جعلی نیوز کے ذریعے نفرت پھیلانے کی سازش

رويش کمار

کیا آپ جعلی نیوز سے ہوشیار ہیں ؟ دنیا بھر میں جعلی نیوز جمہوریت کا گلا گھونٹنے اور آمروں کی موج  مستی کا ذریعہ بن گیا ہے. دارالحکومت سے لے کر ضلعی سطح تک جعلی نیوز پھیلانے کا ایک مکمل نظام تیار ہو چکا ہے. یہی نہی آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی جعلی نیوز دے رہے ہیں . کمزور ہو چکا میڈیا ان کے سامنے صحیح حقائق کو رکھنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہا ہے. سامنے کے صفحے پر قومی سربراہ کا بیان چھپتا ہے، جس میں جعلی معلومات ہوتی ہے اور جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو پھر وہی اخبار اگلے دن اسی جگہ میں غلطی کو شائع کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاتا ہے کہ صدر یا وزیر اعظم نے جھوٹا بیان دیا ہے. میڈیا، صحافی اور قاری و ناظرین کے لئے یہ پتہ لگانا بہت خطرے کا کام ہو گیا ہے کہ نیوز صحیح ہے یا جعلی؟ پوری دنیا میں اس بیماری سے لڑنے پر غور ہو رہا ہے کہ جعلی نیوز سے کیسے بچا جائے؟

اسی مارچ میں امریکہ میں اپوزیشن پارٹی ڈیموکریٹس کے ممبران پارلیمنٹ نے جعلی نیوز کی مخالفت میں ایک بل پیش کیا. جس میں کہا گیا کہ حالت یہ ہو گئی کہ اب عوام کو صدر اور ان کے ترجمان ہی سے جعلی نیوز مل رہی ہے. ٹرمپ کے حلف کے وقت وائٹ ہاؤس کے ترجمان سپایسر نے بیان دیا تھا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی حلف برداری تقریب میں چل کر اتنے لوگ آئے اور پوری دنیا میں دیکھا گیا. اس میں حقیقت نہیں ہے. ٹرمپ نے کہا کہ کوئی دس، ساڑھے دس لاکھ لوگ کی بھیڑ نظر آ رہی تھی. بھارت میں تو لیڈر کب سے ایک لاکھ کی ریلی کو دس لاکھ بتاتے رہے،  مگر امریکہ میں لوگوں نے چیلنج کر دیا کہ ترجمان اور صدر نے بھیڑ کی گنتی کس طرح کر لی. لہذا ایوان سے تجویز پاس کرنے کی درخواست کی گی کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جعلی نیوز جاری نہ کریں. یہ بل وہاں کی کمیٹی آف جيوڈشيري میں بھیج دیا گیا ہے.

آئی فون اور آئی پیڈ بنانے والی ایپل کمپنی کے ہیڈ ٹم کوک نے ایک برطانوی اخبار سے کہا ہے کہ جعلی نیوز لوگوں کے دماغ کو قتل کر رہا ہے. ان جیسی کمپنی کو ایسا کوئی ذریعہ تیار کرنا ہوگا جس سے جعلی خبروں کو چھانٹا جا سکے اور اظہار رائے کی آزادی بھی متاثر نہ ہو. برطانوی اخبار کو انٹرویو میں ٹم کوک نے حکومتوں سے بھی کہا کہ وہ جعلی نیوز سے لڑنے کے لئے معلومات مہم چلاییں.

پوری دنیا میں حکومتوں ، تنظیموں اور عالمی اسکولوں میں جعلی نیوز کو لے کر بحث ہو رہی ہے. بھارت میں انگریزی کے کچھ ویب سائٹ نے جعلی نیوز سے لڑنے کوشش کر شروع کی ہے. altnews.in، india spend، boom، hoax slayer، ہندی میں media vigil. ہندی میں بہت کم کوشش کی جارہی ہیں . فلپائن میں جعلی نیوز بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے. وہاں کے صدر پر الزام ہے کہ وہ اقتدار پر گرفت برقرار رکھنے کے لئے جعلی نیوز کو خوب حوصلہ افزائی دے رہے ہیں . اس کے بعد بھی وہاں کچھ لوگوں نے جعلی نیوز سے لڑنے کی بحث چھیڑ دی ہے.

22 جون 2017 کے philstar.com پر پرنٹ خبر کے مطابق فلپائن کے سنیٹر جويل ولانيوا نے ایک بل پیش کیا کہ جعلی خبروں کے پھیلنے سے دنیا کو فکر ہو رہی ہے. میڈیا کے مختلف ذرائع میں جعلی نیوز شائع ہو رہی ہیں اور انہیں پھیلایا جا رہا ہے. لہذا ان پر جرمانہ ہونا چاہیے. Senate Bill 1492، or An Act Penalizing the Malicious Distribution of False News and Other Related Violations، یہ نام ہے اس بل کا. اس بل میں جعلی نیوز پھیلانے والے سرکاری حکام پر بھی بھاری جرمانے یا سزا کی وکالت کی گئی ہے. ایک سے پانچ سال کی سزا کا بھی انتظام کیا گیا ہے. اگر کوئی میڈیا ہاؤس جعلی نیوز پھیلتا ہے تو اسے بیس سال کی سزا ہو.

فلپائن کے صحافیوں نے کہا کہ جعلی نیوز روکنے کے لیے ضرور کچھ کیا جانا چاہئے مگر بل میں جو مانگیں ہیں وہ پریس کی آزادی کے خلاف ہیں . سنیٹر کا کہنا ہے کہ ہم جعلی نیوز کو ہلکے میں نہیں لے سکتے ہیں . یہ لوگوں کو بھیڑ میں بدل رہی ہے. فلپائن میں ہی ایک سال پہلے 24 نومبر 2016 کو University of the Philippines نے جعلی نیوز سے لڑنے کے لیے ایک آن لائن چینل TVUP ہی لانچ کر دیا. یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بیان دیا تھا کہ اس کے ذریعہ وہ امید کرتے ہیں کہ آن لائن میں پھیلی جعلی خبروں کا پتا لگایا جاسکے گا اور لوگوں کو اصلی مضامین، اصلی خبر جاننے کے مواقع فراہم ہو سکیں . بھارت میں کیا ہو رہا ہے. ریسرچ کے دوران ایک اور بات سامنے آئی۔

ایک طرف حکومتیں جعلی نیوز کی وبا سے لڑنے کا اقدام کے بارے سوچ رہی ہیں ، وہیں حکومتیں جعلی نیوز سے لڑنے کی آڑ میں پریس کی آزادی کو کچل رہی ہیں . حکومتوں کے لیے جعلی نیوز ایک طرح سے دونوں ہاتھ میں لڈو ہے. میڈیا جعلی نیوز پھیلا رہا ہے. صدر وزیر اعظم جعلی نیوز پھیلا رہے ہیں ، حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور اب آپ نے دیکھا سرکاری مشینری کے لوگ یعنی افسر شاہی بھی جعلی خبروں کا جال بچھا رہے ہیں . اسی مارچ میں واشنگٹن میں Reporters Without Borders (RSF) نے دنیا بھر میں پریس کی آزادی پر اپنی رپورٹ جاری کی جس میں بھارت کی پوزیشن بہت خراب بتایا تو وہیں اس نے جعلی نیوز سے لڑنے کے نام پر حکومتوں کی حرکت پر بھی تشویش ظاہر کی. ادارے کا خیال ہے کہ جعلی نیوز آمروں کے لئے وردان ہے. جب سے ٹرمپ نے سی این این کو جعلی نیوز کہا ہے، دنیا کے کئی متحدہ سربراہان کو میڈیا پر لگام کسنے کا بہانہ مل گیا ہے.

ترکی کے صدر اردوگان نے جعلی نیوز سے لڑنے کے نام پر بہت سے صحافیوں کو جیل بھیج دیا. کمبوڈیا کے وزیر اعظم نے بھی کہا کہ ٹرمپ ٹھیک کہتے ہیں کہ میڈیا اراجکتاوادی ہے. کمبوڈیا میں کام کر رہے غیر ملکی میڈیا کو امن اور استحکام کے لیے خطرہ بتا دیا. روس میں بھی جعلی نیوز سے لڑنے کے لئے قانون بنانے کی تیاری ہو چکی ہے. برطانیہ کی پارلیمنٹ کی کھیل میڈیا اور ثقافت کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے کہ جمہوریت پر جعلی نیوز کا کیا اثر پڑتا ہے.

اس طرح آپ دیکھ رہے ہیں کہ جمہوریت کا گلا گھونٹنے اور اپنی کرسی مستقل کرنے کے لئے حکومتیں جعلی نیوز سے ڈبل فائدہ اٹھا رہی ہیں . ایک طرف حکومت جعلی نیوز پھیلا رہی ہے دوسرا اس سے لڑنے کے نام پر ان صحافیوں کا گلا گھونٹ دے جن سے معمولی چوک ہو جاتی ہے. غلطی ہو جانا اور جعلی نیوز میں بہت فرق ہے. آمروں کے لئے جعلی نیوز سے لڑنا پروپیگنڈہ کا نیا ہتھیار ہے. کسی بھی حکومت کا اندازہ اس بات سے بھی ہونا چاہئے کہ اس کے دور میں آزاد میڈیا تھا یا گودی میڈیا تھا. اسی 4 مارچ کو اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے بیان جاری کر کہا تھا کہ آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ میڈیا کو جھوٹا بتا رہے ہیں یا پھر اسے اپوزیشن قرار دے رہے ہیں . جبکہ حکومتوں کا کام ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے ماحول کو برقرار رکھے. جعلی نیوز کے بہانے ایک نئے قسم کا سنسر شپ آ رہا ہے. تنقیدی آواز کو دبایا جا رہا ہے.

مصر اور ترکی میں کئی صحافی معمولی بھول چوک کو جعلی نیوز بتا کر جیل بھیج دیے گئے. جعلی نیوز کی طرح ٹی وی میں جعلی ڈبیٹ بھی ہو رہی ہیں . جیسے آپ نے دیکھا ہوگا امرناتھ مسافروں پر حملے کو لے کر سوال یہ نہیں تھا کہ سیکورٹی میں غلطی کس طرح ہو گئی، اس کی جگہ بہت اور دوسرے سوال پیدا کر دیئے گئے. اس طرح سوال کو شفٹ کر دینا جعلی ڈبیٹ کا کام ہوتا ہے. جعلی نیوز آپ جاننے کے حق پر حملہ ہے. آپ کو ہر ماہ پانچ سو سے ہزار روپے تک نیوز پر خرچ کرتے ہیں . اس میں اخبار چینل اور ڈیٹا پیک خرچہ شامل ہے. کیا آپ جعلی نیوز کے لئے بھی پیسہ دے رہے ہیں . جعلی نیوز نے سیاست کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے.

جعلی نیوز کے ذریعہ غالب پارٹی کم غالب پارٹی کو برباد کر دیتی ہے. اس کھیل میں کم وسائل والے لوگ جعلی نیوز کی جال میں پھنس جاتے ہیں . بڑی پارٹیوں کے آئی ٹی سیل یا فالوورس جعلی نیوز پھیلانے میں لگے رہتے ہیں . اب ایک پارٹی دوسری پارٹی کے جعلی نیوز کو پکڑنے کے لئے ٹیم بنا رہی ہے. فرانس کے انتخابات میں نیشنل فرنٹ نے جعلی نیوز الرٹس ٹیم تشکیل دی تھی. جلد ہی بھارت کے پارٹیوں کو بھی جعلی نیوز الرٹس ٹیم تشکیل دینا پڑے گی. اب ہر پارٹی کے پاس جعلی نیوز بنانے کی ہی خصوصیت نہیں ہے. کمزور ٹیم مارے جائیں گے.

جہاں کہیں بھی انتخابات آتے ہی جعلی نیوز کی بھر مار ہو جاتی ہے. گزشتہ سال اٹلی میں ریفرنڈم ہوا تو وہاں فیس بک پر جو کہانی شیر ہوئیں ، اس میں سے آدھی جعلی تھیں . يوروپيين یونین نے تو روس سے آنے والے جعلی نیوز کا سامنا کرنے کے لئے ایک ٹاسک فورس بنایا ہے، east startcom task force. فرانس اور ہالینڈ میں ہوئے انتخابات کے لئے اس ٹاسک فورس کو کافی پیسہ اور وسائل دیا گیا تاکہ وہ روس کے پروپیگنڈہ کو روک سکے. روس پر الزام ہے کہ وہ جعلی نیوز پر کافی پیسہ خرچ کرتا ہے. آپ نے دیکھا کہ جعلی نیوز کو لے کر سفارتی جنگ بھی چھڑی ہویی ہے. جعلی نیوز کا ایک بڑا کام ہے جعلی خبروں کے ذریعہ نفرت پھیلانا. تشدد کے لئے اكسانا.

اسی جولائی کے مہینے میں جرمنی کی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا جس کے مطابق اگر کسی سوشل میڈیا نیٹ ورک نے نفرت پھیلانے والی مواد 24 گھنٹے کے اندر اندر نہیں ہٹائی تو 50 ملین یورو تک کا جرمانہ لگ سکتا ہے. اس قانون کو لے کر بھی فکر ہے کہ کہیں یہ اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنے کا ذریعہ نہ بن جائے. German Justice Minister نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر جنگل کا قانون چل رہا ہے، اسی کو ختم کرنے کے لئے یہ قانون لایا گیا ہے.

رایٹر کی اس خبر میں یہ بھی تھا کہ فیس بک کی طرح سوشل میڈیا نیٹ ورک نے اس قانون پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی مشتبہ مواد کو ہٹانے کے لئے دنیا بھر میں 3000 لوگوں کی ٹیم بنائیں گے. اب 4500 لوگوں کی ٹیم پوسٹ کا جائزہ لے رہی ہے. آپ سوچ سکتے ہیں کہ جب ایک نیٹ ورک کو نفرت پھیلانے والے مواد کو پکڑنے میں ہزاروں لوگ تعینات کرنے پڑ رہے ہیں تو اس وقت دنیا میں جعلی نیوز کتنا بڑی مسئلہ ہو جائے گا. نیوز روم میں اب ہر مسئلے کا احاطہ کرنے کے لئے رپورٹر کی تعداد میں مسلسل کمی ہوتی جا رہی ہے. آپ جن اینكروں کو دیکھ کر سٹار سمجھتے ہیں دراصل وہ صحافت کے بحران کے جیتے جاگتے علامت ہیں . خالی نیوز روم میں جعلی نیوز کا بھوت نہیں گھومے گا تو کہاں گھومے گا.

مغربی بنگال میں آسنسول کے بی جے پی آئی ٹی سیل کے سیکرٹری ترون سین گپتا کو مبینہ طور پر جعلی تصویر پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے. ترون نے رامنومي کے دوران ایک جعلی ویڈیو اپ لوڈ کیا تھا کہ ایک مسلمان پولیس افسر ہندو آدمی کو مار رہا ہے. اس ویڈیو کے ساتھ قابل اعتراض اور فرقہ وارانہ تبصرہ کیا گیا تھا. ان پر غیر ضمانتی دفعات لگائی گئیں ہیں . بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش کا کہنا ہے کہ پرانی ویڈیو کو لے کر گرفتاری ہوئی ہے. یہ بی جے پی کو بدنام کرنے کے لئے کیا گیا ہے. وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بی جے پی لیڈروں پر الزام لگایا تھا کہ یہ لوگ سوشل میڈیا پر جعلی فوٹو جاری کر کشید گی بڑھا رہے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے