آج کا کالم

بی جے پی نے مسلمانوں کا یہ بھرم بھی توڑدیا

مسلمان بادشاہ گر ہے، وہ کنگ میکر ہے، جس کی حکومت چاہے بنادے جس کی چاہے بگاڑدے۔ وہ تخت پر بٹھاتا ہے اور اتار بھی دیتا ہے۔ اس کی حمایت کے بغیر کوئی پارٹی جیت ہی نہیں سکتی۔ کئی ریاستیں اس کے ابرو چشم کے اشاروں پر چلتی ہیں۔ ہر پارٹی کو مسلم ووٹوں کی ضرورت ہے۔ ایسی باتیں ہر الیکشن سے پہلے سنائی دیتی ہیں اور الیکشن کے دوران اس کی تیزی میں اضافی ہوجاتا ہے۔ ہم اس خوش فہمی کے ساتھ مدتوں فریب کھاتے رہے، لٹتے رہے، برباد ہوتے رہے۔ پیٹ پیٹھ سے جاکر مل گیا اور یہ نعرہ مستانہ لگانے والے پھلتے پھولتے گئے۔ اس سحر میں ایسے کھوگئے کہ جب آنکھ کھلی تو دونوں ہاتھ خالی نظر آئے۔ جنھیں ظل الٰہی اور آفتاب و ماہتاب بنایا انھوں نے پائوں کی ٹھوکروں پر رکھا۔ شاید ابھی پوری طرح ہوش نہیں آیا۔ سیاسی پارٹیاں حکمت عملی بدل رہی ہیں، وہ اس کمبل سے چھٹکارا چاہتی ہیں۔ بی جے پی نے راہ دکھادی ہے کہ مسلم ووٹوں کا لالچ چھوڑکر خالص ہندو ووٹوں کی بنیاد پر اقتدار کی بساط بچھائی اور جیتی جاسکتی ہے۔

2014 لوک سبھا انتخابات نے واضح کردیا تھا کہ مسلم ووٹ حاشیے پر ڈال دیا گیا۔ بی جے پی نے 282 سیٹیں جیت کر ثابت بھی کردیا۔ یہ تجربہ اس نے اب آسام میں دہرایا، مسلم ووٹوں کو بکھیردو، ایک سے زیادہ ’ہمدردان مسلم‘ کو کھڑا کردو اور ان کی اوقات بتادو۔ بہار میں مہاگٹھ بندھن نے ہماری کنپٹی پر نال رکھ کر ووٹ لیا کہ بولوگے تو اچھا نہیں ہوگا۔ لالو یادو نے امارت شرعیہ کو باضابطہ ہدایت نامہ بھجوایا تھا کہ ہماری حمایت کا اعلان مت کرئیے گا ورنہ ہمیں نقصان ہوجائے گا۔ ووٹ دیجئے مگر خاموشی اور رازداری سے۔ مسلم جماعتوں نے ایسا ہی کیا، چوروں کی طرح ووٹ ڈالا گیا۔

اس سے زیادہ بے بسی اور شرم کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اترپردیش جیسی ریاست جہاں مسلم آبادی 16فیصد ہے، ایک بھی مسلم منتخب نمائندہ نہیں پہنچاسکی، جبکہ اس ریاست میں زیادہ ہمدرد و غمگسار، زیادہ جان چھڑکنے والے، نقد جان و دل اٹھانے والے موجود ہیں۔ اسی طرح آسام سب سے بڑی مسلم آبادی والی دوسری ریاست ہے، یہاں بھی بی جے پی نے مسلم ووٹ کا تصور بے معنی کردیا۔ آسام میں جو حکومت بن رہی ہے اس میں جمعیۃ علماء اور اجمل کی پارٹی بے اثر ہے۔ مسلم ووٹ کی انتخابی طاقت کو اس نے اپنی جاندار حکمت عملی سے بے اثر کردیا، جیسا کہ لوک سبھا الیکشن میں کیا تھا۔ آسام میں 34فیصد آبادی مسلمان ہے، جبکہ مغربی بنگال اور کیرل میں آبادی کا 27فیصد ہیں۔ آسام کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی آٹھ سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی، وہیں اجمل اور کانگریس میں مسلم ووٹ بکھرکر رہ گیا۔ یعنی مسلم ووٹ اپنی وقعت، اہمیت، قوت اور اثر کھوتا جارہا ہے۔ اب ہر سیکولر پارٹی انہی خطوط پر سوچ رہی ہے کہ مسلم ووٹوں سے جان چھڑائی جائے۔ چاپلوسی کے الزام سے گلوخلاصی حاصل کی جائے۔ کانگریس سافٹ ہندوتو کے راستے پر پہلے سے چل رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی بھی غیرمحسوس طریقہ سے اس حکمت عملی کا سہارا لے رہی ہے۔ مسلمان راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کے لئے ہائے توبہ مچارہے ہیں۔ انھیں احساس ہی نہیں پورا زاویہ ہی بدل رہا ہے۔ بی جے پی نہیں چاہے گی کہ یوپی میں بی ایس پی آئے، وہ آخری دلت فورس کو اقتدار میں آنے کا موقع نہیں دے گی، خود اس پوزیشن میں نہیں ہے اس لئے بالواسطہ سماجوادی پارٹی کو مدد دے سکتی ہے۔ پارٹی کا موجودہ رویہ اس کی شہادت دیتا ہے۔ مسلم نوجوانوں کی باعزت رہائی اور مسلم ریزرویشن پر منافقانہ روش کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جب ہندو ووٹوں کی طاقت سے سرکار بن سکتی ہے تو مسلمانوں کو پیٹھ پر سوار کرنے کی زحمت کیوں کی جائے۔ اس خیال نے نظریہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ہر سیکولر پارٹی نے اسے قبول کرلیا ہے۔

اگر ہم نے اس عیارانہ حکمت عملی کو نہیں سمجھا تو اترپردیش آخری کیل ٹھونک دے گا۔ معلوم نہیں مسلم جماعتیں خواہ سیاسی ہوں یا مذہبی، اس خاموش انقلاب کی دستک کو سن رہی ہیں یا نہیں۔ اب صرف پریس ریلیزوں، قراردادوں اور من پسند امیدواروں کی حمایت میں فہرست سازی سے کام نہیں چلے گا۔ کوئی ایس پی کے لئے اٹھ کھڑا ہو، کسی کی مشروط وفاداری کانگریس کے لئے ہوگی تو اب کی بار مایاوتی سرکار کہنے والے بھی ہوں گے۔ یہ وفاداریاں مسلمانوں کا سیاسی جنازہ نکالے دے رہی ہیں۔ ملت پہلے ہے یا سیاسی وفاداریاں، اس پر موقف صاف کرنا ہوگا، ورنہ اترپردیش بھی مسلم ووٹوں کا قبرستان بن جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قاسم سید

معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

متعلقہ

Close