آج کا کالم

تبدیلی پلیٹ میں نہیں سیاست میں کرنے کی ضرورت ہے

سوال کسی دلت کے گھر نئی چمکتی پلیٹ میں لوکی کا كوفتا کھانے کا نہیں ہے. سوال یہ بھی نہیں ہے کہ کبھی راہل گاندھی نے ایسے ہی کھایا تھا تو وزیر اعظم نریندر مودی نے سیاحت کہہ کر مذاق اڑایا تھا اور آج جب امت شاہ کسی بہت ہی پسماندہ گرجابند کے گھر کھا رہے ہیں تو کانگریس مذاق اڑا رہی ہے. کانگریس کو خود سے ایک سوال کرنا چاہئے. کیا بی جے پی کے اس حملے سے راہل گاندھی نے گاؤں کے گھروں میں جانا رہنا اور کھانا چھوڑ دیا ہے؟ بی جے پی کو خود سے ایک سوال کرنا چاہئے کہ وہ راہل گاندھی کے ایک ناکام آّئیڈیے کی نقل کیوں کرنا چاہتی ہے؟ لیکن یہ سوال تو تب پوچھا جائے گا جب یہ ثابت ہو جائے کہ دلت پسماندہ طبقات کے گھر کھانے کی مہم کیا راہل گاندھی اور امت شاہ نے شروع کی ہے.

ویسے بی جے پی کی جانب سے میڈیا کو بھیجے گئے دعوتی مکتوب میں گرجابند کو دلت بتایا گیا ہے جبکہ بند انتہائی پسماندہ ہیں. بنارس سے ہمارے ساتھی اجے سنگھ نے بتایا کہ بند اور راج بھر کئی سال سے ایس سی (شیڈولڈ کاسٹ) میں شامل کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں. بند ماہی گیری سے منسلک ہوتے ہیں اور کھانے پینے میں گوشت خور ہوتے ہیں. پترکا ڈاٹ کوم کے ڈائیرکٹر اجے کرشن چترویدی نے جب ریاستی صدر موریا جی سے پوچھا تو انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ گرجابند دلت نہیں ہیں. ہمارے ساتھی اجے سنگھ نے بتایا کہ گرجابند پہلے اپنا دل میں تھے. پھر سماج وادی پارٹی سے جڑے اور اب بی جے پی سے جڑے ہیں لیکن بی جے پی کے رہنما کہتے ہیں کہ وہ پارٹی کے حامی ہیں.

مل کر کھانا کھانا اور انٹرکاسٹ شادی ہندوستانی سماجی تحریک کا قائم شدہ پروگرام ہیں. ہندوستان کی تحریک آزادی میں ڈاکٹر امبیڈکر اور معاشرے کے اصلاح کاروں  کا اثر بڑھنے لگا تو اس طرح کے پروگرام ہونے لگے. پینے کے پانی کا حق اور مندر میں داخلہ کی تحریک کی داغ بیل ڈاکٹر امبیڈکر نے ہی ڈالی. بعد میں ابتدائی سماج وادی تحریکوں نے جنےاو توڑنے سے لے کر سنگھ شرما ہٹا کر کمار رکھنے کا بھی دور دکھا. ان سب کا کچھ تو اثر رہا ہوگا لیکن ذات پات  کے ڈھانچے میں ان سے کوئی بہت بڑی دراڑ نہیں پڑی. کیونکہ کھانے اور نام تبدیل کرنے کا راستہ سب سے آسان تھا.

دراصل کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اسے ایک پروگرام کے تحت کھایا جاتا ہے. دلتوں کے گھر کھانا تب کھانا مانا جائے جب اس گاؤں کے لوگ بغیر راہل گاندھی اور امت شاہ کے کھانے لگیں. دونوں کچھ لوگوں کے ساتھ باہر سے اس گاؤں کے ایک گھر میں گئے اور کھائے. کیا گاؤں کے لوگوں نے ان کے گھر ان سب کے جانے کے بعد کھایا؟ انہیں شاید نہیں معلوم ہو کہ ان کی پارٹی کا چھوٹا نیتا روز یہ کام کرتا ہے. کچھ رکن پارلمینٹ اور رکن اسمبلی بھی کرتے ہیں. شادی جلوس میں جانا پڑتا ہے اور کھانا پڑتا ہے. میڈیا کو جوگيا پور کے اعلی ذات سے پوچھنا چاہیے تھا کہ کیا آپسی کھان پان کا سلسلہ شروع ہوا ہے، کیا وہ بالکل نہیں کھاتے، کیا وہ امت شاہ کے جانے کو بعد گرجابند کے گھر کھانا پسند کریں گے. مگر صحافی اور کیمرا بڑے لیڈروں کا طواف کرکے چلے آئے. اس میں بڑے لیڈروں کی کوئی غلطی نہیں ہے.

گجرات کے ایک دلت سرپنچ نے کہا ہے کہ پنچایت میں ان کے لئے مختلف کپ اور گلاس ہے. دوسری ذات کے لوگ ان میں نہیں پیتے. امت شاہ گجرات میں ایسی چھوت چھات کے بارے میں بات کرتے ہوں، مجھے واقعی معلومات نہیں ہے لیکن راہل گاندھی اور امت شاہ دونوں کو گجرات کے دیہات میں بھی جانا چاہئے اور وہاں تمام اعلی ذات کو لائن سے کھڑا کرکے کہنا چاہئے کہ فلاں دلت سرپنچ  اپنے گھر کے پرانے گلاس سے پانی دے رہے ہیں اور آپ سب پانی پی لو اور انہیں خود بھی سب کے سامنے پانی پی لینا چاہئے. اس کے باوجود اب کھانے پینے کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے. لوگ کہیں بھی کھا لیتے ہیں.

مندر میں داخلہ اور دلت کے گھر کھانا کھانا ان دونوں کا کھیل دیکھئے. مندر میں پجاری دلتوں کے آنے پر روک لگاتا ہے تو دلت مندر میں داخل ہو کر اس روایت کو توڑتے ہیں. جیسے حال ہی میں بی جے پی کے رکن پارلمینٹ ترون وجے نے خطرہ اٹھایا. دلتوں نے تو کسی کو کھانا کھلانے سے منع نہیں کیا پھر ان کے گھر میں یہ رسوئی پرویش آندولن کیوں چل رہا ہے؟ یہ گھٹیا رسم اعلی ذات نے طے کی تھی. لہذا امت شاہ اور راہل گاندھی کو یہ کہنا چاہئے کہ دلتوں کو لے کر آ رہے ہیں اب اعلی ذات صاحب اپنی روزمرہ کی پلیٹ میں (الگ والی پلیٹ نہیں) پلاؤ رسياو كھلائیے. مگر الٹا ہو رہا ہے. باہمی شراکت میں کھانے کا مقصد کیا ہے؟ صرف کھانا کھانا یا سماجی تبدیلی کے لئے جوکھم اٹھانا. جن لوگوں نے اپنے گھروں میں چھواچھوت کی بندش لگائی ہے ان کے گھر باہمی شراکت میں کھانا ہونا چاہئے یا جن پر یہ بندش لگی ہے ان کے گھر جا کر. سادہ سی بات ہے. مجرم اگر بندش لگانے والا ہے تو اس کے گھر جا کر یہ روایت توڑنی چاہئے. ہے کہ نہیں.

مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ انتخابی سال میں سماجی مصلح بن جانے والے لیڈر انٹر کاسٹ میرج کی وکالت کیوں نہیں کرتے ہیں؟ کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں؟ ذات توڑنے کو لے کر راہل گاندھی، امت شاہ اور مایاوتی کی کیا رائے ہے؟ کیا وہ ذات کو ختم کرنے کے لئے انٹر کاسٹ میرج کی برسرعام وکالت کر سکتے ہیں؟ پھر لو جہاد کا کیا ہوگا؟ لو جہاد تو انٹر کاسٹ میرج کے خلاف ہے. سیاسی جماعتوں کی یہ مہم قوموں کے درمیان چند مسائل پر عملی تال میل بٹھانے کے لئے ہے یا اس استحصالی سماجی نظام کو ختم کرنے کے لئے. لہذا ایسے پروگراموں کی کوئی اہمیت نہیں ہے.

تبدیلی پلیٹ میں نہیں سیاست میں کرنے کی ضرورت ہے. وقت آ گیا ہے کہ دلت وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر تعلیم بنے. کابینہ کے اگلی توسیع میں بی جے پی صدر امت شاہ کو ان عہدوں پر کسی دلت رہنما کو بٹھانا چاہئے. وزارت  برائے سماجی فلاح وبہبود کو اعلانیہ غیر اعلانیہ طور پر دلت ارکان پارلیمنٹ کے لئے ریزرو وزارت مان لیا گیا ہے. اسے تبدیل کرنا چاہئے. وہاں کوئی غیر دلت وزیر بنے. ریوینو افسر رہے۔ ادت راج جیسے لوگ وزیر صنعت یا ریوینو وزیر کیوں نہیں بن سکتے ہیں؟ اب تو ادت راج نے دلت جدوجہد کا اپنا راستہ چھوڑکر بی جے پی کے ہندوتوا کا راستہ چن لیا ہے پھر بھی وہ قابل تو ہیں ہی. بیکانیر ریزرو سیٹ سے منتخب ہوئے بی جے پی کے رکن پارلمینٹ ارجن میگھوال آئی اے ایس افسر رہے ہیں. فلپنس یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے. یہ دونوں دلت رہنما انگریزی ہندی اچھا بولتے ہیں. انہیں کیوں نہیں کام والی وزارت تفویض کی جاتی ہے. ایسے رہنما ہمیشہ سماجی فلاح وبہبود کے وزیر ہی کیوں بنتے ہیں. سیاسی جماعتوں کے ایسے باصلاحیت دلت رہنما اپنی طرف سے دعویداری کیوں نہیں کرتے ہیں؟

باہمی شراکت اور ساتھ میں کھانا پینا ان جگہوں پر نظر آنی چاہئے. ہمارے ملک کی جمہوریت میں ابھی وہ دن نہیں آیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت کسی مسلمان یا دلت کو جنرل سیٹ سے کھڑا کر دے. اس لئے ہر کوئی اشاراتی سوالات کی تلاش میں ہے، انقلاب کوئی نہیں کرنا چاہتا. کوئی پسماندہ میں انتہائی پسماندہ بنا رہا ہے، کوئی انتہائی پسماندہ میں کچھ کو دلت بنا رہا ہے تو کوئی دلتوں میں مہادلت. ووٹ کی سیاست نئے مساوات مانگتی ہے. ہمیشہ سماجی تبدیلی نہیں لاتی ہے. اقتدار بدل جاتا ہے مگر سماج نہیں بدلتا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close