آج کا کالم

 جج بی ایچ لویا کی پراسرار موت پر ’گودی میڈیا‘ کا کردار

رويش کمار

21 نومبر کو كیروان (Carvan) میگزین نے جج بی ایچ لويا کی موت پر سوال اٹھانے والی رپورٹ شائع کی تھی. اس کے بعد سے 14 جنوری تک اس میگزین نے کل دس رپورٹ شائع کی ہیں. ہر رپورٹ میں حوالے ، دستاویز اور بیان ہیں. جب پہلی بار جج لويا کی قریبی بہن نے سوال اٹھایا تھا اور ویڈیوز بیان جاری کیا تھا تب حکومت کی طرف سے بہادر بننے والے گودی میڈیا خاموش رہ گئی. جج لويا کے دوست اسے منصوبہ بند قتل مان رہے ہیں. انوج لويا نے جب 2015 میں جانچ کی مانگ کی تھی اور جان کو خطرہ بتایا تھا تب گودی میڈیا کے اینکرز سوال پوچھنا یا چیخنا-چلانا بھول گئے. وہ جانتے تھے کہ اس کہانی کو ہاتھ لگاتے تو حضور پلیٹ سے روٹی ہٹا لیتے. آپ ایک ناظر اور قاری کے طور پر میڈیا کے خوف اور جرات کو مناسب طریقے سے سمجھئے. یہ ایک دن آپ کی زندگی کو متاثر کرنے والا ہے. جرات تو ہے ہی نہیں اس میڈیا میں. كیروان پر ساری رپورٹ ہندی میں ہے. 27 دسمبر کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں.

29 نومبر 2017 کو ٹائمز آف انڈیا میں خبر چھپتی ہے کہ انوج لويا نے بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مل کر بتایا تھا کہ اسے اب کسی پر شک نہیں ہے. تب اسی دن ان اینكروں کو چیخنا-چلانا چاہئے تھا مگر سب خاموش رہے. کیونکہ چیختے چلاتے تب سوالات کی باتیں تازہ تھیں. لوگ ان سوالوں کو میگزین کے سوالات سے ملانے لگتے. اب جب رپورٹ پرانی ہو چکی ہے، انوج لويا کے بیان کو لے کر چینل حملا آور ہو گئے ہیں. کیونکہ اب آپ کو یاد نہیں ہے کہ کیا کیا سوال اٹھے تھے.

میڈیا کی یہی حکمت عملی ہے. جب بھی حضور کو تکلیف والی رپورٹ چھپتی ہے وہ اس وقت خاموش ہو جاتا ہے. بھول جاتا ہے. جیسے ہی کوئی ایسی بات آتی ہے جس سے رپورٹ کمزور لگتی ہے، لوٹ کر حملا آور ہو جاتا ہے. اس عمل میں عام آدمی کمزور ہو رہا ہے. گودی میڈیا غنڈا میڈیا ہوتا جا رہا ہے.

14 جنوری کو بیان جاری کر چلے جانے کے بعد گودی میڈیا کو ہمت آ گئی ہے. وہ اب ان سو پچاس لوگوں رگید رہا ہے جو اس سوال کو اٹھا رہے تھے جیسے وہی سو لوگ اس ملک کا ریفرنڈم طے کرتے ہوں. اس عمل میں بھی آپ دیکھیں گے یا پڑھیں گے تو میڈیا یہ نہیں بتائے گا کہ كیروان نے اپنی دس رپورٹ کے دوران کیا سوال اٹھائے. کم سے کم گودی میڈیا دوبارہ جج لويا کی بہن کا ہی بیان چلا دیتا تاکہ پتہ تو چلتا کہ پھوپھی کیا کہہ رہی تھیں اور بھتیجا کیا کہہ رہا ہے.

کیوں کسی کو تحقیقات سے ڈر لگتا ہے؟ اس میں کسی اینکر کی کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ ایک جج کی موت ہوئی ہے. صرف ایک باپ کی نہیں. ویسے انکوائری کا بھی نتیجہ آپ جانتے ہیں اس ملک میں کیا ہوتا ہے. اب اگر گودی میڈیا فعال ہو ہی گیا ہے تو سہراب الدین معاملے میں آج کے انڈین ایکسپریس میں دس نمبر صفحے پر نیچے کسی کونے میں خبر شائع ہوئی. جس طرح لويا کا معاملہ سرخیوں میں ہیں، اس حساب سے اس خبر کو پہلے صفحے پر جگہ مل سکتی تھی.

سی بی آئی نے پیر کو بامبے ہائی کورٹ میں کہا کہ وہ سہراب الدین انکاؤنٹر کیس میں بری کئے گئے تین آئی پی ایس افسروں کے خلاف اپیل نہیں کرے گی. اسے لے کر گودی میڈیا کے اینکرز جارحانہ سوالات کے ساتھ ٹویٹ کر سکتے تھے. ون زارا کو نوٹس نہیں پہنچ رہا ہے کیونکہ ان کا پتہ نہیں چل رہا ہے. عدالت نے سی بی آئی سے کہا ہے کہ ون زارا کو تلاش کریں. اینکرز چیخ چلا سکتے ہیں. چاہیں تو.

آپ کو کیوں لگ رہا ہے کہ آپ کے کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا؟ کیا آپ نے ضمیر کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں؟ کیا آپ اسی بھارت کا خواب دیکھتے ہیں جس کا ترنگا تو آسمان میں لہراتا نظر آئے مگر اس کے نیچے اس کا میڈیا سوالوں سے بے ایمانی کرتا ہوا سر جھکا لے. ادارے ڈھہتے ہیں تو عام آدمی کمزور ہوتا ہے. آپ کے لئے انصاف کا راستہ لمبا ہو جاتا ہے اور دروازہ بند ہو جاتا ہے.

آپ حکومت کو پسند کر سکتے ہیں لیکن کیا آپ کو سالمیت اس میڈیا سے بھی ہے جو تن کر سوال نہیں پوچھ سکتا ہے. کم سے کم ترنگے کا اتنا تو مان رکھ لیتا ہے کہ حضور کے سامنے سینہ ٹھوک کر سلام بجا دیتا. دنیا دیکھتی کہ نیوز ایكنروں کو سلامی دینی آتی ہے. آپ کو پتہ ہے نہ کہ سلام سر جھکا کے بھی کیا جاتا ہے اور اس سلام کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ کیا آپ اندر سے اتنا کھوکھلا بھارت چاہیں گے؟ نیوز اینکر سر جھکا کر، نظریں چرا کر اقتدار کی سلامی بجا رہے ہیں.

آئی ٹی سیل والے گالی دے کر چلے جائیں گے مگر انہیں بھی میری بات سوچنے کے قابل لگے گی. مجھے پتہ ہے. جب اقتدار ایک دن انہیں چھوڑ دے گا تو وہ میری باتوں کو یاد کر کے روئیں گے. جمہوریت تماشا نہیں ہے کہ رات کو مجمع لگا کر فرمائشی گیتوں کا پروگرام سن رہے ہیں. بھارت کی شاموں کو اتنا داغدار مت ہونے دو. گھر لوٹ کر جاننے اور سمجھنے کی شام ہوتی ہے نہ کہ جے جے كار کرنے کی.

صحافت کے سارے قوانین منہدم کر دیے گئے ہیں. جو حضور کی گود میں ہیں ان کے لئے کوئی اصول نہیں ہے. وہ اس کھنڈرات میں بھی بادشاہ کی زندگی جی رہے ہیں. کھنڈرات کی دیوار پر کار سے لے کر صابن تک کے اشتہارات ٹنگے ہیں. لائف انشورینس بھی اسپانسر ہے، اس مردہ خانے کی جہاں صحافت کی لاش رکھی ہے. آپ کو اس کھنڈر کو حکومت سمجھ بیٹھے ہیں. آپ کو لگتا ہے کہ ہم حکومت کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ یہ کھنڈر میڈیا کا ہے. اتنا تو فرق سمجھئے. آپ کی آواز نہ سنائی دے اس لیے وہ اپنی آواز بڑھا دیتے ہیں.

جو اس کھنڈر میں کچھ کر رہے ہیں، ان پر انہی منہدم قوانین کے پتھر اٹھا کر مارے جا رہے ہیں. اس کھنڈر میں چلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے. قوانین کا اتنا عدم توازن ہے کہ آپ حضور کا لوٹا اٹھا کر ہی سمت کے لئے جا سکتے ہیں ورنہ ان کے لٹھیت گھیر کر مار دیں گے. اس کھنڈر میں کب کون سا پتھر پاؤں میں چبھتا ہے، کب کون سا پتھر سر پر آتا ہے، حساب کرنا مشکل ہو گیا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close