آج کا کالم

جئے جوان جئے کسان

سوال یہ ہے کہ آج جہاں گائے بھکتی کے نام پر انسانوں کا قتل عام جاری ہے وہیں ان فوجی گایوں  سے یہ بے رغبتی اور گئو ماتاکی یہ بے حرمتی  کیوں ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر سلیم خان

انگریزوں کو ہندوستانی فوجیوں کا اس قدر خیال تھا کہ انہوں نے ۱۹۸۹ ؁ میں فوجی طبیلے (ملٹری فارم) قائم کیے۔ ان کا مقصد سپاہیوں کے تازہ دودھ اور اس کی دیگر مصنوعات کی فراہمی تھا۔ یہ اب بھی موجود ہیں اور ان میں ۲۵۰۰۰  اعلیٰ نسل کی فرسوال گائیں ہیں۔ ہندوستانی گائے عام طور پر تقریباً دس ماہ  میں دو ہزار لیٹر دودھ دیتی ہے لیکن  فرسوال گائے کا اوسط ۳۶۰۰ لیٹر ہے۔ ان میں سے اعلیٰ نسل کی ہوتی ہیں وہ  اسی مدت میں ۷  ہزار لیٹر دودھ دیتی ہے۔  ۲۰۱۴ ؁ میں ہندوستان کے ایک گائے بھکت سرکار نے اقتدار سنبھالا۔ اس کے  سرکاری گرو  بابا رام دیو نے پتانجلی کے نام پر ہزاروں کروڈ کا سامراج کھڑا کرلیا لیکن مرکزی حکومت نے ۲۰۱۶ ؁ میں  ۳۹ فوجی طبیلوں کو بند کردینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس فیصلے حکومت کی دیش بھکتی  اور  گائے بھکتی    دونوں کا پردہ فاش ہوگیا  لیکن اس فیصلے ایک سال بعد بھی اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے ساڑھے تین گنا زیادہ دودھ دینے والی گائے کو خریدنے کے لیے  کوئی گاہک سامنے نہیں آیا اور فوج کومجبوراً اس ایک لاکھ کی گائے کو  ایک ہزار روپئے کی معمولی قیمت پر صوبائی کوآپریٹیو ڈیریوں کو دینے کا   فیصلہ کرنا پڑا جو مفت میں ہانک دینے جیسا ہے۔ اس طرح فوج کو ڈھائی  سوکروڈ کا چونا لگ گیا۔

حکومت اگر ان گایوں کو اپنی صحیح قیمت میں فروخت کرکے اس خطیر رقم کو فوجیوں کی وردی اور جوتوں پر خرچ کرتی تو حزب اختلاف  کو حکومت پر تنقید کا موقع نہ ملتا۔  کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے  گزشتہ دنوں مسلح فوج میں وسائل کی کمی سے متعلق خبروں کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنا تے ہوئے ٹویٹ کیا تھا’’ ملک میں صرف کھوکھلے نعرے بن رہے ہیں اور جملہ بازی ہو رہی ہے۔اسی دوران جوانوں کے خود ہی کپڑے اورجوتے خریدنے کی بات بھی آرہی ہے۔ ‘‘کانگریس  کےصدر نے ساتھ  میں  وہ  خبر پوسٹ کی تھی  جس میں کہاگیاتھا  کہ مرکزی بجٹ میں تخفیف کی وجہ سے جوانوں کو خود ہی اپنے جوتے کپڑے خریدنے کو مجبور کیاجاتاہے۔ اس خبر میں یہ بھی درج تھا کہ مرکز کی طرف سے مناسب بجٹ نہ دئیے جانے کے سبب  ہندستانی فوج سرکاری اسلحہ فیکٹریوں سےگولہ بارود اور دیگر سازوسامان کی خرید ۹۴فیصد سے گھٹا  کرصرف ۵۰فیصدکرےگی۔

وطن عزیز میں فوج کے علاوہ  پولس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس  کو بیان کرنے والا ایک  شرمناک واقع ماہِ   مئی  میں ملک معاشی راجدھانی عروس البلاد ممبئی  میں سامنے آیا۔ تنخواہ سے محروم ممبئی  پولیس کے  اہلکار دیانیشور اہیر راؤ نے پولیس کمشنر اور وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر گھر کا خرچ چلانے کے لیے وردی میں بھیک مانگنے کی اجازت طلب کر لی۔ دیانیشور نے اپنے خط میں لکھا اس نے ۲۰ تا ۲۲ مارچ تک چھٹی لی تھی لیکن  اس دوران اس کی اہلیہ کا پیر ٹوٹ گیا  اس لیے وہ ۲۸ مارچ تک ڈیوٹی پر نہیں آسکا۔ اس کے بعد وہ کام کررہا ہے لیکن    دوماہ سے  بغیر کوئی وجہ بتائے اس کی تنخواہ  روک دی گئی ہے۔ راو کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی بیمار بیوی، سن رسیدہ والدین اور بیٹی کی  پرورش کے لیے روپیوں کی ضرورت ہے۔   اس کے علاوہ مجھے قرض کی قسط بھی ادا کرنی ہے  اس لیے اس کو اپنی وردی کے اندر بھیک مانگنے کی اجازت دی جائے۔ اس سانحہ کا ایک اور افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ این ڈی اے میں شریک شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کے گھر ماتوشری پر تعینات  ہے لیکن کوئی اس کا پرسانِ حال نہیں ہے۔ دکن ہیرالڈ نے اس کے متعلق دریافت کرنے کے لیے ڈپٹی پولس کمشنر وسنت جادھو سے رابطہ کیا تو ان کا جواب تھا یہ انتظامی محکمہ کا معاملہ ہے اس لیے وہ اس پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔ دیش بھکتی کے بلند بانگ نعروں کی آڑ میں زمینی حقیقت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایاسکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آج جہاں گائے بھکتی کے نام پر انسانوں کا قتل عام جاری ہے وہیں ان فوجی گایوں  سے یہ بے رغبتی اور گئو ماتاکی یہ بے حرمتی  کیوں ہو رہی ہے؟   اس سوال کا جواب گائے کی معیشت میں پوشیدہ ہے۔ گائے پالنے کا کام زیادہ تر ہندو اور مسلمان  کسان کرتے ہیں۔ گائے کی خریدو فروخت کا کام زیادہ تر مسل تاجر کرتے ہیں۔ وہ انہیں کسانوں سے خرید کر بازار میں لاتے ہیں اور جن کو ضرورت ہوتی ہے انہیں بیچ دیتے ہیں۔ اسی طرح دودھ اور اس کی مصنوعات کو فروخت کرنے کا کام بھی ہندو مسلم تاجر کرتے ہیں۔ گزشتہ چار سالوں میں جب سے بی جے پی کی مرکزی سرکار قائم ہوئی اس نے گئوتنکواد نامی نئی دہشت گردی کو فروغ دیا۔ گئو آشرم کے نام پر سرکاری زمینوں پر قبضہ ہونے لگا اور ان کے انتظام و انصرام پر سرکاری خزانے کی لوٹ مار کا آغاز ہوگیا۔ مختلف مقامات پر گئو رکشکوں کے نام پر غنڈوں نے ہفتہ وصولی کا کام شروع کردیا۔ اپنی دھاک جمانے کے لیے وہ تاجروں کو ہلاک کرنے لگے۔ ان کی گاڑیوں کو جلاکر اس کی ویڈیو پھیلانے لگے۔ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں یہ دہشت پروان چڑھی اور   پولس نے  مجرمین کو تحفظ فراہم  کرنے کا کام کیا۔

وزیراعظم نے  زبانی جمع خرچ پر اکتفاء کرتے ہوئے گئوسیوکوں اور گئو رکشکوں کا فرق  تو بیان  کرکےگئورکشک کے مجرم ہونے کا شبہ بھی  جتایا لیکن  اپنے سیاسی مفاد کے پیش نظر کسی کو سزا نہیں دلوائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گائے بیچنے اور خریدنے والے کسان  کے درمیان کا رابطہ ٹوٹ گیا۔  ان کے درمیان تاجر غائب ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ فوج جیسے ادارے کو اپنی عمدہ نسل کی گائے کو بھی  نکالنے کے ایک سال کا انتظار کرنا پڑا اور  مفت میں انہیں ہانکنا پڑا۔ بی جے پی کے جعلی گئو رکشکوں نے سوچا مسلمان تاجر تو ویسے بھی ہمیں ووٹ نہیں دیتے اس لیے اگر ان کی معیشت تباہ کردی جائے تو اس سے کوئی سیاسی نقصان نہیں ہوگا لیکن وہ بھول گئے کہ مویشیوں کی خریدو فروخت بھی نہ صرف گئو سیوا بلکہ کسانوں کی بھی حقیقی  خدمت ہے۔ فوج کی ۲۵ ہزار گایوں کی درگتی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ملک کے کروڈوں کسانوں کا کیا حال ہوگا جن کے معاشی استحکام میں گائے بیل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سنگھ پریوار نے اپنی کوتاہ بینی سے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ اول تو انہیں اپنی فصلوں اور دودھ کا مناسب بھاو نہیں مل رہا ہے دوسرے ان کے جانوروں کو خریدنے والا گاہک نہیں ہے۔ ان کے مویشی ان پر بوجھ بن گئے ہیں۔ مویشیوں کے مشہور بازار جہاں پر ہزاروں جانور فروخت ہوتے تھے بند ہوگئے۔  اس لیے اچھے دنوں کے امیدمیں کمل کے نشان پر مہر لگانے والےکسان بے چینی سے اپنی غلطی کی اصلاح کے لیے  ۲۰۱۹ ؁ کا انتظار کررہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close