آج کا کالم

تنخواہ میں اضافہ

رویش کمار

جب بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہ بڑھنے کی بات ہوتی ہے، انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے. جیسے حکومت کام نہ کرنے والوں کی کوئی جماعت ہو. مشورہ دیا جانے لگتا ہے کہ ان کی تعداد محدود ہو اور تنخواہ کم بڑھے. سست، جاہل سے لے کر مکار تک کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور ان سب کے درمیان تنخواہ بڑھانے کا اعلان کسی معاشی انقلاب کی آمد کے طور پر بھی کیا جانے لگتا ہے. ملازم، تمام تجزیوں کے اگلے پیرائے میں سست پڑتی بھارت کی عظیم معیشت میں جان لینے والے ایجنٹ بن جاتے ہیں.

آج بھی یہی ہو رہا ہے، پہلے بھی یہی ہو رہا تھا. ایک طرف سرکاری نوکری کے لئے سارا ملک مرا جا رہا ہے. دوسری طرف ان ہی سرکاری نوکروں کی تنخواہ بڑھنے پر بھی ملک کو مرنے کے لئے کہا جا رہا ہے. کیا سرکاری ملازموں کو بوتل میں بند کر دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ تم بغیر ہوا کے جی سکتے ہو، کیونکہ تم عوام کے دیئے ٹیکس پر بوجھ ہو. یہ بات ویسی ہے کہ سرکاری نوکری میں صرف كام چوروں کی جماعت پلتی ہے، لیکن بھائی ‘ ٹیل می،  آنیسٹلي’، کارپوریٹ کے احاطہ میں کام چور ڈیسک ٹاپ کے پیچھے نہیں چھپے ہوتے ہیں …؟

اگر نوکرشاہی چوروں، كام چوروں کی جماعت ہے، تو اس ملک کے تمام وزرائے اعلی اور وزیر اعظم سے پوچھا جانا چاہئے کہ ڈیئر، آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آپ کی حکومت کام کرتی ہے. اس بات کو کہنے کے لئے ہی آپ کروڑوں روپئے اشتہار بازی میں کیوں پھونک رہے ہیں. آپ کے ساتھ کوئی تو کام کرتا ہوگا، تبھی تو نتیجے آتے ہیں. اگر کوئی کام نہیں کر رہا، تو یہ آپ دیکھئے کہ کیوں ایسا ہے. باہر آکر بتائیے کہ تمام وزارتوں کے چپراسی سے لے کر افسر تک وقت پر آتے ہیں اور کام کرتے ہیں. اس کا دعوی تو آپ لوگ ہی کرتے ہیں نا. تو کیوں نہیں بھوپو لے کر بتاتے ہیں کہ نوکرشاہی کا ایک بڑا حصہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام کرتا ہے. پولیس سے لے کر کئی محکمے کے لوگ 14-15 گھنٹے کام کرتے ہیں.

حکومت سے باہر کے لوگ حکومت کی سائز کو لے کر بہت تشویش میں رہتے ہیں. وہ اتنے ہی بھاری بوجھ ہیں تو ڈیئر سب کو ہٹا دو. صرف پی ایم او میں پی ایم رکھ دو اور سی ایم او میں سی ایم، سب کا کام ہو جائے گا. عوام کا دیا سارا ٹیکس بچ جائے گا. گزشتہ 20 سال سے یہ بکواس سن رہا ہوں. کتنی اسامیاں حکومت نکال رہی ہے، پہلے یہ بتائیے. کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی تعداد کم ہوئی ہے. اس کا اثر کام پر پڑتا ہوگا کہ نہیں. تمام سرکاری محکموں میں لوگ کنٹریکٹ پر رکھے جا رہے ہیں. کنٹریکٹ کے ٹیچر تمام ریاستوں میں لاٹھی کھا رہے ہیں. کیا ان کی بھی تنخواہ بڑھ رہی ہے …؟ اسامیاں گھٹانے کے بعد ملازمین اور افسروں پر کتنا دباؤ بڑھا ہے، کیا ہم جانتے ہیں …؟

اس کے ساتھ ساتھ معاشی تجزیہ نگار لکھنے لگتا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں نرس کو جو ملتا ہے، اس سے زیادہ حکومت اپنی نرس کو دے رہی ہے. جناب تعلیم یافتہ تجزیہ نگار، معلوم تو کیجئے کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں نرسوں کی نوکری کی کیا شرطیں ہیں. انہیں کیوں کم تنخواہ دی جا رہی ہے. ان کی کتنی حالت خراب ہے. اگر آپ کم تنخواہ کے حامی ہیں تو اپنی سیلری بھی چوتھائی کر دیجئے اور باقی کو کہیے کہ قوم پرستی سے پیٹ بھر جاتا ہے، سیلری کی کیا ضرورت ہے. کارپوریٹ میں صحیح ہے کہ سیلری زیادہ ہے، لیکن کیا سبھی کو لاکھوں روپے تنخواہ کے مل رہے ہیں …؟ نوکری نہیں دیں گے، تو بھائی، بے روزگاری پروموٹ ہوگی کہ نہیں. حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ محفوظ نوکری دے اور اپنے شہریوں کا بوجھ اٹھائے. اسے اس میں دشواری ہے تو بوجھ چھوڑے اور جائے.

نوکرشاہی میں کوئی کام نہیں کر رہا ہے، تو اس نظام کا مسئلہ ہے. اس کا سیلری سے کیا لینا دینا. اس کے اوپر بیٹھا لیڈر ہے جو ڈی ایم تک سے پیسے وصول کرکے لانے کے لئے کہتا ہے. جو لوٹ کے ہر میکانزم میں شامل ہے اور آج بھی ہر ریاست میں شامل ہے. نہیں تو آپ گزشتہ چار انتخابات میں ہوئے اخراجات کا اندازہ لگا کر دیکھئے. ان کے پاس کہاں سے اتنا پیسہ آ رہا ہے، وہ بھی صرف پھونکنے کے لئے. ظاہر ہے، ایک حصہ میکانزم کو کام چور بناتا ہے، تاکہ لوٹ کر سیاست میں پھونک سکے. مگر ایک حصہ کام بھی تو کرتا ہے. ہماری چور سیاست اس نظام کو سڑاكر رکھتی ہے، بدعنوان لوگوں کو شہ دیتی ہے اور اكساكر رکھتی ہے. اس کا تعلق اس کی تنخواہ سے نہیں ہے.

رہا سوال کہ معیشت میں جان پھونکنے کے لئے تنخواہ بڑھانے کی بات ہے تو سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں ہی کیوں اضافہ کیا جا رہا ہے. ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کسانوں کے قرض معاف ہو سکتے تھے. ان کے اناجوں کے دام بڑھائے جا سکتے تھے. کسان کے ہاتھ میں پیسہ آئے گا تو کیا ہندوستان کی عظیم معیشت انگڑائی لینے سے انکار کر دے گی …؟ یہ تجزیہ نگار چاہتے کیا ہیں …؟ حکومت سرکاری ملازمین کی سیلری نہ بڑھائے، کسانوں اور طالب علموں کے قرض معاف نہ کرے، قیمت خرید نہ بڑھائے تو اس رقم کا کیا کرے حکومت …؟ پانچ لاکھ کروڑ کی قرض چھوٹ دی تو ہے صنعت کاروں کو. کارپوریٹ اتنا ہی ماہر کار  ہے تو عوام کے پیسے سے چلنے والے سرکاری بینکوں کے لاکھوں کروڑ کیوں ہضم کر جاتا ہے. کارپوریٹ اتنا ہی ماہر کار ہے تو کیوں حکومت سے مدد مانگتا ہے. معیشت کو دوڑا کر دکھا دے نا.

اس لئے اس تنخواہ میں اضافہ کو منطقی اور عقلی رو سے دیکھئے. تصورات کے داؤ پیچ سے کوئی فائدہ نہیں ہے. پرائیویٹ ہو یا سرکاری، ہر طرح کی ملازمتوں میں کام کرنے کی اوسط عمر کم ہو رہی ہے، سیکیورٹی گھٹ رہی ہے. اس کا شہریوں کی سماجی زندگی سے لے کر صحت تک پر برا اثر پڑتا ہے. لوگ تناؤ میں ہی نظر آتے ہیں. کھپت کرنے والا طبقہ یوگا سے تیار نہیں ہو گا. کام کرنے کے مواقع اور مناسب مزدوری سے ہی ان کی استطاعت بڑھے گی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close