آج کا کالم

بی جے پی کا فائیو اسٹار ہیڈکوارٹر

رويش کمار

سیاسی صحافیوں کو کبھی ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا. گورکھپور میں یوگی کی ہار بڑا واقعہ تو ہے لیکن اس واقعہ میں اتنا کچھ نہیں ہے کہ چار چار دنوں تک سینکڑوں صحافی لوگ لکھنے میں لگے ہیں. سیاسی صحافیوں کو ہی سسٹم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے. مگر اندر کی باتوں کو کم ہی صحافی لکھ پاتے ہیں یا لکھتے ہیں. اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی سے بنی بنائی جگاڑ نہ بگڑ جائے. اس لیے وہ ہمیشہ انتخابی نتائج اور انتخابات کے انتظار میں رہتے ہیں تاکہ صرف ہارنے اور جیت کے امکان کا مکمل تجزیہ سے ہی اپنا ٹائم کاٹ لیا جائے.

کئی بار خود پر ہی شک ہونے لگتا ہے کہ شاید وہی دنیا کا دستور ہوگا اور لوگ بھی یہی جاننا چاہتے ہوں گے. سیاسی صحافیوں اور سیاسی ایڈیٹرز کو ہوا والے ٹاپک ہی کیوں پسند آتے ہیں. پہلے ہوا اور بعد کی ہوا کی پیمائش کے لئے بیرومیٹر لئے گھومتے رہتے ہیں. جن چِركُٹ ترجمانوں کا یہی ٹھکانہ نہیں کہ ایک انکم ٹیکس کے فون پر وہ کس پارٹی میں ہوں گے، ان کے ساتھ بیٹھ کر اینکر لوگ 2019 کا تجزیہ کر رہے ہیں. پھر سے کاغذ پر حساب جوڑا جانے لگا ہے کہ مایاوتی اور اکھلیش مل گئے تو یوپی میں بی جے پی 50 سیٹیوں پر آجائے گی. کوئی یہ نہیں بتا رہا ہے کہ جب مایاوتی،  اکھلیش اور کانگریس الگ الگ لڑتے تھے، تب بھی یوپی میں بی جے پی کیوں ہار جاتی تھی؟ پھر ان تینوں کے الگ الگ لڑنے سے بی جے پی دو بار تاریخی طور پر جیتی بھی. وہ کیسے ہوا؟

انہی سب پر لکھ کر آپ کو بھرمايا جاتا رہتا ہے کہ بڑا بھاری سیاسی تجزیہ ہو رہا ہے. کون کتنے میں خریدا گیا، کون کتنے میں بٹھایا گیا یہ تو آپ ان کے ذریعہ کبھی نہیں جان پائیں گے. آپ اپنے سیاسی صحافیوں اور ایڈیٹرز سے یہ بھی نہیں جان پائیں گے کہ دین دیال اپادھیائے کے بی پی ایل پر چلنے والی پارٹی نے کئی سو کروڑ کا ہیڈکوارٹر بنایا ہے، وہ اندر سے کتنا خوبصورت ہے. فائیو اسٹار ہے یا سیون اسٹار ہے؟ سوئمنگ پل چھوڑ کر کیا کیا بنا ہے وہاں؟ اس کی بناوٹ کیا کہتی ہے؟ کیا اس کی بناوٹ میں یہ اقتباس بھی درج  ہے کہ ہم ہی اس ملک کی اب حکمران پارٹی ہیں. قلعہ بنا نہیں سکتے تو ہیڈکوارٹر بنا کر ہی قلعہ اور محل کا خواب پورا کر لیتے ہیں. کئی سو کروڑ ہے یا 1300 کروڑ ہے یا کتنا ہے، کچھ پتہ نہیں. پارٹی نے جو انکم ٹیکس ریٹرن سونپا ہے، اس سے زیادہ کی رقم کا ہیڈکوارٹر بنا ہے یا اسی سے بنا ہے؟ لون لے کر کئی سو کروڑ کا ہیڈکوارٹر بنا ہے یا چندہ لے کر؟ کہیں کچھ آپ نے پڑھا ہے؟

پہلے بی جے پی کے دفتر میں کچھ بھی بنتا تھا تو ٹی وی کا رپورٹر گھوم گھوم کر دکھاتا تھا مگر فائیو اسٹار انداز میں بنے اس ہیڈکوارٹر کی کہیں کوئی بحث ہی نہیں ہے. جب ملک میں شدید غربت ہو، بے روزگاری ہو، ڈھنگ کے سکول کالج نہ ہوں، تب اسی وقت میں ایک پارٹی عالیشان ہیڈکوارٹر بناتی ہے اور اندر جا کر دیکھ کر غش کھا جانے والے سیاسی صحافی لکھنے سے ڈر جاتے ہیں، تب یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کیوں دن رات اور بار بار گورکھپور میں یوگی کی ہار پر لکھ رہے ہیں. جانتے ہوئے کہ نہ تو یوگی ختم ہونے والے لیڈر ہیں نہ مودی. ختم اگر کوئی ہو رہا ہے تو وہ اس ملک کی بھولی اور غریب عوام اور ان تک معلومات پہنچانے والے طاقت ور سیاسی صحافی.

کیا آپ نے بی جے پی کے نئے فائیو اسٹار ہیڈکوارٹر کی اندر سے کوئی تصویر دیکھی ہے؟ کسی نے ٹویٹ کیا ہے یا اندر جانے والوں کو تصویر لینے سے ہی روک دیا گیا یا وہ اپنی عقیدت میں وہ ایسا نہیں کر پائے؟ ہو سکتا ہے کہ ایسی تصاویر لوگوں نے ٹویٹ کی ہوں اور میں نہ دیکھ پایا ہوں. میں نے تو اپنی ٹائم لائن پر نئے ہیڈ کوارٹر کے بارے میں کچھ بھی نہیں دیکھا. آپ نے دیکھا ہو تو بتايے گا. پوچھیے گا کسی سیاسی صحافی سے. آپ نے بی جے پی کا فائیو اسٹار ہیڈکوارٹر دیکھا ہے، کیسا ہے، تاج ہوٹل سے اچھا ہے یا میریٹ سے. کیا آپ نے صدر جی کا کمرہ دیکھا ہے، نئے ہیڈ کوارٹر میں چیئرمین جی کے کمرے، ان کے بیٹھنے کی پوزیشن ان سب کا بھی تو اقتدار سے گہرا تعلق ہوتا ہے، اس کا کہیں تجزیہ کیوں نہیں ہو رہا ہے. میں نہیں کہتا کہ آپ تنقید ہی کریں، جی بھر کے گیت گائیے مگر تصویر تو دكھائيے صاحب. عوام کی خدمت کرنے والی پارٹی کے فائیو اسٹار ہوٹل کی اندر سے کوئی تصویر نہیں ہے، آپ گورکھپور کے نتیجے سے 2019 کا رذلٹ نکال دے رہے ہیں. حد ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close