئے نہیں کہہ رہا بلکہ یہ بتانے کے لئے کہ آپ ووٹر کے طور پر الو بننے کے لئے مجبور ہیں.

آپ مخالف ہوکر بھی الو بن سکتے ہیں اور حامی ہوکر بھی الو بن سکتے ہیں. بھارت کی عوام ان دو چار پارٹیوں میں الجھ گئی ہے. اخلاقیات کا سوال بیکار سوال ہے. رام کو جم کر گالی دو، رام مندر والوں کی پارٹی میں مل جاؤ. کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ اپوزیشن جماعتوں کے سارے بدعنوان، بددماغ بی جے پی میں چلے جائیں اور بغیر کچھ کیے ہمارے مهابھرشٹ اپوزیشن پارٹیاں اپنے آپ ایماندار ہو جائیں! بدعنوانی ہندوستان کی سیاست کی روح ہے. اس کے جسم پر قوم پرستی اور سیکولرازم اوڑھ کر یہ سب نوٹنکی کرتے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close