آج کا کالم

تیرے سوا سب کافر!

عام مسلمان اپنی بے توقیری، بے حرمتی اور بے بسی پر خون کے آنسو رو رہا ہے کہ وہ شام کو صرف ایک ٹکٹ دے کر لوٹادیاگیا۔

قاسم سید

ہندوستانی مسلمانوں نے قدم قدم پر ثابت کیا ہے کہ وہ سادہ لوح ‘معصوم اور بھولے ہونے کے ساتھ ہی حب الوطنی سے سرشار اور ایمانی غیرت وحمیت سے مالا مال ہیں۔ شریعت کے تحفظ کے لئے جان نثاری کا جذبہ بے پناہ اور حب رسولؐ کا بحربیکراں ان کی رگ رگ میں موجزن ہے۔ اس میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں  تھی۔ ہمارے طالع آزما سیاست داں اور خالص سیاسی مزاج رکھنے والے علما کا ایک طبقہ (گستاخی معاف) اس معصومیت، بھولے پن اور مذہبی جذبہ کا استحصال کرتا رہا ہے۔ ان کی جھولیاں بھرنے کے لئے اپنی جیب خالی کرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاتا۔ ان کی ایمانی غیرت کو للکار کر سڑکوں پر اتاراجاتا ہے تو حکومت سے ٹکر لینے میں بھی گریز نہیں کرتا۔ کتنی جانیں ایمانی غیرت کے نام پر قربان ہوگئیں۔ ان کے قصیدے توپڑھے گئے مگر ان کی اولاد کو سڑکوں پر بھٹکنے اور مزدوری کرنے کے لئے چھوڑ دیاجاتاہے۔ جن پر مقدمات قائم ہوئے ہیں، ان کےگھر کے برتن فروخت ہوجاتے ہیں۔ بیوی دوسروں کے برتن مانجھ کر بچوں کی بھوک مٹاتی ہے۔ بچے ہوٹلوں میں جھوٹے گلاس دھونے اور ٹوٹنے پر مالک کی مار کھاتے ہیں۔ کوئی ان کی تعلیم، روزگار اور ضروریات کے بارے میں پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔ ان کا سب کچھ اجڑجاتا ہے مگر نعرہ مستانہ دینے اور سڑکوں پر اتر کر شریعت بچانے کی ترغیب دینے والوں کا چمن ضرور آباد ہوجاتا ہے۔ اسے بھیڑ بکریوں کی طرح ادھر سے ادھر ہانکاجاتا ہے کبھی کانگریس کو ایمان کا جزسمجھایاجاتا ہے تو کبھی اسے سبق سکھانے کی تلقین کی جاتی ہے کبھی ملائم سنگھ نجات دہندہ توکبھی لالو، نتیش یا کوئی اور یہ نوٹنکی بلاتوقف جاری ہے۔ اس کے پیٹ کے پتھروں میں اضافہ اور اس کے نام لیوائوں کی خوشحالی کاگراف میں مسلسل اضافہ ‘ کون کب کس سے کیوں چھپ کرچوروں کی طرح مل آتا ہے۔ کون اقتدار کے دستر خوانی قبیلہ کا مہمان بن کر’’لذت طعم ودہن‘‘ سے سرفراز ہوتا ہے۔ کون وفود بناکر اپنی فائلوں کے ساتھ سربسجود ہوکر شکرانہ ادا کرتا ہے۔ کس کے اشاروں پر کیا کھیل ہوتا ہے اب تو یہ سب کھلے راز ہیں۔ سوشل میڈیا نے سب کو برہنہ کردیا ہے جن کا نقاب ابھی نہیں اترا ہے ان کی مایوسی بھی دور ہوجائے گی۔ چھپ چھپ کر ملنے والے اپنی رسوائی میں بھی فخر کرتے ہیں۔ بے شرمی کے ساتھ پہلے انکار اور پھر اقرار کرتے ہیں۔ پردہ اٹھانے پر قانونی نوٹس کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا یونہی کھیل چلتا رہے گا۔ اسی طرح مفادات کے بازار حسن میں ’’برادران یوسف‘‘ مارکیٹنگ کرکے اپنے شیئر بڑھاتے رہیں گے۔ اور عام مسلمان محض جنس بازار ہی رہے گا اس کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

وہ لوگ جو اختلاف رائے کے تمام جملہ حقوق اپنے نام محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسرے کو اختلاف رائے کا حق دینے کو تیار نہیں۔ اسے ملت دشمن، شریعت دشمن، علما کے تقدس کا دشمن، بزرگوں کا دشمن حتی کہ قومی سلامتی کے لئے خطرہ تک بتادیتے ہیں۔ دشنام طرازی کی نئی طرحیں ایجاد کرتے ہیں۔ مٹھادیشوں کی فوج اس طرح حملہ آور ہوتی ہے جیسے کوئی دشمن ان کی حدود یا سرحد میں داخل ہوگیا۔عام مسلمانوں کی عاقبت اور اپنی دنیا سنوانے والوں کا کبھی تواحتساب ہوگا۔ انہیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا تو ہوگا۔ اگر آپ پبلک لائف میں ہیں تو ہرحرکت اور عمل پر نظر رکھی جائے گی۔ عوامی عدالت جائزہ لیتی رہے گی یہ نہیں ہوسکتا کہ گڑکھائیں اور گلگلوں سے پرہیز کریں۔ ہر سیاسی معاملہ پر اپنی قیمتی رائے سے فیض یاب فرمائیں۔ سرکاری حلقوں سے مضبوط رابطے رکھیں ان کی عنایات ونوازشات سے لطف اندوز ہوں۔ سیاسی پارٹیوں کا باالوسطہ حصہ بن جائیں، کسی کو ہرانے اور جتانے کی اپیلیں کریں اور پھر سوال اٹھانے والوں پر اپنی تربیت یافتہ پرائیویٹ آرمی چڑھادیں۔ اس کی بوٹی بوٹی کرڈالیں گستاخ، نافرمان، ناہنجار، نابکار، زندیق، فاسق۔ فاجر،جاہل اور شان رفعت میں توہین کا مرتکب کہہ کر ذلیل ورسوا کرنے کی تمام حدوں کوحلال کرلیاجائے۔ دوسروں کو اخلاق کریمہ، اسوہ حسنہ، حسن ظن اور قرآنی اخلاقی تعلیمات کا حوالہ دے کر شرمندہ کرنے کی کوشش کی جائے مگر خود پر کسی اخلاقی ضابطہ کا اطلاق نہ کیاجائے۔ یہ دہرامنافقانہ اور ریاکارانہ رویہ برداشت کیاجاسکتا ہے؟ شاید اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ اظہار رائے کی آزادی کے معاملہ میں عدم تحمل کی اس سے بدتر مثال ملنا مشکل ہے۔ اگر یقین نہ ہوتو سوشل میڈیا کی تمام قسموں پر زبان وبیان کا جائزہ لیں تصویر صاف ہوجائے گی کہ آپ سچے مومن ہیں۔ امین و صادق ہیں اور سامنے والا انگلی اٹھادے تو کاذب ‘فاسق‘ فاجر۔ رویو ں کی سفاکیت‘ اندھی حمایت کا جنون اور راہ حق پر سمجھنے کا فتور ہر حدوقید سے بے نیاز ہے۔

مسلم عوام کو نیپکن کی طرح استعمال کرکے پھینک دینے کا حالیہ واقعہ بہار میں پیش آیا۔ چونکہ شریعت اور ملک دونوں خطرے میں ہیں ان کو بچانے کے لئے عظیم الشان تاریخی کانفرنس ہوئی ویسے بھی مسلمانوں کو کانفرنسوں اور جلسوں میں الجھاکر ان کی توانائی اور پیسہ دونوں فیاضی کے ساتھ خرچ کیا جارہا ہے۔ ایمانی غیرت للکار کر شرکت کے علاوہ دل کھول کر چندہ کی اپیل کی گئی۔ جب معاملہ شریعت اور ملک کا ہوتو ان کو  لاکھوں کی شرکت اور کروڑوں خرچ کرکے بچا لئے جائیں تو انہیں اچھا اور سستا نسخہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ اجلاس میں دن بھر مودی سرکار کو جم کر کوسا گیا۔ وعیدیں سنائی گئیں۔ شام ہوتے ہوتے مودی کے حلیف اور دوست نتیش کمار نے حضرت امیر شریعت مفکر اسلام دامت برکاتہم ومدظلہ العالی کی سفارش پران کے قریبی کو ایم ایل سی کا ٹکٹ مرحمت فرمادیاوہی نتیش کمار جنہوں نے بی جے پی سے ہاتھ ملاکر بہار میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا۔ جس کو ٹکٹ ملا وہ ہماری برادری کا ہے اس کی ترقی پر خوشی ہے اللہ تعالی اس کے مزید درجات بلند کرے اور حضرت کی وساطت سے دنیا کی ہر کامیابی وترقی اس کے قدم چومے۔ پیادے چالوں میں پیٹے جاتے ہیں۔ مہروں کا استعمال ہوتا ہے۔ سوال ٹکٹ کا نہیں ٹائمنگ کا ہے۔ یہ تو امیر شریعت ہی بتائیں گے کہ کیا شریعت اور ملک دونوں بچالے گئے یا ابھی کچھ اور مرحلہ باقی ہے۔ کیا کانفرنس کی یہی معراج تھی۔ جن کو ٹکٹ دیاگیا انہوں نے کانفرنس سے 45دن پہلے ہی جنتادل یو کی ابتدائی ممبر شپ لی تھی۔ یعنی سارا معاملہ پہلے سے طے شدہ تھا؟ بینروں پر نتیش کمار کے فوٹو سرکار کا بھرپور تعاون، حکمراں پارٹی کی تائیدوحمایت بورڈ کی اعلی قیادت کی ریلی سے دوری۔ بہرحال دنیا فقیروں اور خانقاہوں کی ٹھوکر پر ہوتی ہے۔

ہم یہ نہیں مانتے کہ صرف ایک ٹکٹ کے لئے سارا کھیل ہوا۔ ہم یہ نہیں مانتے کہ لالو کی طرف سے مسلمانوں کا رجحان نتیش کمار کی طرف پلٹنے کے لئے یہ سب کچھ ہوا۔ ہم نہیں مانتے کہ بورڈ اور امارت شرعیہ کو ٹول کی طرح استعمال کیاگیا۔ ہم نہیں مانتے کہ سرکاری کمیٹیوں کے ممبر بننے والے حضرات کے خلوص پر شبہ کیاجاسکتا ہے۔ ہم نہیں مانتے کہ چھپ چھپ کر ملنے والوں کے بھی ’’اچھے دن ‘‘ آنے والے ہیں۔ ہم نہیں مانتے کہ امارت شرعیہ کو نتیش کی گود میں بٹھادیاگیا ہے۔ ہم یہ بھی نہیں مانتے دین وشریعت کے نام پر مسلمانوں کو بے وقوف بنایاگیا۔ رسواکیاگیا ہے اور انہیں مال غنیمت کی طرح جنتادل یوکو سونپنے کی خوبصورت حکمت عملی تھی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس تاریخی یادگار باوقار کانفرنس کو لے کر میڈیا میں جو کہانیاں گردش کر رہی ہیں ان میں کتنی صداقت ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ خاص کانفرنس کے روز ہی ایم ایل سی ٹکٹ کانفرنس کے کنوینر کو دینے کے اعلان کی کیا مصلحت تھی۔ کیا وہ منتظمین کو ایکسپوز کرناچاہتے تھے۔ ان کا ہمالیائی قد بونا کرناچاہتے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ دونوں باتوں میں کیا باہم ربط ہے۔ کیوں کانفرنس کو اس اقتدار کا لازمی حصہ بنادیاگیا۔ جس کے خلاف کانفرنس کا اہتمام کیاگیا تھا۔ یہ کونسی سیاست اور بزرگیت ہے یہ کیسی قیادت ہے جو گھٹنوں پر چل کر قد بلند رکھنا چاہتی ہے۔ یہ کونسی شریعت ہے جو قول وفعل کے تضاد کو جائز سمجھتی ہے۔ تو کیا سجدہ شکربجا لائیں۔ قدموں سے لپٹ جائیں۔ احسان عظیم کی گٹھری سرپر باندھ لیں کہ شریعت اور ملک دونو ں کا کتنی آسانی سے تحفظ ہوگیا۔ معاف کیجئے زندہ مکھیاں نگلی نہیں جاسکتیں۔ یہ تماشے مقربین، متعبین، مامورین اور مریدین کو خوش کرسکتے ہیں لیکن عام مسلمان اپنی بے توقیری، بے حرمتی  اور بے بسی پر خون کے آنسو رو رہا ہے کہ وہ شام کو صرف ایک ٹکٹ دے کر لوٹادیاگیا۔ بھلے ہی اپنے سواسب کو کافر قرار دے دیں مگر اتنا سستا تو نہ بنائیں، بھائو اتنا نہ گرائیں، ہم تو ان کے دربار عالیہ میں معتوب ومقہور ہیں، رہیں کوئی گلہ نہیں۔ ایسی اور گالیاں دیں  سب قبول۔ مگر مسلمانوں کی عصمت کو شریعت کے نام پر فروخت نہ کیاجائے۔ بہرکیف جو بھی کسی منصب یا ذمہ داری پر فائز ہے اپنے ہر قول وفعل کے لئے عوام کے سامنے جواب دہ ہے۔ اسے سوال کرنے کا حق ہے اور جواب دینا منصب دار کا فرض۔ خواہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو۔ یہ بزرگوں کی شان میں بے ادبی، گستاخی اور اہل منصب کی نافرمانی نہیں جو سوالوں کا جواب دینے کی بجائے بھکتوں کی فوج کو بمباری وسنگساری کے لئے آگے بڑھادیتے ہیں انہیں بھی نوشتہ دیوارپڑھ لیناچاہئے جب عام آدمی غضبناک ہوتا ہے تو شاہوں کے تخت وتاج بھی محفوظ نہیں رہتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قاسم سید

معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

5 تبصرے

  1. یہ بات قابل توجہ ہے :
    کہ انسان بہر حال انسان ہے ، اس سے لغزش ہوگی، جس طرح ہمارے مذہبی قائدین ہیں اسی طرح دوسری قوموں کے بھی مذہبی قائدین ہیں ، دوسرے مذاہب کے قائدین سے کوئی انسانیت سے گری ہوئی بھی حرکت ہوتی ہے تو عوام و خواص کے درمیان بجائے تنقید و تنقیص کے لوگ پردہ ڈالتے ہیں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا میں موضوع بحث نہیں ہوتا ہے ہاں اگر پانی سر سے اونچا ہوگیا ، لیپا پوتی اور دبیز سے دبیز پردے کے باوجود رفتار زمانہ اس کی چغلخوری کر ہی دیتا ہے تو پھر ہاتھی کو مکھی اور چیونٹی بناکر میڈیا میں پیش کیا جاتا ہے ، انفرادی طور پر ہر آدمی موضوع بحث نہیں بناتا ہے ، اس پر بھی اس کے چاہنے والے تھوڑے ہی دنوں میں اسے اس کے مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں ۔ لیکن مسلم قوم خصوصا سوشل میڈیا پر سرگرم علماء بیزار دانشور طبقہ اور ان سے متاثر نوجوان فضلاء کا یہ حال ہے کہ جب کبھی ہمارے مذہبی قائدین سے کوئی اجتہادی حقیقی یا من گھڑت لغزش سامنے آتی ہے تو یہ دونوں طبقہ مکھی کو ہاتھی بنا ڈالتے ہیں ، مردے پر کوے اور چیلوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں پھر بجائے تنقید کے تنقیص کا بازار گرم ہوجاتاہے ۔
    جب کہ ہمارے قائدین خود انتہائی حساس اور متحرک ہیں ، اگر کہیں کسی سے کوئی چوک ہو جاتی ہے تو فورا اوپر ہی گرفت ہوجاتی ہے ، نیچے کے لوگوں کو بولنے کی ضرورت ہی نہیں ۔
    اگر ہر آدمی اپنی زمین کا خیال کرے ، اگر بولنا یا لکھنا ہو تو بجائے فیسبک اور واٹساپ پر اپنے اوقات کو ضائع کرنے کے براہ راست ملاقات کرے یا لکھے تو اس کے بہتر اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔ اللہ کے رسول نے شیخین اور ابن عمر اور دیگر رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین کا جب امتحان لیا تھا تو اس موقع سے ایک چھوٹا سا بچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کو جواب معلوم تھا اس کے باوجود بڑوں کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے خاموش رہے ، لیکن ان کی خاموشی پر عمر خوش نہیں ہوئے ،
    اس سے یہ سمجھ میں آیا کہ جو بھی آئیڈیا یا کسی کی لغزش آپ کو معلوم ہے ، اس کا اظہار کیا جائے لیکن سوشل میڈیا میں اور دین بیزار اور علماء بیزار کے سامنے نہیں بلکہ ملاقات یا خطوط کے ذریعے ۔ کیونکہ اگر آپ یہ طریقہ نہیں اپناتے ہیں تو علما پر اعتماد باقی نہیں رہ سکے گا اور اسی عدم اعتمادی کی بنیاد پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ پر الزام لگائے جانے کی بنیاد پر انہیں منصب امامت سے معزول کر کے واپس مدینہ بلایا لیا تھا ، جب کہ عمر کو ان پر کلی اعتماد تھا لیکن جب عوام نے الزام لگایا تو چونکہ عوام اعتماد اور اعتقاد ختم ہوگیا لہٰذا اب ان سے قوم کو فائدہ نہیں پہنچتا اسی وجہ سے انہیں معزول کیا

  2. 👇
    مولانا محمد ولی رحمانی نے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور امارت شرعیہ کے وقار کو بلند کیا ہے اور ملک و ملت کو مثبت پیغام دیا ہے

    مولانا ابو الکلام قاسمی شمسی

    سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ

    مسلم پرسنل لا بورڈ ملت اسلامیہ کی با وقار تنظیم ھے۔یہ ایک متحدہ پلیٹ فارم ھے۔اس نے ھر موقعہ پر ملک وملت کی صحیح راھنمائی کی ھے۔گنتی کے چند افراد ھیں جو اس کی کار کردگی پر بھی سوالیہ نشان لگاتے رھے ھیں،مسلمانوں نے کبھی بھی ایسے لوگوں کو کوئی حیثیت نہیں دی اور ال انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کی راھنمائی میں چلتے رھے اور چل رھے ھیں.

    موجودہ وقت میں طلاق بل لا نے کے لئے مرکزی حکومت نے یہ دعوی کیا کی مسلم خواتین اسلام کے قانون سے خوش نہیں ھیں،اس کے لئے چند عورتوں کو مسلمان کہہ کر ٹی وی کے سامنے کھڑا کیا ، احتجاج کر ایا۔ حکومت کے اس دعوی کو غلط ثابت کرنے کے لئے مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مسلم خواتین کے احتجاج کا اعلان کیا گیا، احتجاج مثالی رھا۔پورے ملک ھی نہیں بلکہ دنیا کے لوگوں نے دیکھا کہ حکومت کا دعوی غلط ھے۔اس احتجاج نے ملک کے منفی فکر کو مثبت فکر میں بدل دیا ،اس کے نتیجہ میں سیکولر برادران نے بھی حکومت کی سازش کو سمجھااور بل معلق ھو کر رہ گیا. خواتین کے اس احتجاج پر بھی بحث ھوئی،اور ختم ھوگئی۔مسلم پرسنل لا بورڈ کی اواز پر مسلم خواتین نے مثالی کارنامہ انجام دیا،دنیا کی تاریخ میں مسلم خواتین کا یہ احتجاج ھمیشہ یاد کیا جائے گا۔جمہوری ملک میں اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے اس کی ضرورت ھے۔اس احتجاج کی پلاننگ میں مولانا ولی رحمانی صاحب کا اھم رول رھا۔اس طرح اس تاریخی احتجاج کی پلاننگ کے ذریعہ مولانا ولی رحمانی صاحب نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے وقار کو بلند کیا۔گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑکر آ ج پورا ملک مسلم پرسنل لا بورڈ کا مداح ھے.

    ملک میں بڑھتی ھوئی فرقہ پرستی ،مسلمانوں اور دلتوں پر حملے،مذھبی آزادی پر حملے،اقلیتی اداروں پر حملے،یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی تیاری،ھندتو کی حوصلہ افزائی اور دستور کی روح کے ساتھ کھلواڑ کے خلاف مولانا ولی رحمانی صاحب نے دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس کا اعلان کیا۔اس کے خلاف بھی مسلک کو بنیاد بناکر اختلاف کو ھوا دینے کی سازش کی گئی، مگر قوم کے غیور رھنماؤں نے اس کو ناکام کردیا۔یہ بھی کہا گیا کہ دین کی حفاظت کی ذمہ دار ی اللہ نے لی ھے تو کانفرنس کی کیا ضرورت؟اپ خود غور کیجئے،اللہ نے ذمہ داری لی ھے تو کیا اس کا مطلب یہی ھے کہ اپ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رھئے۔مخالفین کی اس سازش کو بھی عوام وخواص نے ناکام کردیا.

    15/اپریل کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں عوام وخواص کا سیلاب امنڈ آیا. گاندھی میدان ھی نہیں بلکہ پٹنہ شہر اپنی وسعت کے باوجود ناکافی ھوگیا۔ملک ھی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اس کانفرنس کا مثبت پیغام گیا۔چند لوگوں کو چھوڑکر پوری دنیا مدح سرا ھے۔ایک تاریخی کانفرنس تھی جو تاریخ ساز رھی۔مسلمانوں کی پوری تاریخ میں اس طرح کا اتنا بڑا اجتماع نہیں ھوا۔یہ سب امارت شرعیہ کے زیر اھتمام امیر شریعت مولانا ولی رحمانی صاحب کی قیادت میں ھوا۔اس کانفرنس میں مسلمان ھی نہیں بلکہ 70 ہزار دلت بھی شریک ھوئے۔اس کانفرنس نے مسلمانوں کو مختلف زاویوں سے وقار بخشا۔مسلمانوں میں اتحاد کو ثابت کیا،قیادت کو مضبوط کیا،مسلمانوں کے حوصلہ کو بلند کیا،حکومت کو پیغام دیا کہ دین،دستور اور ملک کی حفاظت کے لئے مسلم ، دلت اور سیکولر برادران وطن ھر طرح سےتیار ھیں۔غرض کانفرنس ھر طرح کامیاب رھی۔

    کانفرنس کی کامیابی اور اجتماع کو دیکھ کر اس کے اثر کو زائل کرنے کی سازش کی گئی،اس طرح کی سازش ھمیشہ ھوتی رھی ھے۔اس سازش کی وجہ سے مخالفین کو اپنی ناکامی چھپانے کا موقع مل گیا۔اگر یہ بات نہ ھوتی تو کوئی دوسری بات اڑاتے،اور ناکام ثابت کر نے کی کوشش کرتے۔

    سوشل میڈیا پر چند لوگ احتجاج کرتے نظر آتے ھیں ،یہ وھی لوگ ھیں جو پہلے سے ھی مخالفت کر رھے تھے۔

    ایم ایل سی کے بے وقت اعلان کی وجہ سے لوگوں میں کچھ بدگمانی پیدا ھوئی ھے ،اور کچھ لوگ اس بحث میں لگے ھوئے ھیں،لیکن اس حقیقت کو سامنے رکھنے کی ضرورت ھے کہ

    اتنا بڑا اجتماع امارت اور امیر شریعت کے اعلان پر ھوگیا،یہ بڑی کامیابی کی بات ھے۔اس کانفرنس نے امارت شرعیہ کے وقار کو بلند کیا ھے ،جس کا سہرا مولانا ولی رحمانی صاحب کے سر جا تا ہے.

    رہ گیا معاملہ استعفی اور ان کے خلاف غلط الفاظ استعمال کرنے کا ،تو یہ کوئی نئی بات نہیں ھے جو کام کر تا ھے اسی کی مخالفت ھوتی ھے،وھی گالی بھی سنتا ھے،پھلدار درخت ھی پر لوگ پتھر مارتے ھیں۔امارت ایک تنظیم ھے،اس کے ممبران ھیں۔وہ اس کو دیکھینگے۔کچھ لوگ ھنگامہ کرتے ھیں،اس سے بددل ھو نے کی ضرورت نہیں،بلکہ مزید حوصلہ سے کام لینے کی ضرورت ھے۔ملت اپ کے ساتھ ھے.

    (بصیرت فیچرس)

  3. دین بچاؤ -دیش بچاؤ کانفرنس
    جب کوئی تاریخ رقم ہوتی ہے ،کسی مشن میں کامیابی ملتی ہے تو ہر ممکن طریقے سے اسے کمزور کرنے ،اس کے اثرکو زائل کرنے اور کئی طرح سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔دین بچاﺅ ۔دیش بچاﺅ کانفرنس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔پہلے سے ہی بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی جارہی تھی،نتیش کمار کے سیاسی گیم نے انہیں مزید مواد فراہم کردیا
    خبردرخبر(558)
    شمس تبریز قاسمی
    جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولانہیں کرتے ،جس پارٹی، تنظیم ،جماعت اور شخصیت کے پاس جتنی بڑی بھیڑ ہوتی ہے اس کی اتنی ہی اہمیت سمجھی جاتی ہے ۔ہندوستان سمیت دنیا بھر کے تمام جمہوری ممالک کا یہ ضابطہ ہے کہ عوام اپنی ناراضگی ظاہر کرنے ،حکومت وقت سے اپنا مطالبہ منوانے ،کسی طرح کا دباﺅ بنانے کیلئے احتجاج ،مظاہر ہ،بھوک ہڑتال ،مارچ ،کانفرنس اور اس طر ح کے پروگرام کا سہارالیتی ہے ۔ہندوستانی مسلمان اور ملی تنظیموںکی جانب سے بھی اسی طریقہ کو اپنایاجاتاہے ،موقع بہ موقع احتجاجی مظاہرے کئے جاتے ہیں،صدر جمہوریہ کو میمورنڈم سونپا جاتاہے ،آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان اسی طریقہ پر عمل پیرا ہیں اور مسلسل حکومت کے خلاف احتجاج کا یہ طریقہ اختیار کیاجارہاہے۔اس طر ح کی ریلیاں موثرہوتی ہیں ،حکومت کو عوامی رحجان کاانداز ہ ہوتاہے اوربعض دفعہ حکومت اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبورہوتی ہے ،اگر یہ مظاہر ے تشدد میں تبدیل ہوجاتے ہیں تو حکومت زیادہ جلدبازی میں ایکشن لیتی ہے ،یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں نے پرتشدد مارچ سے ہمیشہ گریز کیاہے ۔مشکل حالات سے گزر نے کے باوجود بھی انہوں نے پرامن مارچ کو ہر ترجیح دیا ہے۔
    کچھ ایسے ہی مقاصد کے پیش نظر گذشتہ 15 اپریل کو پٹنہ کے گاندھی میں میدان میں ”دین بچاﺅ دیش بچاﺅ “ کے عنوان سے ایک ریلی منعقد ہوئی جس میں کم وبیش 20 لاکھ مسلمانوں نے بہار ،اڑیسہ اور جھارکھنڈ سمیت ملک کے مختلف حصوں سے شرکت کی، پورا پٹنہ انسانی سیلاب میں تبدیل ہوگیاتھا ،مذکورہ صوبوں کا شاید ہی ایسا کئی مسلم گاﺅں رہاہوگا جہاں سے کوئی بس پٹنہ کیلئے روانہ نہیں ہوئی ہوگی ۔لوگوں کا مانناہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی ریلی ہوئی ہے۔یہ تاریخ ساز ریلی اور عوام کی اتنی بڑی بھیڑ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک شریعت سب سے بالاتر ہے ،امارت شرعیہ اور اس کی قیادت پر انہیں مکمل اعتماد ہے ،اگر شریعت پر عمل کرنے سے روکا جاتاہے ،اس کے نظام کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ مسلمان اس کے خلاف میدان میں آنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی صورت میں یہ مداخلت برداشت نہیں کرسکتے ہیں ۔اسی جذبہ اور خلوص کے ساتھ یہ سب 15 اپریل کوامیر شریعت مولانا محمد سید ولی رحمانی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہوئے تھے ۔مسلمانوں کا یہ جذبہ ،قیادت پر اعتماد اور دین سے محبت قابل صد ستائش ہے ۔
    یہ بھی سچائی ہے کہ جب کوئی تاریخ رقم ہوتی ہے ،کسی مشن میں کامیابی ملتی ہے تو ہر ممکن طریقے سے اسے کمزور کرنے ،اس کے اثرکو زائل کرنے اور کئی طرح سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔دین بچاﺅ ۔دیش بچاﺅ کانفرنس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔پہلے سے ہی بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی جارہی تھی،نتیش کمار کے سیاسی گیم نے انہیں مزید مواد فراہم کردیا ۔کہاجاتاہے کہ سیاست میں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہوتی ہے اوریہی ہوا، نتیش کمار نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے امارت شرعیہ کو مسلمانوں کی نظر میں بدنام کرنے کی کوشش کی ۔کانفرنس کے عین اختتام پر خالد انور کی نامزدگی کا اعلان اجلاس کے اثرا ت کو کم کرنے اور امارت شرعیہ کا داﺅ وقار پر لگانے کی سازش تھی ،اس کے ذریعہ انہوںنے مسلمانوں کے درمیان اپنی شبیہ بھی بہتر بنانے کی کوشش کی۔ خالد انور کا نام پہلے سے امیدواروں کی فہرست میں شامل تھا،لیکن نتیش کمار نے جب یہ دیکھاکہ خالد انور مولانا ولی رحمانی جیسی شخصیت کے قریبی ہیں ۔لاکھوں کی تعداد میں عوام جس کانفرنس کا حصہ بنی ہوئی ہے اس میں خالد انور کو نمایاں مقام حاصل ہے تو انہوں نے اس نام پر مہر لگادی تاکہ خالد انور کے ذریعہ امارت شرعیہ کو استعمال کیاجاسکے ۔
    دنیا کا اصول ہے کہ کچھ لوگ اخلاص کے ساتھ بغیر کسی مفاد کے کسی کی قربت اختیار کرتے ہیں تو کچھ اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے کسی کے قریبی بنتے ہیں اوراس کیلئے وہ کسی بھی حدتک چلے جاتے ہیں ۔ان کے نزدیک نظریہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے ۔دین بچاﺅ ۔دیش بچاﺅ کانفرنس اور خالد انور کو ایم ایل سی بنائے جانے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ٹائمنگ ایسی تھی جس نے تعلق جوڑ دیا ،لوگوں کو یہ سوال کرنے کا موقع فراہم کردیا۔آج ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد امارت شرعیہ کے ناظم یہ کہ رہے ہیں کہ خالد انور نے امارت شرعیہ کے وقا ر کو داﺅ پر لگایا ہے ، کانفرنس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اگر یہی بات امارت شرعیہ کی جانب سے اول دن کہی جاتی ،امیر شریعت خود آکر یہ کہتے کہ ہماری کانفرنس کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو نوبت یہاں تک نہیں پہونچتی بلکہ اجلاس کے وقار میں مزید اضافہ ہوجاتا۔صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہونے پر مجھے خوشی ہے ڈاکٹر خالد انور ایم ایل سی بنائے گئے ،یہ بات جان مزید خوشی ہوئی کہ وہ ایک مدرسہ کے فاضل ہیں لیکن میری خوشی اس وقت دوبالاہوجاتی جب خالد انور صاحب اس پیشکش کومسترد کرتے ہوئے کہتے کہ ہماری لڑائی ایک نظریہ کے خلاف ہے ،جب تک نتیش کمار این ڈی اے کا حصہ رہیں گے ہمارے لئے جدیو سے ایم ایل سی بننا ناممکن ہے۔
    دین بچاﺅ ۔دیش بچاﺅ کانفرنس ایک عظیم مقصد کے تحت کی گئی تھی ،دین میں مداخلت کرنے والوں کو اپنی طاقت ،دکھانا ،انہیں اس طر ح کی حرکتوں سے روکنا اور جمہوری اقدار کا پاس رکھنے کا پیغام دیناتھا ،کانفرنس اپنے اس مشن میں کامیاب ثابت ہوئی ،ارباب اقتدار ،حزب اختلاف اور ملک کے تمام طبقہ تک یہ بات پہونچ گئی کہ ہندوستان کا مسلمان ابھی بیدار ہے ،علماءکی قیادت پر اسے مکمل اعتماد ہے ،زی نیوز اور آج تک جیسے چینلوں کی بوکھلاہٹ سے بھی پتہ چل رہاہے کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کے جمع ہونے سے حکومت پر طلاق بل کو واپس لینے کا دباﺅ بڑھ گیاہے کیوں کہ جمہوریت میں سروں کو گنا جاتاہے ،بھیڑ سے عوام کی مرضی اور مخالفت کا فیصلہ طے کی جاتاہے۔
    یہ کانفرنس سوشل میڈیا پر اب تک موضوع بحث ہے ،عوامی گفتگو میں بھی اس پر چرچاہورہی ہے ۔اعتراض کرنے والے کو کسی بھی صورت میں غلط نہیں کہاجاسکتاہے،صحافیوں کو سوال کرنے کا مکمل حق ہے ۔ جو کچھ ہواہے اس پر سوال اٹھنا یقینی تھا ،جس شخص کا امارت شرعیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اسے کانفرنس میں نمایاں اہمیت دیا جانا محل نظرہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سوال اٹھانے والوں کو غلط کہاجائے ،ان کی نیت پر حملہ کیاجائے ۔انہیں برا بھلا کہاجائے ۔نہ ہی سوال کرنے والوں کو یہ حق پہونچتاہے کہ وہ بد زبانی کریں ،بغیر تحقیق کے سنگین الزامات عائد کریں ،صحافت کے پردے میں عدوات شرو ع کردیں ۔ اعتدا ل ،توازن اور حق پرستی ہر جگہ ضروری ہے ۔
    stqasmi@gmail.com

  4. دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس میں پیش کردہ تجاویز
    زیر صدارت : مولانا محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم
    امیر شریعت بہار ، اڑیسہ ، جھارکھنڈ، امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

    تجویز نمبر ۱۔ہماری شریعت ہماری جان
    ۱۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ہمارے ملک میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ہمارے دین و شریعت سے کھلواڑ کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسلامی تہذیب اور قرآنی تعلیمات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے مسلم خواتین تحفظ بل 2017 کے نام سے لاکر شریعت میں حکومتی مداخلت کا نیا دروازہ کھول دیا ہے۔یہ عظیم مجمع شریعت میں مداخلت کی ہر کوشش کی مذمت کر تا ہے۔اور آج کی کانفرنس کے ذریعہ مطالبہ کر تا ہے کہ حکومت اپنے رویہ میں تبدیلی لائے اور قرآن و حدیث کے تقدس کو پامال کر نے سے گریز کر تے ہوئے مسلم خواتین بل 2017 واپس لے اور شریعت میں مداخلت بند کرے۔
    2۔ ہجومی تشدد اور کچھ بے لگام لیڈروں کے بیانات کے ذریعہ ملک کے مسلمانوں، دلتوں اور محروم طبقات میں خوف و ہراس پیدا کر نے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ آج کی یہ کانفرنس ان واقعات کی شدید مذمت کر تی ہے اور حکومت سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ سماج میں مساوات کے قیام کی کوشش کرے اور نفرت و خوف و ہراس کے ماحول کو ختم کرے، ملک کی سا لمیت و اتحاد کو خطرہ میں نہ ڈالے۔
    3۔ ہمارے ملک کا دستور سیکولر روایات و اقدار کا امین ہے۔ آئین ہند نے سبھی مذاہب کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی دی ہے۔ گذشتہ کچھ مدت سے پورے ملک پر ایک نظریہ کو تھوپنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ آج کی یہ کانفرنس دستور ہند کا احترام نہ کر نے والوں کے رویہ کی مذمت کر تے ہوئے حکومت ہند، آئینی اداروں اورسیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ مکمل طور پرملک کے آئین کا احترام کریں۔یہ کانفرنس خبردار کر تی ہے کہ دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے دیش کے خیر خواہ نہیں ہیں،انہیں ملک کے عوام جمہوری طریقہ سے سزادیں گے۔
    3۔ ایک طرف حکومت عورتوں کے تحفظ کی بات کر تی ہے اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ معصوم بچیوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں ہے۔ یو پی اور جموں کشمیر کے واقعات کی مذمت کر تے ہوئے یہ کانفرنس مطالبہ کر تی ہے کہ حکومت ایسا ماحول تیار کرے جس میں آئندہ اس قسم کے واقعات پیش نہ آئیں اور مجرمین کو عبرتناک سزا دے۔
    تجویز -2آزاد عدلیہ جمہوریت کا ستون ہے:
    1۔ جمہوریت کا وجود ہماری عدالتوں کی آزادی اور احترام پر منحصر ہے۔ آج حکومتی سطح پر عدالتوں کو مسلسل متاثر کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے چار موقر ججوں نے جس طرح آئینی اداروں کو بر باد کرنے کی کوششوں کے خلاف پریس کانفرنس کی اور جمہوریت کے درپشت خطرات سے ملک کو با خبر کیا وہ عدلیہ کی صحیح صورت حال کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ آج کی یہ کانفرنس سپریم کورٹ کے چاروں ججوں کی جرأت کی ستائش کر تی ہے اور مرکزی حکومت، پارلیامنٹ، تمام سیاسی پارٹیوں اور عوام سے اپیل کر تی ہے کہ عدلیہ کی آزادی و خود مختاری کو ہر حال میں بچایا جائے۔ جو فاشسٹ ادارے عدالتوں کی توہین کر رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ آج کی کانفرنس حکومت کے ذریعہ عدالتوں کو متاثر کر نے کی کوششوں کی بھر پور مذمت کر تی ہے۔
    2۔ آزاد و خود مختار عدلیہ کے لئے ضروری ہے کہ ججوں کی تقرری میں سرکاری مداخلت نہ ہو۔ بد قسمتی سے موجودہ حکومت ججوں کی تقرری من مانے ڈھنگ سے کر رہی ہے۔ آج کی کانفرنس مرکزی سرکار سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ ججوں کی تقرری کے معاملات کو عدالتوں پر چھوڑ دے۔
    3۔ عدالتوں کے بعض فیصلوں کی وجہ سے یہ تاثر جارہا ہے کہ عدالتیں اسلامی احکام و قوانین کی تشریح من مانے طور پر کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں جو فیصلے آتے ہیں اس سے شریعت میں مداخلت ہو تی ہے۔ عدالتوں کے فیصلوں کے احترام کے ساتھ یہ کانفرنس اس رویہ میں تبدیلی کا مطالبہ کر تی ہے تا کہ دستور ہند میں دیے گئے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔
    تجویز -3مساجد و مقابر و مدارس کی حفاظت
    1۔ مسجدیں ہمارے دین و شریعت کا مرکز اور مدارس دین کے قلعے اور ہماری تہذیب کی شناخت ہیں۔ ہماری درگاہیں اور خانقاہیں عوام الناس کے روحانی مراکز ہیں۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ہمارے ان مقامات کے خلاف مسلسل سازشیں ہو رہی ہیں۔ مسجدوں کی تعمیر اور یہاں سے اٹھنے والی صدا پر لگام لگانے کے لئے قانون بنائے جار ہے ہیں۔ مدارس کو دہشت گردی سے جوڑ کر نشانہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ خانقاہوں اور درسگاہوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ آج کی کانفرنس حکومت سے یہ مطالبہ کر تی ہے کہ ہمارے مساجد ، مقابر و مدارس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ سماج دشمن عناصر کو لگام دے کر ملک کی ان وراثتوں کی حفاظت کی جائے۔
    تجویز -4فسادات سماج کے لئے ناسور اور اجتماعی ترقی کے دشمن ہیں
    1۔ فرقہ وارانہ فسادات نے ہمارے سماج کو توڑ دیا ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مرکز میں جب سے نئی سرکار آئی ہے فسادیوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔ ملک میں ہر جگہ فسادی گروہ سر گرم ہو گیا ہے۔ مسلمانوں، دلتوں اور کمزور طبقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عبادت گاہوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ چن چن کر مسلمانوں کی دکانوں مکانوں اور کار خانوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ کچھ ریاستی حکومتیں ایسے سماج دشمن عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس سے ان کا ووٹ بڑھ رہا ہے۔ یہ کانفرنس ایسی سرکاروںکی شدید مذمت کر تی ہے۔ یہ کانفرنس مطالبہ کر تی ہے کہ فسادات کو روکنے کے لئے مستحکم کارروائی کی جائے۔ فسادات میں شامل عناصر کے خلاف قتل عمدکا مقدمہ چلایا جائے۔ یہ کانفرنس تمام ریاستی سرکاروں اورمرکز سے مطالبہ کر تی ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات مخالف بل پاس کرے، متاثرین کو ہر جانہ ادا کرے اور فسادیوں کو سزا دے۔
    تجویز -5دلتوں کے خلاف مظالم بند ہوں
    1۔ درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل کی آبادی سخت بے چینی کا شکار ہے۔دلتوں پر مظالم عام بات ہے۔ ایس سی،ایس ٹی ایکٹ کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے۔ آج کی کانفرنس ملک میں بسنے والے دلت بھائیوں سے اظہار ہمدردی کر تے ہوئے سرکار سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ دلتوں، محروموںپر ظلم کر نے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ ریزر ویشن کی پالیسی میں چھیڑ چھاڑ نہ کرے اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کو مضبوط بنائے۔
    2۔ غیر مسلموں اور خاص طور پر دلتوں کے ساتھ سماجی رابطے کی کمی ہے۔ یہ کانفرنس تمام مسلمانوں سے اپیل کر تی ہے کہ سماجی ہم آہنگی کی فضا بنائی جائے اور دلتوں کے ساتھ میل ملاپ میں اضافہ کیا جائے۔
    تجویز 6-خواتین بیداری مہم
    اس کانفرنس کا احساس ہے کہ مختلف وجوہات سے ہمارا گھریلو اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تا جا رہا ہے۔ دینی معاملات میں بھی مسلمان کمزور ہو رہے ہیں اور خواتین کے معاملے میں دینی علوم اور مذہبی شعور کی کافی کمی پائی جاتی ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ مسلمان دین بچانے کے لئے اپنی ذاتی اور خانگی زندگی میں بھی حساس اور بیدار ہوں۔ دین بچانے کا یہ سب سے اہم طریقہ ہے۔اس سلسلے میں خواتین بیداری مہم چلائی جائے۔ اس کے لئے صوبائی سطح سے ضلع اور بلاک کی سطح تک پڑھی لکھی دیندار اور مہذب خواتین کی کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کمیٹی کے ذریعہ عورتوں کے اسلامی طور طریقے ، شرعی قوانین اور حکم دین کے تئیں بیداری لائی جائے اور امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر کو اس کی پیش رفت سے مطلع کیا جائے۔
    تجویز -7تعلیم و تر بیت
    2۔ مسلمانوں کے لئے بنیادی دینی تعلیم کا حصول فرض عین ہے۔ اس لئے لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم ایسی جگہوں پر دلوائی جائے جہاں بنیادی دینی تعلیم کا حصول ممکن ہو۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عصری تعلیم دینی تربیت کے ساتھ اسلامی ماحول میں بچوں کو دی جائے۔ ایسے بچے جن کے تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم کی سہولت نہیں ہے ان کے لئے مختلف چھٹیوں کے ایام میں ووکیشنل کورسیز چلائے جائیں۔
    تجویز -8اردو زبان کی بقا
    سرکاری سطح پر حکومت اپنے انداز میں اردو کی ترویج و اشاعت اور بحیثیت زبان اس کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن اردو زبان کو گھر گھر داخل کئے بغیر اس کو زندہ زبان کی حیثیت سے باقی رکھنا دشوار ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ گھر گھر میں اردو زبان بولی جائے، اردو کے اخبارات و رسائل خرید کر پڑھے جائیں، دکانوں کے بورڈ اور ناموں کے نیم پلیٹ اردو میں بھی لکھے جائیں۔ تا کہ جو ورثہ ہمارے بڑوں نے ہمیں دیا ہے ہم اس کی حفاظت کر سکیں۔
    تجویز -9اوقاف
    اوقاف انتہائی کسم پرسی کی حالت میں ہیں۔ سروے کے کام مکمل نہ ہو نے کی وجہ سے اوقاف کی جائیداد تیزی سے خرد برد ہو رہے ہیں اور ان پر زمین مافیائوں کا قبضہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سروے کے کام کو جلد سے جلد مکمل کرائے اور وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم 2013 کے مطابق اوقاف کی جائیداد کو خالی کرانے کے لئے اپنی سطح سے کارروائی کرے۔
    تجویز -10عالم اسلام
    عالمی سطح پر برما ، میانمار ، شام اور فلسطین کے مسلمانوں کو مختلف مسائل اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔ نسل کشی اور کیمیاوی اسلحوں کے استعمال کی وجہ سے حالات نا گفتہ بہ ہیں۔ اس لئے عالم اسلام کی تنظیموں عرب لیگ وغیرہ اور اقوام متحدہ کو ان ممالک میں امن و امان کی فضا قائم کر نے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مسلم ممالک میں امن و سکون نہ ہو نے کی وجہ سے طاقت کا توازن بگڑتا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو اس کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

  5. ۲۱ / ۴ / ۲۰۱۸ کاروزنامہ خبریں دیکھ لیجیے اداریہ میں . ہمدردان قوم کی اس ٹولی نے محبوبہ کی جم کرقصیدہ خوانی کی ہے . . . یہ تو قاسم سیدہی بتائیں گے کہ کشمیرکی پی ڈی پی ،بی جے پی سرکارسے ان کاکتنے کاسوداہواہے کیامحبوبہ مفتی نتیش کی طرح کشمیرمیں بی جے پی کے ساتھ سرکارنہیں چلارہی ہیں اوربی جے پی کے پھلنے پھولنے اوروہاں جاری تشدد کے لیے محبوبہ مفتی بھی ذمّہ دارنہیں ہیں؟ خبریں صدرجمہوریہ کے احساسات سے بھی متاثرہے ،مودی جی کے ذریعہ لندن میں بس مذمت پرہی خبریں کوقرارآگیا . . . . . . . ایک ہی صفحہ پر ایک طرف یہ چمچہ گیری دوسری طرف ملت کادرد . . . واہ . . . منافق کون ہے؟ چمچہ کون ہے ،سودے بازکون ہے؟ کیابتانے کی ضرورت ہوگی ؟ جوجیساہوتاہے دوسروں کواپنی طرح ہی سمجھتاہے . . بلیک میلروں کی یہ ٹیم کیاسوچ اورکیامفادرکھتی ہے کیاڈھکاچُھپا ہے ؟

متعلقہ

Close