آج کا کالم

بے روزگاری ہمیں پریشان کیوں نہیں کر رہی ہے؟

رویش کمار

آج میں روز گار پر بات کروں گا، کیا جس تعداد میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی تعداد بڑھ رہی ہے، روزگار بھی بڑھ رہے ہیں. کیا  روزگار کا سوال بالکل ضروری نہیں ہے- دہلی میں ایک ادارہ ہے ‘پرہار’، جس کے مطالعہ کی رپورٹ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالے سے تمام اخبارات میں شائع ہوئی. اس کے مطابق

گزشتہ چار سال سے ہر روز 550 نوکریاں غائب ہوتی چلی جا رہی ہیں-

کسان، چھوٹے خوردہ وینڈر، دہاڑی مزدور اور عمارتی مزدوروں کا سامنے زندگی جینا مشکل ہوتا جا رہا ہے-

اس حساب سے 2050 تک ہندوستان میں 70 لاکھ ملازمتوں کی کمی ہو جائے گی-

 2050  تک کیا ہوگا، یہ سروے باقی رہے گا یا نہیں کوئی نہیں جان سکتا، لیکن جو وقت گزر چکا ہے اس کے بارے میں جو نتیجہ ہے اس پر تو بات کر سکتے ہیں. پرہار کے مطالعہ کو چیلنج دیتے ہوئے این ڈي ٹي ڈاٹ کام پر انپم منر نے لکھا ہے کہ نوکریاں کم تو ہوئی ہیں، مگر سب کچھ ختم نہیں ہو گیا ہے- پرہار نے بھی نہیں کہا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے. بہر حال پرہار نے اپنے سروے میں لیبر بیورو کی ایک اعداد و شمار کا باریکی سے مطالعہ کرنے کا دعوی کیا ہے جس کے مطابق

 2015 میں صرف 1 لاکھ 35 ہزار نوکریاں نکلی تھیں-

2013 میں 4 لاکھ 19 ہزار نوکریاں نکلی تھیں-

 2013 سے 2015 کے درمیان بھاری کمی آئی ہے-

 اپریل 2015 میں کیئر ریٹنگ کے چیف اكونومسٹ مدن سبنواس اور انوجا شاہ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی. کمپنیاں اپنی بیلنس شیٹ میں روزگار کے جو اعداد و شمار پیش کرتی ہیں، ان دونوں نے گزشتہ چار سال میں 1072 کمپنیوں کا مطالعہ کر کے بتایا کہ

 2014 میں 11 لاکھ 88 ہزار سے زیادہ نوکریاں نکلی ہیں-

 2015 میں صرف 12760 نئی نوکریاں ہی نکلی ہیں-

 1000 سے زیادہ کمپنیوں میں روزگار میں اتنی تیزی سے گراوٹ کی کسی کو فکر نہیں ہے اور لوگ اس بات میں الجھے ہیں کہ مندر کے سامنے سے تعزیہ کا جلوس کس طرح نکلے گا اور مسجد کے سامنے سے مجسمہ وسرجن کا جلوس- مدن سبنواس اور انوجا شاہ کی رپورٹ میں سیکٹر کے حساب سے روزگار کا تجزیہ ہے-

 2015  میں کنسٹرکشن سیکٹر میں -43.7 فیصد ملازمتوں میں کمی آئی  ہے-

2015  میں کیبل میں -20.6 فیصد-

ڈائمنڈ اور جیولري میں -28.4 فیصد-

انجینئرنگ میں -26.4 فیصد ملازمتوں میں کمی آئی ہے-

ہسپتال اور صحت کی خدمات میں -20.5 فیصد-

 کیئر ریٹنگ کی رپورٹ میں آئی ٹی سیکٹر میں 20 فیصد اضافہ ہے، لیکن 19 اکتوبر یعنی کل کے بزنس سٹینڈرڈ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق آئی ٹی سیکٹر میں روزگار بہت تو نہیں، مگر کم ہو رہا ہے- احمد آباد، پونے اور ممبئی سے بزنس اسٹینڈرڈ کے تین صحافیوں نے رپورٹ فائل کی  ہے کہ انجینئرنگ کالجوں میں ملازمتیں کم نکل رہی ہیں اور سیلری میں اضافہ نہیں ہے. بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق، آئی ٹی سیکٹر میں گزشتہ سال کے مقابلے اس سال کیمپس کی ملازمتوں میں 20 فیصد تک کی کمی آ سکتی ہے-

 آئی ٹی سیکٹر میں گزشتہ چھ سال سے بنیادی پیشکش 3 سے ساڑھے تین لاکھ فی سال ہی ہے-

مڈ لیول کے انجینئرنگ کالجوں میں اسی سیلری پر زیادہ تر کو نوکریاں ملتی ہے-

اس حساب سے دیکھیں تو سیلری میں نگیٹو ترقی دیکھنے کو ملتی ہے-

 ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بازار میں بہت بڑی تعداد میں انجینئرس ہو گئے ہیں- اس وجہ سے بھی ان کی ابتدائی سیلری میں گزشتہ چھ سال میں کوئی اضافہ نہیں ہے- یعنی چھ سال پہلے کسی انجینئرکو تین لاکھ پر کام مل جاتا ہے، چھ سال بعد کا بیچ بھی اسی تنخواہ پر جوائن کرتا ہے جبکہ ان چھ سالوں میں کالجوں کی فیس اور پڑھائی کا خرچہ کتنا گنا بڑھ گیا ہوگا. بزنس اسٹینڈرڈ نے کئی کالجوں کے پیلس مینٹ سیل سے بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کیمپس آنے والی کمپنیوں کی تعداد میں تو کمی نہیں ہے، مگر ملازمتوں میں کمی آنے کےاندیشے ہیں-

 پہلے کمپنیاں چار لوگوں کو نوکری پر رکھتی تھیں، تو اب دو لوگوں کو رکھ رہی ہیں-

90 فیصد کمپنیاں گزشتہ سال کی ہی سیلری دے رہی ہیں-

 بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ میں ہیڈ ہنٹر انڈیا کے چیئرمین کرس لکشمی کانت کا بیان شائع ہوا ہیکہ انفوسیس، وپرو اور ٹی سی ایس جیسی چوٹی کی تین کمپنیاں ہر سال دو لاکھ نئے انجینئرز کو نوکری پر رکھتی تھیں، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر 70 سے 80 ہزار ہو گئی ہے. اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بینکنگ، فائنانس سیکٹر اور انشورنس کے علاقے میں جمود آیا ہے. وہاں سے ان آئی ٹی کمپنیوں کو بزنس نہیں مل رہا ہے، لیکن مینوفیکچرنگ اور پبلک سیکٹر کی کمپنیوں میں روزگار بڑھ سکتی ہیں. اگر آپ کیئر ریٹنگ کے اعداد و شمار کو دیکھیں گے تو

 2015 میں مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ملازمتوں میں ترقی کی شرح -5.2 فیصد درج ہوئی ہے-

بینکنگ سیکٹر میں گزشتہ سال صرف 2.1 فیصد رہی ہے-

 مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ملازمتوں میں اضافہ کی کسی بھی تعداد کو ہمیں -5.2 فیصد کے تناسب میں ہی دیکھنا ہوگا. ایک اور بات کا خیال ركھئے گا کہ یہ سارے اعداد و شمار سرکاری نہیں ہیں. الگ الگ ریسرچ ایجنسیوں کے ہیں. اچھا ہوتا کہ اس طرح کے اعداد و شمار حکومت جاری کرتی، لیکن لیبر بیورو کے اعداد و شمار کو کیا حکومت بھی قبول کرے گی کہ 2015 میں ایک لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ ملازمتیں نہیں بڑھی ہیں. لیبر بیورو تو سرکاری ہے. اس کا ایک اور سروے آیا ہے، جس کی بنیاد پر 1 اکتوبر کو ٹائمس آف انڈیا میں سبودھ ورما نے خبر لکھی ہے، جس کے مطابق

 15  سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں بے روزگاری گزشتہ پانچ سال میں سب سے زیادہ ہے-

کام کر سکنے والی آبادی کا ایک تہائی بیکار ہے-

68 فیصد مزدور  خاندانوں کی ماہانہ آمدنی 10000 سے زیادہ نہیں ہے-

 غور کریں 68 فیصد لوگ محض 10000 روپیہ مہینہ کماتے ہیں، لیکن بحث کس پر ہو رہی ہے کہ تعزیہ کا جلوس کدھر سے نکلے اور مجسمہ وسرجن کا جلوس کدھر سے. مسجد کے سامنے لاؤڈ اسپیکرز بجے یا مندر کی آرتی کے وقت اذان. کیا کسی لیڈر نے روزگار بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، یا کسی نے دعوی کیا ہے- لیکن اخبار رنگے ہیں اس بات سے کہ رام مندر بنے گا یا ایودھیا میں میوزیم بنے گا- سبودھ ورما نے لکھا ہے کہ لیبر بیورو نے اپنے نئے سروے میں

 اپریل سے لے کر دسمبر 2015 کے درمیان ایک لاکھ ساٹھ ہزار خاندانوں میں سات لاکھ اسی ہزار سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا ہے.

ہندوستان میں 15 سال سے زیادہ عمر کےمزدوروں کی آبادی 45 کروڑ کےآس پاس ہے-

اس 45 کروڑ میں سے دو کروڑ تیس لاکھ لوگ بے روزگار ہیں-

جنہیں کام مل رہا ہے، ان کو سال بھر کام نہیں ملتا ہے-

اسے   under employment کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، ان کی تعداد 16 کروڑ ہے-

 16 کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں پورے سال کام نہیں ملتا ہے-  کیا واقعی اتنی سنگین صورت حال ہے- کیا آج کا نوجوان جسے ملازمت چاہئے وہ ان یقین دہانیوں پر گھر بیٹھ سکتا ہے کہ 2025 یا 30 تک روزگار بڑھنے لگیں گے- آئے دن بزنس اخباروں میں معیشت کو لے کر طرح طرح کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں- کچھ خبروں میں بحران کی تصویر نظر آتی ہے، کچھ خبروں میں بحران پر قابو پانے کی تصویر نظر آتی ہے تو کچھ خبروں میں بہت اچھی تصویر نظر آتی ہے لیکن کوئی ایک تصویر نہیں نظر آتی ہے-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close