آج کا کالم

ترقی پر قرض کا بالائی سایہ (1/2)

سچن جین

ہو سکتا ہے کہ اقتصادی معاملات سے متعلق یہ تحریر آپ کو بہت بوجھل لگے، لیکن آپ اسے اگر معیشت کی سیاست کے نظریے سے دیکھنے کی کوشش کریں گے، تو آپ ان ہمہ گیر اثرات کو آسانی سے سمجھ پائیں گے. بہرحال اس تجزیہ کو پیش کرنے کا مقصد اعداد و شمار کی بوچھار کرنا نہیں ہے. دراصل اس کا مقصد موجودہ تناظر میں عام لوگوں کو، جو مانتے ہیں کہ اقتصادی پالیسیوں سے ہمیں کیا لینا دینا، معیشت کے ایک انتہائی سنگین پہلو سے روشناس کرانا ہے.

ہم سب مسلسل اقتصادی ترقی کے پہلوؤں کے تناظر میں حکومت کی طرف سے ایک بیان کو بار بار سنتے رہتے ہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سڑکیں بنی ہیں، بجلی زیادہ مل رہی ہے، اسپتال بھی زیادہ بن گئے ہیں، عمارتیں اور منازل اب بہتات میں ہیں. اب سوال یہ ہے کہ یہ جو حاصل ہے، وہ کس طرح حاصل ہوا ہے؟ یہ سب کچھ کتنا پائیدار ہے؟ کیا ایک فرد اور سماجی مخلوق ہونے کے ناطے ہم یہ مانتے ہیں کہ قرض دار ہو کر سہولیات جمع کر لینا ایک اچھی پالیسی ہے؟ کبھی ہماری ترقی کی شرح 4 فیصد ہو جاتی ہے، تو کبھی 6 فیصد، کبھی 7 اور 7.5 فیصد. اسے ہی شرح ترقی (Growth Rate) بھی کہا جاتا ہے. اصل میں یہ شرح ترقی ہوتی کیا ہے؟

معیشت کے سالانہ فگر اور ڈھانچہ کا اندازہ اس رقم سے کیا جاتا ہے، جتنا مالی لین دین اس سال میں کیا گیا؛ اس میں پیدوار شامل ہے. دوسرے طور پر کہیں تو تمام طرح کے سامان اور اشیاء کی خرید و فروخت، خدمات کی فیس (وکیل، ڈاکٹر، نل سدھروانے، مشورہ لینے وغیرہ)، نقل و حمل، زراعت، صنعت، کان کنی، بینک کاری جیسے میدانوں میں جتنا لین دین کا کاروبار ہوتا ہے، اس رقم کو جوڑ کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں کل کتنی رقم کا اقتصادی معاملہ ہوا، یہ اس سال کا مجموعی ملکی پیداوار (یعنی گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ- جی ڈی پی) سمجھا جاتا ہے.

اس سال کا جی ڈی پی گزشتہ سال کے جی ڈی پی سے کتنا زیادہ ہوا، اس فرق کو ہی جی ڈی پی میں اضافہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے. اس تعریف میں یہ تو دیکھا جاتا ہے کہ دواؤں اور اسپتالوں کا بازار کتنا بڑھا، لیکن یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ لوگوں کی صحت کتنی بہتر ہوئی. اب اگر لوگوں کی صحت بہتر ہو گی تو ممکن ہے کہ ادویات اور اسپتالوں کا بازار کم ہوتا جائے گا. اگر ایسا ہوا تو جی ڈی پی میں کمی آئے گی، جسے ہماری موجودہ اقتصادی پالیسیوں اور ترقی کی شرح کے اعتبار سے منفی تصور کیا جائے گا.

یہی بات کان کنی پر بھی لاگو ہوتی ہے. ہم قدرت کے جسم کو یعنی پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں، مٹی کو جتنا زیادہ كھودیں گے یا اس کا استحصال کریں گے، اتنے وقت کے لئے "دولت کی آمد” زیادہ ہوگی. پھر ہم مانتے ہیں کہ اپنی املاک بڑھ گئی ہے. اعداد و شمار بھی یہی دکھانے لگتے ہیں، لیکن "نجی املاک” بڑھانے کے لئے ہم نے کتنی "قدرتی املاک” کو برباد کیا، یہ اقتصادی ترقی کے پیمانوں میں درج نہیں ہوتا ہے.

ہمارے سامنے چیلنج یہ ہے کہ دنیا بھر میں اقتصادی ترقی کو ہی عوامی فلاح وبہبود اور انسانیت کا پیمانہ مانے جانے سے انکار کیا جا رہا ہے، لیکن ہم، ہندوستانی لوگ ابھی بھی ایسے ترقی کے لئے لوٹ پوٹ ہوئے جا رہے ہیں جو بیماری میں اضافہ کرتا ہے. یہ صرف جسمانی بیماری نہیں بڑھا رہا ہے، بلکہ سماجی و اقتصادی و سیاسی اور ساختیاتی بیماریوں کو نیا مقام دے رہا ہے.

ہم یہ نہیں سوچ پا رہے ہیں کہ اضافہ کی شرح کو ترقی کی شرح نہیں سمجھا جانا چاہئے. اضافہ کی شرح صرف معیشت کے فگر کو علامتی طور پر پیش کرنے کے لئے گھڑا گیا نظریہ ہے. جبکہ ترقی کی پیمائش کے لئے صحت، تعلیم، سماجی و اقتصادی و جنسی برابری، سماجی ہم آہنگی، امن، وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے پہلوؤں کا نوٹس لیا جانا اصولی ہوتا ہے. ہم کسی بھی سطح پر اس اصول پر عمل نہیں کرتے ہیں.

ہماری پسماندگی کی سطح یہ ہے کہ اب تک ان معیاروں کی بنیاد پر انسانی ترقی کو ہر سال پیمائش کا کوئی پیمانہ ہم تیار ہی نہیں کر پائے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں غذائیت اور صحت سے متعلق کل ہند اعداد و شمار 8 سے 10 سال میں ایک بار جاری ہوتے ہیں. زچگی موت کی سطح کو 5 سے 6 سال میں ایک بار جانچا جاتا ہے. بچوں کی شرح اموات کے اعداد و شمار 2 سے زیادہ سال تاخیر سے آتے ہیں. ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ انسانی ترقی کے ان فہرستوں کی کوئی خاص اہمیت ” شرح ترقی ” میں ہوتی نہیں ہے.

حال ہی میں بتایا گیا کہ بھارت اب بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جہاں اقتصادی ترقی کی شرح زیادہ رہتی ہے. ہم چین سے بھی تیز رفتاری سے ترقی کر رہے ہیں. ہم ایک اقتصادی سپر پاور ہیں. کبھی یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ گزشتہ 2-3 دہائیوں سے ہم جن قدرتی وسائل کو "وحشیانہ طریقے سے نچوڑ” رہے ہیں، وہ اس "ترقی” کی خاطر اگلے 35 سے 45 سالوں میں تقریبا ختم ہو جائے گا؛ تو کیا کریں گے؟ کیا ترقی کی زندگی صرف انسانوں کی ایک نسل کے برابر ہونی چاہئے؟

اب تک کی گفتگو آپ کو نصیحت آموز لگی ہوگی. اب ذرا اس بات پر غور کیجئے کہ ہم جو ترقی کر رہے ہیں، یہ تو طے ہے کہ اس میں وقار اور مساوات تو نہیں ہی ہے، لیکن کیا اس میں خود کفیلی کا ایک بھی جزء ہے؟ آزادی کے بعد ملکی ترقی کے لئے حکومتوں نے پالیسی کا راستہ اپنایا. ترقی کی پالیسی کا مطلب ہوتا ہے دستیاب وسائل (انسانی- قدرتی) کا ذمہ دارانہ اور جوابدارانہ استعمال کرتے ہوئے باعزت-باوقار اور اپنی صلاحیت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی مقام کو حاصل کرنا؛ لیکن کیا ہندوستان نے ایسی ہی کسی سوچ کو اپنایا ہے؟ جواب ہے – نہیں. دراصل اپنی روز مرہ زندگی کی ضروریات بڑھاتے ہوئے ہم اتنا آگے بڑھ گئے کہ ہندوستان کو "قرض کی معیشت” کو "ترقی کی معیشت” کے کپڑے پہنانا پڑے.

آزادی کے بعد سال  1950-51 میں ہندوستان کی حکومت پر کل 3059 کروڑ روپئے کا قرض تھا. جانتے ہیں سال 2016-17 کے بجٹ کے مطابق ہندوستانی حکومت پر کل کتنا قرض ہے؟ یہ رقم ہے 74.38 لاکھ کروڑ روپئے؛ حکومت پر اپنے بجٹ سے ساڑھے تین گنا زیادہ کا قرض ہے.

گزشتہ 66 سالوں میں ہندوستان کی حکومت پر جمے ہوئے قرض میں 2431 گنے کا اضافہ ہوا ہے اور یہ مسلسل بڑھتا گیا ہے. ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ یہ قرض آگے نہ بڑھے اور اس کی ادائیگی بھی شروع کی جائے. جس سطح پر یہ رقم پہنچ گئی ہے، وہاں سے اس میں کمی لانے کے لئے ملک کے لوگوں کو کانٹے کا تاج پہننا پڑے گا. سوال یہ ہے کہ جب اتنی بڑی مقدار میں قرض بڑھا ہے، تو کیا لوگوں کی زندگی میں اتنی ہی بہتری آئی؟

اعداد و شمار تو ایسا نہیں بتاتے ہیں. ہندوستانی اقتصادی سروے کے مطابق سال  1950-51 میں مروجہ قیمتوں کی بنیاد پر فی کس نیٹ قومی آمدنی 274 روپئے تھی. جو سال  2015-16میں بڑھ کر 93231 روپئے ہو گئی. یہ اضافہ ہے 340 گنے کا. کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنا قرض حکومتوں نے لیا، اس نے بہت نتیجہ خیز کردار نہیں ادا کیا ہے. حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں انفراسٹرکچر ڈھانچے کی ترقی، نقل و حمل، صنعت کاری، صحت، قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور ترقی- منفعت بخش منصوبوں کے نفاذ کے لئے اسے قرض لینا پڑتا ہے.

"اضافہ کی شرح کو ترقی کی شرح” ماننے والے نظریے سے یہ دلیل ٹھیک ہو سکتی ہے، لیکن عوامی فلاح وبہبود اور مستحکم ترقی کے نقطہ نظر سے اس دلیل کی عمر بہت زیادہ نہیں ہوتی ہے کیونکہ قرض لے کر شروع کی گئی ترقی ایک دلدل کی طرح ہوتی ہے، جس میں ایک بار آپ  غلطی سے یا اپنی بے قراری کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اترتے ہیں، اور پھر اس میں ڈوبتے ہی جاتے ہیں. ہماری معیشت کی ترقی کی شرح کوئی 6 سے 8 فیصد کے درمیان رہتی ہے، لیکن عوامی قرض (مرکزی حکومت کی طرف سے لئے جانے والا قرض) کی شرح ترقی 12 فیصد سالانہ ہے. یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ایک طرف تو قدرتی وسائل کا جو بے جا استعمال ہو رہا ہے، وہ سماج-انسانیت کے لئے طویل مدتی بحران پیدا کر رہا ہے، اس پر بھی اس کا فائدہ سماج اور ملک کو نہیں ہو رہا ہے. اس بے جا استعمال سے ملک کے 100 بڑے گھرانے اپنی حیثیت ایسی بنا رہے ہیں کہ وہ سماج کو اپنی اقتصادی نوآبادی بنا سکیں. اس میں ایک حد تک وہ کامیاب بھی رہے ہیں.

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اقتصادی نوآبادی بنتے سماج کو ترقی ہونے کا احساس کروانے کے لئے حکومت کی طرف سے اور زیادہ قرض لئے جا رہے ہیں. ہمیں اس تضاد کو جلد از جلد سمجھنا ہوگا اور ترقی کی ایسی تعریف وضع کرنی ہوگی جسے سمجھانے کے لئے حکومت اور ماہرین کی ضرورت نہ پڑے. لوگوں کی ترقی ہونی ہے تو لوگوں کو اپنی ترقی کی تعریف کیوں نہیں وضع کرنے دی جاتی ہے؟

اقتصادی ترقی کی موجودہ تعریف بہت گہرائی تک پھنساتی ہے. یہ پہلے امید اور توقعات  بڑھاتی ہے، پھر ان کی تکمیل کے لئے سماج کے بنیادی اقتصادی ڈھانچے پر سمجھوتے کرواتی ہے، شرائط رکھتی اور سماج کے وسائل پر اجارہ داری مانگتی ہے. اس کے بعد بھی مندی آتی ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لئے اور مراعات مانگتی ہے؛ تب تک ریاست اور سماج اس میں اتنا پھنس چکے ہوتے ہے کہ وہ بازار کے تمام شرائط ماننے کے لئے مجبور ہو جاتے ہے کیونکہ تب تک پیداوار، زمین، بنیادی خدمات سے متعلق میدانوں پر نجی طاقتوں کا قبضہ ہو چکا ہوتا ہے.

ذرا اس مثال کو دیکھئے. سال 2008 میں، جب عالمی کساد بازاری کا دور آیا تب ہندوستان کے بینکوں کے اکاؤنٹ میں 53917 ہزار کروڑ روپئے کے ” غیر پیداواری اثاثہ جات” (نان فارمنگ اسیٹ) درج تھے. یہ وہی قرض ہوتا ہے، جسے چکایا نہیں جا رہا ہوتا ہے یا وقت پر نہیں چکایا جاتا ہے. تب یہ پالیسی بہت تیزی سے آگے بڑھی کہ کساد بازاری سے نمٹنے کے لئے بینکوں سے زیادہ سے زیادہ قرض دیئے جائیں. یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ جو قرض دیا جا رہا ہے، وہ کتنا پیداواری، مفید اور محفوظ گے. سال 2011 سے جو قرض بٹے، ان میں سے بہت سارے غیرپیداواری ثابت ہوئے.

ستمبر 2015 کی صورت حال میں بینکوں کے اکاؤنٹ میں 3.41 لاکھ کروڑ روپئے کے "غیر پیداواری اثاثہ جات” درج ہو گئے. اب اس اکاؤنٹ کی رقم، یعنی جو قرض واپس نہیں آ رہا ہے، کو سرکاری بجٹ سے مدد لے کر ڈسکاؤنٹ اکاؤنٹ میں ڈالنے کا عمل شروع ہو گیا یا ان پر سمجھوتے کئے جا رہے ہیں. اس طرح کی پالیسیوں نے حکومت ہند کے اقتصادی وسائل کے بے جا استعمال کے عمل کو آگے بڑھایا. ان کی وجہ سے بھی حکومت نے نئے قرض لینے کا عمل  جاری رکھا.

علاقہسال 1950-51سال 2015-16اضافہ
فی کس نیٹ قومی آمدنی (حالیہ / مروجہ قیمتوں پر)274 روپئے93231 روپئے340 گنا

 

آخری نجی صرف اخراجات (پیداوار، ضرورت، کاروائی، صرف سمیت تمام اخراجات)9934 کروڑ روپئے8111993 کروڑ روپئے817 گنا

 

مجموعی ملکی پیداوار10401 کروڑ روپئے13567192 کروڑ روپئے1304 گنا

 

حکومت ہند کا قرض3059 کروڑ روپئے6892214 کروڑ روپئے2253 گنا

 

قرض کے سود کی ادائیگی39 کروڑ روپئے442620 کروڑ روپئے

11349 گنا

گزشتہ 66 سال کی اقتصادی پالیسیوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ بھارت کی فی کس نیٹ قومی آمدنی میں 340 گنا اضافہ ہوا ہے، لیکن عوامی قرض کے سود کی ادائیگی میں 11349 گنا کا اضافہ ہوا ہے. کہیں نہ کہیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی قرض کا استعمال آئین کے عوامی فلاح وبہبود والی ریاست کے اصول کو مضبوط کرنے کے لئے ہو رہا ہے یا نہیں؟ یہ پہلو تب اہم ہو جاتا ہے جب ملک میں 3 لاکھ سے زیادہ کسان خود کشی کر چکے ہوں اور 20 کروڑ لوگ ہر روز بھوکے رہتے ہوں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سچن جین

سچن جین تحقیقی مضمون نگار اور سماجی کارکن ہیں.

متعلقہ

Back to top button
Close