آج کا کالم

جانوروں پر ظلم روکنے کے نئے قوانین لاگو کون کرے گا؟

رويش کمار

مرکزی حکومت نے جانوروں پر ہو رہے ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اور مویشیوں کے بیچے جانے کے سلسلے کچھ نئے قوانین بنائے ہیں. اس اصول کے تحت جانوروں کو ہفتہ وار میلوں یا منڈیوں میں اب قصایی کے ہاتھوں یا کٹائی کے لئے مویشیوں کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا. اس میں گائے، بھینس، بچھڑا، اونٹ شامل ہیں. نئے عہد نامے میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ گائے یا بھینس کے کاٹنے پر پوری روک لگائی جا رہی ہے بلکہ میلوں یا منڈیوں سے براہ راست خریدنے پر روک لگانے کی بات کہی گئی ہے.

پنجاب کی ڈبوالي جانوروں کی منڈی میں اتوار کے دن تقریباً پچاس ہزار مویشی لائے جاتے ہیں. یہاں پر بھینسیں قصایی کے ہاتھوں فروخت کی جاتی ہیں، گائے نہیں. ہم نے یہاں کے ڈیری کسان درشن سنگھ سے بات کی. درشن سنگھ نے مجھ سے کہا کہ هیڈلان لکھئیے کہ فیصلہ صحیح ہے، مگر گوشالا کی طرح بھینس شالا کھولے حکومت، گایوں کے چرنے کی زمین کو مافیا کے چنگل سے چھڑائے پھر گائے یا بھینس سڑک پر گھومتی نظر نہیں آنی چاہیے. ویسے آپ کو لگتا ہے کہ حکومت بھینس شالا کھولے گی؟ بہرحال، درشن سنگھ نے بتایا کہ نئے قوانین سے مویشیوں کی کٹائی پر مکمل طور روک نہیں لگی ہے، مگر منڈی میں قصایی کی خرید و فروخت پر روک لگا دینے سے butchers کے لئے خریدنا مشکل ہو جائے گا. پہلے وہ ایک دن میں بیس پچیس بھینسیں خرید سکتا تھا، مگر اب اتنی ہی بھینسیں خریدنے میں اسے گھر گھر چلنا پڑے گا اور دو ماہ لگ جائیں گے.

تاجر بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ براہ راست کسانوں سے گوشت کی تجارت کے لئے خریدنا مشکل ہو جائے گا. بھینس کو نئے قوانین سے باہر کر دینا چاہئے کیونکہ بھارت 65 ممالک کو گوشت برآمد کرتا ہے. اس سائیکل میں لاکھوں لوگ عارضی قسم کا روزگار پاتے ہیں. پشو پالک اور کسان بھی منڈیوں میں اپنے جانوروں کے دام بہتر پالیتے ہیں. وہ بھاؤ تاؤ کر پاتے ہیں. اگر وہ نہیں بیچ پائیں گے تو اب اس نااہل بھینس کو اپنے گھر میں رکھیں گے یا گائے کی طرح اسے بھی کھلے میں چھوڑ دیں گے.

اس مسئلے سے منسلک تنازعہ کا تعلق جتنا ظلم کو روکنا نہیں ہے، اس سے کہیں زیادہ اس کے ذریعے گائے اور گائے کے گوشت کی سیاست کو زندہ رکھنا لگتا ہے. اس میں ہر پارٹی کی ایکٹیوٹی قابل ستائش ہے. بات گوشت کی نہیں ہے، گوشت کے بعد چمڑے کا کاروبار ہے، ہڈیوں کا کاروبار ہے جس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار جڑا ہوا ہے.

ایک ٹرک جلا دیا گیا جو کہ مویشیوں کی ہڈیاں لے کر جا رہا تھا. فرید آباد میں سورج كونڈ کے پاس انگپر گاؤں میں 50 نوجوانوں نے ٹرک کو روک لیا. ڈرائیور کو مار مار کر ادھ مرا کر دیا. یہ کہتے ہوئے کہ یہ گائے کو کاٹ کر گائے کا گوشت فروخت کرنے جا رہے تھے. جبکہ اس پر ہڈیاں بھری تھیں. کنڈکٹر نے لائسنس بھی دکھایا مگر نوجوان نہیں مانے. پانچ نوجوان ابھی گرفتار ہیں. بار بار اس طرح کا واقعات گھٹتے جا رہے ہیں.

ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی وزارت نے 23 مئی 2017 کو نوٹیفکیشن جاری کر کے نئے قوانین جاری کئے ہیں. اس بارے میں اہم اطلاع ہندی میں بھی ہے لہذا سب کو پڑھنا چاہیے. اس اصول کے دیگر پہلوؤں پر بھی بحث ہونی چاہیے کہ کیا وہ کسانوں اور تاجروں کے وسیع مفاد میں ہیں. کیا حکومت یا کوئی پشو چکتسا آفیسر اسے لاگو کراکر دکھا سکتا ہے. پہلے پشو چکتسا  آفیسر بتائیں کہ ضلع میں اس کے پاس کتنا عملے ہے، اس محکمے میں کب سے بحالی نہیں ہوئی ہے. سیکشن 14 سے لے کر 17 میں کئی قسم کی ظلم کی فہرست ہے. اس میں لکھا ہے کہ سینگوں کی تراشہ، رنگ روگن، گھوڑا کی بشپگ اور بھینس کے کان کاٹنے ،جانوروں کے جسم کے حصوں پر كنهي کیمیکل اور رنگوں کا استعمال نہیں کرے گا. بغیر کسی خاس وجہ کے نال لگانے کے لئے جانوروں کو زمین پر نہیں گرا سکتے ہیں . سر، گردن، کان، سینگ، پنڈلی، پونچھ، یا پنکھ سے پکڑنا بھی منع ہے. جانور کو رقص کے لئے استعمال کرنا ممنوع  ہے. جانوروں کو کوئی زیورات یا آرائشی مواد نہیں پہنایا جا سکتا ہے. جانوروں کو دودھ پینے سے روکنے کے لئے چھيكا استعمال کرنا ممنوع ہے.

ہر کسان اپنے بیلوں کو سجاتا ہے. گایوں کو زیورات پہناتا ہے. یہ نہیں لکھا ہے کہ زیورات کیا ہے. مگر آپ اور ہم جانتے ہیں کہ گھنگھرو ہے، گھنٹی ہے، رنگین لیز ہوتے ہیں . میلوں میں اس کا وسیع مارکیٹ ہے. کیا اب ان چیزوں کی فروخت پر روک لگے گی، جس کی وجہ سے دیہی کاریگری بھی زندہ ہے. بھارت میں گوپ اشٹمي کے دن گائے کو گھنگھرو پہنائی جاتی ہے. سینگ کو خضاب لگایا جاتا ہے. گائے کو رنگتے بھی ہیں . گائے کے سینگ میں سرسوں کا تیل لگانے سے شنی کا اثر کم ہو جاتا ہے. کیا یہ سب بھی اب محدود ہو جائے گا اور کسان آسانی سے قبول کر لیں گے. مرکزی حکومت کہتی ہے کہ یہ سارے قوانین سپریم کورٹ کے ہدایات پر بنائے گئے ہیں . ایک سوال ہے کہ انہیں لاگو کون کرے گا، جرمانے اور جیل کا کھیل شروع ہو جائے گا گاؤں گاؤں میں . لکھا ہے کہ ڈاکٹر کے علاوہ کوئی دوسرا شخص مویشی کو کوئی سیال نہیں پلا سکتا ہے. کیا ملک میں اتنے پشوچکتسک ہیں . میں نے خود بچپن میں بانس کی نلی، جسے مقامی زبان میں كاڑي کہتے ہیں ، سے گائے کو عمل انہضام کی دوا پلاتا تھا. کیا وہ اب ظلم مانا جائے گا یا اب یہ کام صرف ڈاکٹر گے. مغربی یوپی میں اسے نال کہتے ہیں جس سے نئی بھینس کو تیل پلاتے ہیں ، بیل کو گھی پيلاتے ہیں . اینٹی بايوٹكس اور سٹیراڈ دینا بھی ممنوع ہے. یہ اچھا ہے.

سیکشن (15) میں کہا گیا ہے، جانوروں مارکیٹ میں سخت موسم میں کھلا چھوڑنا ظلم ہے. ناک یا نکیل یا لگام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے، جھٹکنا اور جھكجھورنا منع ہے. چھوٹی رسی سے کھونٹے سے بادھنا منع ہے. کھمبے یا پینی آر سے مویشی کو نہیں مارا جا سکے گا. مرغے کو الٹا ٹانگ كر نہیں لے جا سکیں گے، مرغ کو ٹانگ سے نہیں باندھ سکیں گے. جانوروں کو کنٹرول کرنے کے لئے دم اور کان مروڑنا ممنوع ہو گیا ہے. کوئی بھی شخص کسی بچھڑے کو نہیں باندھے گا، اسے چھيكا نہیں لگائے گا.

نوٹیفکیشن میں ظلم کی سزا نہیں ہے، لیکن جس پروینشن آف كرويیلٹي ٹو اینملس ایکٹ سے یہ نوٹیفکیشن نکلا ہے اس کے مطابق تین ماہ کی جیل ہو سکتی ہے. جرمانہ ٹھیک ہے، دس روپے سے لے کر 100 روپے تک ہی ہے. یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ نال ڈالنے کے لئے مویشی کو زمین پر گراتے وقت کس قسم کے بستر یعنی گدوں کا استعمال کرنا ہوگا.

ابھی آتے ہیں گوشت کی سیاست پر. ہفتہ کو کیرل میں یوتھ کانگریس کی کرتوت کو بی جے پی نے ملک بھر میں وسیع مسئلہ بنا دیا ہے. ابھی میگھالیہ کے بی جے پی لیڈروں کی بیف اور گایے کے گوشت پر ردعمل سن لیجئے. یہ ضرور ہے کہ انہوں نے پبلک میں بچھڑے کو کاٹ کر مخالفت میں گھنونا کام نہیں کیا ہے. میگھالیہ بی جے پی کے رہنما برنارڈ مراك نے کہا ہے کہ اگر یہ اصول لاگو کئے گئے تو وہ بی جے پی چھوڑ دیں گے. اگر یہ اصول نہیں بدلے تو ہمارے لئے آئندہ انتخابات میں بی جے پی کے لئے پرچار کرنا مشکل ہو جائے گا. ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی ریاست کے کھان پان کے رویے کے خلاف نہیں جا سکتے ہیں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میگھالیہ میں بی جے پی کے رہنما گوشت کھاتے ہیں.

مارچ میں ناگالینڈ کے بی جے پی چیف نے ہندوستان ٹائمز سے کہا تھا کہ اگر ناگالینڈ میں ہماری پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو یوپی کی طرح یہاں گائے کاٹنے پر پابندی نہیں لگے گی. یہ بات ہمارے سینٹر کے لیڈروں کو معلوم بھی ہے. ناگالینڈ کی حکومت میں بی جے پی پارٹنر ہے. میزورم کے بی جے پی صدر نے بھی کہا تھا کہ گائے کاٹنے پر میزورم میں کوئی پابندی نہیں ہو گی. گوا کی بھی یہی حالت ہے. تو بی جے پی کو بھی صاف صاف کہنا چاہئے کہ کیا وہ پورے ملک میں گائے کے گوشت پر پابندی عائد کے حق میں ہے اور اس کے لئے کیا کرنے جا رہی ہے. ایسا کرنے سے پہلے اس کو بتا نا ہوگا کہ اس سے منسلک جو لاکھوں کا روزگار ہے، ان کا کیا ہوگا. دیہات میں کسانوں پر کیا اثر پڑے گا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close