آج کا کالم

بی جے پی کی کامیاب انتخابی  حکمت عملی

مودی ہو یا راہل ، ممتا ہوں یا مایا کسی سیاستداں کی زندگی کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود نہیں ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

وزیراعظم نریندر مودی جس طرح آج کل سیاسی دنیا کے سپر مین بنے ہوے ہیں اسی طرح ۷۰ کی دہائی میں راجیش کھنہ فلمی دنیا کے سپر اسٹار تھے۔ شکتی سامنت نے ۱۹۷۲ ؁ میں ان کو لے کر امر پریم نامی فلم بنائی تھی جس میں آنند بخشی نے ایک نغمہ لکھا تھا ’’یہ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟  کیوں ہوا؟ جب ہوا؟ تب ہوا؟ چھوڑو یہ نہ سوچو؟ ‘۔ حالیہ چونکا دینے والے انتخابی نتائج کو دیکھ کر بے ساختہ یہ یاد آجاتا ہے۔ پہلا سوال کہ یہ  کیا ہوا ؟ اس  کا جواب حاصل کرنے کی خاطر اگر جوش اور مایوسی کے جذبات سے عاری ہوکر  اعداوشمار کا جائزہ لیا جائے تو    محسوس ہوتا ہے کہ این ڈی اے  نے کامیابی تو بہت بڑی حاصل کی لیکن اتنی بھی نہیں جتنی نظر آتی ہے  نیز یوپی اے یقیناً ناکام رہی لیکن اس طرح بھی نہیں کہ جیسے پیش کیا جاتا ہے۔  مثلاً جملہ نشستوں کا تقابل کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ۲۰۱۴؁ میں قومی جمہوری محاذ کو ۳۵۱ نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس بار بھی اس ۳۲ جماعتوں کے الحاق کو ۳۵۲ سیٹوں پر کامیابی ملی  یعنی ۲ کا معمولی فائدہ  ہوا۔ اس کے برعکس یو پی اے  کے پاس صرف ۶۵ نشستیں تھیں جو اب بڑھ کر ۹۲ ہوگئی ہیں۔ اس طرح اس کو ۲۷ کا فائدہ ہوگیا۔ یہ تقریباً ۴۰ فیصد کا اضافہ ہے۔  اس تبدیلی کو محسوس نہیں کیا جاتا اس لیے کہ توقع تھی  رائے دہندگان مودی جی کو ان کی ناکامیوں  کی سزا دیں گےجس  کا بڑا فائدہ راہل کو ملے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

جائزے کا ایک زاویہ ووٹ کا تناسب ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں این ڈی اے کے کل ووٹرس میں ۶ عشاریہ ۳ فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ یوپی اے کے ووٹرس بھی  ۳ عشاریہ ۵۴ فیصد بڑھے لیکن چونکہ دونوں میں ۱۵ فیصد کی کھائی ہے اس لیے اس کی بھی اہمیت کم ہوگئی۔ محاذ کے بجائے پارٹی کی سطح پر  بی جے پی کی نشستوں کا اگر کانگریس کی نشستوں سے موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اول الذکر ۲۸۲ سے بڑھ کر ۳۰۳ پر پہنچ گئی یہ بہت بڑی کامیابی ہے یعنی ۷ فیصد بڑھوتری جبکہ کانگریس بھی ۴۴ سے بڑھ کر ۵۲ پر پہنچ گئی یعنی ۲۰ فیصد کا اضافہ لیکن اس کے باوجود چونکہ یہ تعداد بی جے پی سے تقریباً ۶ گنا کم ہے اس لیے غیر اہم ہوگئی۔ فرداً فرداً دیکھا جائے تو اپنے صوبے سے نکل کروارانسی   میں انتخاب لڑنے والے نریندر مودی نے اس بار ۶ لاکھ ۷۵ ہزار یعنی ۶۴ فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ اپنی ریاست  سے دور کیرالہ میں جاکر انتخاب لڑنے والے راہل گاندھی نے ۶۵ فیصد یعنی ۷ لاکھ ۶ ہزار ووٹ حاصل کیے۔ دوسرے نمبر سے فرق کا جہاں تک سوال ہے  راہل کا فرق ۴ لاکھ ۳۲ ہزار کا ہے اور مودی کا فرق ۴ لاکھ ۸۰ ہزار کا ہے  یعنی ووٹ شئیر اور تعداد میں راہل آگے ہے اور فرق میں مودی لیکن اس کامیابی  پر راہل کی  امیٹھی میں  ناکامی سے پانی پھر گیا۔  اس شور شرابے میں دوبلند بانگ دعویٰ  دب کر اپنی موت مرگئے۔ اول تو کانگریس مکت بھارت اور دوسرے گاندھی پریوار کا خاتمہ۔ راہل کے علاوہ  سونیا گاندھی نے  بھی  بڑی کامیابی درج کرائی اور کانگریس بھی کم سہی آگے تو بڑھی اس لیے اب کانگریس مکت بھارت  اور گاندھی پریوار کی بات امیت شاہ نہیں بلکہ  یوگیندر یادو کرتے ہیں جن کی پارٹی بلدیاتی انتخاب بھی نہیں جیت سکتی ۔

کیا اور کیسے کے بعد کیوں کی طرف آئیں تو چند باتیں قابلِ غور ہیں۔ گجرات  کے انتخابات میں نشستوں کی کمی کے بعد مودی اور شاہ نے محسوس کرلیا کہ نوٹ بندی  و جی ایس ٹی کے سبب بازار کا حال خراب ہے۔ ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ مختلف ضمنی انتخابات  میں ناکامی اور ۳ صوبوں میں شکست نے  اس خیال پر مہر ثبت کردی کہ اب پہلے جیسی کامیابی ممکن نہیں ہے  اس لیے بڑی ذہانت کے ساتھ انتخابی  حکمت عملی  وضع کی گئی ۔ وسط ہند میں  متوقع نقصان کی بھرپائی کے لیے مشرقی صوبوں کو توجہ کا مرکز بنایا گیا۔ بہار اور آسام  سمیت شمال  مشرق کے سارے صوبوں میں علاقائی جماعتوں کے ساتھ الحاق کیا  گیا۔ بہار میں ۲ نشستوں پر کامیاب ہونے والی جنتادل (یو) کو اپنی ۵ کامیاب سیٹیں  قربان کر کے برابر ۱۷ نشستیں دے دینا غیر معمولی اقدام تھا۔ اس دوران اترپردیش میں ایس پی اور بی ایس کے اتحاد نے زعفرانی  خیمہ میں زلزلہ برپا کر دیا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پسماندہ ذاتوں کے ان طبقات کو ساتھ لیا گیا جو ایس پی کی  لیڈر شپ سے ناراض تھے۔ بی جے پی کو  منتخب شدہ ارکان پارلیمان کے تئیں عوامی ناراضگی  کا اندازہ تھا ْ۔ اس لیے بہت سوں کے ٹکٹ کاٹ دیئے گئے اور کئی لوگوں کے حلقہ ہائے انتخاب کو بدلا گیا ۔  اسی کے چلتے مینکا اور ورون گاندھی جیت گئے۔ مینکا کی جیت میں کانگریس کے ۴۱ ہزار ووٹ کا بھی حصہ تھا کیونکہ  سماجوادی امیدوار ان سے  صرف ۱۵ ہزار ووٹ  سے ہارا۔ ممتا کے ساتھ سڑک پر بھڑ جانے سےپیدا ہونے والی  ہمدردی کی لہر بھی کار آمد ثابت ہوئی۔

ان  سب اقدامات  کے باوجود بھی   اعتماد بحال نہیں ہوا تو  پلوامہ اور ائیر اسٹرائیک کی آڑ میں قوم پرستی کی آگ بھڑکائی گئی۔ اس حکمت عملی نے ہوا کا رخ تبدیل کردیا  اور رائے دہندگان کی بڑی تعداد نے طے کرلیا کہ  قومی تحفظ کی خاطر مودی کو   دوبارہ   اقتدار میں لانا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ یہ  انتخاب مودی بالمقابلہ سب میں تبدیل ہوگیا اور اس کی ہیئت  عملاً صدارتی الیکشن  کی سی ہوگئی۔ حزب اختلاف کے رہنما اس تبدیلی کے  دوررس اثرات کا اندازہ    نہیں لگا سکے۔ اس مرحلے میں اگر وہ سب  کسی ایک رہنما پرمتحد ہوجاتے جیسا کہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے وقت ہوئے تھے تو بات بن سکتی تھی لیکن  وزیراعظم بننے کی خواہش آڑے آگئی۔مایا ممتا سے لے کر  کے سی آر تک یہ خواب دیکھنے لگے اس کا بھرپور فائدہ مودی جی کو ملا  کیونکہ  عوام کے سامنے کوئی طاقتور متبادل نہیں آیا۔ اس  طرح  ایک ہوا چل پڑی جو سونامی بن گئی۔

اس دوران  چند  لوگوں کو سرکاری فلاحی اسکیموں مثلاً کسان کو ۶ ہزار ، بجلی کنکشن ، گیس سلنڈر وغیرہ  دے کر بقیہ  گاوں والوں کے دل امید کی کرن جگائی گئی۔ اس کی تشہیر پر سرکاری خزانے سے کروڈوں روپئے خرچ کیے گئے۔  انتخابی  مہم میں ذرائع ابلاغ کو بڑے پیمانے پر ملوث کیا گیا۔ بی جے پی کے پاس چونکہ دھن دولت  کی کوئی کمی نہیں تھی اس لیے اکاّ دکا ّ چھوڑ کر سب کو خرید لیا گیا۔   سوشیل میڈیا میں تو خیر برابر کا معاملہ تھا لیکن ٹیلیویژن کارنگ پوری طرح زعفرانی ہو گیا تھا۔ ٹیلیویژن پر  انٹرویو کا لامتناہی سلسلہ جاری ہوا تو  مودی جی نے ایک انٹرویو میں مخلوط حکومت چلانے کے تجربے کی بات تک کہہ دی حالانکہ انہیں اس کی ضرورت ہی نہیں پیش آئی تھی۔ آخری مرحلے میں بے چین ہوکر پرگیہ ٹھاکر  کو میدان میں اتارا گیا۔ مودی جی اپنی تقاریر میں  احمقانہ دلائل۔ ذاتیات  اور تہمت بازی پر اترآئے حالانکہ نتائج کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں تھے۔ وہ اگر اتنا نیچے نہیں بھی اترتے تب دس پانچ نشستوں سے زیادہ کا نقصان نہیں ہوتا لیکن اقتدار کے چھن جانے یا اس کے بعد رافیل جیسے معاملے میں جیل جانے کے خوف نے انہیں باولہ کردیا اور جو جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے گئے۔ عوام چونکہ ان کے طلسم میں گرفتار ہوکر  ووٹ دینے کا فیصلہ کرچکے تھے اس لیے بدظن نہیں ہوئے۔  خیر جس نقصان کا خوف تھا وہ نہیں ہوا لیکن اس سے بچنے کے لیے جو حربے اختیار کیے گئے تھے وہ بار آور ہوئے اور مودی جی پہلے سے بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوگئے لیکن اس مہم میں ان کا ظرف عیاں ہوگیا۔

آخری سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ ایکزٹ پول کے بعد سے وزیراعظم  کی حرکات و سکنات سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پہلے تو انہوں نے راجیو گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرکے  تلخی کو کم کرنے کی سعی کی۔ سی بی آئی سے کہہ کر بوفورس کی بابت جو مقدمہ فروری میں داخل کیا گیا تھا اس کو واپس لیا۔ ملائم اور اکھلیش یادو کے خلاف ۱۴ سال پرانے مقدمہ میں کلین چٹ دلوائی۔ اپنے حواریوں کو بھی اس کی تلقین کی۔ انل امبانی نے راہل گاندھی اور نیشنل ہیرالڈ کے خلاف  ہتک عزت کا مقدمہ واپس لینے کا اشارہ دیا اور دیپک اڈانی نے دی وائر کے خلاف مقدمہ بازی ختم کرنے کا اشارہ دیا یعنی دباو کم کیا جانے لگا۔ اس بیچ رافیل کاسودا کرنے والے ہندوستانی وفد کے فرانس میں واقع د  فتر پر ڈاکہ پڑا نیز کاغذات چرائے گئے۔ ظاہر ہے ایسے میں شک کی سوئی  تو چوکیدار کی جانب گھومتی ہے لیکن نتائج کے بعدوزیر اعظم نے اپنے ٹوئیٹر سے چوکیدار کا لقب ہٹا دیا۔ اسی کے ساتھ شیئر بازار میں زبردست اچھال آیا اور سرمایہ داروں کی تجوری میں لاکھوں کروڈ کا اضافہ ہوگیا نیز غریبوں کا خون چوسنے کے پٹرول ڈیزل اور دودھ کا بھی بھاو بڑھا دیا گیا۔ اب پانچ سالوں تک یہی سب ہوگا۔ ووٹ دینے والے  عوام استحصال کی چکی میں پسیں گے اور نوٹ دینے والے سرمایہ دار عیش کریں گے۔

انتخاب جیتنے کے بعد مودی جی ایک نہایت دمدار تقریر کی جس میں پھر سے ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ کی بات کہی۔ سارے ملک کو ساتھ میں لے کر چلنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس میں فرقہ ، مذہب بلکہ پاکستان کا بھی ذکر نہیں تھا اس لیے کہ اس کی اب  ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد اقلیتوں کے دل بیجا خوف ختم کرنے کی بات بھی لیکن  افسوس کہ پانچ سال تک مودی جی سے یہ سب سنتے سنتے اب ان کے الفاظ پر یقین  ہی نہیں ہوتا۔ شاید وہ  خود بھی یہ باتیں یاد نہیں رکھتے۔ وزیراعظم  کب تک اس  خیر سگالی کےموقف پر قائم رہ سکیں گے کوئی نہیں جانتا۔ چند ماہ بعد جو صوبائی انتخابات ہوں گے اس میں وہ کیا رخ اختیار کریں گے شاید خود انہیں بھی نہیں معلوم۔ فی الحال  کا اقتدار بہت مضبوط ہے اس لیے وہ اچھی اچھی باتیں کہہ رہے ہیں لیکن جب دباو آئے گا تو ان کی کیفیت کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ وہ ایک اچھے خطیب  ہیں اور یہی کرتے ہیں۔ اپنے بول بچن سے انتخاب جیت لیتے ہیں اس لیے کوئی اور  کام کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اس لیے عام کے بنیادی مسائل حل ہوں گے اس کا امکان کم ہے۔ ویسے   اگر بھاشن بازی سے اقتدار مل جائے تو سیاستڈاں  محنت کیوں کرے ؟  مودی ہو یا راہل ، ممتا ہوں یا مایا کسی سیاستداں کی زندگی کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود نہیں ہے۔ یہ بیچارے  تو  اقتدار کے لیے جیتے ہیں اور اسی پر مرتے ہیں۔ بقول خاور جیلانی ؎

جینا تو الگ بات ہے مرنا بھی یہاں پر

  ہر شخص کی اپنی ہی ضرورت کے لیے ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close