آج کا کالم

تاریخ بھی کہیں بدلی جاسکتی ہے!

ڈاکٹر عابد الرحمن

’بہت لوگوں کو بڑا درد ہوا کہ آگرا کا تاج محل تاریخی مقامات سے نکال دیا گیا، کیسا اتیہاس، کہاں کا اتیہاس،کونسا اتیہاس، کیا وہ اتیہاس کہ تاج محل کو بنانے والے نے اپنے باپ کو قید کیا تھا،کیا وہ اتیہاس کہ تاج محل بنانے والے نے اتر پردیش اور ہندوستان سے سبھی ہندوؤں کا سرو ناش کر نے کا کام کیا تھا۔ ایسے لوگوں کااگر آج بھی اتیہاس میں نام ہو گا تو یہ دربھاگیہ (افسوس )کی بات ہے اور میں گارنٹی کے ساتھ آپ سے کہتا ہوں کہ اتیہاس بدلا جائے گا۔ ۔۔۔۔ پچھلے بہت سالوں میں ہندوستان اور اتر پردیش میں اتیہاس بگاڑ نے کا کام کیا گیا ہے آج ہندوستان اور یوپی کی سرکار اس اتیہاس کو صحیح راستے پر لے جانے کا کام کر رہی ہے۔ بھگوان رام چندر سے لے کر کرشنا سے لے کر مہارانہ پرتاپ کا اتیہاس شیواجی راؤ کا اتیہاس آج کتابوں میں لانے کا کام کر رہی ہے اور کلنک کتھا جو کتابوں میں لکھی گئی ہے چاہے اکبر ہو چاہے اورنگ زیب ہو یا بابر ہو ان کے اتیہاس کو نکالنے کا کام کر رہی ہے سرکار ‘ یہ بیان بی جے پی کے ایم ایل اے سنگیت سوم کا ہے جو انہوں نے میرٹھ میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے دیا۔ بہت عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ سنگھ تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے چلو آج انہی کے ایک رکن اسمبلی نے اس کا ثبوت دے دیا اچھا ہوا۔ لیکن انہیں بھی تاریخ کا کتنا علم یہ ان کا منھ کھلتے ہی معلوم ہو گیا۔

تاج محل بنانے والے شاہ جہاں نے اپنے باپ جہاں گیر کو قید نہیں کیا بلکہ شاہ جہاں کو اس کے بیٹے اورنگ زیب نے آگرا قلعہ میں قید کردیا تھا۔ خیر ملک میں مسلمانوں کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کوئی نیا کام نہیں ہے آزادی کے بعد ہی سے مسلم ناموں والے شہروں سڑکوں چوراہوں وغیرہ کے نام بدلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو اب بھی جاری ہے۔اسی طرح ملک میں مسلم حکمرانوں کی تاریخ کو منفی انداز میں پیش کر نے کی کو شش کی جارہی ہے۔ انہیں ظالم اور ہندو دشمن ظاہر کر نے کے لئے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کے ذریعہ بنائی گئی عمارتیں ہندو مندروں کو توڑ کر بنائی گئی تھیں، بابری مسجد رام مندر معاملہ تو اب بہت پرانا ہو چکا ہے جس میں بظاہر تاریخ بدلنے کے لئے بابری مسجد کو شہید کردیا گیا لیکن تاریخ تو نہ بدلی جا سکی بلکہ یہ مسماری بھی بجائے خود تاریخ بن گئی اب اگر وہاں رام مندر بن بھی جائے توجب جب تاریخ اس کا ذکر کر ے گی یہ ضرور کہے گی کہ وہاں پہلے بابری مسجد معرض وجود میں تھی اور کس طرح اسے مسمار کیا گیا اور پھر رام مندر بنایا گیا۔

اسی طرح تاج محل کے متعلق بھی کافی عرصہ سے ایسے ہی شوشے چھوڑے جا رہے ہیں کہ تاج محل کسی ہندو راجہ نے بنوایا تھا یا وہ شیو مندر توڑ کر بنایا گیا تھا یا وہ تیجو مہالیہ مندر پر بنایا گیا، اس ضمن میں عدلیہ میں بھی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جو زیادہ تر مسترد ہوگئیں اور کچھ ابھی بھی پینڈنگ ہیں لیکن خاص طور سے یو پی میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد سے تاج محل کو سرکاری طور پر نظر انداز کرنا شروع کردیا گیا پہلے کہا گیا کہ تاج محل بھارتی سنسکریتی کا حصہ نہیں ہے پھر ریاستی سرکار نے اسے صوبہ کے تاریخی سیاحتی مقامات کی فہرست سے خارج کردیا اور اب اسکی حمایت میں سنگیت سوم نے مذکورہ فلسفہ بیان کیا۔ یہ دراصل بر سر اقتدار پارٹی اور اسکی تنظیم مادر کی کوتاہ ذہنی اور کم ظرف کی نشانی ہے۔ جو دراصل وکاس کے پاگل ہو کر ہاتھ سے نکل جانے کے غم اور ہڑ براہٹ میں عیاں ہوئی جارہی ہے۔

لیکن کیا صرف تاج ہی غداروں اور لٹیروں کی نشانی ہے؟ پورے ملک میں کئی عمارتیں ایسی منفرد عمارتیں ہیں جو مغلوں نے دی ہیں اور یہی نشانیاں ملک کی عظمت بیان کرتی ہیں اورانہی سے ہندوستان پہچانا جاتا ہے اور انہیں ہی دیکھنے کے لئے لاکھوں غیر ملکی سیاح ہندوستان آتے ہیں جس سے ملک کو کروڑوں روپیوں کی آمدنی ہوتی ہے، اور اگر بر سر اقتدار پارٹی کا کوئی ممبر انہی کو گالی دے تو اس کا مطلب ہے’ جس تھالی میں کھانا اسی میں چھید کر نا‘ کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ کیا  بی جے پی اور سنگھ میں ہمت ہے کہ وہ ملک میں موجود مسلم حکمرانی کی تمام نشانیاں مٹادیں گی انہیں مسمار کرکے وہاں ہندو تہذیب بنام ہندوستانی تہذیب کی نشانیاں قائم کر ے گی ؟ اور اگر ایسا کیابھی گیا تو کیااس سے تاریخ بدل جائے گی ؟تاریخ بھی کہیں بدلا کرتی ہے ؟ہمارے خیال سے تاریخ لکھی ہی نہیں جاتی یعنی یہ کسی مصنف کا خیال یا کسی شاعر کاتخیل نہیں ہوتا تو اسکا بدلنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ تاریخ دراصل ماضی میں انسانوں کی حقیقی داستان ہے، یہ مختلف ادوار میں مختلف مقامات پربسنے والے انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات کی سر گزشت ہے، جو خود بخود مرتب ہوتی جاتی ہے ان کے رہنے سہنے کی جگہوں، ان کی تہذیب و تمدن، ان کے ذریعہ کئے گئے کام،ان کی تعمیرات، اوران کے اخلاق و کردار کے ذریعہ، اسی طرح یہ ان لوگوں کے ذریعہ سر زد ہونے والے واقعات، انکی کامیابیوں اور ناکامیوں کے ذریعہ کہ جو قرب وجوار پر اپنے اثرات مرتب کرتے جاتے ہیں۔ انہی داستانوں کو لکھ کر محفوظ کرنا علم تاریخ اور فن تاریخ ہے۔ اور عرف عام میں اسے ہی تاریخ کہا جاتا ہے اوریہ اس وقت تک قابل قبول نہیں ہو سکتی جب تک کہ حقائق پر مبنی نہ ہو، اور اسی لئے اس کو بدلنا آسان نہیں۔

 یہ بات پتھر کی لکیر ہے کہ لاکھ کوششوں سے بھی حقائق کو بدلا نہیں جاسکتا تو ان حقائق کو کیسے بدلا جاسکتا ہے جو تاریخی طور پر حقیقاًوقوع پذیر ہوئے ہوں، گوکہ تاریخ کو بدلنے کی کوششیں ہوتی ہیں لیکن ایسی ہر کوشش ناکام ہی ہوتی ہے کیونکہ لاکھ چھپانے کے باوجود بھی آثار و قرائن حقیقت کی نشاندہی کر ہی دیتے ہیں۔ اور ویسے بھی تاریخ تو وہ ہوتی ہے کہ اگر تحریری طور پر اسے بدل بھی دیا جائے اور اس کی نشا نیاں زمانے کی گرد میں دب بھی جائیں تو وہ ہڑپا اور موہن جو دارو کی طرح واپس نکل پڑتی ہے اور اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کی پوری اجتماعی زندگی تہذیب و تمدن کو آشکارا کر دیتی ہے۔ تاریخ کو بدلا تو نہیں جاسکتا البتہ اس سے پیچھا چھڑایا جا سکتا ہے اور اس کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے پچھلی تاریخ کے مقابلہ بہتر تاریخ رچنا، ویسے بھی یہ بات بڑی مشہور ہے کہ تاریخ لکھی نہیں بلکہ بنائی یا رچی جاتی ہے اور یہی تاریخی رچنا پچھلی تاریخ کو دبا کر نئی تاریخ بن سکتی ہے۔ مثلاً جب کوئی ریکارڈٹوٹتا ہے تولوگ اس کو بھول جا تے ہیں اور نیا ریکارڈان کے ذہن میں بس جاتا ہے۔

 لیکن جو لوگ کو ئی نئی اور درخشاں تاریخ نہیں بنا سکتے، پرانا ریکارڈ نہیں توڑ سکتے وہ اگر کم ظرف ہوں تونئی تاریخ بنانے کی کوشش کر نے کی بجائے الٹی سیدھی تفہیم و تعبیر کے ذریعہ تاریخی حقائق کو مسخ کر نے کی کوشش کرتے ہیں پچھلی تاریخ رچنے والوں کو یعنی ریکارڈ بنانے والوں کوطعن و تشنیع کا نشانہ بنا کر اپنے لئے سامان تسکین کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے لوگ اقتدار میں پہنچ جائیں تو یہ پرانی تاریخ کی بجائے ان کے ذریعہ مسخ شدہ تاریخ کو رواج دیتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں گھس پیٹھ کر کے نئی نسل کو اصل تاریخ سے نابلد کر اپنی مسخ شدہ تاریخ ان کے اذہان میں بھر دینے کا سامان کرتے ہیں۔ لیکن اسکے باوجود اس طرح کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں یہ آخر تک مشتبہ ہی ہوتی ہیں اور اس کے حاملین بھی جب گہرائی میں جاتے ہیں تو حقیقت ان پر آشکارا ہو ہی جاتی ہے۔ اور اب تو فن تاریخ انتہائی ترقی کر چکی ہے جس میں تمام تر تاریخی واقعات کو سائنسی طریقے سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ایک جگہ کے لوگ اگر اپنے تعصب یا جانبداری کی وجہ سے اگر کسی تاریخ کو مسخ کر نے کی کوشش کریں تو دوسری جگہ کے لوگ اس کی حقانیت پیش کر کے انہیں آئینہ دکھا کر ان کو مشتبہ کردیتے ہیں جس سے حقائق جاننے کی عام  خواہش مزید اجاگر ہوتی ہے،جو تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کر نے والوں کو مزید ناکام کر دیتی ہے۔اور ہمیں یقین ہے کہ یہی وطن عزیز میں بھی ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close