آج کا کالم

تو فوج اور حکومت ‘شہید’ کیوں  نہیں  کہتی ہے!

بھارتی حکومت ‘شہید’ لفظ استعمال نہیں  کرتی ہے. میڈیا اور لیڈر اس لفظ کا استعمال ایسے کرتے ہیں  جیسے شہادت کا احترام بغیر شہید لفظ کے ہو ہی نہیں سکتا ہے. میڈیا شہید شہید کرتا ہے تاکہ شہادت کے سہارے سوال کرنے یا کوئی الگ بات کہنے کی گذاش نہ رہے. بہت سے ذرائع ابلاغ کے ادارے شہید کی جگہ مارے جانے یا موت کر دیتے ہیں . نیم فوجی دستوں  سے وابستہ لوگ اکثر کہتے ہیں  کہ ہمیں  شہید کا درجہ نہیں  ملتا ہے، جبکہ ہم بھی ڈیوٹی کے دوران سرحد پر اور حد کے اندر اندر ملک کے لئے جان دیتے ہیں . آپ کو حیرانی ہوگی کہ بھارتی حکومت ان کی موت کو شہید نہیں  کہتی ہے. آپ کو یہ بھی جان کر حیرانی ہوگی کہ بھارت حکومت کی سرحد یا سرحد کے اندر اندر کسی کارروائی میں  مارے گئے جوان یا فوجی افسر کو شہید نہیں  کہتی ہے.

لال گنج کی بی جے پی ممبر پارلیمنٹ ہیں  نیلم سونکر. ان سوال کے تحریری جواب میں  مرکزی وزیر داخلہ نے جو کہا ہے کہ پہلے اس ہندی میں  پیش رہا ہوں . جواب انگریزی میں  ہے اور 22 دسمبر 2015 کا ہے. لوک سبھا اور خط معلومات آفس پی آئی بی کی ویب سائٹ پر موجود ہے.

"وزارت دفاع نے مطلع کیا ہے کہ ‘شہید’ لفظ بھارتی مسلح افواج میں  كنهي كےذلٹيذ کے تناظر میں  استعمال نہیں  کیا جاتا. اسی طرح کسی کام یا کارروائی کے دوران مرکزی مسلح پولیس فورسز اور آسام رائفلز کے جوانوں  کی موت ہو جانے کے تناظر میں  بھی ایسا لفظ استعمال نہیں  ہوتا. اگرچہ ان پرورو/ قریب رشتہ داروں  کو لبرلائزڈ پیشنري، ایوارڈ، رولس کے تحت مکمل خاندان پنشن، اصولوں  کے مطابق دیگر فوائد اور صریح فضل معاوضہ رقم کے طور پر 15 لاکھ روپے کی رقم دی جاتی ہے. "

اسی طرح کا جواب 18 فروری 2014 کو سابق وزیر داخلہ آر پی این سنگھ نے لوک سبھا میں  دیا تھا. سوال رام سنگھ كےسوان کا تھا. آر پی این سنگھ نے کہا کہ حکومت نے کہیں  بھی شہید لفظ کی وضاحت نہیں  کی ہے. سابق وزیر داخلہ کا جواب انگریزی میں  ہے اس لئے اسے بھی شبدش: دے رہا ہوں .

“ Martyr is not defined by the government anywhere and presently neither such order/notification are being issued to grant status of Martyr to those (Central Armed Police Forces) CAPF’s personnel who are killed in action while discharging their duty nor any such proposal is under consideration.”

جب وزراء کو معلوم ہے کہ حکومت نے شہید لفظ کی وضاحت ہی نہیں  کیا ہے تو پھر وہ کیا شہید شہید کرتے رہتے ہیں . اس لئے کہ میں  Emo بھڑكے. شہید کے نام پر اس کی قربانی اپنی سیاسی روٹیاں  سینکنے میں  کیا جا سکے.

فوج کے جوانوں  کو بھی شہید نہیں  کہا جاتا ہے. نیم فوجی فورس کے جوان بھی دہشت گردی سے لڑتے ہوئے مارے جاتے ہیں . انہیں  بھی حکومت شہید نہیں  کہتی ہے. جس لفظ کا دیجیے فوج اور حکومت خود نہیں  کرتی ہے، اسے لے کر کتنی مارا ماری ہوتی ہے. اس لئے مجھے لگتا ہے کہ حد یا حد کے اندر اندر جان دینے والے جوانوں  کو شہید کہا جائے یا نہیں ، اسی پر بحث ہونی چاہئے. ایک فیصلہ ہونا چاہئے. یہ بھی طے ہونا چاہئے کہ صرف سرحد پر دونوں  جانب سے ہونے والے جنگ میں  مارے گئے نوجوان کو شہید کہا جائے گا یا حد کے اندر اندر جان دینے کو بھی شہید کہا جائے گا. کیا ڈیوٹی پر تعینات جان دینے والے پولیس کے جوانوں  اور انجینئرز یا اساتذہ بھی شہید کہا جا سکتا ہے؟

میڈیا تو شہید شہید ایسے کرتا ہے جیسے اس کا نام لے کر وہ اپنے گناہ دھو رہا ہو. ضروری نہیں  جو لفظ حکومت کے نہ ہوں ، میڈیا کے نہیں  ہو سکتے. ایسی صورت میں  یہ ہو سکتا ہے کہ فوج اور حکومت سے وابستہ لوگ شہید لفظ استعمال نہ کریں . پہلے تو عوام کو وجہ بتائیں  اور شہید کا درجہ دیں. یہ میری مانگ ہے اور مجھے امید ہے کہ جلد پوری ہوگی. مجھ سے پہلے سركاري کاغذات میں  شہید کے استعمال ہونے کا مطالبہ کیا ہے تو اسے بھی کریڈٹ دیں . تب تک کے لئے نوٹنکی بند کریں.

میں  جنگ کا مخالف ہوں . جنگ صرف ایک دھندہ ہے. ہتھیاروں  کو کھپانے اور فروخت کا دھندہ. ہم بازار سے صابن بھی خریدتے ہیں، دودھ اور یہاں  تک کہ میگی بھی خریدتے ہیں  تو اس سے ہماری Emo کی جڑی ہوئی ہوتی ہیں . کھانے پینے کے سامانوں  کی یادیں  بھی ہمیں  جذباتی بناتی ہیں . اسی طرح ہتھیاروں  کے دھندے باذ ہمیں  قوم پرستی کے نام پر جذباتی بناتے ہیں . اس کے نام پر جتنا سرحد پر نہیں  لڑا جاتا ہے، اس سے کہیں  زیادہ آپ کی سرحد کے اندر اندر دن رات لڑا جاتا رہتا ہے. حفاظت کے لئے ہتھیار ضروری ہیں . فوج بھی چاہئے. ان کا احترام بھی ضروری ہے. اتنا تو سمجھتا ہوں  مگر اس کی سودے بازی کا کھیل آپ کو کسی بھی ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے، خالصتا دھندھےبازي کا ہوتا ہے. لابی کا ہوتا ہے. دلالی کا ہوتا ہے.

ہمیں  اب حقائق سے مطلب نہیں  رہا. تاثر ہی اطلاع ہے. یہ مضمون اس لیے لکھ رہا ہوں  تاکہ خالی بیٹھے لوگ سوشل میڈیا پر شہید کا درجہ دیئے جانے کی مہم چلا سکیں . پہلے شہید تو کہو، پھر شہید کے نام پر جھگڑنا. شہید کہو تو سب کو کہو. شہیدوں  میں  فرق نہیں  کرتے. جب بھی آپ شہید کہیں  کم سے کم پانچ بار ضرور کہیں  کہ ہم تو شہید کہہ رہے ہیں  مگر حکومت اور فوج شہید نہیں  کہتی ہے. ذرا زور سے بولیے، کل ہی سب بدل جائے گی.

مترجم: محمد اسعد فلاحی 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close