آج کا کالم

تیری وجہ سے صبح بنارس اداس ہے!

ڈاکٹر سلیم خان

بی بی سی نے اپنی سائٹ پر وارانسی پر ایک فوٹو فیچر کی  سرخی نہ جانے کیوں اس طرح لگا دی ’’بنارس شہر کا ہندو مذہب میں بڑا مقام ہے جہاں زندگی روز انہ موت سے گلے ملتی نظرآتی ہے‘‘۔ بی ایچ یو کے حالیہ واقعات کے بعد پتہ چلا کہ عزت کی زندگی  طلب میں  طالبات کو یونیورسٹی کے احاطے میں کس طرح روزانہ گھٹ گھٹ کر مرنا پڑتا ہے۔ ہندوعقیدے  کے مطابق بنارس میں مرنا نجات کا سبب سمجھا  جاتا ہے شاید  اس لیے کہ ایسی رسوا کن زندگی  سے نجات حاصل کرنے کے لیے انسان کو گنگا کے گھاٹ میں ڈبکی لگاکرمرجانا بہتر ہے۔ سنا ہے  بنارس کے گھاٹ پر نہانے والے سارے گناہوں سے پاک  ہوجاتے ہیں لیکن طالبات کے ساتھ بدسلوکی کرنےطلبہ اور ان کو تشدد کا نشانہ بنانے والے انتظامیہ کے پاپ سے تو گنگا ناپاک ہوجائیگی۔

  بنارس قدیم ہندوستان کے سات مقدس ترین شہروں  میں سب سے زیادہ تقدس مآب ہے لیکن اس سانحہ کے بعد اس کا سارا تقدس پانی پانی ہوگیا ہے۔ یہ دنیا سب سے پرانا شہر بھی  کہلاتا ہے۔ اس کو شیو بھگوان نے برہما کا قتل کرنے کے بعد بسایا تھا۔ برہما کا سر قلم کرنے کے بعد شیو ااس کو لےکر شہر در شہر گھومتے رہے لیکن یہاں پہنچنے کے بعد وہ زمین میں گرکر غائب ہوگیا۔روشنیوں کے اس شہر سے  علم روشنی کو پھیلانے کے لیے لگتا ہے جہاں برہما کا سر غائب ہوا تھا  اس مقام کو تلاش کرکےوہاں یونیورسٹی  بنادی گئی  جس کا نام بنارس ہندو یونیورسٹی رکھا گیا۔

بنارس شہر کو وزیراعظم نریندر مودی کا حلقۂ انتخاب ہونے یہ امتیاز بھی حاصل ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد وزیراعظم کو اپنے رائے دہندگان کا خیال آیا اور انہوں نے بنارس کا رخ کیا تو ان کی آمد سے خوش ہوکر کسی منچلے نے یونیورسٹی کیمپس میں ایک لڑکی کو چھیڑ دیا۔ اس لڑکی نے وارڈن سے شکایت کی تو وہ بولے چھوا ہی تو تھا اور کیا کیا؟ وائس چانسلر نے حیرت کا اظہار کیا کہ معمولی سی چھیڑ خانی کے واقعہ پر احتجاج اور سبرامنیم سوامی کو تو اس کے پیچھے نکسلوادی نظر آنے لگے۔ ہندوستان میں تیسرے نمبر کی سب سے  بہترین یونیورسٹی بی ایچ یو میں یہ عام سی بات ہے۔ اس شہرمیں  وزیراعظم بیت الخلا کی بنیاد رکھتے ہوئے اسے عزت گھر قرار دیتے ہیں مگر سڑکوں پر خواتین کی بے عزتی کی جاتی ہے۔ جب وہ احتجاج کرتی ہیں تو ان پرظالمانہ لاٹھی چارج کیا جاتا ہے نیز انہیں کے خلاف مقدمہ درج ہوجاتا ہے۔ یہ عجب تماشہ ہے کہ  ہمارے ملک میں مقدمہ مظلوم کے خلاف ہی ہوتا ہے۔ تشدد کا شکار ہونے والے پہلو خان کے ساتھیوں کو موردِ الزام  ٹھہرایا جاتا ہے اور گئورکشک بے قصور نکل آتے ہیں۔

بی ایچ یو کے اندر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پروکٹر نے استعفیٰ دیا ہے لیکن طالبات وائس چانسلر کے استعفیٰ کی طلبگار ہیں۔ انہوں نے اپنے محضر نامہ میں لکھا ہے کہ چھیڑ خانی روزمرہ کا معمول ہے جس کا شکار مقامی و غیرملکی طالبات تک ہوتی ہیں۔ لڑکے ہاسٹل کے باہر مشت زنی کرتے ہیں، پتھر پھینکتے ہیں اور گالیاں بکتے ہیں۔ سنگھ پریوار سارے ملک پر جو ہندوتوا نافذ کرنا چاہتا ہے یہ اس  ہندو تہذیب کا  عملی مظہر ہے۔  اس پس منظر وائس چانسلر کی ڈھٹائی دیکھیے کہ یونیورسٹی کے اساتذہ کو نامزد کرنے کے اختیار والے آخری دن انہوں نے کئی لوگوں کی تقرری  فرما دی۔ ان میں سے ایک او پی اپادھیائے بھی ہے جنہیں سندر لال اسپتال کا  طبی نگراں مقرر کیا گیا۔ اپادھیائے کی تقرری کمیٹی کے ارکان نے اعتراض کیا کیونکہ انہیں  فجی کے شہر ناسینو کی عدالت نے  ایک 21 سالہ خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کا مجرم ٹھہرایاتھا۔ یہ الزام نہیں ہے بلکہ جرم ثابت ہونا ہے۔  وائس چانسلر سے جب استفسار کیا گیا تو انہوں نے اپنے فیصلے کو حق بجانب ٹھہراتے ہوئے کہا  غیر ملکی عدالتوں کے فیصلے اپنے ملک میں نافذ نہیں ہوتے۔  سوال یہ ہے کہ اس طرح کے تقرر سے خواتین کی بے حرمتی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی یا حوصلہ شکنی؟

یوگی جی اپنے آپ کو بڑا تیس مار خان سمجھتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے اترپردیش میں نظم و نسق کے اندر بہتری لانے میں   وہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔  سرکار احتجاج کرنے والی  بے قصورطالبات  کے خلاف تو بہت دلیری دکھاتی ہے لیکن تیستا ستیلواد سے ڈر جاتی ہے۔ ہوائی اڈے سے  انہیں بلاجواز  حراست میں لے لیا جاتا ہے اور پھر  بعد  میں گرفتار ی بھی عمل میں آتی  ہے جبکہ وہ یونیورسٹی نہیں بلکہ کسی الگ پروگرام کے لیے بنارس پہنچی تھیں ۔ بنارس یونیورسٹی کو 2016 میں پرسیپشن کے 99 نمبر ملے تھے لیکن یوگی جی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس سال  44 ہوگئے دیکھنا یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی کو کتنے نمبر دیئے جاتے ہیں ۔  مسلمانوں نے وارانسی شہر کو ایسا خطۂ امن بنادیا تھا کہ نذیر اکبر آبادی کو کہنا پڑا؎

میں بنارس کا نواسی کاشی نگری کا فقیر      

ہند کا شاعر ہوں شیو کی راجدھانی کا سفیر

لے کے اپنی گود میں گنگا نے پالا ہے مجھے

نام ہے میرا نذیر اور میری نگری بے نظیر

ان اشعار کے آئینے میں دیکھیے کہ مودی اور یوگی نے بنارس کو کیوٹو بنانے کے بجائے کیا بنا دیا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close