آج کا کالم

بی جے پی کی تین طلاقن کو تین طلاق

ڈاکٹر سلیم خان

مودی جی نے جو کہا سوکیا۔ انہوں نے مہوبہ میں کہا تھا ہم مسلم خواتین کوتین طلاق کے معاملے  انصاف دلائیں گے۔ ان کے خیال میں شوہر چونکہ یکبارگی تین طلاق دے کر اپنی بیوی کو صفائی کا موقع نہیں دیتا اس لیے یہ ظلم ہے۔ حکومت کے اس موقف کی حمایت آسام کی بی جےپی رہنما بے نظیر عرفان نے اسزور و شور سے کی کہ انہیں تین طلاقن کے خطاب سے نوازہ گیا۔  وہ نہیں جانتی تھی کہ جس پارٹی کے جھانسے میں آکر وہ اپنی شریعت کی مخالفت کررہی ہے کام نکل جانے پر وہ بھی اس کو سابقہ شوہر کی مانند  ایک ہی  نشست میں تین طلاق  تھما دے گی۔  اس بیچاری کے پاس فی الحال 6 عدد طلاق ہے تین اپنے شوہر سے اور تین اپنی  پارٹی سے۔  معطل کرنے سے قبل اس کو وجہ بتاو نوٹس یا اپنی صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔  بے نظیر کو یہ بتانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی گئی کہ اس کا قصور کیا ہے؟  اس نے کیا کیا؟  کیوں کیا؟ اور کیسے کیا؟ یہ حسن اتفاق ہے واٹس ایپ پر طلاق کی مخالفت کرنے والی بئ نظیر کو معطلی کی اطلاع واٹس ایپ کے ذریعہ ملی۔

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ بے نظیر عرفان کا جرم کیا تھا۔  بے نظیر نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ہونے والے ایک  ستیہ گرہ کا دعوتنامہ اپنے دوستوں تک پھیلایا۔  کیسے پھیلایا؟ اس نے وہ دعوتنامہ اپنے فیس بک پر آویزاں کردیا ؟ کیوں کیا؟ اس لیے کہ اسے مظلومین سے ہمدردی تھی؟۔ وہ بھول گئی جن ظالموں کے درمیان وہ آئی ہے وہاں مظلومین سے ہمدردی جتانا ظلم عظیم ہے۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ   طلاق شدہ خواتین کی بہی خواہی اگر دھرم یدھ ہے تو کیا لٹے پٹے لوگوں کے غم میں شریک ہوناپاپ ہے؟ بے نظریر نے خود ستیہ گرہ کا اہتمام نہیں کیا تھا بلکہ صرف اس دعوتنامہ کو فیس بک کے صفحہ شئیر کرلینا ایسی بڑی  غلطی  بن گیا سیدھے معطلی کا آدیش   نکال  دیا گیا۔ ساتھ میں  تین دن کے اندر ظابطے کی کارروائی کرنے کی دھمکی دی۔  بے نظیر ایسی بے وقوف عورت ہے کہ اس نے اس  بے ضرر حرکت کے بعد معافی بھی مانگی لیکن بی جے پی کےسنگدل  اور بدعنوان صوبائی صدررنجیت داس کواس  پر رحم  نہیں آیا۔    بے نظیر فی الحال اس قدر بددل ہوگئی ہے کہ اب  لوٹ کر  بی جے پی میں جانا نہیں چاہتیں۔

 2012 کے اندر بے نظیر بی جے پی میں شامل ہوئی  اوروزیراعظم مودی کے ساتھ انتخابی مہم  میں حصہ لیا۔  اس کو بی جے پی نے صوبائی انتخاب میں جانیا سے الیکشن لڑا۔ یہ فخرالدین علی احمدکا حلقۂ انتخاب ہے۔  یہاں سے 56 فیصد ووٹ حاصل کرکے کانگریس کے عبدالخالق نے کامیابی صاحل کی۔  اے یو ڈی ایف کے رفیق الاسلام کو 37 فیصد ووٹ   ملے جبکہ بے نظیر کو صرف 4 فیصد ووٹ  پر اکتفا کرنا پڑا۔ لیکن یہی بے نظیر تین طلاق ہنگامہ میں مسلم خواتین کی نمائندہ بن گئی اور اب ذلیل و خوار ہوکر اپنے انجام پر پہنچ گئی۔ بے نظیر نے جس مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی تھی اس سے ایک روز پہلے اس کو پارٹی سے نکال باہر کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہیں  بی جے پی رہنما اپنی پارٹی میں شامل ہونے والے مسلمان خواتین  کو ہندو تو نہیں  سمجھتے ؟ اس لیے کہ  ہندوعورتوں کو انصاف دلانے کی بات نہ وزیر اعظم کرتے ہیں اور نہ  بی جے پی کو اس میں  دلچسپی ہے۔ اس حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت  جسودھا بین  ہیں جو بغیر طلاق اپنے گاوں میں گھٹ گھٹ کر جی رہی ہیں۔  ان کے اوپر 24 گھنٹے نگرانی رکھی جاتی ہے۔ وہ بس یا رکشامیں سفر کرتی ہیں تو پولس اہلکار ان کے پیچھے گاڑی سے چلتےہیں یہاں تک کہ وہ ان حفاظتی دستوں سے اپنی جان کے خطرے کا اظہار بھی کرچکی ہیں۔

بی جے پی کو  مظلوم ہندو خواتین سے  تو کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن سادھوی پرگیہ یا  مایاکوندنانی  جیسی  سفاک مجرموں  سے  بڑا پیار ہے۔ بی جے پی والے اقتدار میں آنے کے بعد  پرگیہ کو ضمانت پر رہا کرواہی چکے ہیں  اوراب  مایا کو بچانے کی کوشش میں لگے ہوئےہیں۔  مایا کوندنانی کو فسادات کے دوران معصوم  بچوں کو یتیم اور بے قصور خواتین کو بیوہ کرنے کا کارنامہ انجام دینے کے سبب مودی جی نے خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کا وزیر بنادیا تھا۔  مایا کوندنانی  فسادات کےدو مقدمات میں ماخوذ ہے۔ نرودا پاٹیہ میں  97 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اور  وہاں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نرودا گاوں میں 11 لوگوں کی موت ہوئی۔  نرودا پاٹیہ معاملے کا  فیصلہ ہوچکا ہے اور اس میں مایا کوندنانی کو مجرم قرار دیا گیا نیز 28 سال کی سزا سنائی گئی۔  نرودا گاوں کے معاملے میں ٹال مٹول کرنے والی  ایس آئی ٹی عدالت کو سپریم کورٹ نے ڈانٹ کر تین ماہ میں فیصلہ سنانے کی تنبیہ کی تو یہ معاملہ گرمایا۔  مایا نے اپنے بچاو کی خاطرامیت شاہ کو گواہ بنادیا۔

اول عدالت کے بار بار موقع دیئے جانے باوجود امیت شاہ منہ چھپاتے پھرے لیکن جب عدالت نے سمن جاری کیا تو حاضر ہو کر گول مول بیان دے دیا۔ امیت شاہ نے کہا صبح ساڑھے 8 وہ ایوان میں اور ساڑھے 9 بجے اسپتال میں تھی۔ سواگیارہ  بجے کے بعد مایا کہاں گئی اس کا انہیں علم نہیں ہے۔  امیت شاہ کے بیان سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مایا کوندنانی ان کے ساتھ 2 گھنٹہ تھیں۔  ایوان  سے نکلنے کے بعد  اوراسپتال میں ملنے سے قبل وہ کہاں تھیں اس کے بارے میں امیت شاہ نے کچھ نہیں کہا۔ اس کے علاوہ ساڑھے 11 کے بعد کوندنانی کی نقل و حرکت پر  امیت شاہ نے روشنی نہیں ڈالی جبکہ  قتل و غارتگری کے واقعات دس گھنٹے تک جاری رہے ان میں سے اگر ساڑھے تین گھنٹے نکال لیے جائیں تب بھی بقیہ ساڑھے 5 گھنٹے مایا کوندنانی کہاں اور کیا کررہی تھیں ؟ یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ مایا کوندنانی کو گلے لگا کر اور  بے نظیر  عرفان  کو طلاق دے کر بی جے پی نے یہ  واضح کردیا کہ اس کو کس قسم کی خواتین سے ہمدردی ہے اور وہ قسم کی عورتوں سے وہ نفرت کرتی ہے۔

مایا اور بے نظیر کے معاملے کو صرف فرقہ پرستی کی بنیاد پر ٹالا نہیں جاسکتا بلکہ یہ ظالم اور مظلوم کی تفریق ہے۔  دہلی کے ریان اسکول میں گزشتہ ہفتہ ایک معصوم بچے کو قتل کردیا گیا۔ پچھلے سال ریان اسکول میں ایک طالب علم   کی پراسرار طریقہ پر پانی ٹنکی میں ڈوبنے  سے موت ہوگئی لیکن اسکول  کی مالکن گریس پنٹو کا بال بیکا نہیں ہوا۔  اس لیے کہ بی جے پی ویب سائٹ کے مطابق  گریس پنٹو بی جے پی مہیلا مورچہ کا جنرل سکریٹری ہے۔  حال میں گریس پنٹو نے بی جے پی مہیلا مورچہ کی قومی صدر وجیا راہتکرکے ہمراہ وزیراعظم  سے ملاقات بھی کی اور اخبارات میں گریس اور مودی جی کی  تصاویر شائع ہوئیں۔

 ویسے تو گریس پنٹو پر سیبی نے بدعنوانی کا الزام بھی لگایا ہے اس کے باوجود اپنے آپ کو گنگا کی طرح پوتر کہنے والی بی جے پی نے اسے کاٹن کارپوریشن آف انڈیا نامی سرکاری ادارے کا ڈائرکٹر نامزد کردیا۔  یعنی ایک طرف تو صرف فیس بک پر مظلومین  کی حمایت کرنے کے سبب پارٹی سے معطل اور دوسری جانب  دو عدد قتل اور بدعنوانی کے الزام پر بھی  پارٹی اور سرکار میں اہم عہدہ۔  اسے کہتے ہیں  خواتین کے ساتھ انصاف کو تین طلاق۔ فیس بک پر مظلومین  کی حمایت کرنے کے سبب بے نظیر  پارٹی کی  معطلی   کیا گیا مگر سادھوی پرگیہ اور مایا کوندنانی جیسی دہشت گرد خواتین کی حمایت کی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے بی جے پی کس قسم کی خواتین کے ہاتھ میں ترشول تھما دیتی ہے اور کیسے لوگوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا جاتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close