آج کا کالم

تمہارا فیصلہ جاناں ہمیں بے حد پسند آیا

آج بی جے پی سرکار کے چلتے یہ  نوبت آگئی  ہے کہ ’سارے ہندو تو زانی نہیں ہیں لیکن سارے زانی ہندو ضرور ہیں‘۔

ڈاکٹر سلیم خان

(آسارام باپو  اور علیم الدین انصاری)

آسارام باپو  کو عمر قید کی سزااورجھارکھنڈ میں ہجومی تشدد میں ملوث ۱۱ لوگوں کو دس دس سال کی سزا  ایک ساتھ ہوئی۔  یہ بظاہر الگ الگ  صوبوں میں سنائے جانے والے مختلف نوعیت کے مقدمات ہیں لیکن ان میں کئی چیزیں مشترک ہیں ۔ مثلاً یہ دونوں صوبے  بی جے پی کے زیر اقتدار ہیں، ان دونوں فیصلوں نے بی جے پی والوں کو مضطرب کردیا ہے  اور یہ دونوں  ہندوتوا وادی نظر یہ کی نقاب کشائی کرتے ہیں۔ آسا رام باپو نہ صرف ایک بہت بڑے دھرم گرو ہیں بلکہ بہت سارے ہندوتواوادی سیاستدانوں کی عقیدت کا مرکز رہے ہیں ۔ اٹل بہاری واجپائی  سے لے کر ایل کے اڈوانی تک اور نریندر مودی سے کر امیت شاہ تک ایسا کون سا سیاسی رہنما ہے جس نے آسا رام باپو سے آشیرواد نہیں لیا اور اس کی تعریف و توصیف بیان  نہیں کی۔

آسارام باپو کی سزا سے اس کے سارے بھکت اس لیے بھی  غمگین ہیں کہ ان کی  مرکزی اور صوبائی حکومت بھی اپنے دھرم گرو کو بچانے میں ناکام رہی ۔ گجرات کے سابق ڈائرکٹر  جنرل آف پولس  ڈی جی ونجارہ کے مطابق وہ سناتن دھرم کے بہت بڑے محافظ ہیں۔ ونجارہ کے خیال میں   آسارام زانی کہنادرست نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے آسارام باپو کے لیے عمر قید کی سزا کم ہے کیونکہ اس نے نہ صرف عصمت دری کی بلکہ اپنے خلاف گواہی دینے والے تین لوگوں کا قتل کروایا۔ ایسے مجرم کو کھلے عام پھانسی دی جانی چاہیے  لیکن اندھی عقیدت  اور سیاسی مفاد نے عمر قید پر اکتفاء کروا دیا۔ وہ تو خیر اناو اور کھٹوعہ کے پس منظر میں یہ مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچا ورنہ عدالت کو آسارام کے بڑھاپے پر ضرور رحم آتا اور اس کے ساتھ رعایت کی جاتی۔  کانگریسی سرکار میں ایسا ماحول تیار کردیا گیا تھا کہ بی جے پی والے سینہ ٹھونک کے کہتے تھے ’سارے مسلمان کو دہشت گرد نہیں ہیں مگر سارے دہشت گرد مسلمان ضرور ہیں‘ آج بی جے پی سرکار کے چلتے یہ  نوبت آگئی  ہے کہ ’سارے ہندو تو زانی نہیں ہیں لیکن سارے زانی ہندو ضرور ہیں‘۔

ویسے نہ تو دہشت گرد کا کوئی مذہب ہوتا اور نہ زانی کا لیکن کھٹوعہ کے اندر وحشی درندوں کی حمایت میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو جہادی قرار دینے والے انکور شرما نے بی جے پی کو جہادی حکومت کا حصہ قرار دے کر عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔  محبوبہ مفتی اگر حقیقی معنیٰ میں مجاہدہ ہوتیں تو بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی نہیں کرتیں۔ ان زعفرانیوں کو جو ہر جگہ زانی درندوں کا بچاو کرتے رہے ہیں دہلی کے قریب صاحب آباد کے مدرسے میں ہونے والی عصمت دری کے واقعہ نےاحتجاج کا نادر موقع عنایت کردیا۔ خیر ان کا کیا قصور کہ انتخاب سے قبل خود پردھان سیوکرائے دہندگان کو مشورہ دیتے ہیں کہ ووٹ ڈالتے وقت نربھیا کو یاد کریں اوربعد میں کہتے ہیں آبروریزی دراصل آبروریزی ہے اس کا سیاسی استحصال نہیں ہونا چاہیے۔ ابھی اس جملے کی گونج بھی ختم نہیں ہوتی کہ بی جے پی رکن پارلیمان اور دہلی یونٹ کے صدر صاحب آباد کی عصمت دری کا سیاسی استحصال شروع کردیتے ہیں۔

صاحب آباد کے مدرسے میں جو کچھ ہوا اس کی کوئی مسلمان حمایت نہیں کرتا۔ وہ تو کہتا ہے کہ قصوروار پربعد از تفتیش بلا تفریق مذہب و ملت  شرعی حد جاری  کی جائے ۔اسلام کے اندر برضا و رغبت جنسی تعلقات کی بھی گنجائش نہیں ہے کہ زبردستی اور غیر زبردستی کی بحث چھڑے۔ بلوغت کی بابت بھی دین اسلام ۱۸ سال کی قید نہیں لگاتا ۔ مسلمان  کھٹوعہ کے ساتھ ساتھ اناو کی بیٹی کا درد بھی محسوس کرتا ہے اور دونوں  کے حق میں  صدائے احتجاج بلند کرتا ہے لیکن ان زعفرانیوں کو ۳۱ مارچ کے دن اسی غازی آباد کی  ۸ سالہ بچی  پر ہونے والا ظلم دکھائی نہیں دیتا جس کی آبروریزی ماتا کا جاگرن میں لے جانے والے پڑوسی جتندر نے کردی تھی ۔ اس سانحہ سے مشتعل ہوکر وہاں کے لوگوں جتندر کو مارنا شروع کردیا اور اسپتال کے اندر اس کی موت ہوگئی۔ اس  ہجومی تشدد کے بعد دہلی بی جے پی کے صدر تو دور مقامی کاونسلر بھی نہ اس مظلوم لڑکی کے گھر جانے کی یا  مہلوک نوجوان کے اہل خانہ کو پرسہ دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ اس لیے اس میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں تھا ۔ اسلامی شریعت نہ تو مذہب کی بنیاد پر کسی تفریق و امتیاز کی قائل ہے اور نہ  ادنیٰ و اعلیٰ میں فرق کرتی ہے۔  وہ کسی آسارام کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتی کہ ’ برہم گیانی کے لیے دست درازی گناہ نہیں ہے‘۔

ایک سوال یہ ہے کہ جو مشفقانہ سلوک آسا رام باپو کے بھکت ڈی  جی ونجارہ ، اسیمانند اور مایا کوندنانی کے ساتھ ہوا خود آسارام کیوں اس سے محروم رہا ۔ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اس نے کبھی خاکی نیکر اور کالی ٹوپی پہن کر گیروے پرچم کو سلامی نہیں دی  بلکہ اپنا آزاد جھنڈا لہراتا رہا۔ موجودہ سرکار میں سرکاری عنایات  کا حقدار قرار پانے کے لیے سنگھ پریوار سے تعلق ضروری ہے  لیکن کافی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ فی الحال   اقتدار کی باگ ڈور موہن بھاگوت کے نہیں بلکہ نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے اپنی زندگی ۵۲ سال سنگھ کی نذر کرنے والے پروین توگڑیا کو دودھ کی مکھی کی مانند نکال کر پھینک دیا گیا ہے۔ فی الحال وہ چند سادھو سنتوں کے ساتھ بھوک ہڑتال  پر بیٹھا ہوا ہے لیکن کسی سنگھی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے قریب پھٹکے۔ اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے ۔اس لیے کہ  کوئی بھی اقتدار کے نظر کرم سے محروم ہونا نہیں چاہتا۔کسی کے اندر مودی جی کے غیض  وغضب کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں ہے۔   ان میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ  جس دن سرکاری تحفظ ختم ہوگا ان کی جگہ جیل کے اندر ہوگی ۔

  مودی جی تو   اپنے گرو کو بھی نہیں بخشتے  اس کی سب سے بڑی مثال اڈوانی جی کی  حالتِ زار ہے کہ کانگریس نے  توان کا مقدمہ کمزور کیا مگر مودی جی  نےزندہ کرکے سر پر تلوار لٹکادی ۔ وہ  دشمنی نبھانے اور انتقام لینے کے فن میں ماہر ہیں  لیکن اپنے بھکتوں کا خوب خیال رکھتے ہیں۔ ان کا بھکت ونجارہ ہو یا اسیمانند ان کا بال بیکا نہیں ہوتا ۔شاہ سے لے کوندنانی تک کسی کو سزا نہیں ہوتی  لیکن اگر کوئی  ہرین پنڈیا ہو یا سنجے جوشی کی مانند بغاوت کرے تو  اس کی خیر نہیں ۔   یہی وجہ ہے کہ جھارکھنڈ جیسی پسماندہ ریاست میں یکےبعد دیگرے دو مقدمات میں ہجومی تشدد کے مجرم نہ صرف گرفتار ہوتے ہیں بلکہ ان کو قرار واقعی  سزا بھی سنائی جاتی ہے لیکن راجستھان اور گجرات میں ویڈیو کے باوجودکوئی  گرفتار نہیں ہوتا  ۔نہ پہلو خان کے قاتل کو حراست میں لیا جاتا ہے  اور  نہ جنید کے قتل کا گواہ سامنے آتا ہے۔ بفرضِ محال  قاتل  گرفتار کرلیے جائیں  تو پولس کو ان کے خلاف شواہد نہیں ملتے۔ گواہ بھی   مل جائیں اور ایک عدالت سزا سنادے   تو دوسری عدالت اس  کو بے قصور ٹھہرا دیتی ہے ۔ مایا اور اسیمانند کے معاملے میں یہی تو ہوا کہ اقبالیہ بیان  تک کو مسترد کردیا  گیا۔ قانون کے ساتھ تھوڑا بہت  کھلواڑ تو دنیا بھر میں ہوتا ہوگا  لیکن اس قدر دھاندلی شاید ہی کہیں ہوتی ہو۔ بقول ملک زادہ منظور؎

دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں

 ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا

اس طرح کا  ڈرامہ نام نہاد ترقی یافتہ صوبوں میں کھیلا جاتا ہے لیکن  جھارکھنڈ میں ایسا نہیں ہوتا یا اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔  بچہ چور ہونے کے شبہ  میں اگر  ضلع بوکارو کے نرا گاؤںمیں  شمس الدین انصاری کو زعفرانی غنڈے سرِ عام  پیٹ پیٹ‌کر مار ڈالیں  تو ایک سال  کے اندرکشوری دسوندھی، سورج ورنوال، چندن دسوندھی، جیتن رجک، ساگر توری، منوج توری، سونو توری، جتیندر ٹھاکر، راج کمار کوئیری اور چھوٹو کوئیری کو گرفتار کرلیا جاتا ہے  ۔ عدالت ان سب کو دس دس سال کی سزا سنا دیتی ہے نیز اور ان  میں سے ہر ایک پر ۱۴ ہزار روپیہ جرمانہ بھی لگایا جاتا ہے۔مہودا کے رہنے والے شمس الدین کا معاملہ بالکل ممبئی کے جیب کتروں جیسا ہے کہ جو موقع ملتے ہی غول بنا کر اپنے شکار  کو پاکٹ مار قرار دے کر عوام سے پٹوا دیتے ہیں۔

شمس الدینگزشتہ سال ۳ اپریل کو اپنے رشتے دارسے ملنے  نرا گاؤں گئے ۔ ان کی موٹر سائیکل  گھر کے پیچھے سے  چوری ہوگئی۔ ان  کے رشتہ داروں نے گاؤں کے ایک بارسوخ فرد رتی پنڈت کو چوری کی جانکاری  دی  تو انہوں یقین دلایا کہ فکر نہ کرو جلدہی مل جائے‌گی۔اگلے دن صبح اسلحہ  سے لیس بھیڑ نے شمس الدین انصاری کو بچہ چور قرار دے کر  گھر سے نکالا اور پٹائی کرتے ہوئے دور تک لے گئے۔اس بیچ پولیس وہاں پہنچی لیکن  جارحانہ ہجوم سے انصاری کو چھڑانے میں اسے خاصی  مشقت اٹھانی پڑی  اوراسپتال کے راستے میں وہ فوت ہوگئے۔اس تفصیل سے ظاہر ہے چور وں اور بدمعاشوں نے  اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے بچہ چوری کی افواہ اڑا  ئی اور اپنے شکار کا شکار کرلیا۔ بچہ چوری کی افواہ اڑا   کم از کم نصف درجن  واقعات میں درجن بھر لوگوں کو قتل کیا گیا۔

جھارکھنڈ کی رام گڑھ عدالت نےمیں گذشتہ ماہ  گئورکشا سے جڑے معاملے میںعلیم الدین انصاری کے قاتل  گئورکشکوں کو عمرقید کی سزا سنائی تھی۔ان فیصلوں نے ہجومی تشدد پر لگام لگائی ۔ملک بھر کے اندر اگر اسی سرعت سے مجرمین کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ غنڈوں اور بدمعاشوں کی قرار واقعی حوصلہ شکنی  ہو۔ اس معاملے میں افسوناک پہلو یہ ہے کہ جہاں عدالت سنجیدگی کے ساتھ جرائم کی  روک تھام کررہی ہے  وہیں زعفرانی سیاستداں اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں مگن  ہیں ۔ بی جے پی کے تین سابق ارکان اسمبلی شنکر چودھری،لوک ناتھ مہتو اور دیوی دیال کشواہا کے علاوہ ہندو سماج پارٹی، رام گڑھ یووا سنگھ ، اٹل وچارمنچ جیسی تنظیمیں علیم الدین انصاری  کےقتل  کی سی بی آئی یا این آئی اے جانچ  کرانے کو لے کردھرنے پر بیٹھ گئی ہیں ۔ یہ مطالبہ اس لیے عجیب ہے کہ انہیں خود اپنی صوبائی حکومت کے تحت  کام کرنے والی پولس پر اعتماد کیوں نہیں ہے؟ اس احتجاج کی بنیادی مقصد  سزا پانے والے بی جے پی رہنما وں اور بجرنگ دل و گئو رکشا سمیتی کے مقامی ارکان کو بچانا ہے۔ اس احتجاج میں پیغمبر اسلام محمدؐ  کے خلاف قابل اعتراض بیان بازی  کے سبب گرفتار ہونے والاہندو سماج پارٹی کا بانی  کملیش تیواریپیش پیش  ہے۔

بوکارو اسٹیل سٹی میں مسلمانوں کی اچھی  خاصی آبادی ہے لیکن انتخابی سیاست میں ابن الوقتی اور موقع پرستی کا بول بالا ہے۔  ؁۲۰۱۴ تک وہاں سے بی جے پی کا امیدوار دوسرے نمبر پر بھی نہیں آیا تھا لیکن پچھلی مرتبہ اس کے امیدواربرانچی نارائن نے سابق رکن اسمبلی سمریش سنگھ کو بری طرح سے شکست دی۔  سمریش سنگھ ؁۲۰۰۹ میں  جھارکھنڈ وکاس پارٹی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی  منتخب ہوئے تھے لیکن ؁۲۰۱۴ میں محمد ازرائیل انصاری نے ان سے ان سے جے وی پی کا ٹکٹ  چھین لیا  اور سمریش کو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنا پڑا۔ محمد ازرائیل نے ؁۲۰۰۵ میں  کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ؁۲۰۰۹ میں سمریش کے سامنے کانگریس کے ٹکٹ پر  معمولی فرق سے ہارے اور چونکہ اس بار کانگریس نے منظور انصاری کو ٹکٹ دے دیا تو  وہ اسی جے وی پی کے ٹکٹ پر کھڑے ہوگئے جس پچھلی بار انہیں ہرایا تھا۔

اس مذموم حرکت میں فرقہ پرستی کے علاوہ بی جے پی کی داخلی چپقلش بھی کارفرما ہے۔شنکر چودھری  مجرمین کو بچانے اور  اپنی سیاست چمکانے کے لیے کبھی ترنگا یاترا نکالتا ہے تو کبھی مندر میں منڈن کرواکر اپنے بالدرگاماتا کے  چرنوں میں  چڑھا کرقسم کھاتا ہے کہ جب تک جیل میں بند تمام لوگوں کی رہائی نہیں ہو جاتی یا ریاستی حکومت پورے معاملے کی سی بی آئی یا این آئی اے سے جانچ کرانے کا اعلان نہیں کرتی وہ اپنے بال نہیں بڑھائے گا۔ سزا یافتہ مشرا کے والد سریندر مشرا نے پولیس پر الزام لگا یا ہے کہ علیم الدین کی موت حراست میں پولیس کی مارپیٹ سے ہوئی تھی ۔پولیس نے اپنا جرم  چھپانے کے لیے اس کے بیٹے کو  پھنسایا ہے ورنہ  پولیس متوفی کو اسپتال کے بجائے پولیس تھانے کیوں  لے کر گئی ؟ بی جے پی والے یہ الزام خود اپنی صوبائی حکومت کے خلاف لگا رہے ہیں ۔  اگر  بات واقعی درست ہے خاطی پولس والوں کے ساتھ ان کوپناہ  دینے والے اور بے قصور لوگوں کو سزا دلوانے والے وزیراعلیٰ کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔

اس مذموم  تحریک کوصوبے سے مرکزی وزیر جینت سنہا کا آشیرواد حاصل ہے جو علی الاعلان  اپنی ہی پارٹی کے  وزیر اعلیٰ رگھور داس سے  سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے ہیں  اور مبنی بر انصاف فیصلے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں ۔ حق انصاف کو اگر سیاسی  مفاد کی سولی پر چڑھا دیا جائے تو  امن کا کبوتر بے موت مارا جاتا ہے اور ظلم و جبر کا بول بالا ہوجاتا ہے۔ ملک میں فی الحال   یہی ہورہا ہے ۔ ہندوتواودیوں کو عدالت سے جو یہ جھٹکے لگ رہے ہیں اس کی وجہ ان کی جلد بازی ہے۔ ان لوگوں نے ابھی تک ہندوستانی آئین کو منوسمرتی سے نہیں بدلا مگر اس پر عملدرآمد شروع کردیا ۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی اور ساری دنیا نے ہندوتوا کا بھیانک چہرہ دیکھ لیا ۔ اس طرح گویا ہندوراشٹر کے قیام سے قبل ہی اس کا پول کھل گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close