آج کا کالم

تنزیل احمد کا بہیمانہ قتل- چند سوالات

جانباز این آئی اے آفیسر تنزیل احمد کے بہیمانہ قتل نے ایک مرتبہ قوم وملک کے زخموں پر جمی کھرانڈ کو نہ صرف کھرچ دیا ہے بلکہ ان پر نمک پاشی بھی کی ہے۔ان کے قتل پر اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انہیں ’ٹاگیٹ کیلنگ‘کیا گیا۔ انہیں منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا گیا اور انہیں پورے خاندان سمیت ’صاف‘کرنے کی منشا سمجھ میں آتی ہے۔ ان کے بچے جو سفر میں ان کے ہمراہ تھے ان کے کہنے پر سیٹ کے نیچے چھپایا گیا۔ذرائع کی مانیں تو انہوں نے اس ’ٹارگیٹ‘کو سونگھ لیا تھا اور فوری طور پر انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ بچوں کو سیٹ کے نیچے چھپ جانے کے لئے کہیں کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کی جان توجائے گی ہی ان کے بچے بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ایک بات اور قابل غور ہے کہ شہید تنزیل احمد کے ہمسایہ اور ان کے قریبی دوست  بھی اس بات سے ناواقف تھے کہ وہ قومی تفتیشی ایجنسی’این آئی اے‘کے رکن ہیں۔ توپھرسوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کے ’صفایے‘پر مامور سفاک اور پیشہ ور قاتلوں(یہ لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ ان کے پاس جدید ترین اسلحہ تھا جس سے وہ پے درپے

فائرنگ کرتے رہے حتی کہ مسٹر احمد جاں بحق نہیں ہوگئے) کے گروہ کو ان کے پروگرام کا علم کیسے ہوگیا اور انہوں نے انہیں راستے میں ہی کیسے گھیر لیا۔ موصولہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کرایے کے یہ غنڈے اس وقت تک فائرنگ کرتے رہے جب تک ان کی جان جان آفرینی سے جا کر نہیں ملی ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس ’کارنامے‘کی کہیں اور کسی کو رپورٹ دینی تھی۔وہ اس کے لئے انعام و اکرام کے متمنی تھے ۔تو آخر یہ کون لوگ ہوسکتے ہیں جبکہ  مرحوم تنزیل احمد کےاس پروگرام کا علم ان کے اہل  خانہ یا ایجنسی (جہاں مسٹر احمد تعینات تھے)کے علاوہ کسی کو نہیں تھی۔یہ بھی ایک غورطلب مسئلہ ہے ۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس  قتل کے پیچھے سازش رچنے والے نہایت بارسوخ لوگ ہیں ۔خواہ ان کا تعلق کسی سے بھی ہو۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ فی الوقت ملک میں شہیدوں کی بھی درجہ بندی ہوگئی ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ گذشتہ ماہ لداح سرحد پر تعینات ہنومن تھپا کی شہادت ہوئی وہ برف باری میں دب گئے تھے اور فوج کے کئی روز کے آپریشن کے بعد انہیں باہر نکالا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

ان کی موت کے بعد آخری رسومات کی ادائیگی جس شاہانہ انداز میں کی گئی اس کا پورا ملک گواہ ہے۔مودی حکومت کی پوری کابینہ، فوج کے تینوں شعبے کے سربراہ،درجنوںوزرا سمیت قد آور شخصیات انہیں آخری سلام پیش کرنے کے لئے موقع پر موجود تھی لیکن ملک کے اہم ترین معاملات کی جانچ کرنے والے ایک قابل اور اعلی افسر جس کا تعلق بدقسمتی سے مسلم گھرانے سے تھا  اسے جب سپرد خاک کیا جا رہا تھا تومرکزی حکومت کا کوئی ایک نمائندہ بھی اس وقت کیوں موجود نہیں تھا۔ ہمارے وزیر اعظم نریندرمودی کو اس بات کی خبر رہتی ہے کہ نوجود سنگھ سدھو علیل ہیں اور وہ ٹوئیٹر پر ان کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے نظر آتے ہیں لیکن  تنزیل احمد کی قربانی کو انہوں نے کیوں نظر انداز کر دیا۔ کیا صرف اس لئے کہ ان کا تعلق ایک ایسی برادری سے تھا جسے اہمیت دینے کی انہیں چنداں ضرورت نہیں ہے۔انہیں وہ اعزاز اور اکرام کیوں نہیں نصیب ہوا۔کیا وہ این آئی اے میں کسی کی سفارش پر گئے تھے یا اپنی قابلیت پر انہیں انتہائی حساس معاملات میں شامل رکھا گیا تھا۔

خیر کا ایک پہلو اس معاملے میں یہ ہے کہ این آئی اے نے اسے چیلنج کے طور پر لیا ہے اور وہ اس لئے کہ یہ سانحہ اس پورے ڈیپارٹمنٹ کے وقار اور ساکھ کا ہے اور اسے بچانے کے لئے اسے کچھ کر گزرنا ہی پڑے گا وگرنہ کل اس پر بھی ’پنجرے میں قید طوطا‘کا لیبل چسپاں کر دیا جائے گا۔

سب ایڈیٹر، یونائیٹیڈ نیوز آف انڈیا(یو این آئی)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سبطین کوثر

سبطین کوثر نے صحافت کا آغازاپنے وطن بہار میں واقع چمپارن کی سرزمین (موتہاری) سے کیا۔ انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا بحیثیت نامہ نگاراپنی خدمات کا آغاز کیا جہاں وہ بعدمیں ڈسٹڑکٹ انچارج اور بیورو چیف ہوئے۔ سبطین فی الوقت ایشیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی یونائیٹیڈ نیوز آف انڈیا (یواین آئی) سے وابستہ ہیں۔ ادارتی شعبے سے ان کا تعلق ہے، جہاں بنیادی طور پر خبر نگاری اور خبر نویسی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

متعلقہ

Close