آج کا کالم

تاریخ کے پنجوں میں پھنسی آرٹ کی گردن

ڈاکٹر وجے اگروال

‘پدماوتي’ فلم کے بارے میں اب مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈ نے ایک نیا فیصلہ لیا ہے. بورڈ نے مؤرخین کی ایک چھ رکنی کمیٹی قائم کی ہے جو اس فلم کے تاریخی حقائق کی درستگی کی جانچ کرے گی. کمیٹی کی تشکیل اس لئے کی گیی ہے، کیونکہ فلمساز نے اس میں سچے تاریخی حقائق کے ہونے کی بات کہی ہے.

بورڈ کا یہ فیصلہ دانشوروں، فلم سازوں، فنکاروں اور یہاں تک کہ خود مؤرخین کے دماغ میں کئی طرح کے سوالات اور خدشات کو جنم دینے والا بن گیا ہے. ان بہت سے سوالات میں جو پہلا اور سیدھا سادہ سا سوال ہے، وہ یہ کہ کیا ایسا اس سے پہلے کی تاریخ پر مبنی فلموں کے لئے بھی کیا گیا تھا؟ اور کیا اب ایسا آگے کی تمام ایسی فلموں کے ساتھ کیا جائے گا؟ اگر جواب ہے-نہیں، جو کہ ہونا چاہئے، تو پھر ‘پدماوتي’ کے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ اس کا جواب جگ ظاہر ہے. عوام کی مخالفت کی وجہ سے. یعنی کہ اب تاریخ پر مبنی فلموں کو خود کو تین كسوٹيوں میں ثابت کرنا ہوگا-سرٹیفیکیشن بورڈ، تاریخ کمیٹی اور عوامی اعتقاد. اس پر بھی طرہ یہ ہے کہ کمیٹی میں میواڑ راج پریوار کے فرد کو کو بھی رکن رکھا گیا ہے.

بورڈ کا یہ فیصلہ انتہائی مضحکہ خیز اس لئے بھی ہے کہ یہ فلم این سی ای آرٹی کی تواریخ کی کتاب کے طور پر نہیں بنایی گیی ہے. یہ کوئی دانشورانہ خیال یا تاریخی تحقیق بھی نہیں ہے. یہ تاریخ کی رنگت کو لئے ہوئے ایک فنکارانہ تخلیق ہے. فن میں اترنے کے بعد جب موجودہ حقیقت ہی حقیقت نہیں رہ جاتی، تو بھلا ماضی کے حقیقت اس کی ظاہری شکل کی حفاظت کیسے کر سکتی ہے؟

آرٹ کی بات تو چھوڑیے. کیا تاریخ بھی اپنے آپ میں اپنے وقت کے صحیح عکس کو پیش کرتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو آج وقت کے ایک ہی ٹکڑے کے بہت سے رنگ دیکھنے کو نہیں ملتے. اٹلی کے نامور مفکر كروچے نے جب کہا تھا کہ ” تمام تاریخ معاصر تاریخ ہے، ” تو ان کا مطلب یہی تھا کہ ہر موجودہ شخص اپنے ماضی پر اپنے طریقے سے غور کرتا ہے. اس کے نتیجے میں تاریخ یک رنگی نہ ہوکر رنگ برنگی ہوتا جاتی ہے.

اسی نقطہ پر آکر تاریخ اور آرٹ ایک دوسرے میں پیوست دکھائی پڑتے ہیں. ایسا اس لیے، کیوں کہ تاریخ کی تشریح کے عمل میں تخمینہ (تصور) کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے. پھر چاہے اس کے حق میں کتنے بھی دستاویزی ثبوت کیوں نہ موجود ہوں. سچ تو یہی ہے کہ خود تاریخ کے آخری سچ کے طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا، سوائے تاریخوں اور ناموں جیسے عام آنکڑوں کے.

‘پدماوتي’ کی تاریخی کے بارے میں فیصلہ کرنا تو اور بھی زیادہ مشکل، تقریبا ناممکن سا ہے. جب واقعات پر مبنی حقائق کی سچائی کا ہی صحیح صحیح پتہ نہیں لگایا جا سکتا، تو بھلا اس کی سچایی کا امتحان کس طرح کیا جا سکتا ہے، جو بنیادی طور پر دیو مالایی کہانیوں پر مبنی ہے. جايسي کی ‘پدماوتي’ کی بنیاد تاریخ نہیں، بلکہ یہ دیو مالایی کہانیاں ہی تھیں. كارل ماركس اور اینجلس نے ایسے متعدد لوك گيتوں اور لوک کتھاؤں کی جانب اشارہ کیا ہے، جن میں سماج کا مرم منعکس ہوا ہے. اس طرح یہ کہانیاں معاشرے کے جذبات کی تو عکاسی کر سکتی ہیں، لیکن تاریخی سچائی کی نہیں. خاص طور پر وہاں تو بالکل بھی نہیں، جہاں اس وقت تک تاریخ لکھنے کی اچھی خاصی روایت قائم ہو چکی ہو.

کل ملا کر بورڈ کا یہ فیصلہ مستقبل کے آرٹ کے لئے بہت خطرناک اور دم گھونٹو ہے. اور کوئی تعجب نہیں کہ اس کے بعد سے تاریخ اور آرٹ کے درمیان تعلقات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹوٹ ہی جائیں. وہ لمحے انتہائی دکھ بھرے ہوں گے اور تخلیقی صلاحیتوں کے نقطہ نظر سے انتہائی لعنت زدہ  بھی.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close