بی جے پی کے تیس مارخاں صدر

حفیظ نعمانی

آج نہیں برسوں سے کہا جارہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے ممبر ہوتے ہیں، اس کی ورکنگ کمیٹی ہوتی ہے، اس کی پارلیمنٹری کمیٹی بھی ہوتی ہے اور اس کے عہدے دار اس کے فیصلے کرتے ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ بزرگ لیڈر ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی اپنی اپنی کہتے رہ جاتے ہیں اور بی جے پی سے باہر راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کا حکم آتا ہے اور فیصلہ ہوجاتا ہے۔ پندرہ سال پہلے نتن گڈکری بھی ایسے ہی صدر بنے تھے پھر وہ مجبور ہوکر ہٹ گئے تو راج ناتھ سنگھ کو بھی صدر وہیں سے بنایا گیا اور جب حکومت بن گئی اور سیوم سیوک سنگھ کو ضرورت محسوس ہوئی کہ وزیر داخلہ ان کے اعتبار کا ہو تو شری راج ناتھ سنگھ کو وزیر داخلہ بنایا گیا اور صدر امت شاہ نام کے ایک صاحب کو بنایا گیا جو فرضی مڈبھیڑ کی سازش تیار کرنے کے الزام میں مہینوں جیل میں بند رہے اور سپریم کورٹ سے ضمانت ہوسکی۔

2014ء کے بعد سے ناگ پور کی مداخلت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہریانہ، مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کا نام بھی ناگ پور سے آیا اور اب اُترپردیش بی جے پی کے صدر کا نام بھی ناگ پور سے ہی آیا ہے۔

ہمیں 2014ء کی وہ تقریر یاد آرہی ہے جو پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں 26 مئی کو وزیر اعظم کا حلف لینے کے بعد نریندر مودی صاحب نے کی تھی۔ ہال کی ہر کرسی بھری ہوئی تھی اور ہر کان ان کی طرف لگا تھا۔ مودی صاحب کو اندازہ تھا کہ وہ پہلی تقریر کررہے ہیں اس لئے وہ چاہتے تھے کہ ان کا ہر لفظ دلوں میں نقش ہوجائے اور اخبار میں چھپ کر ریکارڈ بن جائے۔ انہوں نے جب کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پارلیمنٹ میں ایسے ممبر بھی آئے ہیں جن کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمے چل رہے ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ایک سال کی مدت میں پارلیمنٹ کو پاک صاف کردوں گا جو واقعی گناہ گار ہیں وہ جیل میں ہوں گے اور جن کے خلاف غلط مقدمے چل رہے ہیں وہ دودھ کی طرح صاف پارلیمنٹ کی عزت بڑھا رہے ہوں گے۔ آج سے پچاس دن کے بعد اس تقریر کو دو سال ہوجائیں گے۔ ہوسکتا ہے ان میں سے سو دو سو جیل چلے بھی گئے ہوں جس کی ہمیں خبر نہ ہو اور ہو سکتا ہے انہوں نے بھی کہہ دیا ہو کہ ان کے خلاف جو مقدمات ہیں وہ قتل و غارت اور لوٹ مار کے نہیں ہیں بلکہ ان کی تحریک کی مخالفت کی وجہ سے صوبائی حکومتوں نے چلائے ہیں۔

ہمارے سامنے اُترپردیش بی جے پی کے نئے صدر شری کیشو موریہ کا بیان ہے جو پارلیمنٹ کے ممبر ہیں۔ جن کے خلاف مجرمانہ دفعات کے تحت گیارہ مقدمے چل رہے ہیں اور جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم کے لئے چائے بھی بیچی اور اخبار بھی فروخت کئے یعنی چائے بیچ کر وہ مودی کے ہم پیشہ ہوگئے اور اخبار بیچ کر اٹل جی کے ہم پیشہ۔ لیکن انہوں نے دو سال پہلے جو پارلیمنٹ کے الیکشن میں حلف نامہ داخل کیا تھا اس میں انہوں نے اپنی حیثیت دس کروڑ بتائی تھی۔ لیکن چائے فروش اور اخبار فروش کے تمغوں پر زور زیادہ ہے۔

موریہ صاحب نے سب سے پہلے جو بیان دیا وہ مودی صاحب کے بیان سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے مودی قیادت میں کانگریس بالکل صاف ہوگئی ایسے ہی وہ مایا اور ملائم کو صاف کردیں گے۔ انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یو پی اسمبلی ان کی ہوچکی۔ بس ووٹوں کی گنتی باقی ہے۔ اس کے بعد وہ وزیر اعلیٰ ہوجائیں گے۔ اُترپردیش کے لئے صدارت کا مسئلہ پرسوں سے مسئلہ بنا ہوا تھا۔ وجہ وہی تھی کہ کس ذات کا صدر ہو؟ سب دیکھ رہے تھے اُترپردیش کی لگام دو ہاتھوں میں باری باری آتی ہے۔ فی الحال یادو کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اسی مزاج کا خیال کیا جائے تو اب کی بار مایاوتی کا نمبر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسٹر اکھلیش یادو کے جوان ہاتھوں میں رہنے کی وجہ سے اور میٹرو جیسے عوام پسند منصوبوں کی وجہ سے اُترپردیش ان ہی کو دوسرا موقع دے دے۔ لیکن موہن بھاگوت صاحب نے یہ سمجھ کر کہ اب کی بار مایا سرکار ہوگی موریہ صاحب کو صدر بنایا ہے۔ شاید اس لئے کہ بی ایس پی کا صدر بھی موریہ ہے۔

شری کیشو موریہ کو ہر طرف ہری ہری نظر آرہی ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ بس وہ ناموں کا اعلان کریں گے اور بلامقابلہ منتخب ممبروں کے نام سامنے آنے لگیں گے۔ حالانکہ عقل کا تقاضہ یہ تھا کہ موریہ شکریہ کے ساتھ انکار کردیتے۔ لیکن انہوں نے اپنے خلاف چلنے والے گیارہ اخلاقی مقدموں کو تحریک کہہ دیا۔ تحریک جیسے سماج سدھار کی تحریک، تعلیم کی تحریک، جہیز نہ لینے دینے کی تحریک، نشہ کے استعمال کے خلاف تحریک یا شاید قتل و غارت گری کی تحریک، اپنے مخالفوں کو برباد کرنے کی تحریک اور لوٹ مار کی تحریک، چوری ڈکیتی کی تحریک، بابری مسجد شہید کرنے کی تحریک غرض کہ اب جرم کا نام تحریک رکھ دیا گیا اور موریہ مودی سے بازی لے گئے۔

کیشو موریہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس اُترپردیش کے صدر بنائے گئے ہیں جہاں پارلیمنٹ کی 80 سیٹوں میں 73 سیٹیں بی جے پی کی ہیں۔ اسی کے بل پر وہ کہتے ہوئے آئے ہیں کہ یوپی اسمبلی ہماری ہوچکی۔ بس گنتی باقی ہے وہ 80 اور 7 کی گنتی کو دیکھ رہے ہیں۔ حالاں کہ انہیں صدارت کا چارج لینے سے پہلے جائزہ لینا چاہئے تھا کہ دو سال پہلے اپریل 2014ء میں ارہر کی دال کی قیمت کیا تھی؟ گوشت کیا بھاﺅ تھا آلو اور پیاز ایک کلو کتنے میں مل رہے تھے؟ جسے ان کے آقا مودی نے مہنگائی کہا تھا اور اسے ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے جیسے ایک سال میں کیشو موریہ جیسے داغی ممبروں کو جیل میں ڈالنے کا وعدہ کیا تھا اس سے زیادہ زور سے وعدہ کیا تھا کہ میری حکومت بنوا دو تو میں 100 دن کے اندر کالا دھن لے آﺅں گا اور ہندوستان سے وہ غریبی جسے 1967ء میں اندرا گاندھی نے دور کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ خود بخود دور ہوجائے گی۔  ہر ہندوستانی کو 15 لاکھ روپئے بھی مل جائیں گے۔ انہوں نے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو للکارا تھا کہ 67 برس میں کسی نے تمہاری نہیں سنی۔ میرا ساتھ دو تو میں ہر ہاتھ کو روزگار دوں گا اور ہر کسی کے لئے اچھے دن آجائیں گے۔

کیشور موریہ نے یہ سب دیکھ کر ہی شاید غنڈہ گردی اور قتل و غارت گری کا نام تحریک رکھا ہے کہ انہیں اب بے ایمانی کو ایمانداری، جھوٹ کو سچ، کالے کو سفید اور گالی کو دعا کہنا ہے۔ مودی نے تو کانگریس مکت بھارت بنانے کا وعدہ کیا تھا موریہ تو لکھنو اسٹیشن پر اترنے سے پہلے ہی صوبہ کو فتح کرچکے بس گنتی باقی ہے جس میں اعلان کردیا جائے گا کہ موریہ 70، ملائم 5، کانگریس 2 اور بی ایس پی 000 ۔ حیرت ہے کہ جس پارٹی کو اُترپردیش والوں نے 14 برس سے بن باس دے رکھا ہے اس کا مور بغیر پروں کے اُڑتا ہوا آیا ہے اور صرف اس لئے اُڑرہا ہے کہ موہن بھاگوت نے اس کا نام لیا ہے اور امت شاہ نے اس کا اعلان کردیا ہے۔  کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ بھاگوت صاحب کا پسند کیا ہوا ہر نام چاہے وہ ہریانہ کے چیف کا ہو، مہاراشٹر کا ہو یا جھارکھنڈ چیف کا سب نااہل ثابت ہوئے ہیں۔ جس کی مثال امت شاہ ہیں کہ پارٹی کے صدر وہ ہیں اور ہر الیکشن وزیر اعظم کو لڑانا پڑرہا ہے اور یہی اُترپردیش میں بھی ہوگا۔  بھاجپائی موریہ نے اپنے نزدیک سب سے اہم بات یہ کہی ہے کہ ان کی پارٹی کا ہر لیڈر دس ملائم اور دس مایا پر بھاری ہے۔ ان کا اشارہ شاید امت شاہ کی طرف ہے جو بھاری تو ہیں لیکن کس اعتبار سے بھاری ہیں اس کی وضاحت نہیں کی؟  2017 ءمیں معلوم ہوجائے گا کہ ان کا وزن باڈی کی وجہ سے ہے یا ان کے کرموں کی وجہ سے؟ بہرحال اب دیکھنا ہے کہ کیشو موریہ کیسی کیسی تحریکیں چلاتے ہیں اور اکھلیش یادو اس کا توڑ کیسے کرتے ہیں؟ اس لئے کہ دونوں کے بال کالے ہیں لیکن اکھلیش بابو کے زیادہ کالے ہیں۔

(بشکریہ یو این این)



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ہولی بروز جمعہ

یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے کہ چاند کی کس تاریخ کو دن کون سا ہو اور کون تہوار کس دن منایا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عید جمعہ کے دن پڑجاتی ہے اور حج بھی جمعہ کے دن پڑجاتا ہے اگر جمعہ کو حج پڑجاتا ہے تو عام شہرت ہوجاتی ہے کہ حج اکبر نصیب ہوگیا۔ علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ صرف اس لئے ہے کہ حضور اکرمؐ نے حجۃ الوداع جس سال کیا تھا اس سال جمعہ کو حج ہوا تھا۔ ورنہ حج اکبر اور حج اصغر کچھ نہیں ہے۔