آج کا کالم

بے روزگاروں کا درد آخر کون سمجھے گا؟

رويش کمار

مترجم: محمد اسعد فلاحی

بھارت میں بے روزگاروں کی نہ تو تعداد کسی کو معلوم ہے اور نہ ہی ان کی زندگی کے اندر کی کہانی. ہمارے لئے بے روزگار ہمیشہ وہ ناقابل نوجوان ہوتا ہے جو موقع کی تلاش میں ایک ہی شہر اور ایک ہی کمرے میں کئی سال تک پڑا رہتا ہے. کئی بار تو لوگ اسے  اس لئے بھی بیکار کہتے ہیں کہ وہ سرکاری نوکری کی تلاش کر رہا ہوتا ہے. حکومت چلانے کے لیے نیتا مارا ماری کئے رہتے ہیں لیکن جب کوئی نوجوان اسی حکومت سے اپنے لئے روزگار کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے فالتو سمجھا جانے لگتا ہے. ہم اور آپ ہر شہر میں بے روزگاروں کی ریلی دیکھتے ہیں تو نظر گھما لیتے ہیں. وہ ہفتوں سے دھرنے پر بیٹھے رہتے ہیں ان کی پرواہ کوئی نہیں کرتا.

آج ہم آپ کو ایک ایسے دھرنے کے اندر لے جانا چاہتے ہیں، جہاں آپ دیکھ سکیں کہ جب کسی کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے، اس وقت بھی وہ کس ارادے سے 123 دنوں تک دھرنے پر بیٹھا رہ جاتا ہے. اس امید میں کہ کسی اخبار کے کونے میں خبر شائع ہو جائے گی، اس امید میں کہ وزیر اعلی سے ملاقات کا وقت مل جائے گا، اس امید میں کہ ان کے دھرنے کے اثر میں حکومت کارروائی کرے گی. ہم نے انہی لڑکوں سے کہا کہ آپ اپنے دھرنے کو شوٹ کرکے خود بھیجیں، ہم چاہتے تھے کہ اس دوران وہ اپنے کیمرے سے اپنی زندگی کو باہر سے دیکھیں اور سمجھیں کہ جس نظام میں انہیں جانا ہے، وہاں جو ان سے پہلے پہنچے ہیں، وہ اگر اس طرح اپنی ہی پرانی زندگی کو دیکھتے تو ہم ایک ایماندار نظام میں جی رہے ہوتے. پر آپ دیکھئے جب ایک بے روزگار اپنی کہانی بتانا چاہے تو کس طرح بتائے گا. اسكرپٹ ضرور ہماری ہے مگر وہ بنی ہے انہی کی تصاویر کے حساب سے اور ان سے پوچھ کر.

ہم نے پرائم ٹائم کی نوکری سیریز میں دکھایا تھا کہ بہار میں پولٹیكنك کا امتحان 8 سال سے پورا نہیں ہو سکا ہے. ان طلباء نے آر ٹی آئی سے پتہ کیا ہے کہ بہار میں227 9، ویكینسي ہیں. اس کے بعد بھی بے روزگار سڑکوں پر ہیں اور ان عہدوں پر ٹھیکے پر بحالی ہو رہی ہے. 2011 میں اشتہارات نکلا تھا، دو دو بار امتحان منسوخ ہو گئے. اس کے بعد تو اشتہار ہی نہیں نکلا. 2011 کے بعد سے پولٹیكنك کے سات بیچ نکل چکے ہیں. قوانین کا بہانہ ہے، مگر کیا کوئی اصول اتنا بڑا بہانا ہو سکتا ہے کہ سات سال تک بحالی ہی نہ ہو. ان کا مطالبہ بس اتنا ہے کہ تحریری امتحان ہو تاکہ جو باصلاحیت ہیں انہیں کو موقع ملے. پیروی اور جعلی ڈگری کے سہارے کوئی اور نوکری نہ پا جائے. مگر یہ سب تو دس دن میں ٹھیک ہو سکتا تھا، کیا یہ اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ 7 سال تک انہیں نوکری نہیں دی گئی.

ہماری اگلی کہانی چھتیس گڑھ کے کوریا سے ہے. یہاں کوئلے کے کان میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے اسکول کھولا گیا تھا. ظاہر ہے اس کے لئے اساتذہ بھی رکھے گئے ہوں گے. ان اساتذہ کی حالت اس عمارت کی طرح ہو گئی ہے. وہ اب صدر جمہوریہ سے خود کشی کی اجازت مانگ رہے ہیں. یہ اساتذہ اپنی سیلری کے لئے عدالت سے لے کر افسر کے یہاں چکر لگا رہے ہیں. 1973 میں جب کوئلہ کانوں کا راشٹریہ کرن ہوا تھا تو حکومت ہند COAL MINES AUTHORITY LTD./ WESTERN COALFIELDS LTD یہاں پہلے سے چل رہے اسکولوں کا مینجمینٹ دیکھنے لگی. یہاں کے 6 اسکولوں کو ریاستی حکومت سے تنخواہ ملتی ہے اور 6 کو SECL نام کی کمپنی سے.

1989 کے بعد سے SECL نے باقاعدگی سے تنخواہ دینا بند کر دیا. اساتذہ عدالت کی پناہ میں گئے. جبل پور ہائی کورٹ نے اساتذہ کے حق میں فیصلہ دیا کہ ایک ماہ کے اندر پیسہ دیا جائے. ECL نے ملازم یونین سے ایک معاہدہ کیا. اساتذہ نے کہا کہ معاہدہ غلط ہوا تھا تو وہ پھر عدالت گئے. 1999 میں کورٹ نے پھر سے اساتذہ کے حق میں فیصلہ دیا. سپریم کورٹ سے بھی یہ کیس جیت گئے مگر اس ادارے کے آگے آج بھی ہارے ہوئے کھڑے نظر آتے ہیں. یہ تو اکثر کیس لڑ چکے ہیں، جیت چکے ہیں اور معاہدہ ٹوٹ چکا ہے کہ یہاں تفصیل سے بتانا مشکل ہے.

کیس لڑتے لڑتے ان کے 30 سال نکل گئے. وکلاء کو چندہ کرکے فیس دیتے دیتے جو پاس میں تھا وہ بھی چلا گیا. بہت سے اساتذہ اور ملازمین اس دنیا سے بھی چلے گئے. یہ کہانی آپ کیوں دیکھ رہے ہیں. میں کیوں دکھا رہا ہوں، ہم حکومتوں کو لے کر کتنی مارا ماری کرتے ہیں مگر ان کہانیوں کے ذریعے آپ کو ایک چیز نظر آئے گی کہ کس طرح چھوٹے چھوٹے گروپ میں عوام حکومت کے دائرے سے باہر کر دی گئی ہے. جنتا اپنی فائلوں کو لے کر ادھر ادھر بھٹک رہی ہے. کورٹ کے حکم سے بھی اگر آپ کو آپ کا حق نہیں ملے گا تو پھر کوئی کہاں جائے گا. ان کہانیوں کے ذریعہ یہی کیوں لگتا ہے کہ عوام کی اب ضرورت نہیں رہی.

نیتاؤں کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ عوام کے درمیان سے اپنے لئے بھیڑ بنا لیں گے، راج کر لیں گے، جو بھیڑ میں نہیں ہوگا یا جس کے پاس مسائل کی فائلیں ہوں گی وہ اس بھیڑ سے باہر کر دیا جائے گا، اس امید میں کہ کوئی میڈیا والا ان کے مسائل کو اٹھائے گا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ جب سپریم کورٹ کے حکم سے نہیں ہوا تب پرائم ٹائم میں دکھا دینے سے کیا ہوگا. کچھ لوگ کیوں ہم سے کہتے ہیں کہ ٹی وی پر دکھا دیجئے. کیا وہ اپنے آپ کو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں.

موٹاموٹي ان کا یہی کہنا ہے کہ 2005 سے کول فیلڈ نے سیلری دینی بند کر دی، کیونکہ ان کے مطابق کورٹ کا جو بھی حکم تھا وہ عارضی تھا. 1995 میں انہیں 3000 سے 5000 کے درمیان سیلری مل رہی تھی. اس کے بعد چند سال تک مکمل سیلری ملی، لیکن 2005 سے وہی سیلری ملنے لگی. 13 سال سے 35 استاد اور ملازم 3000 سے 5000 کی سیلری پر اپنا زندگی گزار رہے ہیں. ان میں سے دو سے تین سال کے درمیان تمام ریٹائر ہو جائیں گے. نئی بھرتی نہیں ہو رہی ہے. اساتذہ نے کہا کہ 11 ملازمین کی موت بغیر علاج کے ہی ہو گئی، کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں تھے. اس اسکول میں ساڑھے پانچ سو طالب علم پڑھتے ہیں. اپنی سیلری کے لئے عدالتوں میں اتنے مقدمے لڑنے پڑیں گے اور وہ بھی دس دس بیس بیس سال، تیس سال …. اور پھر ناانصافی کی اس کہانی میں آپ کی بھی دلچسپی نہیں ہوگی تو کیا یہ بات ثابت نہیں ہوتی ہے کہ یہ لوگ تو ہیں مگر آپ کے لئے بھی اب جنتا نہیں ہیں. شہری نہیں ہیں. ہم کتنے بڑے بڑے مسائل پر بحث کرتے ہیں، عوام کے حقوق، شہری حقوق، پر وہ بحثیں آخر پہنچ کہاں رہی ہیں. بھلا ہو ہماری سیاست کا جو اس وقت کتا بلی کے لیول پر آ گئی ہے. کم از کم سیاست میں بھرم تو نہیں رہے گا.

گورکھپور انتخابات کے وقت وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے سب سے پہلے کہا تھا کہ سانپ چھچھوندر کا میل ہو گیا ہے. ان کے بعد امت شاہ نے اپوزیشن کو متحد ہوتے دیکھ کر کہا ہے کہ مودی کی باڑ آئی ہوئی ہے، اسے دیکھ کر کتے بلی نیولا سب ایک ہو گئے ہیں. جمہوریت میں اپوزیشن ابھی کتا بلی ہو گیا ہے تو کم از کم آپ کو معلوم کر لینا چاہئے کہ عوام کیا ہو گئی ہے. کیا وہ بھی انہی میں سے ایک ہو گئی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close