آج کا کالم

جب کروڑوں کسانوں نے مجھ سے پوچھا…!

رویش کمار

آج دیر تک سویا. خواب میں کروڑوں کسان مجھے ٹویٹ کر رہے تھے. پوچھ رہے تھے کہ میں کسانوں کے مسائل پر کیوں خاموش ہوں. ادھر کچھ لوگ گالی دے رہے تھے کہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے مسئلہ پر کیوں خاموش ہوں. ادھر کچھ لوگ ٹرول کر رہے تھے کہ آپ بنگال کی نوکری کا مسئلہ نہیں دکھا رہے، بہار جھارکھنڈ کا دکھا رہے ہیں. مودی جی کو بدنام کر رہے ہیں.

کسانوں سے کہنا چاہا کہ آپ ہندوستان کے اب تک کے سب ناکام وزیر زراعت سے کیوں نہیں پوچھتے ہیں زراعت کے بارے میں. رويش کمار کو کیوں تلخی بھرا میسیج بھیجتے ہیں. نوجوانوں سے کہنا چاہا کہ آپ ہندوستان کے وزیر اعظم سے کیوں نہیں پوچھتے ہیں، اپنے ریاستوں کے وزرائے اعلی سے آپ کیوں نہیں پوچھتے ہیں کہ انتخاب کمیشن کے ذریعہ انہیں کیوں بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟ تناؤ والے ٹرول سے کہنا چاہا کہ آپ اپنی ریاست کے وزیر اعلی سے پوچھئے کہ کیا ہو رہا ہے. کیوں ہو رہا ہے. کیوں کبھی اِس شہر کبھی اُس شہر فساد پھیل رہے ہیں.

میرے پاس کوئی وزیر اعظم کا دفتر نہیں ہے کہ ہر شعبہ پر نظر رکھنے کے لئے وزیر اور پچاس لاکھ ملازم ہوں. نہ ہی میں اخبار ہوں کہ ہر خبر پرنٹ کروں گا. میں ایک صحافی ہوں. بہت جگہ کی نہ تو معلومات ہوتی ہے اور نہ ہی ہر خبر پڑھنے کا وقت ملتا ہے. لہذا خود کو اقتصادی خبروں تک محدود رکھتا ہوں. 27 دنوں تک یونیورسٹی پر سیریز کی. وہ کس کے لئے تھی. کیا نوجوانوں آپ کے لئے نہیں تھی؟ ایک بار یو ٹیوب پر اس سیریز کے ویڈیو دیکھئے. دنیا کی ٹی وی کی تاریخ میں کسی بھی چینل پر 27 دنوں تک یونیورسٹی کی بحث نہیں ہوئی ہے. آپ جب اس کے ایپی سوڈ دیکھیں گے کہ تو پتہ چلے گا کہ آپ کے ساتھ کیا دھوکہ ہوا ہے. دھوکہ اب بھی ہو رہا ہے.

میں خواب میں نوجوانوں سے یہی بحث کر رہا تھا. نیند سے جاگا تو دیویندر شرما کا ٹربیون میں چھپا مضمون پڑھا. اس مضمون کا کچھ خلاصہ آپ کے لئے پیش ہے.

2016 کے اقتصادی سروے کے مطابق بھارت کا کسان سال میں صرف000 20، کماتا ہے. یہ اس کی کمائی کا اوسط ہے. مہینے کے دو ہزار بھی نہیں کماتا هے۔ 2002-2003 اور 2013-13 کے درمیان کسانوں کی آمدنی 3.6 فیصد بڑھی ہے.

ابھی 2022 تک تو آمدنی دگنی ہونے سے رہی. اس کی جگہ دیہات میں فساد دگنا کر دیا جائے گا تاکہ کسان اس پیدا ہونے والی بحث میں کھیتی کرنے لگیں. کسان آلو کی قیمت مانگتا ہے، آلو پھینکنے لگتا ہے مگر اخبارات اور چینلز کے ذریعہ اس تک فسادات کا ٹاپک پہنچا دیا جاتا ہے. کسان مجبورا ہندو مسلم ٹاپک میں ایڈمشن لے لیتا ہے اور صبح شام اسی ٹاپک پر بحث کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے. اس اقتصادی عدم تحفظ پر مذہبی عدم تحفظ کی جعلی پرت چڑھا دی جاتی ہے.

کم از کم (نیوتم) امدادی قیمت صرف 6 فیصد کسانوں کو ملتی ہے. کم از کم (نیوتم) امدادی قیمت بھی قیمت سے زیادہ نہیں ہوتی ہے. بی جے پی کا یہ وعدہ ہی رہ گیا کہ اخراجات میں پچاس فیصد جوڑ کر کم از کم (نیوتم) امدادی قیمت دیں گے. ایک بھی اناج کی نيوتم امدادی قیمت لاگت سے پچاس فیصد زیادہ نہیں ملی. ایک بھی نہیں. زیرو ریکارڈ ہے حکومت کا اس بارے میں.

دیویندر شرما کہتے ہیں کہ حکومت اب ہر کسان کے گھر کو مہینے کے000 18،روپیہ دے ورنہ کاشت کا بحران کسانوں کو تباہ کر دے گا. تلنگانہ کی طرح ہر کسان کو فی ایکڑ 4000 روپے مدد رقم دی جائے. تلنگانہ میں ہر کسان کو سال میں 8000 روپے ملتے ہیں. کرناٹک کی طرح تمام دودھ کے کاروباریوں کو 5 روپے فی لیٹر اضافی مدد رقم دی جائے.

اس وقت ملک میں 7600 ایپی ايم سي ہیں. جبکہ ضرورت ہے کہ000 42، مارکیٹ بنائے جائیں. 2018 کے بجٹ میں کم از کم00 20، منڈی بنانے کے انتظامات کئے جائیں. ریاستی حکومتیں ہر پیداوار کو خریدنے کے لئے پابند ہوں. خرید کا سارا پیسہ مرکز اٹھائے ورنہ تمام نوٹنکی ہی ثابت ہوں گی.

کہا جا رہا ہے کہ اس بار کے بجٹ میں کاشت پر توجہ دی جائے گی. چار سال سے کیا توجہ دی جا رہی ہے جو ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں. اس بار اور اس بار کب تک چلے گا. ظاہر ہے اب جو بھی ہوگا وہ کسانوں کو چکما دینے کے لئے ہو گا. وعدے لبالب ہوں گے اور نتیجے ٹھنٹھن.

دیویندر شرما نے لکھا ہے کہ 2014 میں کسانوں کے 628 مظاہرے ہوئے تھے. 2016 میں کسانوں کے837 4، مظاہرے ہوئے ہیں. 670 فیصد اضافہ ہوا ہے. یہ قومی کرائم برانچ بیورو کے اعداد و شمار ہیں. آپ نے کتنے مظاہروں کی تصاویر نیوز چینل پر دیکھی ہیں. نیوز چینل کسانوں کی بات نہیں کریں گے. انہیں ہر ہفتے ہندو مسلم ٹاپك چاہئے ہوتا ہے، وہ اب پدماوت کے بعد مل گیا ہے.

دوستو! حساب صاف ہے. نوجوانوں کی ملازمت اور کسانوں کے دام کے سوال کو کچلنے کے لئے اب ضلع وار فرقہ وارانہ کشیدگی کی کہانیاں رچی جارہی ہیں.

آپ میں سے کوئی گاؤں دیہات کا ہے تو اس پوسٹ کو کروڑوں کسانوں تک پہنچا دیجئے تاکہ وہ فساد پر مبنی بحث سے نکل کر اس منڈی میں جا سکیں جہاں پیداوار کی بنیاد پر قیمت پر بحث ہو رہی ہو.

نوجوانوں کے اپنے چیلنجز ہیں. آپ چاہ کر بھی اس فرقہ وارانہ بحث کے ماحول سے نہیں نکل پائیں گے. آپ کے لئے سارے راستے بند ہو چکے ہیں.

آپ کے ملک میں اکتوبر سے لے کر آدھی جنوری تک ایک فلم کو لے کر بحث ہوئی ہے. ساڑھے تین ماہ بحث جاری رہی. کام پر اتنی لمبی بحث ہوئی؟ بہتر ہے آپ بھی سیلری کی نوکری چھوڑ ہندو مسلم ڈبیٹ کی نوکری کر لیجئے. آپ کے  والدین روز شام کو ٹی وی پر اسی بحث میں اپنا وقت کاٹ رہے ہیں. آپ بھی ان کے بغل میں بیٹھ جاؤ، بغیر نوكري- سیلری کی زندگی کٹ جائے گی.

جاگو دوستوں جاگو! ٹی وی دیکھنا بند کرو. صرف کیبل کنکشن کٹوانا شروع کرو. ان جھگڑوں میں کوئی نہ کوئی بات صحیح ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی بات غلط ہوتی ہے. ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ان سے تناؤ والی بحث پیدا کی جائے تاکہ آپ اس میں جٹ جائیں. بھول جائیں کام کے سوالات اور پیداوار کی قیمت.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close