آج کا کالم

جارحانہ قوم پرستی: ایک تجزیہ

ڈاکٹر محمد رفعت

ہمارے ملک میں جارحانہ قوم پرستی کی ایک طاقتور تحریک موجود ہے، جو اپنے کو ہندوتو کا علمبردار کہتی ہے۔ اس تحریک کا خاص نشانہ مسلمان ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں میں مُلک میں ایسے واقعات پے درپے پیش آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہندوتو کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے جان و مال اور اسلامی شعائر پر یلغار کردی ہے۔ حکومت کی مشنری یا تو خاموش تماشائی ہے یا ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلمانوں کو اور منصف مزاج اہلِ مُلک کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ سوال در پیش ہے۔جارحانہ قوم پرستی کے رجحان کے علمبردار ترقی کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن یہ بات اب تک واضح نہیں ہے کہ پورے ملک کو درپیش سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے لیے وہ کیا حل پیش کرتے ہیں ؟ البتہ مسلمانوں سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے عقائد، شعائر، تہذیب اور ثقافت سے دستبردار ہوجائیں اور اکثریت کے  کلچر میں جذب ہوجائیں۔ غالباً یہی ہندوتو کی کُل حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ عوام کے لیے یا ملک کے لیے کوئی مثبت پروگرام انھوں نے پیش نہیں کیا ہے۔

مسلمانوں سے اپنا مطالبہ منوانے کے لیے جارحانہ قوم پرستی کی علمبردار طاقتوں کا طریقہ کار یہ ہے کہ مُفسِد عناصر مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں ۔ ان کو جانی و مالی نقصان پہنچاتے ہیں ، مساجد کو مسمار کرتے ہیں اور اس طرح وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں اور ڈر کر مسلمان اکثریت کے کلچر میں شمولیت قبول کرلیں ۔ یہ طریقہ کار جبرو اکراہ پر مشتمل ہے۔

قوم پرستی کی دلیل:

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر جبرو اکراہ کا استعمال کیوں کیا جارہا ہے؟ قوم پرستی کے علمبردار جواب میں کہتے ہیں کہ نیشنلزم اور سیکولرزم کا تقاضا یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمان بتدریج ہی سہی … قومی کلچر میں جذب ہوجاتے(مثلاً اپنے الگ پرسنل لا سے دست بردار ہوجاتے) لیکن مسلمان اکثریت کے کلچر میں جذب نہیں ہورہے ہیں اور اپنے جداگانہ تہذیبی تشخص پر اصرار کیے جاتے ہیں ۔ مزید برآں قوم پرستی کے علمبرداروں کی شکایت یہ ہے کہ سیکولر کہلانے والی سیاسی پارٹیاں اپنی سیاسی اغراض اور ووٹوں کی خاطر مسلمانوں کی اس ’’بے جا روش‘‘ کو نہ صرف برداشت کرتی ہیں بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتی ہیں ۔

قوم پرستی کے حامیوں کے نزدیک یہ رویہ نقلی سیکولرزم (Pseudo Secularism) ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی بے جا ضد، اپنے تشخص پر اصرار اور سیاسی پارٹیوں کا اس ضد کو برداشت کرنا یہ سب بہت دنوں سے گوارا کیا جا رہا ہے۔ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ اب ناگزیر  ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کو جبرواکراہ کے ذریعے ’’قومی کلچر‘‘ میں جذب کرلیا جائے۔

یہ وہ دلیل ہے، جو سیکولر افراد کو بھی اپیل کرتی ہے ، اس لیے کہ مختلف وجوہ سے مسلم پرسنل لا اور مسلمانوں کا جداگانہ تہذیبی وجود، ان کو بھی کھٹکتا ہے۔ البتہ ان کی بڑی تعداد مقصد کے حصول کے لیے جبرواکراہ کا طریقِ کار اختیار کیے جانے کی تائید نہیں کرتی۔

وسیع تر منصوبہ:

ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا الگ دینی و تہذیبی وجود ختم کردینا قوم پرستی کے علمبرداروں کا آخری مقصد ہے یا یہ ان کے مقصد کی راہ کا صرف ایک مرحلہ ہے؟

غور کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی سماج اور خصوصاً اُس کے پست کردہ طبقے پر اقتدار حاصل کرنا اور قائم رکھنا ان کا آخری مقصد ہے اور مسلمانوں کو جذب کرلینے یا غیر مؤثر بنادینے کا کام اس مقصد کی راہ میں صرف ایک مرحلہ ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک طریقِ کار ہے، جو انھوں نے اختیار کیا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا خیالی خوف دلا کر وہ اکثریت کو ہندوتو کے علمبرداروں کے پیچھے جمع کرسکتے ہیں اور اس طرح ان پر اپنا اقتدار قائم کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ سماج میں عدم مساوات کا جو نظام قائم ہے، وہ بدستور قائم رہے۔ اس نظام کی بدولت  سیاسی اقتدار کی عدم موجودگی میں بھی سماجی اقتدار ان کو حاصل رہتا ہے۔ ان کے خیال میں مسلمان اس سماجی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہیں یا مستقبل میں بن سکتے ہیں، چنانچہ ان کو غیر مؤثر بنانا  ضروری ہے۔

اس تجزیہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہندوتو کا وسیع تر نشانہ سماج کی اکثریت ہے، جو سیاسی، سماجی اور معاشی محرومی کا شکار ہے۔ اِس تحریک کے علمبردار چاہتے ہیں کہ یہ محرومی باقی رہے اور ان کا سماجی اقتدار قائم رہے۔ مزید برآں سیاسی اقتدار بھی قائم ہوجائے۔ اس آخری منزل کے حصول کے لیے فی الحال انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ مسلمان سماجی ظلم کے خلاف کوئی مؤثر چیلنج نہ بن سکیں ، اُن کا اندازہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر قوم پرستی کے پیروؤں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

نفوذ کا طریقِ کار:

عوام کو ساتھ لینے کے لیے جارحیت کے علمبرداروں نے نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کی خیالی طاقت سے ان کو خوفزدہ کرنے کے علاوہ درج ذیل چیزوں کا سہارا لیا ہے:

(الف) شرک اور اوہام پرستی جو سماج میں وسیع پیمانے پر رائج ہے۔

(ب)   مسلمانوں کے مبینہ مظالم کا تذکرہ جو انھوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں کیے۔

(ج)   جارحانہ نیشنلزم کا تصور جسے اب ’’کلچرل نیشنلزم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جس کے مطابق سارے ملک کے باشندوں کا ایک کلچر میں رنگ جانا نیشنلزم کا تقاضا ہے۔

جارحانہ قوم پرستی کے علمبردار ایک سیلاب کی شکل میں سامنے آئے ہیں ۔انھوں نے بیک وقت مذہبی، سماجی اور سیاسی محاذوں پر کام شروع کیا ہے۔ باشعور افراد کو گہرے غوروفکر سے کام لے کر اس تحریک کا تجزیہ کرنا چاہیے اور پھر حالات کی اصلاح کے لیے طریقِ کار ترتیب دینا چاہیے۔  وسیع پیمانے پر تبادلۂ خیال اور مشوروں کے بعد ایک جامع لائحۂ عمل بنایا جانا چاہیے۔ اِس سلسلے میں غوروفکر کا آغاز قوم پرستی کے بنیادی مطالبے سے کرنا چاہیے۔

مسلمانوں سے اِس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے پرسنل لا سے دست بردار ہوجائیں ایک اجتماعی وجود کی طرح اپنا سیاسی وزن ڈالنا چھوڑدیں ۔ جہاں تک سیاسی معاملات کا (ووٹ ڈالنے وغیرہ کا) تعلق ہے، مسلمان فرد فرد بن کر رہیں ۔ ان کا کوئی اجتماعی رویہ نہ ہو۔گویا مطالبہ یہ ہے کہ مسلمان چاہیں تو ذاتی زندگی میں مسلمان رہیں ، لیکن معاشرتی اور سیاسی زندگی میں اسلام کو ترک کردیں اور  ملت ہونے کے احساس سے عملاً عاری ہوجائیں۔

اس مطالبے کے جواب میں مسلمان عموماً یہ کہتے ہیں کہ اپنے مذہب پر قائم رہنا ہمارا دستوری حق ہے۔ ملک کا ڈھانچہ سیکولر ہے۔ اس نے ہمیں اجازت دی ہے کہ اپنے دین و تہذیب پر قائم رہیں ۔ ہم اپنے اس دستوری حق سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ مزید برآں سیکولرزم کے معنی بھی یہی ہیں کہ ہمیں اپنے مذہب پر عمل کا حق حاصل ہو۔

یہ جواب اب تک کارگرثابت ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس میں ایک بنیادی کمزوری ہے۔

مسلمان سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سیکولرزم کا تقاضا یہ ہے کہ مذہبی معاملات میں ہر مذہبی گروہ آزاد ہو۔ چونکہ پرسنل لا ہمارا مذہبی معاملہ ہے، اس لیے ہمارا پرسنل لا محفوظ رہنا چاہیے۔ کسی کو حق نہیں کہ ہم کو ہمارے پرسنل لا سے محروم کرکے کامن سول کوڈ ہم پر نافذ کردے۔

لیکن قوم پرستی کے قائل کہتے ہیں کہ بے شک سیکولرزم کے معنیٰ یہ ہیں کہ مذہبی معاملات میں مسلمان سمیت تمام مذہبی گروہ آزاد ہوں ۔ کوئی ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ لیکن پرسنل لا مذہبی معاملہ نہیں ہے۔ مذہبی معاملات تو مراسمِ عبادت وغیرہ ہیں ۔ اس لیے سیکولرزم کا ہی تقاضا ہے کہ کامن سول کوڈ نافذ کیا جائے۔اِس سلسلے میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ شاہ بانو مقدمےپر مباحثے کے دوران ملک میں جو بحث چلتی رہی اس میں ہندوتو کے علمبردار اور سیکولر افراد سب ایک طرف تھے اور مسلمان دوسری طرف۔ سیکولر افراد کا کہنا بھی یہی تھا کہ پرسنل لا مذہبی معاملہ نہیں ہے۔

سیکولرزم کی تعبیر:

یہاں پہنچ کر ہم اس سوال سے دوچار ہوجاتے ہیں جس کا تعلق سیکولرزم کے مفہوم سے ہے۔

مسلمانوں، ہندوتو کے علمبرداروں اور سیکولر پارٹیوں … تینوں … کا لفظ ’’سیکولرزم‘‘ پر اتفاق ہے، لیکن اس کا مفہوم ان سب کے ذہن میں الگ الگ ہے۔ اس حد تک تو ان میں اتفاق ہے کہ انسانی زندگی کے بعض معاملات مذہبی ہوتے ہیں اور بعض غیر مذہبی۔ پھر اس بات پر بھی ان میں اتفاق ہے کہ مذہبی معاملات میں ہر گروہ کو آزادی ملنی چاہیے اور غیر مذہبی معاملات میں سب کا طرزِ عمل یکساں ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے جیسا کہ ریاست یا اس کا بااختیار ادارہ (پارلیمنٹ وغیرہ) طے کرے۔ لیکن یہاں پہنچ کر ان میں اختلاف ہوجاتا ہے کہ مذہبی معاملات کون سے ہیں اور غیر مذہبی کون سے۔

مثلاً مسلمان پرسنل لا کو مذہبی معاملہ قرار دیتے ہیں جب کہ ہندوتو کے علمبردار اور سیکولر پارٹیاں پرسنل لا کو غیر مذہبی معاملہ سمجھتی ہیں ۔ یہاں پہنچ کرباہم شکوہ شروع ہوتا ہے۔ مسلمان ہندوتو  اور سیکولرزم کے علمبرداروں سے شاکی ہوتے ہیں کہ تمہارا رویہ سیکولر نہیں ہے۔ ہندوتو کے حامی  مسلمانوں اور ’’سیکولر‘‘ پارٹیوں دونوں سے شکوہ کرتے ہیں کہ تمہارا  سیکولرزم نقلی ہے۔

جبکہ اصل دِقّت یہ ہے کہ خود ’’سیکولرزم‘‘ کے لفظ میں ابہام ہے۔ اس اصطلاح کا مفہوم واضح اور متعین نہیں ہے۔ اس بات پر کوئی اتفاق نہیں پایا جاتا کہ مذہب کے دائرے میں زندگی کے کون سے امور آتے ہیں اور کون سے نہیں آتے۔ اس لیے ایک گروہ لفظ سیکولرزم کا استعمال کرکے جو کچھ کہتا ہے، دوسرا گروہ اس کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس ابہام کا فائدہ جارحانہ قوم پرستی کے حامیوں کو پہنچ رہا ہے۔ وہ غیر مذہبی معاملات کا دائرہ وسیع تر کرنا چاہتے ہیں اور اس میں عقائد و عبادات تک کو شامل کرنا چاہتے ہیں ۔ جہاں تک محض لفظ سیکولرزم کا تعلق ہے اس میں اس طرزِ عمل کی گنجائش نکلتی ہے۔

ابہام کی کیفیت یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس سے زیادہ پیچیدگیوں کاباعث بنتی ہے۔ جواب دینے کی حد تک تو مسلمان یہ جواب دے دیتے ہیں کہ سیکولرزم کا تقاضا ہے کہ ہم مذہبی معاملات میں آزاد ہوں اور غیرمذہبی معاملات میں ریاست کے پابند ہوں ، لیکن فی الحقیقت مسلمانوں کی نفسیات کے اندر مذہبی اورغیرمذہبی معاملات کی کوئی تقسیم نہیں پائی جاتی۔ مسلمانوں کی نفسیات کی تشکیل اِسلامی سانچے میں ہوئی ہے۔ اسلام زندگی کی مذہبی اورغیرمذہبی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے نزدیک پوری زندگی میں انسان کو اللہ کا بندہ بن کر رہنا چاہیے۔

اس لیے مسلمان کہتے تو صرف اتنا ہیں کہ ہمارا پرسنل لا محفوظ رہنا چاہیے، اس لیے کہ وہ ہمارا مذہبی معاملہ ہے، لیکن ان کے شعور اور لاشعور میں یہ ارادہ و تمنا موجود  ہوتی ہے کہ وہ پوری زندگی میں دین پر عمل کریں ۔ یہ چیز ان کے طرزِ عمل سے بھی جھلکتی ہے۔ وہ سیاسی طرز عمل (مثلاً کسے ووٹ دیا جائے) طے کرتے وقت بھی بحیثیت مسلمان ایک رویہ اپنانا چاہتے ہیں جبکہ رائج الوقت تصوّرات کے مطابق ووٹ دینا کسی صورت سے مذہبی معاملہ نہیں قرار پاسکتا۔

اس صورتحال کی بنا پر ہر وہ شخص جو مسلمانوں کے طرزِ عمل کا مشاہدہ کرتا ہے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مسلمانوں کا طرزِ عمل غیرسیکولر ہے۔ یعنی یہ کہ وہ فی الواقع زندگی کی مذہبی اورغیر مذہبی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتے۔ گو کہ ان کی باتیں سیکولر ہیں یعنی گفتگو میں وہ سیکولرزم کا نام لیتے ہیں اور اپنی مذہبی آزادی کے لیے ’’سیکولرزم‘‘ کے نعرے کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں ۔

اب اگر مشاہدہ کرنے والا مسلمانوں سے عداوت رکھتا ہو تو وہ صاف کہتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ طرزِ عمل عیاری اور منافقت پر مبنی ہے۔ وہ سیکولرزم کا فائدہ تو اٹھانا چاہتے ہیں (یعنی اپنی جان و مال کی حفاظت چاہتے ہیں ) لیکن اس کی قیمت نہیں ادا کرنا چاہتے۔ (مثلاً پرسنل لا سے دست بردار نہیں ہونا چاہتے اور سیاست میں ایک بلاک کی طرح کام کرنے سے باز نہیں رہنا چاہتے۔)

اگر مشاہدہ کرنے والا مسلمانوں سے عداوت نہیں رکھتا تو وہ مسلمانوں کے طرزِ عمل کی یہ تاویل کرتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ رویّہ محض انتشارِ ذہنی (Confusion)کی وجہ سے ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان واقعی سیکولر ہوتے جائیں گے۔

بہرصورت جارحانہ قوم پرستی کے علمبرداروں کی رائے یہ ہے کہ مسلمانوں نے سیکولرزم کا نام صرف حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

درست ردعمل:

بحث  کا بنیادی نکتہ یہ ہےکہ قوم پرستی کی جارحانہ تحریک  نے مسلمانوں سے یہ مطالبہ کررکھا ہے کہ مسلمان اپنے پرسنل لا سے دست بردار ہوجائیں اپنے تشخص پر مُصِر نہ ہوں اور سیاسی میدان میں ایک بلاک کے طور پر کام نہ کریں ۔ مسلمان یہ مطالبہ نہیں مانتے اور سیکولرزم کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں ، لیکن مسلمانوں کا یہ جواب کمزور ہے اور مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔

پوچھاجاسکتاہے کہ پھر اس مطالبے کا صحیح جواب کیا ہے، جس سے پیچیدگیاں نہ پیدا ہوں ؟اِسلامی مزاج کےمطابق صحیح جواب یہ ہے کہ مسلمان اہلِ ملک کو بتائیں کہ ’’ہم اسلام سے دست بردار نہیں ہوسکتے اس لیے کہ یہ کائنات کے حاکم و مالک کا نازل کیا ہوا دین ہے۔ مالکِ کائنات نے زندگی کے ہر گوشے کے لیے احکام دیے ہیں اس لیے زندگی کی تقسیم غلط ہے،  اس کے احکام تمام انسانوں کے لیے واجب التعمیل ہیں ،  وہ خدا پوری دنیا کا بِلا استثناء مالک ہے، اس لیے خواہ انسان ہندوستان میں رہتا ہو یا دنیا کے کسی اور خطّےمیں ، اسے خدا ہی کی بندگی کرنی چاہیے۔ مسلم پرسنل لا اسلامی شریعت سے ماخوذ ہے، جو اللہ کے احکام کا نام ہے، اس لیے مسلمان اس سے دست بردار نہیں ہوسکتے نیز یہ کہ انسانوں کے اشتراکِ عمل کی فطری، صحیح اور معقول بنیاد، اشتراکِ عقیدہ اور اشتراکِ نظریہ زندگی ہے، اس لیے مسلمانوں کا ایک اجتماعی وجود کی طرح کام کرنا بالکل معقول ہے۔ اس کے برخلاف  انسانوں کو مجبور کرنا کہ وہ اپنے عقائدو تصورات کے علی الرغم اکثریت کی مرضی کی پیروی کریں ، ایک نامعقول طرزِ عمل ہے۔‘‘

یہ جواب سلیقے اور استدلال کے ساتھ دیاجائے توکوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہو تی اور مسلمانوں کی پوزیشن واضح ہوجاتی ہے۔

لیکن مسلمان یہ جواب اس وقت دے سکتے ہیں ، جبکہ وہ اپنے ایمان کو زندہ ایمان بنائیں۔ خوابیدہ ایمان نہیں۔  حالات کا اشارہ واضح ہے۔ مسلمان اگر خالص اور مکمل اسلام سے وابستگی کا ارادہ، اعلان اور اظہار نہیں کرتے تو  قوم پرستی کا سیلاب اس کے درپے ہے کہ ان کو مکمل طور پر قومی دھارے میں بہا لے جائے اور سیکولرزم کا تصور اتنا کمزور اور مبہم ہے کہ اس سیلاب کے مقابلے میں نہیں ٹھہرسکتا۔ اپنے تشخص کی حفاظت کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ مسلمان اپنے ایمان کو زندہ اور بیدار ایمان بنائیں ۔

اللہ کی طرف دعوت:

ایک صاحبِ ایمان شخص مندرجہ بالاجواب دے گا تو وہ انسانوں کو اللہ کی بندگی کی طرف دعوت بھی دے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ مسلمان اسلام کو حق سمجھنے کی بنا پر اسلام سے چمٹے رہنا چاہتے ہوں اور دوسرے انسانوں کے بہی خواہ بھی ہوں لیکن پھر بھی اُن کو حق کی طرف نہ بلائیں ۔ اِس حقیقت کو سمجھ لینے سےاس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ اسلام سے شدید محبت کے باوجود مسلمان، دوسرے انسانوں کو اسلام کی طرف کیوں نہیں بلاتے؟

صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمان اپنے تحفظ کے لیے سیکولرزم کے نعرے کا سہارا لیتے ہیں ، یا سیکولرزم کو اپنی مذہبی آزادی کے لیے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اور اس  کی دُہائی دے کر اپنے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت چاہتے ہیں ۔ سیکولرزم اس بات کا نام ہے کہ زندگی کے بعض معاملات مذہب کے دائرے سے خارج ہوں (گو اس امر میں اختلاف ہوسکتا ہے اور ہے کہ وہ معاملات کون سے ہیں؟) اسلام کا تصور اس کے برعکس ہے اور وہ مذہبی وغیرمذہبی معاملات کی کوئی تقسیم نہیں کرتا۔ اس بنا پر عقلاً یہ ناممکن ہے کہ مسلمان سیکولرزم سے وابستگی کی بات بھی کریں اور اسلام سے وابستگی کی بھی۔

ظاہر ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام ہو یا مسلمانوں کے تحفظ کا، دونوں کے لیے غیر مسلموں سے ربط و گفتگو ضروری ہے۔ اب اسلام اور سیکولرزم دونوں سے ہم آہنگ گفتگو بیک وقت تو نہیں کی جاسکتی، اس لیے کہ یہ نظریات، ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ مسلمانوں نے اپنے تحفظ کے لیے سیکولرزم کا سہارا لیا ہے، اس لیے اگرمسلمانوں کےمسائل موضوعِ گفتگوہوں تو مسلمان غیرمسلموں سے ساری گفتگو اور ربط میں اسلام کا ذکر کہیں نہیں آنے دیتے اورنتیجتاً دعوتی کام سے قاصر ہیں۔

اب اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ بحیثیت ملت، دعوت الی اللہ کا کام کریں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ  اپنے تحفظ کے لیے بھی اسلام ہی کو بنیاد بنائیں ۔ اسلام اُن کے تحفظ کے لیے واضح بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مسلمان  اسلام کے حوالے سے بتاسکتے ہیں اور اپنے مخالفین کو مطمئن کرسکتے ہیں کہ ہمیں اپنے جداگانہ دینی تشخص پر کیوں اصرار ہے؟ جبکہ سیکولرزم کے حوالے سے جداگانہ دینی تشخص کا جواز ثابت کرنا پیچیدگی کا باعث ہوتا ہے۔

چنانچہ مناسب یہ ہے کہ غیر مسلموں سے ربط و گفتگو میں سیکولرزم کی اصطلاح اور ملتی جلتی اصطلاحات کے استعمال سے گریز کیاجائے۔ ساری گفتگو اسلام کے حوالے سے ہو۔انسانوں کو بتایا جائے کہ اسلام کیا ہے؟ کائنات کیاہے؟ خدا اور انسان کے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ پھر یہ حقیقت واضح کی جائے کہ عقیدہ اور تصورات ہی عمل کی بنیاد بنتے ہیں ، اس لیے سب سے پہلے عقائد اور تصورات کا مطابِق حق ہونا ضروری ہے۔ اسلام کے عقائد اور تصورات حقیقت پر مبنی ہیں ۔  یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ عقیدے اور تصورات کے اشتراک کی بنا پر انسانوں کا اشتراکِ عمل بالکل فطری اور معقول ہے اور یہی مسلمانوں کے اجتماعی وجود (تشخص) کا جواز ہے۔

اگر مسلمان  غیرمسلموں سے ربط و گفتگو کے وقت اسلام کو بنیاد بنائیں اور اسلام کے حوالے سے گفتگو کریں تو کارِ تحفظ اور کارِ دعوت ایک ہی کام کے دو جُز بن جائیں گے۔ غیر مسلموں سے ربط قائم کرکے اور گفتگو کرکے مسلمان مختلف معاملات میں اختیار کیے گئے اپنے موقف کی معقولیت بھی واضح کررہے ہوں گے اور انسانوں کو دین حق کی طرف دعوت بھی دی رہے ہوں گے۔ اس طرح دعوت کی رفتار میں اِضافہ ہوگا۔مسلمانوں کااجتماعی طرزِ عمل ،انداز گفتگو، اجتماعی موقف کااظہار اور اس کے حق میں استدلال یہ سب ’’دعوت‘‘ بن جائے گا۔مُلک کاماحول اِس دعوتِ حق سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رفعت

مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close