آج کا کالم

جشن  آزادی: جب حقیقت یہ بن نہیں سکتے، میری آنکھوں سے خواب لے جاؤ

ڈاکٹر سلیم خان

71 واں جشن  آزادی امسال اس طرح  منایا گیا کہ ریزرو بنک نے حکومت کو 74 ہزار کروڈ منافع دینے کے بجائے صرف 30 ہزار کروڈ دیئے ہیں جو گزشتہ سال کے 65 ہزار کروڈ کے نصف سے بھی کم ہے۔ آزادی کے70 سال بعدیوم آزادی سے 7 دن قبل بہار میں 700 کروڈ کی بدعنوانی  منظرِ عام پر آئی اور  گورکھپور میں 70  سے زیادہ بچے آکسیجن کی رسد رک جانے سے جان بہ حق ہوگئے اس لیے کہ صوبائی حکومت نے 70 لاکھ سے کم  کی بقایہ رقم  کی ادائیگی میں کوتاہی کی۔  اس کے باوجود پردھان منتری لال قلعہ سے بلند بانگ دعویٰ کرنے باز نہیں آئے۔ انہوں نے کروڈوں ایسے لوگوں کو گیس سلنڈر تقسیم کر کے اپنی پیٹھ تھپتھپائی جو بیچارے اس کو دوبارہ نہ بھروا سکے لیکن ان کے نام پر ایسے کروڈوں گیس سلنڈر کا بھاو 4 روپئے بڑھا دیا جو ہر ماہ بھرائے جاتے ہیں ۔  یہ ہے سیاست کہ چندغریبوں کو دکھاوے کے لیے  ایک بار دو اورپورے متوسط طبقے کے سے بار بار نوٹ کے ساتھ ساتھ ووٹ بھی لو۔  کامیاب سیاستداں اس کو کہتے ہیں ۔  اسی لیے بی جے مودی جی  کو پردھان منتری سے ترقی دے کر پرچار منتری کے عہدے سے نواز دیا ہے۔ پرچار منتری کا عہدہ  پردھان سے زیادہ پائیدار  ہے اس لیے کہ  انسان اس پر انتخاب ہارنے کے بعد بھی  فائز رہ سکتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی ہرسال  15 اگست کو لال قلعہ کی دیوار سے ایک نیا شوشہ چھوڑتے ہیں ۔  2014 میں انہوں نے بیت الخلاء  کی تعمیر کو  ایسا قومی مسئلہ بنا کر پیش کیا کہ  تین سال بعد ان کے چہیتے اکشے کمار نے ٹائیلیٹ ایک پریم کتھا کے نام سے فلم بناڈالی جو اس سال یوم آزادی کے موقع پر ریلیز ہوئی اور اکثرسرکاری پروجکٹس کی مانند  طرح فلاپ ہوگئی۔  اس کے بعد 2015 میں انہوں نے ’میک ان انڈیا ‘ کا اعلان کیا جو اب فیک ان انڈیا میں تبدیل ہوچکا ہے۔  2016 کے آنے پروزیراعظم نے بلوچستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر  پر اظہار خیال کیا  اور اونٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کہی ایک سال بعد عقل ٹھکانے آگئی اور اب کہہ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ نہ گولی سے حل ہوگا  اورنہ گالی سے۔ یہ بات اگر ایک سال قبل سمجھ میں آجاتی تو بے شمار بے قصور عوام اور فوجی اپنی جان نہ گنواتے۔ کشمیر کے اندر حکومت کے کنفیوژن کا یہ حال ہے کہ  فوجی سربراہ انسانی ڈھال کی تعریف و توجیہ فرماتے ہیں اور صوبائی انسانی حقوق کا کمیشن اس کی مذمت کرکے خودبی جےپی  کی ریاستی حکومت کو 10 لاکھ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔

بلوچستان اور بیت الخلاء تو خیر وزیراعظم کی سیاسی بازیگری تھا لیکن ’میک ان انڈیا‘ کا تعلق عوامی فلاح و بہبود سے ہے اس لیے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جس وقت یہ اعلان کیا گیاملک میں صنعتی پیداوار کی  مجموعی قدروقیمت کا اضافہ( جی وی اے برائےصنعت) بام عروج  پر تھا ۔  وہ  2015 کی  پہلی چوتھائی میں 2ء8 سے دوسری چوتھائی میں 3ء9 پر پہنچا اور اس میں اچانک اچھال آیا اور وہ 2ء13 پر پہنچ گیا۔  مودی جی نے سوچا ہوگا کہ اب یہ سفر بلندی کی جانب گامزن رہے گا اور اس کا سہرہ ان کے سر بندھ جائیگا اس لیے موقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے میک ان انڈیا کا نعرہ لگا دیا  لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 2015 کی آخری چوتھائی میں جی وی اے کے اندر معمولی کمی نظر آئی اور یہ شرح گھٹ کر 7ء12 پر آگئی۔  2016 کی پہلی چوتھائی میں مزید گراوٹ آئی  اور بات 7ء10 تک پہنچ گئی۔ جیٹلی جی نے 2016 کا بجٹ پیش کیاتو اس سے توقع تھی کہ حالت سدھرے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا دوسری چوتھائی میں  جی وی اے کی شرح 7ء7 پر آگئی۔ اب پھر زور لگایا گیا تو معمولی اضافہ کے ساتھ یہ ۲ء۸ پر پہنچی  جہاں  ڈیڑھ سال پہلے تھی۔

 یہ اس حکومت کے لیے مشکل صورتحال تھی جو سالانہ دو کروڈ نئے روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کرکے عالم ِوجود میں آئی تھی  اس لیے کہ صنعتوں کی پیداوار نہ بڑھے تو روزگارکے مواقع کیسے پیدا ہوں ؟ ایسے میں مودی جی  نے نوٹ بندی کا احمقانہ فیصلہ کردیا  جس نے صنعتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی اور جی وی اے کی شرح گھٹ کر 3ء5 پر پہنچ گئی۔  اس کا موازنہ اگر2015 کے دوسرے چوتھائی سے کیا جائے تو یہ ڈ ھائی گنا کمی تھی۔ نوٹ بندی کے مصیبت میں جو کسر رہ گئی تھی اس کو جی ایس ٹی نے پورا کردیا اور صنعتی پیداوار 2009 کی سب سے نچلی سطح سے بھی نیچے چلی گئی۔   اس طرح گویا میک ان انڈیا کا سپنا ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  یہ گراوٹ کیوں آئی ؟ ساری دنیا میں گھوم گھوم کر سرمایہ کاروں کو یہاں  صنعت قائم کرنے پر آمادہ  کرنے والے مودی جی اس قدر بری طرح کیوں ناکام رہے؟ اس پیچیدہ سوال کا ایک آسان ترین جواب تو یہ ہے کہ ہندوستان کے بھولے بھالے لوگوں کو احمق بنانا جس قدر آسان ہے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کرنے والوں کو رجھانا اتنا سہل نہیں ہے؟

اس سال جدیدبیرونی سرمایہ کاری  صرف 07ء2 لاکھ کروڈ ہوئی  جو پچھلے سال کی 9ء2 لاکھ کروڈ سے30 فیصد کم ہے۔  سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری منموہن سنگھ کے آخری سال 2014 میں ہوئی جو ۷ء۵ لاکھ کروڈ تھی۔  نجی اداروں  آنے والی سرمایہ کاری کے اندر سب سے زیادہ اضافہ 2012 میں ہوا تھا۔ اس سال ہونے والا اضافہ اس کا ایک تہائی ہے اور پچھلے دس سالوں میں سب سے کم  رفتار میں ہونے والی بڑھوتری ہے۔ ماہرین معاشیات نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ عوامی بنکوں نےخطرات سے دوچار  صنعتوں میں سرمایہ کاری روک دی ہے۔   موجودہ  حکومت چونکہ بڑے سرمایہ داروں کے گھر کی لونڈی بنی ہوئی ہے اس لیے وہ بنکوں سے قرض لیتے ہیں اور دیوالیہ ہوجاتے ہیں ۔  سرکاری بنکوں پر ۵۰ بڑے سرمایہ داروں کا واپس نہ ہونے والا قرض 85 ہزار کروڈ ہے  اور یہ امیر کبیر لوگوں کا کارنامہ ہے اس لیے سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی اور بنک والے محتاط ہوگئے۔

بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل دیگر رکاوٹیں بھی اس سنگین صورتحال کے لیے ذمہ دار ہیں ۔  مودی جی کے بلند بانگ دعوں کےباوجود ہندوستان کا شمارکاروبار کے لحاظ سے دنیا کے مشکل ترین ممالک میں ہوتا ہے۔  عالمی بنک کے مطابق دنیا بھر کے 190 ممالک میں ہندوستان 130 ویں مقام پر ہے۔ یہ پچھلے سال کے مقابلے ایک درجہ اوپر آیا ہے اگر یہی رفتار رہی تو پہلے نمبر پر آنے کے لیے 130 سال کی مدت لگے گی  اس وقت  تک دنیا نہ جانے کہاں سے کہاں نکل چکی ہوگی؟ نئے کاروبار کی ابتداء کے معاملے میں حال اور بھی خراب ہے یعنی ہم لوگ 4 درجات کی گراوٹ سے 155 ویں مقام پر ہیں ۔  نئی تعمیر کےاجازت نامہ    کی بابت ہندوستان 184سے گرکر 185 پر آگیا  اور اب صرف۵ ممالک کی حالت ہم سے خراب ہے۔  ایسے میں کون یہاں آکر صنعت لگانے کی حماقت کرے گا؟ میک ان انڈیا کے ٹھوس اقدام کے بجائے  تقاریر سے شرمندۂ کرنے کوشش ثمر آور نہیں ہوسکتی۔

مرکزی سرکار کے  شائع کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابقمئی میں صنعتی ترقی کی شرح 7ء1 فیصدتھی جو پچھلے سال مئی کے8ء2 کے مقابلے 1ء1 فیصد کم ہے۔ کیپٹل گوڈس کی پیداوار اس سال اپریل میں نفی 9ء2  فیصد پر تھی جو مزید ایک فیصد گھٹ نفی ۹ء۳ پر پہنچ گئی  ہے۔ مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) پچھلے پانچ سہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ 2016  سے لے کر جنوری تا مارچ 2017 تک  مسلسل روبہ زوال  ہے اور اپریل تا جون 2017  کے دوران مسلسل چھٹی گراوٹ  ویکھی گئی ہے۔ ملک کے اندر بننے والی  مصنوعات کا معیار بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جسے ایک  عملی مثال  سے سمجھا جاسکتا ہے۔  ہندوستان کی فوج فی الحال انساس رائفل استعمال کرتی ہے جو کافی پرانی ہوچکی ہے۔ ہماری فوج کو ایک لاکھ 85 ہزار نئی بندوقیں درکار ہیں جن میں سے 65 ہزار کی فوراً ضرورت ہے لیکن نام نہاد دیش بھکت حکومت اس کو نظر انداز کرکے فضول مسائل میں اپنے آپ کو الجھارکھاہے۔ بندوق کی فراہمی  کے لیے سرکاری فیکٹری سے رجوع کیا گیا  تھالیکن اس کی پیشکش کو فوج نے غیر معیاری قرار دے کر ٹھکرا دیا۔ سرکاری اسلحہ فیکٹر ی کی یہ دوسری کوشش تھی جو ناکام ہوگئی۔ پچھلے سال بھی اس کا یہی حشر ہوا تھا۔  اس بیچ ایک سال کا قیمتی وقفہ ضائع ہوگیا لیکن نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔  اب حکومت بیرونی ممالک سے رائفلیں درآمد کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے اور 20 عالمی  کمپنیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو صنعت خود اپنی فوج کے لیے معیاری بندوق بنانے ناکام ہوگئی وہ  وزیراعظم کے دعویٰ کے مطابق دیگر  ممالک گاہکوں کو کیسے مطمئن کرسکے گی ؟

مصنوعات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے صرف نعرےبازی کافی نہیں ہوتی  بلکہ اس کے لیے تحقیق پر محنت و سرمایہ لگانا پڑتا ہے جس کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔ عالمی  مسابقین پر فوقیت حاصل کرنے کے لیے یہ ناگزیر ہے۔  اس شعبے میں ہندوستان  کاچین سےموازنہقابلِ غور ہے۔ ہمارے ملک میں تحقیق پر جملہ 1900 کروڈ ڈالر خرچ ہوتے ہیں ۔  یہ سرمایہ کل پیداوارکا 8ء0 فیصد ہے۔  اس کے برعکس چین میں یہ خرچ 22500 کروڈ ڈالر ہے جو وہاں کی کل پیداوار کا 2 فیصد ہے۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں چین اس مد میں ہندوستان 11 گنا زیادہ خرچ کرتا ہے۔ ظاہر ہےیہ خطیر رقم مصنوعات کے معیار میں اضافہ کا سبب بنتی  ہے اوراسی لیے دنیا بھر کے سرمایہ دار چین کا رخ کرتے ہیں ۔  خوش قسمتی سے چین میں میک ان چائنا کے نام پر بیوقوف بنانے والی صنعت نہیں ہے۔ ہمارامیک ان انڈیا کا شیر سرکس کا پالتو جانور ہے۔  اس کا کام رائے دہندگان کی تفریح کرکے ان کی جیب خالی کرنا ہے۔ وہ صرف  دہاڑنے اورا چھل کود کے کام آتا  ہے اس لیے کہ  اس کےنہ دانت ہیں اور نہ ناخون   بس ایک زبان ہے جو بے تکان من کی بات سناتی رہتی ہے۔

مودی سرکار پر چدمبرم جیسے ماہرین معاشیات  کی تنقید کو سیاست کے خانے میں ڈال کر مسترد کردیا جاتا ہے لیکن  سنگھ پریوار کے پروردہ بھارتیہ مزدور سنگھ  کے احتجاج کو بہ آسانی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ بی ایم ایس کے سابق قومی سکریٹری  کے سی مشرا نے  کانپور میں مزدور سنگھ کے قومی اجلاس کے موقعہ پر برملاالزام لگایا کہ جب سے یہ سرکار قائم ہوئی ہے اس نے سماج کے غریب طبقات اور محنت کشوں کی خاطر کچھ نہیں کیا۔ کم سے کم اجرت کا قانون  سارے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا جو صرف مرکزی حکومت تک محدود ہے۔ سرکاری اور نیم سرکاری  صنعتوں تک میں اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ بونس کے قانون میں مزدور چاہتے تھے 21000 ہزار کی حد مقر ر کی جائے لیکن سرکار 3700 کی تحدید کرکے سب کو مایوس کردیا۔

مشرا جی نے سب سے زیادہ غم و غصے کا اظہارمودی  حکومت کے قائم کردہ نیتی آیوگ پر کیا۔  ان کے مطابق عدالت عالیہ  نےیکساں کام کے لیے یکساں اجرت  کیتاکید کی ہے  کہ لیکن نیتی آیوگ اس میں ترمیم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بار بار یہ الزام دوہرایا کہ پلاننگ کمیشن کو ختم کرکے بنایا جانے والا نیتی آیوگ صرف  دولتمندوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ وہ سرمایہ داروں کی حمایت اور غرباء و مساکین کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کا مقصد وجود ہی سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اب تو نیتی آیوگ سےمودی جی نورنظر اروند پنگھڑیا بھی  فرار ہوچکے ہیں ۔  مشرا جی کا کہنا ہے کہ یہ حکومت  نئی ملازمتیں فراہم کرنا  تو درکنار بیروزگار ہونے والے لوگوں کو سہارا دینے تک میں بھی ناکام ہے۔ 5 کروڈ لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں  اور اس میں بتدریج اضافہ جاری ہے۔ نوٹ بندی نے تعمیراتی صنعت کی کمر توڑ دی ہے اور اس میدان میں کام کرنے والا ملازم دانے دانے کا محتاج ہوگیا۔  اسی کے ساتھ کھیت میں کام کرنے والے مزدوروں کا بھی برا حال ہے کسان آئے دن خودکشی کرتا ہے حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ جی ایس ٹی کا قہر اناج کے تھوک بازار میں 40 فیصد گراوٹ کا سبب بنا۔ کسی اور کے نہیں تو کم ازکم اپنے سنگھ پریوار کی جانب تو حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔

انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی رہنمائی میں 2022 تک دس کروڈ نئے صنعتی  روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اس شعبے میں نیا روزگار تقریباً نہیں کے برابر پیدا ہوا۔ منموہن  سنگھ کے آخری ایام میں ہر سال 4 لاکھ نئی ملازمتیں نکلتی تھیں۔  اس طرح  2011  سے 2014 کے درمیان اوسطاً ہر سال 5 لاکھ 79 ہزار نئے مواقع پیدا ہوئے  حالانکہ وہ بھی بہت کم اضافہ تھا۔  مودی جی آمد کے بعد اس معاملے ترقی کے بجائے تنزل ہوا ہے۔  2015 کے جو اعداوشمار شائع ہوئے ہیں ان کے مطابق قومی معیشت میں صرف ایک لاکھ ملازمتوں کا اضافہ ہوا ہے جو 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ حکومت کے اپنے بیروزگاری لیبر سروے کے مطابق  غیر منظم شعبے میں بیروزگار ہونے والوں کی تعداد 2 کروڈ سے 5 کروڈ ہے۔

جی ایس ٹی کے سبب تاجروں کے مسائل و مشکلات کی تازہ مثال گجرات کےکپڑاتاجرین کی  ہڑتال تھی۔ سورت میں  مظاہرین  پر پولیس لاٹھی چارج ہوا اوراحمد آباد کا  مسکاتی مارکٹ سنسان ہوگیا۔ احمدآبادریتیش شاہ نے الزام حکومت ہمیں دبانے کیلئے طاقت کا بیجا استعمال کررہی ہے۔ اس ہڑتال سے حمل و نقل کا کاروبار کرنے والے ، مارکٹ کے آس پاس خوانچہ لگانے والے، چائے والے اور پاور لوم میں کام کرنے والے8 لاکھ  مزدوروں بے کار ہوکر گاوں لوٹ گئے۔ کڑھائی کا70 فیصدکام ٹھپ  ہوگیا ہے اور واپس جانے والے مزدوروں کی تعداد 80 فیصد تک جاپہنچی ہے۔  بیوپاری اپنی مشینیں بیچنے پر مجبور ہوگئے۔ نہ نیا مال  بکا اور نہ پرانا ادھار وصول ہوااس لیے مزدوروں کو تنخواہ دینے میں مشکل پیش آئی۔ دس ون کے اندر 4300 ہزار کروڈ کا نقصان ہوا لیکن وزیراعظم غیر ملکی دوروں پررہے نیز امیت شاہارکان اسمبلی کی خریدو فروخت سے فرصت نہیں ملی ۔

ایسا لگتا ہے کہ اترپردیش کی کامیابی نے بی جے پی کا دماغ خراب کردیا ہے۔  اس نے پہلے گجرات کے اندر پٹیلوں کو ناراض کیا۔  اس کے بعد دلتوں کے ساتھ مارپیٹ کی اور اب تاجروں سے بھی عداوت مول لے لی۔ مودی جی کو اگر ایسا لگتا ہے کہ ان کی کامیابی کے لیے گائے کافی ہے تو بہت جلد ان کی یہ خوش فہمی دور ہوجائیگی اور ان کو دوبارہ  کسی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں اپنی چائے کی دوکان کھولنی پڑے گی۔  ویسے مودی جی کے دست راست امیت شاہ ہر چونکہ ہر وعدے کو انتخابی جملہ بازی کہہ کر اڑا دیتے ہیں اس لیے وہ جو من میں آئے بولتے چلے جاتے ہیں مثلاً ۶ لاکھ گاوں میں انٹر نیٹ ، 100 اسمارٹ (جدیدطرزکے) شہر، دس کروڈ بیت الخلا اور گنگا کی صفائی وغیرہ وغیرہ لیکن کچھ ہوتا جاتا نہیں ۔  مودی جی نے دعویٰ تھا ہندوستان کا شمار تجارت کی سہولت کے اعتبار سے دنیا کے 50 بہترین ممالک میں ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ 130 ویں مقام پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت مودی جی امریکہ کے دورے پر پہنچے معیشت کےمعروف عالمی جریدے اکانامسٹ نے مودی کو کاغذی چیتے پر سوار کردیا اور کہا کہ ان کے اندر معیشت کو تجدید کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔  بہتر ہوتا کہ وہ مودی جی کو چیتے کے بجائے کاغذی بیل  پر سوال کردیاجاتا۔

مودی جی نے لال قلعہ سےپہلی بار گئورکشکوں کو بلاواسطہ دھمکی دی کہ آستھا  کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا لیکن جب مودی  گئورکشکوں کو نقلی گئوسیوک کہتے ہیں توجواب میں وہ  مودی کو جعلی دیش بھکت کہہ کر ان کے پروچن پر کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ مودی جی نے سب کو ساتھ لے کر چلنا اپنی تہذیب و ثقافت قراردیا مگر تریپورہ کے وزیراعلیٰ مانک سرکارکو ساتھ نہیں لیااوردوردرشن و آل انڈیا ریڈیو پر ان  کا گلا گھونٹ دیا۔ اس طرح غلام نبی آزاد یہ کہنے پر مجبور کردیاکہ حکومت ایمرجنسی  کا اعلان کیوں نہیں کردیتی  تاکہ عوام کسی دھوکے میں نہ رہیں ۔ ویسے مانک سرکار کو مرکزی حکومت نے ہیرو بنادیا اس لیے کہ  یوم ٓزادی کے موقع پر دیگر وزرائے اعلیٰ نے کیا کہا یہ کوئی نہیں جانتا لیکن مانک نے جو کچھ کہا اس سے سب واقف ہیں ۔ اس طرح تریپورہ جیسی ننھی سی ریاست کے وزیر اعلیٰ نے یوپی جیسی بڑی ریاست کے وزیر اعلیٰ سے زیادہ شہرت حاصل کرلی۔  وزیر اعظم نے یوم آزادی کے موقع پر بھارت چھوڑو کے بجائے بھارت جوڑو کا نعرہ دیا لیکن  جہاں سابق نائب صدر تک کو بھارت چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ہے وہاں بھارت کو جوڑے گا کون؟ لال قلعہ سے یوم آزادی کی  تقریر سننے کے بعد جب عام آدمی اپنے  گردوپیش کےحالات کاجائزہ لیتا ہے تو بے ساختہ پکار اٹھتا ہے؎

آراستہ تو خیر نہ تھی زندگی کبھی

  پرتجھ سے قبل اتنی پریشان بھی نہ تھی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close