آج کا کالم

جس کا دم گھٹے وہ چلی جائے!

حفیظ نعمانی

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ دین اور شریعت کی تعلیم کم از کم آٹھ سال حاصل کرنے کے بعد عالم دین بنتا ہے۔ اور پھر دن رات اسی میں مصروف رہنے کے بعد اسے یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ وہ بتائے کہ اس معاملہ میں شریعت کیا کہتی ہے اور مسلمان وہ مرد ہو یا عورت اُسے کیا کرنا چاہئے۔ لیکن اسلام کے ساتھ اس کے ماننے والوں نے ہی یہ مذاق کرنا شروع کردیا ہے کہ جس نے عربی کے علاوہ کسی زبان میں دین کی دو چار کتابیں پڑھ لیں یا قرآن عظیم کا ترجمہ پڑھ لیا اس نے گز بھر کی زبان نکال کر شرعی معاملات میں فیصلہ دینا شروع کردیا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ جنہیں گھر کے اندر رہنے کا حکم تھا وہ برقع کو یا گھر میں ڈال کر یا کاندھوں پر ڈال کر اس طرح میدان میں آگئی ہیں کہ جیسے وہ آر پار کی جنگ لڑکر ہی سانس لیں گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اُترپردیش کے الیکشن میں ہر شہر میں اپنی تقریر میں وزیراعلیٰ اکھلیش کو مخاطب کرکے کہا کہ جب مسلمانوں کو قبرستان کے لئے زمین دے رہے ہو تو ہندوئوں کو شمشان کے لئے بھی زمین دو اور جب مسلمانوں کو رمضان میں دل کھول کر بجلی دے رہے ہو تو ہندو کو دیوالی میں بھی دو وزیراعظم جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ جانتے تھے کہ ہر سمجھدار ہندو بھی سمجھے گا کہ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن اکثریت جاہل اور بے وقوف ہے وہ یہ سمجھے گی کہ پردھان منتری کہہ رہے ہیں تو ضرور سچ ہوگا اور وہ انہیں ووٹ دے دے گا۔ اور یہی ہوا کہ جاہل گنوار اور کم عقل ہندو نے آنکھ بند کرکے ووٹ دے دیئے اور مودی کے جادو نے کام کردیا۔

کیا مسلمان عورتیں بھی اندھی ہوگئی تھیں کہ انہیں یہ نظر نہیں آیا کہ رمضان سے بجلی سے کیا تعلق اور کون سی دیوالی ہے جو اندھیرے میں منائی گئی؟ اس کے بعد بھی وہ تین طلاق کے مسئلہ کو لے کر مودی اور امت شاہ اور یوگی کے دربار میں فریادی بن کر گئیں ؟ یہ مسئلہ صرف شریعت کا ہے حکومت اور وہ بھی غیراسلامی حکومت سے اس کا کیا تعلق؟ وزیراعظم کو جمہوریت میں ایک ایک ووٹ پیارا ہوتا ہے مسلمان نام کی عورت کو پیسے، نام، فوٹو اور شہرت کی چاہ۔ ان حاکموں کے پاس لے گئیں اور ہندو عورتوں کی نقل کرتے کرتے وہ عدالت چلی گئیں ۔

ہمارے مسلم سماج میں عورتوں کے تین طبقے ہیں۔ ایک وہ جو خاندان میں ہیں وہاں ماں ساس بہنیں بھابھیاں اور دوسرے رشتہ دار ہیں۔ دوسرا طبقہ آزاد عورتوں کی ہے جو کسی قصبہ یا گائوں سے شہر میں آکر بس گئی ہیں اور تیسرا طبقہ وہ ہے جو طوائفوں کے نقش قدم پر چلتا ہے۔ بھرے پرے خاندان کی خواتین اپنے گھروں میں ہیں اور کوئی مسئلہ آتا ہے تو گھر کے بزرگ یا کوئی عالم دین جو فیصلہ کردیں وہ مان لیا جاتا ہے۔ آزاد اور منھ زور گھوڑیوں کی طرح ہر مورچہ پر نظر آنے والی خواتین دخترانِ اسلام نہیں دخترانِ شیطان ہیں۔

شاید ہی کوئی تعلیم یافتہ مسلمان عورت ہو جس نے یہ حدیث نہ سنی ہو کہ حضور اکرمؐ کے پاس ایک صحابیؓ آئے۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ نابینا ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا پردہ کرلو۔ ازواج مطہرات نے کہا کہ وہ تو نابینا ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم تو نابینا نہیں ہو۔ کسی لمبی بحث کے بجائے صرف یہ ایک واقعہ اسلامی پردہ کے لئے کافی ہے۔ اب ان کو دیکھ لیجئے جو طلاق کی جنگ لڑرہی ہیں بال کٹے ہوئے ہیں سر ننگا ہے چہرہ پر پورا میک اپ ہے اور مردوں کے درمیان اس طرح بیٹھی ہیں کہ گلے میں دوپٹہ ایسے پڑا ہے جیسے امت شاہ کے کاندھوں پر کمل کے پھول کا ٹیکا۔ اور ترکی بہ ترکی جواب دے رہی ہیں۔ کیا ان سے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ اگربقل نواب کی طرح اسلام میں ان کا دم گھٹ رہا ہے تو کون روک رہا ہے وہ ہندو ہوجائیں۔ لیکن مسلمان رہ کر اسلام کو ایسا بنانا جیسا وہ پسند کریں، یہ تو ناممکن ہے۔

پرسوں جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا تو ایک برقع پوش فاتح خاتون کا کہنا تھا کہ یہ تو ابتدا ہے۔ اب اگلا قدم یہ ہوگا کہ کوئی مسلمان دو شادی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ کوئی عورت اپنے شوہر میں کسی کو حصہ دار نہیں دیکھ سکتی۔ نریندر بھائی مودی اور امت شاہ کی سرپرستی ایسی ہی رہی اور آوارہ عورتوں کے ووٹوں کے لئے ضرور رہے گی تو صرف دوسرا نہیں تیسرا قدم کہ پانچ وقت کی نہیں بس دو وقت کی نماز ہونا چاہئے جیسے ابتدائے اسلام میں تھی اور 30  روزوں کے بجائے جیسے محرم کے دو روزے فرض تھے بس دو روزے ہوں اور قربانی نجمہ ہپت اللہ کے کہنے کے مطابق ایک بکرے کی جان لینے کے بجائے اس کی قیمت غریبوں میں تقسیم کردی جائے، کو ہی شریعت بنالینے کا مطالبہ بھی ہوسکتا ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کو 10  ستمبر کی میٹنگ میں فیصلہ کردینا چاہئے کہ مسلمان کیا کریں ۔ ایک نشست میں تین طلاق دینے والوں کی اکثریت وہ ہے جو نہ دین کو جانیں نہ شریعت کو بلکہ وہ صرف اس لئے مسلمان ہیں کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوگئے ہیں اور نام خیراتی یا جمعراتی ہے۔ جس نے سنجیدگی سے یہ فیصلہ کیا ہے اور وہ کسی بھی وجہ سے اب اپنی بیوی کو نہیں  رکھنا چاہتا تو وہ نہیں رکھے گا۔ اور وزیر اعظم کی ہر ممکن کوشش کے بعد بھی سپریم کورٹ نے طلاق کو ختم نہیں کیا وہ طلاق جسے سب نے تسلیم کیا ہے وہ مرد کا شرعی حق ہے۔ شیعہ علماء کا یہ کہنا کہ طلاق کا فیصلہ کرتے وقت سنّی مسلمان لکھا جائے مسلمان نہیں یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔

وزیر اعظم سے لے کر چھوٹے سے جھوٹے درجہ کے نیتا سے ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان عورتوں پر طلاق کی تلوار کی تو انہیں اتنی فکر ہے انہیں اپنی ہندو بہنوں کی فکر کیوں نہیں جو متھرا سے دس کلومیٹر دور ورنداون میں گئو شالوں کی گایوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہی ہیں ۔ کیا یہ غلط ہے کہ ورنداون میں چار ہزار آشرم ہیں اور آشرم کوٹھری نہیں ہوتی جس میں ایک عورت رہے۔ ان آشرموں میں پچاس ہزار سے کیا کم ہندو ناریاں ہوں گی جن کے دیکھنے والے نے لکھا ہے کہ ا نکے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی نہیں ہے۔ وہ شردھالوئوں کے لئے بھجن گاتی اور ان کے لئے نہ جانے کیا کیا کرکے پیٹ بھرتی ہیں ۔ حیرت ہے کہ طلاق شدہ مٹھی بھر مسلم عورتوں کی فکر میں دبلے ہونے والے وزیراعظم اور یوپی کے وزیر اعلیٰ کو ورنداون میں جانوروں سے بدتر زندگی گذارنے والی ہزاروں ہزار عورتوں کی فکر نہیں ۔

مسوری سے شملہ تک جانے والی پہاڑیوں پر آباد ہندوئوں میں آج بھی ایک عورت کے چار شوہر کا رواج ہے اور لداخ میں ایک مرد بارہ بیوی رکھ سکتا ہے۔ ہندو سماج میں بیوہ کو شوہر کی چتا پر جلانے کا رواج اگر ملکہ وکٹوریہ نے 1829 ء میں قانون بناکر ختم نہ کیا ہوتا تو نیپال کی طرح 1920 ء تک رہتا۔ اور آج بھی مسلمان بیوہ اگر کم عمرہے تو شادی کرلیتی ہے۔ اور یہ سنت ہے اور اگر نہیں کرتی تو وہ ایک محترم بہن یا پیاری بیٹی کی طرح اپنے باپ کے گھر رہتی ہے ہندو بیوہ کی طرح نہ ورنداون میں لے جاکر پھینک دی جاتی ہے اور نہ اسے منحوس سمجھا جاتا ہے۔ آج ٹی وی جو سیکڑوں برقع دکھا رہے ہیں وہ نہ جانے کہاں اور کس تقریب کے ہیں؟ خدا کا شکر ہے کہ بہت بڑی اکثریت آج بھی اس پر قائم ہے کہ سب کچھ کتاب و سنت ہے اور قانون جو بھی کہے عمل کتاب و سنت پر ہی ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close